دنیا
مبینہ دہشت گردی کے خطرے کے بعد امریکہ نے برطانیہ کے اڈے سے بمبار طیارے واپس بلا لیے
واشنگٹن، امریکہ نے ایک نئے اور غیر واضح خطرے کے پیش نظر انگلینڈ میں واقع اپنے زیر استعمال فضائی اڈے پر تعینات تمام 12 بی-1 بمبار طیاروں کو واپس امریکہ منتقل کر دیا ہے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے یہ اطلاع دی۔
عہدیدار کے مطابق بمبار طیاروں کو اس ہفتے کے اختتام پر گلوچسٹرشائر میں واقع آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا کر امریکہ میں ان کے اصل اڈوں پر واپس بھیج دیا گیا۔ یہ پیش رفت برطانوی حکام کی جانب سے اس اڈے کو مبینہ ایرانی سازش کا نشانہ بنانے کی کوشش کے سلسلے میں متعدد افراد کی گرفتاری کے چند روز بعد ہوئی ہے۔
سی این این نے پینٹاگون کے عہدیدار کے حوالے سے کہا، ’’ہم اب تصدیق کر سکتے ہیں کہ آر اے ایف فیئر فورڈ پر تعینات تمام امریکی بمبار طیارے امریکہ میں اپنے آبائی اڈوں پر واپس پہنچ گئے ہیں۔‘‘
امریکی میڈیا کے مطابق عہدیدار نے خطرے کی نوعیت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ طیاروں کو یورپ کے کسی دوسرے اڈے پر منتقل کرنے کے بجائے برطانیہ سے امریکہ واپس کیوں بلایا گیا۔
عہدیدار نے کہا کہ ’’آپریشنل سکیورٹی‘‘ کے باعث امریکی فوج طیاروں کی نقل و حرکت کی حقیقی وقت میں تصدیق نہیں کر سکتی تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بمبار طیاروں کے عملے براعظم امریکہ میں واقع اڈوں سے دنیا بھر میں حملہ آور کارروائیاں انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔
فلائٹ ٹریکرز کے مطابق متعدد بی-1 بمبار طیاروں نے اتوار کی صبح آر اے ایف فیئر فورڈ سے پرواز کی۔
سی این این نے معاملے سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ تازہ ترین خطرہ ’’حقیقی دنیا میں پیش آنے والا واقعہ‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ ذریعے نے کہا کہ امریکی فوج کے لیے بمبار طیاروں کو خطے میں کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے بجائے ان کے آبائی اڈوں پر واپس بھیجنا غیر معمولی اقدام ہے۔
آر اے ایف فیئر فورڈ امریکی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں، بشمول بی-1 اور بی-52، کے آپریشنل اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، جہاں سے ایران میں حملے بھی کیے گئے ہیں۔ یہ اڈہ امریکی گلوبل اسٹرائیک کمانڈ سے بھی وابستہ ہے، جو ملک کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کی نگرانی کرتی ہے۔
طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کی تازہ منتقلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برطانوی حکام فضائی اڈے کے خلاف مبینہ سازش کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
برطانوی پولیس نے 27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ افراد کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ افراد لندن کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 23 سے 25 سال کی عمر کے برطانوی شہری تھے اور بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
پولیس نے کہا کہ گرفتاری کے وقت قبضے میں لی گئی تین وینوں سے کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
ایک چھٹے مشتبہ شخص، 25 سالہ برطانوی-ایرانی دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو بھی جمعرات کو تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اسے بھی بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ مبینہ سازش میں ایران کے ملوث ہونے کے ’’مضبوط اشارے‘‘ موجود ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ایران نے دنیا بھر میں امریکی مفادات کو کھلے عام دھمکیاں دی ہیں، کہا تھا کہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے واقعے میں ایک غیر ملکی فریق ملوث تھا، تاہم انہوں نے ملک کا نام نہیں بتایا۔
ایران نے مبینہ سازش میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے برطانوی سفیر کو طلب کیا اور لندن پر زور دیا کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنے اس رویے پر نظرثانی کرے جسے تہران نے نامناسب قرار دیا ہے۔
طیاروں کی منتقلی سے اس خطرے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے جس کے پیش نظر امریکی حکام نے یہ اقدام کیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب برطانیہ اس مبینہ سازش کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ اڈا امریکی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
۔کیریبین سمندر میں امریکی فوج کا کشتی پر حملہ، منشیات اسمگلنگ کے 4 مبینہ ملزم ہلاک: کمانڈ
ماسکو، امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں منشیات کی اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ایک کشتی کو نشانہ بنا کر مہلک حملہ کیا، جس میں 4 افراد ہلاک ہوگئے۔ جنوبی کمانڈ نے یہ اطلاع دی۔
کمانڈ نے کہا کہ 4 اکتوبر کو جنوبی کمانڈ کی ہدایت پر مغربی نصف کرہ کی مشترکہ ٹاسک فورس نے کیریبین میں منشیات کی اسمگلنگ کے مقررہ راستوں پر چلنے والی ایک تیز رفتار کشتی کو نشانہ بنا کر مہلک فوجی کارروائی کی۔
کمانڈ نے مزید کہا کہ اس کارروائی میں 4 ’’منشیات کے دہشت گرد‘‘ ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی خفیہ معلومات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذکورہ کشتی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھی۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
حوثیوں کا دعویٰ، سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں یمن پر 106 حملے کیے
بیروت، شمالی یمن میں حکمراں انصار اللہ تحریک، جسے حوثی بھی کہا جاتا ہے، نے سعودی عرب پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنے زیر قبضہ علاقوں میں 106 فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا ہے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اتوار کو ٹیلی گرام پر لکھا، ’’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعا اور الجوف، تعز، عمران، حجہ اور صعدہ صوبوں میں شہری اہداف پر 106 فضائی اور میزائل حملے کیے۔‘‘
سریع نے مزید کہا کہ ایف-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں نے یمن کے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو نشانہ بنایا۔
اس سے قبل اتوار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمن کی حکومت کی مسلح افواج نے ان علاقوں کو دوبارہ اپنے قبضے میں لینے کے لیے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جو اب بھی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا6 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
دنیا1 week agoعراقچی نے ایرانیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے پر امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا7 days agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا6 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
