تازہ ترین
بادامی باغ چلو مارچ ناکام :میرواعظ اورملک گرفتار
سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک پرمشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے پلوامہ میں سنیچرکی صبح فورسزگولی باری کے نتیجے میں سات عام شہریوں کی ہلاکت کیخلاف دی گئی تین روزہڑتال کال اورسوموارکوبادامی باغ کنٹونمنٹ چلوپروگرام کے پیش نظرمسلسل دوسرے روزبھی شہرخاص اورسیول لائنزکے علاقوں میں بندشیں عائدرہیں ۔مجوزہ احتجاجی مارچ اورممکنہ احتجاجی مظاہروں کوروکنے کیلئے ضلع مجسٹریٹ سری نگرکی ہدایت پردفعہ 144کے تحت سوموارکوعلی الصبح سے ہی پولیس تھانوں رام منشی باغ ،رعناواری ،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج ،صفاکدل اورمائسمہ کے تحت آنے والے درجنوں علاقوں میں مکمل اورجزوی بندشیں عائدرہیں ،اوران سبھی علاقوں میں صبح سے ہی پولیس وفورسزکے دستے تعینات رکھے گئے تھے اورسیکورٹی دستوں نے بندش والے علاقوں میں جگہ جگہ خاردارتاریں اوردیگررکاؤٹیں ڈال رکھی تھیں تاکہ لوگوں کی آواجاہی پرروک لگائی جاسکے ۔بندش زدہ علاقوں کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں مسلسل دوسرے روزبھی گھروں سے باہرآکرکہیں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
انہوں نے کہاکہ ہم مسلسل دوسرے روزبھی گھروں میں محصوررہے ۔سٹی رپورٹرنے بتایاکہ لالچوک اورسیول لائنزکے دوسرے علاقوں سے سونہ واریابٹہ وارہ جانے والی سڑک پرپولیس وفورسزکاکڑاپہرہ بٹھادیاگیاتھا،اورصبح 12بجے تک یہاں سے کسی کوپیدل یاگاڑی میں سوارہوکرجانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔سونہ وار،اندرانگراوردیگرنزدیکی علاقوں کے لوگوں نے بتایاکہ اُنھیں سوموارکوعلی الصبح ہدایت دی گئی کہ وہ گھروں سے باہرآنے کی کوشش نہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ ان علاقوں میں کرفیونافذنہیں تھالیکن اندرون سڑکوں وگلی کوچوں پرپولیس وفورسزکے دستے جگہ جگہ تعینات کئے گئے تھے ،اسلئے لوگ گھروں میں رہے ۔اس دوران سیول لائنزمیں اُسوقت ٹیرگیس شلنگ اورنعرے بازی کی گونج سنائی دی جب بادامی باغ چلوپروگرام کے پیش نظرکئی دنوں سے روپوش سینئرمزاحمتی لیڈرمحمدیاسین ملک اپنے آبائی علاقہ مائسمہ سے درجنوں ساتھیوں بشمول خواتین کی قیادت کرتے ہوئے ایک جلوس لیکرنمودارہوئے۔سوموارکو صبح کے 11بجے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ملک یاسین بزرگوں،نو جوانوں،خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ بادامی باغ کنٹونمنٹ کی جانب روانہ ہوگئے ۔ پرامن عوامی ریلی میں شامل پرجوش خواتین تھیں جو کفن باندھے ،ہاتھوں میں ’بھارتی ظالمو ! آؤ ہم سبھی کو مادو‘ کی تحریر یں لئے اور قتل و غارت کے لامتناہی سلسلے کی سخت الفاظ میں مذمت کررہی تھیں ۔
بڈشاہ چوک کے نزدیک پہلے سے ہی پولیس وفورسزکے دستے تعینات تھے اورجب ملک یاسین کی قیادت میں برآمدکیاگیااحتجاجی جلوس نزدیک پہنچاتوپولیس وفورسزنے کارروائی عمل میں لائی ۔احتجاجی مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کے کئی گولے داغے گئے جبکہ اس دوران پولیس وفورسزنے محمدیاسین ملک کوکئی ساتھیوں لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین مشتاق اجمل، محمد حنیف ڈار،امتیاز احمد ڈار،امتیاز احمد گنائی،شاکر احمد آہنگر،فیاض احمد ،بشارت احمد اور کئی دوسرے افرادسمیت گرفتارکرلیا۔لبریشن فرنٹ ترجمان نے کہاکہ گرفتاری کے دوران ملک یاسین زخمی ہوگئے اورپولیس اہلکاروں نے چیئرمین فرنٹ کونیم بے ہوشی کی حالت میں حراست میں لیکرساتھیوں سمیت پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا۔ گرفتاری سے قبل میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے محمدیاسین ملک نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ سبھی ایک ساتھ بادامی باغ آرمی کنٹونمنٹ جو کشمیر میں فوج کا مرکز ہے پر جاکر بھارتی آرمی اور ریاست سے کہیں کہ کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پر ایک ایک کرکے قتل کرنے کے بجائے وہ ہم سبھی کو ایک ساتھ قتل کرڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی آرمی اور نوآبادیاتی ذہن والی فورسز کو کشمیریوں کے خون کی لت پڑچکی ہے اور ہم آج اپنے آپ کو پیش کرکے ان کی اس لت کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔یاسین ملک نے کہا کہ پلوامہ میں کیا گیا قتل عام اپنی نوعیت کا پہلا اور واحد قتل عام نہیں ہے بلکہ بھارتی فوج اور فورسز نے اس سے قبل بھی ایسے کئی خونین واقعات رقم کررکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری معصومین کا خون بہاتے بہاتے بھارتی فوج اور فورسز اب انسانی خون کے عادی بن چکے ہیں ۔ اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے پلوامہ ہلاکتوں کیخلاف بطور احتجاج بادامی باغ آرمی ہیڈ کواٹر سریگر چلو کال پروگرام کی پیروی میں مزاحمتی قائد میرواعظ محمد عمر فاروق نے اپنی خانہ نظر بندی توڑتے ہوئے کئی مزاحمتی لیڈروں اور کارکنان کے ہمراہ بادامی باغ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تو پولیس اور فورسز کی ایک بھاری جمعیت نے اُنہیں گرفتار کرکے نزدیکی پولیس تھانہ نگین میں بند کردیا۔ گرفتاری سے قبل موقعہ پر موجود میڈیا سے بات کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا سرکاری فورسز کشمیر میں لوگوں کو مارنے کی ایک میشین بن گئی ہے اور اس کیلئے انہیں باقاعدہ لائسنس حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک دن میں دس کشمیریوں جن میں ایک 8 ویں جماعت کا طالب علم ، نونہال معصوم بچی کے والد بھی شامل ہیں نے کشمیریوں کے دل مجروح کردئے ہے اور پورا کشمیر ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ ایک طرف ہمارے معصوم نوجوانوں کو اندھا دھند فائرنگ سے چن چن کے قتل کیا جارہا ہے وہیں دوسری جانب ان معصوموں کو دہشت گرداور بالائی ورکر کا نام دے کر ان کے قتل کا جواز پیش کیا جارہا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کشمیر میں معصوموں کی ہلاکت کو دہشتگردی کارنگ دے کر درحقیت ہندوستان کے لوگوں کو یہ غلط تاثر دیا جارہا ہے تاکہ ان وؤٹ بنک کی سیاست کر کے آنے والے انتخابات میں فائدے حاصل کئے جاسکے۔ انہوں نے کہا تاہم دنیااصل حقیقت سے واقف ہے کہ کشمیری عوام جو تنازعہ کشمیر کا پُر امن حل چاہتے ہیں کے اومظالم اور پُر تشدد کارروائیوں میں روز مرہ کی بنیادوں پرتشویش ناک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میرواعظ نے کہا کشمیری عوام اپنے لخت جگروں اور نہتے شہروں کو شہید کئے جانے پر پُر ہڑتال کے ذریعے تعزیت،ہمدردی اور اپنے دکھی جذبات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ احتجاج باقی تمام راستوں پر غدغنیں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا قتل و غارت گری کے بعد فوج کی جانب سے یہ کہنا کہ ’’فوج عوام کے ساتھ ہے‘‘ ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ انہوں نے کہا قیادت کشمیر میں دائمی امن و امان کی متمنی ہے تاہم قبرستان کی خاموشی ہمارے لئے ہرگز قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام بھی امن و امان کی خواں ہے جس کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔دریں اثناء پولیس نے حریت(گ)کی خواتین اکائی مسلم خواتین مرکزکی جانب سے بادامی باغ تک جلوس لیکرجانے کی کوشش کاناکام بناتے ہوئے خاتون مزاحمتی لیڈریاسمین راجہ کوپریس کالونی سری نگرمیں کئی رفقاء سمیت حراست میں لیکرپولیس تھانہ منتقل کیا۔خیال رہے مجوزہ احتجاجی مارچ کے پیش نظرپولیس نے پہلے ہی سیدعلی گیلانی ،محمداشرف صحرائی ،انجینئرہلال احمدوار،جاویداحمدمیر،محمدیوسف نقاش ،ظفراکبر بٹ ،سیدامتیازحیدر،محمدیاسین عطائی ،بشیراحمدبٹ بڈگامی اوردیگرکئی مزاحمتی لیڈروں وکارکنوں کوگھروں اورمختلف پولیس تھانوں میں بندکردیاہے ۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
