جموں و کشمیر
ماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ ماتا لَلّیشوری کی تعلیمات سماجی تفریق سے بالاتر تھیں اور رواداری، مساوات اور باطنی تبدیلی کے نظریات کی عکاسی کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اشعار، جو اپنشدوں کی اعلیٰ ترین تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں، نسل در نسل لوگوں کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے تھلوال میں ماتا بھدرکالی استھاپن کے مقام پر ماتا لَلّیشوری ثقافتی و ورثہ مرکز کی سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیپیکس بجٹ کے تحت منظور کیا گیا یہ منصوبہ 4.5 کروڑ روپے کی لاگت سے یوگنی لَلّیشوری کی لازوال وراثت کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر قدیم زمانے سے ہی رشیوں، سنتوں اور سچائی کے متلاشیوں کی سرزمین رہا ہے۔
ماتا لَلّیشوری کے نام سے منسوب یہ مرکز ہندوستان کے تہذیبی شعور کی عکاسی کرے گا اور ثقافتی ہم آہنگی، روحانی سیاحت اور علمی تحقیق کے لیے ایک رہنما مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’یہ منصوبہ ہمیں اپنے لازوال تہذیبی شعور کی یاد دلاتا ہے۔ آج ہم اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ہمارے آباؤ اجداد کی دعائیں اور ان کی لازوال دانش ایک پراعتماد، ترقی یافتہ اور خود کفیل جموں و کشمیر کی خواہشات سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ ’’یہ مرکز ان کے فلسفے کے ایک زندہ ذخیرے کے طور پر کام کرے گا، جس سے اسکالرز، فن کاروں اور سچائی کے متلاشیوں کو ان کی دانش سے استفادہ کرنے اور جدید ذرائع کے ذریعے اسے عالمی سطح پر عام کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرکز محض ایک عمارت نہیں ہوگا بلکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرے گا۔ یہاں نمائشوں، ترجمے کے منصوبوں اور محفوظ دستاویزات کے مراکز کے علاوہ کشمیری شیو ازم میں فیلوشپ کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: این سی ارکان اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد ارکان کا اجلاس سے قبل اجلاس
سری نگر، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (این سی) نے اتوار کے روز اپنے ارکان اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد ارکان کا اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خزاں اجلاس کے آغاز سے ایک روز قبل ہوگا۔
این سی کے چیف وہپ مبارک گل کی جانب سے ہفتے کے روز جاری ایک سرکاری خط کے مطابق، اجلاس پارٹی صدر فاروق عبداللہ کی صدارت میں وزیر اعلیٰ اور این سی قانون ساز پارٹی کے رہنما عمر عبداللہ کی موجودگی میں ہوگا۔
اجلاس 20 ستمبر کو شام 4:30 بجے سری نگر کے بینکوئٹ ہال میں منعقد ہوگا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ’’جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھنے والے معزز ارکان اور حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد ارکان‘‘ شرکت کریں گے۔
خط میں تمام معزز ارکان سے مقررہ تاریخ، وقت اور مقام پر اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔
یہ اجلاس جموں و کشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس سے قبل طلب کیا گیا ہے، جو 21 سے 30 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اجلاس کے کیلنڈر کے مطابق سات دن اسمبلی کی کارروائی ہوگی۔
توقع ہے کہ اس اجلاس میں حکمران نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد ارکان شرکت کریں گے۔ اسمبلی کے خزاں اجلاس کے دوران قانون سازی اور حکومت سے متعلق دیگر امور پر کارروائی کی جائے گی۔
بی جے پی نے بھی آئندہ خزاں اجلاس کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کے مقصد سے اتوار کو قانون ساز پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
سری نگر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے ہفتے کے روز اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے برقرار رہنے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر حکومت عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں کر سکتی تو اس کے اقتدار میں رہنے کا کیا جواز ہے۔
سری نگر میں ایک عوامی رابطہ پروگرام کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد عوام کی شکایات سننا تھا اور یہ کوئی سیاسی یا پارٹی اجلاس نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات اور بے روزگاری سمیت مختلف مسائل کے باعث الجھن اور مایوسی کا شکار ہیں، جبکہ ان کے مطابق حکومت بار بار ریاستی حیثیت کی عدم موجودگی کو ایک رکاوٹ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ’’جہاں ہمیں پائپ لائنیں جوڑنی تھیں، جہاں بجلی کے کھمبوں اور تاروں کی ضرورت تھی، جہاں اسکولوں میں عملہ تعینات کرنا تھا، جہاں اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی معاونین کی ضرورت تھی، جہاں سڑکوں کے گڈھے بھرنے تھے، وہاں ہمیں ہر مسئلے کے جواب میں صرف ایک ہی بات سننے کو ملی کہ ریاستی حیثیت نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہر مسئلے کی ذمہ داری ریاستی حیثیت کی عدم موجودگی پر ڈالی جا رہی ہے تو موجودہ نظام کو جاری رکھنے کا کیا جواز ہے۔
انہوں نے پوچھاکہ ’’اگر دو سال کے اختتام پر ہم یہ کہیں کہ کھمبے، تاریں اور پائپ لگانے کے لیے ریاستی حیثیت درکار ہے، عملہ فراہم کرنے کے لیے ریاستی حیثیت چاہیے اور ہر مسئلے کا جواب دینے کے لیے ریاستی حیثیت ضروری ہے، تو پھر ہم حکومت میں کیوں ہیں؟ ہم اسمبلی میں کیوں ہیں؟‘‘
اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ حکومت کو اسمبلی تحلیل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
گوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
سری نگر، بانڈی پورہ ضلع کی گوریز وادی میں مجوزہ ’’تنتر سائلنس‘‘ ریٹریٹ کے اشتہار پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے حکام سے معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مبینہ پوسٹر میں 24 سے 27 ستمبر تک گوریز وادی میں چار روزہ ’’تنتر اِن سائلنس – اے جرنی وِد اِن‘‘ نامی مراقبے کے ریٹریٹ کی تشہیر کی گئی ہے۔ پوسٹر میں سوامی دھیان سمیت کو اس پروگرام کا منتظم بتایا گیا ہے۔ پوسٹر کے مطابق پروگرام میں ساؤنڈ ہیلنگ، مراقبہ، محبت و آگاہی، شعوری زندگی اور باطنی تبدیلی جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس میں سفید اور میرون رنگ کے لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
محبوبہ مفتی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ریٹریٹ کے تشہیری مواد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ سوامی دھیان سمیت کی نگرانی میں اسی طرح کا ایک ’’تنتر‘‘ پروگرام گزشتہ سال گوا میں بھی منعقد ہونا تھا، لیکن اس کے تشہیری مواد پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ محبوبہ نے سوامی دھیان سمیت کو ایک خود ساختہ مذہبی پیشوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق شری رجنیش فاؤنڈیشن سے ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہاکہ ’’گوریز روحانیت یا سیاحت کے نام پر تجربات کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور جموں و کشمیر پولیس سے معاملے میں مداخلت کرکے مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے میرواعظ عمر فاروق اور مفتی اعظم سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کریں۔
محبوبہ مفتی کی پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ مجوزہ پروگرام کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات ’’فوری توجہ کے مستحق ہیں‘‘۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گوا میں اسی طرح کے ایک پروگرام سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع کے پیش نظر گوریز میں ایسے پروگرام کی اجازت دیا جانا خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔
میرواعظ نے کہاکہ ’’کشمیر صوفیوں اور بزرگوں کی سرزمین ہے۔ یہاں روحانیت کا تجربہ کیا جاتا ہے، اسے قیمت لگا کر فروخت نہیں کیا جاتا!‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں سیاحت کے فروغ کی قیمت خطے کے ’’مذہبی، ثقافتی اور سماجی مزاج‘‘ کی صورت میں نہیں چکائی جانی چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سمیت حکام سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر1 week agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
دنیا1 week agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
ہندوستان1 week agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
دنیا1 week agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
-
ہندوستان1 week agoگوئل نے برکس ممالک کے درمیان مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر زور دیا
-
دنیا5 days agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
کھیل1 week agoفٹنس ٹیسٹ نہ دینے پر امام اور رضوان ڈومیسٹک کرکٹ سے باہر
-
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس چین کے خلاف اے آئی تحفظات ہیں: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoکولگام میں پولیس نے پانچ سال سے گرفتاری سے بچنے والے مفرور کو گرفتار کرلیا
