جموں و کشمیر
اگر ریاست ہوتی تو ہم اپنی مرضی سے افسران تعینات کرتے اور کام تیزی سے ہوتا:وزیراعلیٰ عمر عبداللہ
ریاستی درجہ کی بحالی میں تاخیرمایوس کن
کہانیشنل کانفرنس کا بی جے پی سے کوئی سمجھوتہ نہیں، یوٹی حکومت کے کاروباری قواعد مرکز کی منظوری کے منتظر
سری نگر:جے کے این ایس : اتوار کوایک انٹرویو کے دوران یہ کہتے ہوئے کہ” بغیرریاست میرے عہدے کے کوئی معنی نہیں اور دبے الفاظ میں مستعفی ہونے کاالٹی میٹم “دینے کے بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیرکے روزکہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی میں مسلسل تاخیر سے جموں وکشمیرکے لوگوں میں مایوسی بڑے رہی ہے اوراُن کی امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ اگر ریاستی درجہ کی بحالی کاعمل مزید موخر ہوا تو مایوسی مزید گہری ہوگی۔جے کے این ایس کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران پیرکواسمبلی کمپلیکس کے احاطے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں میری اُمید پہلے دن سے قائم تھی، لیکن اب وہ کچھ کم ضرور ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ریاستی درجہ کی بحالی کاعمل مزید تاخیر کا شکار ہوا تو ہم میں نااُمیدی بڑھ جائے گی۔وزیراعلیٰ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر ایک مقررہ وقت کے اندر جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا گیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔عمرعبداللہ نے کہاکہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنے والا۔ میرے پاس اس پر مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔
انہوںنے کہاکہ انٹرویو لینے والے نے مجھ سے اس بارے میں سوالات کرنے کی کوشش کی، اگر میں نے اسے جواب نہیں دیا تو آپ کیا سوچتے ہیں کہ میں آپ کو جواب دوں گا؟۔یونین ٹریٹری آف جموں وکشمیرکے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اُنکی جماعت نیشنل کانفرنس کی حکومت کو اقتدار میں آئے صرف ایک برس ہوا ہے، اور وہ اب بھی پراُمید ہیں کہ اگر ریاستی درجہ ان کی حکومت کے دور میں بحال ہوا تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی۔
انہوںنے کہاکہ وہ پہلے دن سے ریاست کی بحالی کی اُمید کر رہے ہیں۔ تاہم، جوں جوں تاخیر جاری ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ یونین ٹیریٹری کے تحت حکومت چلانا آسان نہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اگر ریاست ہوتی تو ہم اپنی مرضی سے افسران تعینات کرتے اور کام تیزی سے ہوتا، لیکن یو نین ٹریٹری میں وزراءا ±ن افسران کے فیصلوں کے ذمہ دار ہیں جو ا ±نہیں اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کر لیتے ہیں۔یاد رہے کہ5 اگست 2019کو جموں و کشمیر کی سابق ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے الگ الگ یونین ٹیریٹریز آف جموں و کشمیر اور لداخ میں منقسم کیا گیا تھا۔راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے عمرعبداللہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کا بی جے پی سے کوئی خفیہ یا سیاسی سمجھوتہ نہیں۔ ان کے بقول ”یہ کہنا غلط ہے کہ ہم پس پردہ بی جے پی کےساتھ ہیں“۔انہوںنے کہاکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم نے راجیہ سبھا کی چوتھی نشست پر اپنا امیدوار کیوں اتارا ہوتا؟۔یونین ٹریٹری آف جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہنے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس وہ واحد جماعت ہے جو بی جے پی کا براہِ راست مقابلہ کر رہی ہے، جبکہ بقول موصوف دوسری جماعتیں ’ کانگریس اور پی ڈی پی‘ نے نگروٹہ کے ضمنی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔راجیہ سبھا انتخابات کے دوران بعض اراکین کے بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اپنا ایمان بیچ دیا۔ انہوں نے ایسے اراکین کے نام منظر عام پر لائے جانے کا مطالبہ کیا۔عمرعبداللہ کے مطابق، بی جے پی کے امیدوار ستیہ پال شرما کو32 ووٹ ملے جب کہ ان کی پارٹی کے پاس صرف28 اراکین اسمبلی تھے۔یہ واضح ہے کہ کچھ اراکین کو راغب کرنے کی کوشش ہوئی، اب اس کا جواب بی جے پی کو دینا ہے۔
ہندوارہ کے رکنِ اسمبلی سجاد لون کی ووٹنگ سے غیرحاضری پر تنقید کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کا ووٹ نہ دینا بی جے پی کے حق میں گیا۔انہوںنے کہاکہ اگر وہ واقعی کسی فکسنگ کے خلاف تھے تو انہیں ووٹ ڈالنا چاہیے تھا۔اس دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام حکومت کے کاروباری قواعد مرکز کی منظوری کے منتظر ہیں۔
انہوںنے کہاکہ ہمارے افسران اور مرکز کے درمیان بات چیت کے 2 دور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں، لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ ہم نے جو کاروباری قواعد بھیجے ہیں وہ جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ایکٹ سے باہر نہیں گئے ہیں، ان قواعد کو منظور کیا جانا چاہیے ۔ممبراسمبلی ڈوڈہ معراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ کوعائدکرنے پر عبداللہ نے کہا کہ یہ بلاجواز ہے۔انہوںنے کہاکہ میں اب بھی یہ کہتا ہوں کہ مہراج ملک نے جو کچھ بھی کیا اس میں پی ایس اے کی ضمانت نہیں تھی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس ایک مرکزی وزیر ہے جس نے پوری مسلم کمیونٹی کو بے وفا قرار دیا ہے۔
اگر وہ اس سے بچ گئے تو مہراج ملک نے کیا غلط کیا؟۔عمرعبداللہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اسپیکر نے رائے دی ہے کہ اسمبلی میں کسی بھی زیر سماعت معاملے پر بات نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اگر ہر ذیلی عدالتی معاملے پر اسمبلی میں بات نہیں ہو سکتی تو لوگ عدالتوں کا رخ کریں گے تاکہ ہم اسمبلی میں کسی معاملے پر بات نہ کر سکیں۔وزیراعلیٰ نے بی جے پی ایم ایل ایز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت جموں کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو نظر انداز کر رہی ہے کیونکہ وہاں اکثریت ہندو مذہب کی ہے۔انہوںنے کہاکہ بی جے پی غلط تاثر میں ہے کہ ہم ان کی طرح حکومت کرتے ہیں۔ یہ بی جے پی ہی ہے جس نے15 فیصد آبادی کو مرکزی حکومت سے باہر رکھا ہے۔عمرعبداللہ نے کہاکہ بی جے پی کا آج لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں ایک بھی مسلم ممبر نہیں ہے۔ انہیں ایک بھی مسلمان اس قابل نہیں لگتا ہے کہ وہ مرکزی حکومت میں وزیر بن سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نقصانات کا اندازہ لگانے کے بعد فیصلہ کریں گے، نہ کہ علاقے یا مذہب کی بنیاد پر، ہم نقصانات کے مطابق پیکج لیں گے، اور جیسے ہی ہمیں رقم ملے گی، اسے تقسیم کر دیا جائے گا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں ایس او جی نے ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ اور منشیات سمیت گرفتار کیا
جموں، جموں کی اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کو ‘خوف گینگ’ سے وابستہ گینگسٹرز کے دو ساتھیوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات سمیت گرفتار کرلیا۔
سرکاری بیان کے مطابق، جموں ایس او جی نے جموں اور سانبہ میں کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے تین آتشیں ہتھیار، جن میں دو پستول اور ایک دیسی ساختہ پستول (کٹا) شامل ہے، کے علاوہ ہیروئن (چِٹا) برآمد کی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت سانبہ ضلع کے باری برہمنہ کے پلی کے رہنے والے ونش شرما اور باری برہمنہ کے پالی ٹانڈہ کے رہنے والے یوگیشور سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات کے دوران ونش شرما کے مبینہ طور پر وکاس سالتھیا عرف وکی خوف اور روہت کمار عرف مکھن سے وابستہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ دونوں جموں خطے میں مبینہ طور پر اسلحہ کی سپلائی کے نیٹ ورک اور مجرمانہ سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے ونش شرما کے پنجاب میں مقیم گینگسٹرز کے ساتھ مبینہ روابط کا بھی انکشاف ہوا ہے اور ان کا منصوبہ غیر قانونی ہتھیار حاصل کرنے اور پنجاب میں ایک ہدف بنا کر حملہ کرنے کا تھا۔
بیان کے مطابق، مکمل نیٹ ورک کا پتہ لگانے اور دیگر ساتھیوں کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر6 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
