تازہ ترین
برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا مستعفیٰ ہونے کا اعلان
خبراردو: برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے بریگزٹ ڈیل پر پارلیمنٹ کو قائل کرنے میں ناکامی کے بعد وزارت ِ عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے، استعفے کا سبب بریگزٹ پر ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل نہ کرسکنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 7 جون کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی، ساتھ ہی ساتھ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کا منصب بھی چھوڑدیں گی۔
برطانوی وزیراعظم کوبریگزٹ ڈیل میں ناکامی پرتنقیدکاسامناتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے2016میں یورپی یونین سےنکلنےکاانتخاب کیا، تاہم میں بطور وزیراعظم بریگزٹ ڈیل پرارکان کوقائل کرنےکی کوشش میں ناکام رہی ہوں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطورجمہوری لیڈرعوام کی رائےکااحترام اورنفاذان کی ذمہ داری تھی، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکتا لہذا بہتر ہے کہ وہ وزارت ِ عظمیٰ کا منصب کسی ایسے شخص کو سونپ دیں جو ان سے زیادہ اس عہدے کا اہل ہو۔
وزیر اعظم تھریسامے کی جانب سے بریگزٹ کےلیے معاہدے کے تیار کردہ مسودے کو برطانوی اراکین پارلیمنٹ تین مرتبہ مسترد کرچکے ہیں، مذکورہ معاہدے پر یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان نومبر 2018 میں اتفاق ہوگیا تھا لیکن اسے برطانوی پارلیمنٹ سے منظوری نہ مل سکی۔
منظوری نہ ملنے کے سبب یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات ہوئے جن میں بریگزٹ سے متعلق طویل مدتی توسیع پراتفاق ہوگیا، یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ دونوں فریقوں نے 31 اکتوبر تک بریگزٹ میں لچک دار توسیع پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ نے 29 مارچ کو یورپین یونین سے نکلنا تھا۔
یادر ہے کہ آج سے تین سال قبل 2016 میں 43سال بعد تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
اس وقت ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے وزیراعظم تھے اور وہ بریگزٹ کے حق میں نہیں تھے جس کے سبب انہوں نے عوامی رائے کے احترام میں اپنے منصب سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا تھا۔ استعفیٰ دیتے وقت ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کا انعقاد پارلیمانی نظام کا حصہ ہے، چھ سال تک برطانیہ کا وزیر اعظم بنے رہنے پر فخر ہے، برطانیہ کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہے اور سرمایہ کاروں کو یقین دلاتا ہوں کہ برطانوی معیشت کی بہتری کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
ان کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں اب یورپی یونین سے بات چیت کے لیے تیار ہونا ہوگا، جس کے لیے سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی ایئر لینڈ کی حکومتوں کو مکمل ساتھ دینا ہو گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ برطانیہ کے تمام حصوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔
برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔ بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے ابتداء میں مشکلات ضرور پیدا ہوں گی تاہم مستقبل میں اس کا فائدہ ہوگا۔
دنیا
ٹرمپ کے گولڈن ڈوم دفاعی منصوبے کے لیے فنڈنگ پر سوالات، کانگریس سے منظوری مشکل
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے لیے پیش کردہ گولڈن ڈوم منصوبے کو فنڈنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، کیونکہ مالی سال 2027 کے لیے منصوبے کی زیادہ تر فنڈنگ ایک ایسے مفاہمتی پیکیج سے منسلک ہے جسے کانگریس سے منظور کرانا مشکل نظر آرہا ہے۔
کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کے مطابق میزائل دفاعی پروگرام کی ترقی اور آپریشن پر 20 برسوں کے دوران تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آنے کا اندازہ ہے۔
پینٹاگون نے 350 ارب ڈالر کے مجوزہ مفاہمتی پیکیج کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 17 ارب ڈالر طلب کیے ہیں، جبکہ اس کے 1.15 ٹریلین ڈالر کے بنیادی بجٹ میں اس پروگرام کے لیے صرف 40 کروڑ ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے میزائل ڈیفنس پروجیکٹ کے ڈائریکٹر تھامس کاراکو نے کہا کہ جمعرات کو نئے مالی سال کے آغاز کے وقت پروگرام کے لیے کوئی فنڈنگ موجود نہیں تھی۔
انہوں نے ’دی ہل‘ سے کہا، ’’یہ مالی سال 2027 کی تخصیصات سے بنے گا یا ختم ہوجائے گا، اور میں نے کہا تھا کہ گولڈن ڈوم کے لیے یہی سب سے فوری ضرورت ہے۔ یہ اس نقطۂ نظر سے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ رقم کے بغیر کوئی پروگرام نہیں، صرف پاورپوائنٹ سلائیڈز ہیں۔‘‘
فنڈنگ کی حکمت عملی پر 29 ستمبر کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز ذیلی کمیٹی کی سماعت میں بھی سوالات اٹھائے گئے، جہاں کاراکو نے گواہی دی۔
دریں اثنا، ساؤتھ ڈکوٹا سے ریپبلکن سینیٹر مائیک راؤنڈز نے سوال اٹھایا کہ پروگرام کو دو طرفہ تخصیصات کے بجائے مفاہمتی عمل پر انحصار کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ جبکہ مین سے آزاد سینیٹر اینگس کنگ نے کہا کہ یہ منصوبہ ’’امریکی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے اب تک کے سب سے مہنگے اور بڑے منصوبوں‘‘ میں سے ایک ہے، اس لیے یہ بات ’’بہت تشویش ناک‘‘ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے روایتی بجٹ مختص کرنے کے عمل کے ذریعے اسے فنڈز فراہم نہیں کیے۔
ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اعلان کیا تھا کہ پینٹاگون خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور میزائلوں کا سراغ لگانے اور انہیں راستے میں روکنے کے لیے سیٹلائٹس پر مشتمل ایک وسیع ملکی میزائل دفاعی نظام تیار کرے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس نظام کا مقصد بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں، جدید کروز میزائلوں اور دیگر نئی نسل کے فضائی خطرات سے دفاع کرنا ہے۔
سی بی او نے مئی میں اندازہ لگایا تھا کہ گولڈن ڈوم پر 20 برسوں میں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر لاگت آئے گی، جس میں خلا پر مبنی میزائل وارننگ اور ٹریکنگ نظام کے لیے 740 ارب ڈالر، زمینی دفاعی نظام کی مختلف تہوں کے لیے 270 ارب ڈالر، جبکہ سینسرز، تحقیق و ترقی اور دیگر سرگرمیوں کے لیے 180 ارب ڈالر شامل ہیں۔
پروگرام کی نگرانی کرنے والے اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گوئٹلین نے مارچ میں اس کی تخمینی لاگت 185 ارب ڈالر بتائی تھی۔
کانگریس نے اس سے قبل جولائی 2025 میں ٹرمپ کے دستخط سے نافذ ہونے والے ’ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘ (او بی بی بی اے) کے ذریعے گولڈن ڈوم کے لیے 24.4 ارب ڈالر مختص کیے تھے۔
مارچ میں ایک مزید مفاہمتی بل کے ذریعے تعمیرات شروع کرنے کے لیے 22.5 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے، تاہم گوئٹلین نے رواں موسم گرما میں کہا تھا کہ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں اس رقم کا 90 فیصد حصہ مختص کیا جاچکا ہے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی نے ووٹ چوری کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے: راہل گاندھی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ’ووٹ چوری‘ کرکے ملک کو ہائی جیک کر لیا ہے اور وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اس کام میں ان کی مدد کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ سے نرواچن سدن تک مارچ کے دوران منگل کو یہاں آکاشوانی بھون کے سامنے تقریباً 5 گھنٹے تک روکے جانے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ چند گھنٹے پہلے تقریباً 300 لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان ان کے ساتھ آئے تھے۔ تمام ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے 2 ساتھیوں سے ملنا چاہتے تھے، لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ ملک کے نمائندے ہیں اور ملک کے عوام کی آواز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کے ساتھ آئے تمام ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن سے ملنا چاہتے تھے، لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا، جبکہ الیکشن کمیشن کا دفتر وہاں سے تقریباً 50 گز دور ہے، اس کے باوجود انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ سے نرواچن سدن تک ’جمہوریت بچاؤ‘ مارچ کے دوران تمام ارکان کو آکاشوانی بھون کے سامنے روک دیا گیا۔ مسٹر گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور کچھ دیگر ارکان پارلیمنٹ دھرنے پر بیٹھ گئے تو پولیس نے سمجھا بجھا کر انہیں آکاشوانی بھون کے اندر لے گئی۔
تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تک آکاشوانی بھون کے اندر رکھنے کے بعد انہیں باہر لایا گیا اور جب وہ نہیں مانے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
مسٹر گاندھی نے حراست میں لیے جانے سے پہلے صحافیوں سے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ایس آئی آر کے نام پر ملک کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ غداری ہے۔ غداری کرنے والوں میں سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا اور سب کے خلاف کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ گیانیش کمار سے ملنا چاہتے ہیں، لیکن ’گیانیش کمار جی ڈرے ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے نمائندوں سے الیکشن کمیشن نہیں ملے گا تو جمہوریت کا کیا مطلب ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ہم صرف ان کا مقابلہ نہیں کرنے جا رہے ہیں، ہم انہیں ختم کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کیا کہتی ہے، اس میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ ہندوستان کی جمہوریت کو بچانے کے لیے یہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ آئے 300 ارکان پارلیمنٹ بھی ملک میں جمہوریت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا، ’’امت شاہ، نریندر مودی، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار، ان لوگوں نے ملک کی جمہوریت کو ختم کر دیا ہے۔ پورا ملک اور ملک کے نوجوان اس بات کو مانتے اور سمجھتے ہیں۔ ہمیں روکنے والے پولیس اہلکار بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔ اصل میں ملک کو نریندر مودی نے ووٹ چوری کرکے ہائی جیک کیا ہے، امت شاہ جی نے ہائی جیک کیا ہے، موہن بھاگوت جی نے ہائی جیک کیا ہے اور گیانیش کمار نے ان کی مدد کی ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا، ’’میں سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں کہ ان تمام لوگوں کے خلاف کارروائی ہوگی اور ان میں سے ایک شخص بھی بچ کر نہیں جائے گا، چاہے وہ نریندر مودی ہوں، امت شاہ ہوں، گیانیش کمار ہوں یا موہن بھاگوت۔ ہمارے ملک کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ غداری ہے۔ کوئی بھی بچ کر نہیں بھاگ پائے گا۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
سری نگر، حکام نے منگل کو جموں و کشمیر کے بارہمولہ قصبے میں پارلیمنٹ حملہ کیس کے مجرم محمد افضل گورو کے رشتہ داروں کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے ڈیری فارم کے شیڈ کو منہدم کر دیا۔
حکام نے بتایا کہ بارہمولہ قصبے کے گلنار پارک کے قریب سیلابی بیسن میں واقع اس ڈھانچے کو محکمہ مال کی جانب سے تجاوزات کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران منہدم کیا گیا۔ کارروائی کے وقت موقع پر پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق یہ ڈھانچہ سرکاری زمین پر تعمیر کرکے اس پر قبضہ کیا گیا تھا۔
تاہم، خاندان کا دعویٰ ہے کہ انہدام سے قبل انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔
خاندان کے ایک رکن نے کہاکہ ’’حکام آئے اور دو مرلہ زمین پر پھیلے اس ڈھانچے کو منہدم کر دیا۔ انہدام کی کارروائی دوپہر کے قریب کی گئی۔‘‘
حکام نے بتایا کہ یہ شیڈ مبینہ طور پر گورو کی اہلیہ سے وابستہ تھا اور تقریباً ایک دہائی سے گائے کے باڑے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
گورو کو 2001 کے پارلیمنٹ حملہ کیس میں قصوروار قرار دیا گیا تھا اور فروری 2013 میں اسے پھانسی دی گئی تھی۔
بارہمولہ کے ایک افسر نے بتایا کہ منگل کو ضلع بارہمولہ میں غیر قانونی قبضے میں موجود کئی کنال قیمتی سرکاری زمین کو واگزار کرایا گیا۔
کروڑوں روپے مالیت کی اس زمین کو حکام کی جانب سے وہاں موجود ڈھانچوں اور غیر قانونی قبضے کو ہٹانے کے بعد دوبارہ حکومت کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔
حکام نے مبینہ تجاوزات کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت پارلیمنٹ حملہ کیس کے مجرم محمد افضل گورو کی اہلیہ تبسم گورو کے طور پر کی ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ ضلع بھر میں تجاوزات کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی اور سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثنا، پی ڈی پی لیڈر زہیب یوسف میر نے تجاوزات کے خلاف مہم پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی کشمیر سے متعلق ایک ’’بیانیہ‘‘ درآمد کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا1 week agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا1 week agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
