تازہ ترین
با برکت ماہ رمضان المبارک کیسے گزاریں؟
الطاف جمیل ندوی 
آمد رمضان کے ساتھ ہی لوگ یا تو خوشی و مسرت محسوس کررہے ہیں یا پھر اداس ہو رہے ہیں ،کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اس وجہ سے خوش ہورہے ہیں کہ رمضان کی سعادت نصیب ہوگی اور ہم رب کے حضور اپنا تعلق مزید مستحکم کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی سعی کریں گئے اسی طرح کتنے ایسے بھی برائی کے خوگر لوگ ہیں جو اس وجہ سے غمزدہ ہونا شروع ہوچکے ہیں کہ بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرنی پڑے گی اور مختلف طریقے اختیار کرکے اس سعادت سے فرار اختیار کرنے پر اپنی صلاحیت استعمال کرتے ہیں .
بعض لوگ اس طرح کے کام اختیار کرتے ہیں کہ اس میں روزہ رکھنا دشوار ہوتا ہے اور وہ دل ہی دل میں جھوم جاتے ہیں
پر کتنے ایسے بھی بدنصیب ملیں گے جو اس وجہ سے خوشی منارہے ہیں کہ انہیں روزہ داروں کے سامنے کھانے کو ملے گا اور وہ روزہ داروں کو چڑھاتے ہیں کہ کیا فائدہ تمہاری بھوک پیاس کا دیکھ لیں ہم کیسے زندگی کو مختلف لذیذ کھانے سےسنوار رہے ہیں
سوچنے کی بات ہے کہ ہم میں سے ہر کسی کو جائزہ لینا ہے کہ مذکورہ بالا کس قسم میں ہمارا شمار ہورہا ہے .
اگر ہم پہلی قسم سے تعلق رکھتے ہیں تو قابل مبارک باد ہیں ، دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو رمضان المبارک کی ہرسعادت اور ہرخیر و برکت سے نوازے اور ہمیں بھی ان لوگوں میں سے بنائے جن کے منہ سے نکل رہی بو رب الکریم کو بہت پسندیدہ ہے
دوسری قسم کے لوگوں کے لئے صرف اور صرف محرومی ہے ، دنیا میں بربادی ہے اور آخرت میں رسواکن عذاب ہے یہ مسلم معاشرے میں رہ کر بھی رب الکریم کی رحمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں ایسے لوگ از خود رب الکریم کے غضب کو دعوت دیتے ہیں
اس لئے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی سے سچی توبہ کرنی چاہئے اور رب الکریم
کے حکموں پہ چلنا چاہئے تاکہ ان کی دنیا و آخرت سنور جائے
تیسری قسم کے لوگوں کو چاہئے کہ ایسا پیشہ اختیار کریں جس سے روزہ پر اثر نہ پڑے، یا کم از کم رمضان میں اپنے اس عمل سے رک جائیں جس سے روزہ پر اثر پڑتا ہو اور اللہ سے امید وابستہ رکھنی چاہئے ، کہ وہی روزی دینے والا ہے اور ممکن ہے کہ رب آپ کی تلاش حق کی راہ میں ایسی دستگیری فرمائے کہ آپ بے نیاز ہوجائیں اس رزق کی تلاش سے یہ سب اسی رب کے ہاتھ میں ہے
چوتھی قسم کے لوگ پرلے درجے کے بدنصیب ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کفار کی روش اختیار کرتے ہیں اور ان کی تقلید میں اہل ایمان کو کوستے اور ان کی استہزاء کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی گھناؤنی حرکتوں سے باز آنا چاہئے اور قہر الہی سے پناہ مانگنی چاہئے رمضان المبارک کی ان مبارک ساعتوں کا کیا کہنا جن کے آنے پے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم اپنی عبادات میں لذت و چاشنی کے شوق میں اضافہ کرتے اور شوق محبت میں رب کے حضور اپنا تعلق بناتے رب کی بارگاہ میں راز و نیاز کی باتیں کرتے رحمتوں کو سمیٹنے کے لئے اپنے مبارک ہاتھ بلند کرتے سحر ہو کہ افطار رب سے فریاد کرتے ہیں.
ارشاد باری تعالی ہے کہ مومنوں پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے سابقہ امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی شعار بن جاؤ
سوچنے کی بات ہے کہ رمضان المبارک اس سے پہلی امتوں پر بھی فرض ہی تھا اب جو ہم پر فرض کیا گیا تسلی بھی دی گئی کہ یہ صرف آپ کا امتحان نہیں ہورہا ہے بلکہ ایسا سابقہ امتوں سے بھی معاملہ کیا گیا تاکہ کھرے کھوٹے کو پرکھا جائے کہ تم میں سے رب سے کس کا کیا تعلق ہے کتنا مستحکم ہے اس میں کتنی اللہ کی محبت و اطاعت موجود ہے دنیا کی مختلف اقوام ایسا کرتے ہیں کہ مختلف دن مقرر کر کے دن میں کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں پر ان کے اس عمل پر ان کے لئے کوئی پابندی نہیں کہ یہ کس طرح کی بھوک پیاس کی شدت کو سہہ لیتے ہیں پر مومنین پر قوانین نافذ ہیں کہ ایسا کرے ایسا نہ کریں یہ روزہ میں بہتر کام ہے پر اس کام سے روزے برباد ہوجاتے ہیں مطلب یہ کوئی اچانک والا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ الہی حکم ہے اور اس کے کرنے کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں جسے اب رب کی رضا مطلوب ہے وہ بڑا حساس بن کر پورے دن اپنے جسم کے اعضاء کی رکھوالے بھی کریں کہ کہیں کوئی حصہ یا عضو کسی غلطی کا ارتکاب نہ کر بھیٹے اور میری دن کی مشقت برباد ہو جاۓ یہ اخلاقیات کی تعلیم بھی دیتا ہے تو وہیں درس مساوات بھی یہ اتحاد و اتفاق کی ترغیب بھی دیتا ہے تو وہیں محبت و خلوص کا درس بھی انسان دوستی کا سبق بھی دیتا ہے.
کچھ کام کی باتیں
۱۔۔۔ روزہ دار کو افطار کرانا چاہئے ایک کجھور ہو کہ پانی کا ایک گھونٹ
اس سے آپسی میں محبت و اخوت کا تعلق بنے گا اصل یہی ہے ورنہ ایک گھونٹ پانی سے کیا ہوتا بس اسلام چاہتا ہے کہ امت مسلمہ آپس میں بھائی چارے کی مثالیں قائم کریں اور اسے فروغ دینے کا سنہری موقعہ رمضان المبارک کے مبارک ایام ہیں
۲۔۔ گالی گلوچ سے پرہیز
یہ بھی ایک ایسا کام ہے جس کو اب ہم مذاق مذاق میں مختلف بہانے بنا کر صحیح بنانے کی تک و دو میں رہتے ہیں پر ہے یہ ایک غلیظ عادت جس سے پرہیز کی تعلیم دی گئی ہے پر رمضان المبارک میں آسانی سے اپنی زبان کو بدی کی باتوں سے روکا جا سکتا ہے
۳۔۔ صبر کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ بھوک پیاس کی شدت کا شکوہ بہ کریں کسی بھی سے کیونکہ یہ بھوک پیاس جس محبت و عقیدت کے لئے آپ سہہ رہے ہیں اس کی تا قیامت بدر میں اصحاب نبوی علیہ السلام نے مثال پیش کی انہوں نے کسی سے اپنی بے بسی بیان نہ کی سوائے رب الکریم کے .
۴۔۔۔ ذکر الہی
گر چہ پورے سال کرنے کا کام ہے پر رمضان المبارک میں اس کی لذت و چاشنی کا الگ ہی لطف ہے کہ آپ بھوک محسوس کر رہے ہیں اپنی بھوک کی شدت سے بچنے کے لئے آپ قرآن مجید اٹھا کر اس کی تلاوت شروع کرکے خود کو رب سے جوڑ رہے ہیں تو رب بھی آپ کو راندہ درگاہ نہ کرے گا بلکہ آپ کی بھوک جنت کے باغیچوں میں مٹانے کا وعدہ دے کر نوید فلاح سنائے گا پورے سال گر چہ کم قلیل تلاوت ہوتی رہتی ہے اب پر رمضان المبارک میں اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی کوشش کریں بیشک قرآن مجید آپ کے دلوں کو منور کرے گا
۵۔۔ آپسی رنجش یا حسد بغض سے حتی الامکان بچیں نفرت و کدورت بھرے قلب کی صدائیں ضائع ہوا کرتی ہیں
۶۔۔ مساجد میں شور غل مچانے سے احتیاط کرنی لازم ہے فضول کے مسائل اٹھا کر ضد نہ کریں کہ یہ صحیح پے یہ غلط ہے بلکہ اپنے معاملات اللہ تعالی و رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں نہ کہ اپنی ضد اور انا کو بچانے کے لئے جگڑا کریں اعتدال کی راہ کا انتخاب سب سے بہتر طریقہ ہے اصلاح کا
آئے میرے عزیزان گرامی یہ چند گزارشات آپ کے لئے لکھ دی ہیں امید ہے کہ یہ رمضان ہمارے لئے رحمت ربی کا پیغام بن کر ہماری زندگیوں کو منور کریں شعبان کے آخری ہفتہ میں کیسا بہترین پیغام ہمارے لئے کتب احادیث میں موجود ہے آئے اس کا مطالعہ بھی کریں کہ ہم کیسے اس ماہ میں اپنے اوقات کو صرف کریں کیسے اپنی ایمانی لذت و چاشنی میں مزید اضافہ کرائیں کتب احادیث بتاتی ہیں کہ شعبان کا آخری دن ہوتا تو آپﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کو جمع فرما کر خطبہ ارشاد فرماتے جس میں رمضان المبارک کے فضائل و وظائف اور اہمیت کو اجاگر فرماتے تاکہ اس کے شب و روز سے خوب فائدہ اٹھایا جائے اور اس میں غفلت ہرگز نہ برتی جائے، اس کے ایک ایک لمحہ کو غنیمت جانا جائے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے فرمودہ خطبہ کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم کو شعبان کے آخری دن خطبہ دیا، فرمایا: اے لوگو! ایک بہت ہی مبارک ماہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض اور رات کے قیام کو نفل قرار دیا ہے۔
جو شخص کسی نیکی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف قرب چاہے اس کو اس قدر ثواب ہوتا ہے گویا اس نے دوسرے ماہ میں فرض ادا کیا۔
جس نے رمضان میں فرض ادا کیا اس کا ثواب اس قدر ہے گویا اس نے رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر فرض ادا کئے۔
وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے،وہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کا مہینہ ہے۔
اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
جو اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اس کو بھی اسی قدر ثواب ملتا ہے اس سے روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں آتی۔ اس پر صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیک و سلم ! ہم میں سے ہر ایک میں یہ طاقت کہاں کہ روزہ دار کو سیر کر کے کھلائے۔ اس پر آپ نے فرمایا: یہ ثواب تو اللہ اسے بھی عطا فرمائے گا جو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ پلا دے. جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کے وقت پانی پلایا اللہ تعالیٰ (روزِ قیامت) میرے حوضِ کوثر سے اسے وہ پانی پلائے گا جس کے بعد دخولِ جنت تک پیاس نہیں لگے گی۔
یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے، اس کے درمیان میں بخشش ہے اور اس کے آخر میں آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس میں اپنے غلام کا بوجھ ہلکا کرے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور آگ سے آزاد کر دیتا ہے .
یہ وہ تعلیمات نبوی علیہ السلام ہیں جنہیں گر ہم رمضان المبارک کے مبارک ایام میں عمل میں لائیں تو یقینا رب الکریم کی رحمتیں ہمارے لئے وا ہوں گئیں آئے امت مسلمہ کے عظیم کارواں کے ساتھیو آو مل کر اپنی زندگیوں کے ان مبارک اوقات کو اپنے لئے رحمتوں کا سایہ تلاش کریں میں صرف کریں اور بقاء امت کے لئے اپنی دعاؤں میں امت کے کرب کا رب سے خاموشی سے اظہار کریں.
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا10 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
