جموں و کشمیر
بانڈی پورہ کا کلوسہ گاؤں: جہاں کی تمام تر آبادی کا روزگار کانگڑی بنانے پر ہی منحصر ہے
سری نگر،25 اکتوبر (یو این آئی) وادی کشمیر میں موسم سرما کے دوران گرمی کا بندوبست کرنے کے لئے گرچہ جدید ترین آلات جیسے بجلی اور گیس پر چلنے والے مختلف قسموں کے ہیٹروں کا استعمال کیا جاتا ہے تاہم روایتی کانگڑی ہر گھر میں موسم خزاں کے اختتام کے ساتھ ہی نمودار ہوجاتی ہے اور ہر فرد کے ہاتھوں میں دیکھی جاتی ہے کشمیر کے شہر و گام میں روایتی کانگڑی کا استعمال صدیوں سے کیا جاتا ہے کانگڑی بید کی نرم ٹہنیوں سے بُنی ہوئی ایک مخصوص ٹوکری ہوتی ہے جس میں اسی سائز کی پکی مٹی کی انگیٹھی ڈالی جاتی ہے اور اس انگیٹھی میں دہکتے کوئلے ڈالے جاتے ہیں جو گرمی فراہم کرتے ہیں۔
وادی میں کانگڑی صرف ٹھٹھرتی سردیوں کا مقابلہ کرنے کا ایک موثر اور دیرینہ ہتھیار ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ یہاں کئی علاقوں کے لوگوں کا روز گار بھی جڑا ہوا ہے اور وادی کے کئی علاقوں مخصوص طرز کی کانگڑیاں بنانے کے لئے بھی مشہور ہیں۔
شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کا کلوسہ نامی ایک گاؤں کے تمام گھرانوں کا روز گار کانگڑیاں بُننے کے پیشے پر ہی منحصر ہے۔
قریب تین سو کنبوں پر مشتمل اس گاؤں کے لوگ مرد و زن یہاں تک کہ بچوں کو بھی ان دنوں کانگڑیاں بُننے کے کام میں مصروف دیکھا جا رہا ہے۔
کلوسہ کے 37 سالہ شمیم احمد گنائی نامی ایک جوان نے یو این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے گاؤں کے تین سو کنبوں کے لوگ آج کل روزی روٹی کمانے کے لئے کانگڑیاں بنانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔
موصوف کاریگر جنہوں نے سال 2006 میں گریجویشن کی ڈگری مکمل کی، نے کہا کہ کشمیر میں مختلف قسموں اور ڈیزائنوں کی کانگڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا: ’کشمیر میں مختلف قسموں اور ڈیزائنوں کی کانگڑیاں تیار کی جاتی ہیں لیکن بانڈی پورہ میں تیار کی جانے والی کانگڑیاں اپنی ساخت، بناوٹ اور پائیداری کے لحاظ سے وادی بھر میں مشہور ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا: ’ہماری کانگڑیوں کی قسموں میں ساز دار کانگر، بائی پور کانگر،ابایا کانگر اور ڈوبل در کانگر خاص طور پر مشہور ہیں جن کی بازار میں قیمت 250 سے 400 روپیے تک ہے‘۔
شمیم احمد نے کہا کہ دولہن کے لئے تیار کی جانے والی مخصوص کانگڑی جس کو یہاں ’مہرن کانگر‘ کہتے ہیں، کی بازار میں قیمت 2 ہزار سے ڈھائی ہزار تک ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مخصوص قسم کی کانگڑی تیار کرنے میں ایک کاریگر کو تین سے چار دن لگتے ہیں۔

بانڈی پورہ کی کانگڑیوں کے علاوہ وادی میں وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے اور جنوبی ضلع اننت ناگ میں تیار کی جانے والی کانگڑیاں میں کافی مشہور ہیں۔
ان کانگڑیوں کو مخصوص بناوٹ اور خوبصورتی کے باعث کافی پسند کیا جاتا ہے اور رئیس گھرانوں میں ان ہی کانگڑیوں کو دیکھا جاتا ہے۔
کانگڑیوں کا مسکن صرف وادی کشمیر نہیں ہے بلکہ یہ یورپ کے مختلف ملکوں میں پہنچ گئی ہیں جنہیں سیاح اپنے عزیزوں کو تحفہ دینے کے لئے یہاں سے خصوصی طور پر لے جاتے ہیں۔
وادی میں بنائی جانے والی کانگڑیاں ملک کی مختلف ریاستوں میں لوگوں کے گھروں میں اسباب زینت و زیبائش کا بھی ایک اہم حصہ بن گئی ہیں۔
شمیم کا کہنا ہے کہ جب کانگڑیوں کے مانگ کا سیزن آن پڑتا ہے تو ہمارے گاؤں کے سب لوگ اسی کام میں جٹ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچے بھی اس کام میں لگ جاتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے گاؤں کے لوگوں کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہماری پڑھی لکھی بیٹیاں بھی اس کام میں ہمارا ہاتھ بٹاتی ہیں کیونکہ ہم تب ہی ان کی مانگ پورا کر سکتے ہیں جب گھر کے سب لوگ ہاتھ بٹاتے ہیں‘۔
موصوف کاریگر نے کہا کہ پمارے گاؤں میں سیزن جو ماہ ستمبر سے ماہ دسمبر تک ہوتا ہے،میں زائد از چار لاکھ کانگڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک مقامی تاجر سے معاہدہ طے ہوا تھا جس نے ہمیں بڑا آرڈر دیا اور کچھ رقم پیشگی بھی دی جس سے ہم کانگڑیاں بنانے کے لئے درکار کچا مواد جیسے ٹہنیاں وغیرہ خریدا۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرانا چاہتے ہیں لیکن محدود وسائل ہونے کی وجہ سے اکثر بچوں کو تعلیم ادھوری ہی چھوڑنا پڑتی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کا سفر مکمل نہ کرنے کی وجہ سے ہی ہمارے گاؤں میں سرکاری ملازموں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
شمیم احمد نے کہا کہ ہم اس پیشے سے خوش ہیں کیونکہ کم سے کم اس سے ہمارے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اس قدر وسائل نہیں ہیں کہ ہم کوئی کاروبار کر سکیں۔
شمیم احمد کا شکوہ ہے کہ حکومت اس پیشے سے وابستہ لوگوں کی فلاح و بہبودی کی طرف متوجہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ’محکمہ جنگلات بھی ہمارے اس پیشے میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے خام مواد مہنگا ہوتا جا رہا ہے جس کو خریدنا ہمارے لئے مشکل سے مشکل تر بن رہا ہے لیکن حکومت کوئی اقدام نہیں کر رہی ہے‘۔
موصوف کاریگر نے کہا کہ ہمارے اجداد سادہ زندگی گذارتے تھے ان کی ضروریات بھی محدود ہی تھیں لیکن آج ہماری ضررویات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی آسمان چھونے لگی ہے۔
انہوں نے کہا: ’بینک والے ہمیں قرضہ بھی فراہم نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہاں ایک گارنٹر کی ضرورت ہوتی جس کا ملنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے‘۔
شمیم احمد نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ کانگڑیاں بنانے والے کاریگروں کے لئے بھی ایک مخصوص اسکیم بنائے تاکہ ان کی بہبودی کی سبیل ہوسکے۔
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور سے مبینہ انٹری فیس وصول کرنے والے پولیس اہلکار کی ویڈیو وائرل، پولیس تحقیقات میں مصروف
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں وردی پہنے ایک پولیس اہلکار کی جانب سے ٹرک ڈرائیور سے مبینہ طور پر انٹری فیس وصول کرنے کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی ہے، جس کے بعد آن لائن حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹرک ڈرائیور کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں مبینہ طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لکھن پور چیک پوائنٹ پر ایک پولیس اہلکار اس سے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ٹرک میں لدا سامان بلٹی کا متقاضی نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ انٹری پوائنٹ کٹھوعہ ضلع کے اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ ونگ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
لاری رسید، جسے عام طور پر ٹرک بلٹی کہا جاتا ہے، ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جو ٹرانسپورٹ کمپنی یا مال بردار ادارہ سڑک کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لیے سامان وصول کرنے کے ثبوت کے طور پر جاری کرتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرک ڈرائیور پولیس اہلکار کو 30 روپے دینے کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ اہلکار 100 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔
ویڈیو کے مطابق، ڈرائیور نے بالآخر پولیس اہلکار کو مطلوبہ رقم ادا کی اور چیک پوائنٹ سے روانہ ہوگیا۔
کٹھوعہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) سنیل کیسر نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ معاملہ ہمارے علم میں آیا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔‘‘
کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنر، اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ، جوگندر سنگھ نے یو این آئی کو بتایاکہ ’’اس معاملے کا ہمارے محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری ٹیمیں ای وے بلوں کی بے ترتیب جانچ اور تصدیق کے لیے تعینات ہیں اور انہیں مناسب وردی میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی نے مکمل ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کی قرارداد منظور کرلی
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت ہند سے مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور بلاتاخیر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد صوتی ووٹ سے منظور کی گئی۔ بی جے پی کو چھوڑ کر تمام جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔
قرارداد کی منظوری سے قبل جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر مرکز سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسے ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے لیے دو سال انتظار کیا جائے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت اسمبلی انتخابات کے بعد سے مرکز کی جانب سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اسپیکر صاحب، مجھے بتائیے کہ کس انگریزی میں ’جتنی جلد ممکن ہو‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟ کس انگریزی میں ’جلد از جلد‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟‘‘
عمر عبداللہ نے دسمبر 2023 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جموں و کشمیر میں ستمبر 2024 تک انتخابات کرانے اور ریاستی حیثیت ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت دی تھی۔
موجودہ اسمبلی اکتوبر 2024 میں منتخب ہوئی، جبکہ عمر عبداللہ کی جانب سے 25 ستمبر کو پیش کی گئی قرارداد میں ریاستی حیثیت ’’فوری اور بلاتاخیر‘‘ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو جموں و کشمیر کی سکیورٹی صورت حال سے جوڑا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ اسے (ریاستی حیثیت کی بحالی کو) ملی ٹنسی سے جوڑ رہے ہیں؟ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک جموں و کشمیر میں بندوقیں خاموش نہیں ہوجاتیں، ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جائے گا؟‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ریاستی حیثیت کی بحالی کو ملی ٹنسی کے مکمل خاتمے سے مشروط کیا گیا تو اس فیصلے کا اختیار بالآخر نئی دہلی کے بجائے پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’مرکزی حکومت بار بار کہتی ہے کہ ملی ٹنسی پاکستان سے شروع ہوئی اور گزشتہ 35 برس سے یہاں ملی ٹنسی جاری ہے۔ لہٰذا جب آپ کہتے ہیں کہ بندوقیں خاموش ہونے پر ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی تو آپ یہ فیصلہ پاکستان کے حوالے کر رہے ہیں کہ جب بھی بندوقیں خاموش ہوں گی، آپ ہمیں ریاستی حیثیت بحال کریں گے۔ کیا ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہماری ریاست کے بارے میں فیصلہ ہماری اپنی حکومت نہیں کرے گی؟ کیا ہم نے یہ طے کرلیا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ہمارے وزیر اعظم نہیں دیں گے؟ کیا یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک میں ہوگا؟ اگر ایسا طے کیا گیا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کیونکہ ہمارا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ اگر یہ فیصلہ کہیں ہونا ہے تو نئی دہلی میں ہوگا۔ یہ فیصلہ کہیں اور نہیں ہوگا۔‘‘
جاری۔یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد میں آرٹیکل 370، 35اے اور خود اختیاری کے حوالوں کے لیے 10 ترامیم پیش
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے سے متعلق قرارداد میں 10 ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے پانچ ترامیم حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی نے پیش کی ہیں۔ متعدد ارکان نے مجوزہ قرارداد میں آرٹیکل 370، آرٹیکل 35اے اور خود اختیاری کے حوالے شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے پانچ ارکان اسمبلی جاوید بیگ، تنویر صادق، اعجاز احمد جان، الطاف احمد وانی اور ہلال اکبر لون نے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے کے حوالوں کو قرارداد میں شامل کرنے کے لیے ترامیم پیش کی ہیں، جبکہ دو آزاد ارکان اسمبلی نے بھی اسی نوعیت کی ترامیم پیش کی ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے دو ارکان اسمبلی نے بھی آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے سے متعلق ترامیم پیش کی ہیں۔ پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے واضح طور پر قرارداد میں خود اختیاری کا مطالبہ شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
پرہ کی ترمیم میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے ساتھ خود اختیاری کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 370 اور 35اے کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اسمبلی میں اس معاملے پر پی ڈی پی کے موقف میں یہ ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بھٹ نے بھی ایک ترمیم پیش کی ہے، جس میں مرکز کو مختلف فورمز پر کیے گئے اپنے وعدوں اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان ترامیم سے پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو پیش کی گئی قرارداد پر ہونے والی بحث میں ایک نیا پہلو شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس قرارداد کو پہلے ہی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان اسمبلی کی 2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد اور 2024 کی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں سے متعلق قرارداد کے حوالوں پر شدید اختلاف کا سامنا ہے۔
عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اس قرارداد کو حکومتِ ہند کو بھیجا جائے۔‘‘
2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد کے حوالے پر عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو قرارداد پیش کیے جانے کے وقت بی جے پی نے سخت اعتراض کیا تھا۔ بی جے پی ارکان اسمبلی ایوان کے وسط میں آ گئے، نعرے لگائے اور قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جبکہ نیشنل کانفرنس کے ارکان نے جوابی نعرے لگائے۔ اس کے نتیجے میں اسمبلی میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔
پیر کے لیے جاری سرکاری کارروائی کے ایجنڈے میں وزیر اعلیٰ کی قرارداد کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے اور ایوان میں اس پر بحث کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
پیر کے ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ’’25 ستمبر 2026 کو معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر بحث۔‘‘
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
-
دنیا1 week agoواپس آنے کی خواہش ہے، لیکن بنگلہ دیش حکومت رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے: شیخ حسینہ
