تازہ ترین
برفبار ی کا شاخسانہ:انسان۔حیوان تصادم کا خطرہ پیدا
محکمہ جنگلی حیات نے جاری کی ایڈوائزی
خوراک کی تلاش میں جنگلی جانور آبادی والے علاقوں کی طرف کرسکتے ہیں رخ
سرینگر: رواں موسم سرما کے دوران کئی مراحل کے دوران ہوئی بھاری برفباری کے نتیجے میں کشمیر وادی میں ’انسان۔حیوان تصادم‘ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ جنگلی جانور خوراک کی تلاش میں آبادی والے علاقوں کی طرف رُخ کرسکتے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات نے اس ضمن میں ایک ایک ایڈوائزی جاری کی،جسکے تحت لوگوں سے کہا گیا ہے کہ خبردار رہیں اور جنگلی جانوروں کی کسی بھی نقل وحرکت کو دیکھتے ہی متعلقہ محکمہ سے رابطہ قائم کر یں۔ادھر جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں جنگلی جانوروں کے نمودار ہونے سے لوگوں میں خوف پایا جارہا ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس)کے مطابق رواں موسمی سرما کے دوران7نومبر2019سے برفباری کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور وقفے وقفے سے یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔برفباری سے پیدا شدہ صورتحال کا ایک منفی پہلو یہ تصور کیا جارہا ہے کہ کشمیر میں حالیہ بھاری برفباری کے بعد ’انسان۔حیوان تصادم‘ کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جنگلی حیات کے ماہرین نے اس ضمن میں تشویش ظاہر کی ہے۔ان کا کہناتھا کہ خوراک کی تلاش میں جنگلی جانور آبادی والے علاقوں کی جانب رُخ کرسکتے ہیں،جس دوران انسان۔
حیوان تصادم ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات نے اس سلسلے میں ایک ایڈوائزی بھی جاری کی ہے۔محکمہ جنگلی حیات نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسان۔حیوان تصادم سے محفوظ رہنے کیلئے خبردار رہیں۔ایڈوائزی میں کہا گیا ہے کہ لوگ جنگلی علاقوں میں روایتی راستوں کا انتخاب کریں اور کسی بھی چوٹھے راستے (شاٹ کٹ) کا انتخاب کرنے سے گریز کریں۔ایڈوائزی میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ لوگ شام کے وقت گھروں سے باہر آنے کے دوران روشنی کے آلات کا استعمال کریں جبکہ کنڈی اور دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگ اپنے گھروں کے باہر بھی معقول روشنی کا انتظام کریں،تاکہ اگر یہاں جنگلی جانور رخ کریں،تو وہ خود غیر محفوظ تصو ر کریں۔
محکمہ جنگلی حیات کی ایڈوائزی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں رہائش پذیر لوگ اپنے گھروں کے احاطوں میں متواتر بنیادوں پر گھاس اور جھاڑیوں کو ہٹائیں۔ایڈوائزی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے احتیاطی اقدامات سے جنگلی جانوروں جن میں تیندوے اور ریچھ شامل ہیں،رہائشی مکانوں سے دور رہ سکتے ہیں۔محکمہ جنگلی حیات کے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ2ماہ کے دوران18سیاہ ریچھوں کو جنگلی علاقوں کی طرف واپس دھکیل دیا گیا جبکہ 3کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ان کو شوپیان اور پلوامہ اضلاع کے جنگلی علاقوں میں چھوڑ دیا گیا جبکہ اس عرصے کے دوران 3تیندؤں کو بھی واپس دھکیل دیا گیا اور ایک زندہ پکڑ کر جنگلی علاقے میں چھوڑ دیا گیا۔
محکمہ جنگلی حیات کے اعلیٰ افسران نے بتایا کہ انسان۔حیوان تصادم کو روکنے کیلئے مؤثر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جبکہ جنگلی جانوروں کیلئے خوراک کا بھی انتظام کیا جاتا ہے،تاکہ وہ آبادی والے علاقوں کی طرف رخ نہ کریں۔ان کا کہناتھا کہ انسان۔حیوان تصادم آرائی کا خطرہ اُس وقت لاحق رہتا ہے جب جنگلی علاقوں میں جنگلی جانوروں کو خوراک کی کمی کا سا منا کرنا پڑا تا ہے۔ان کا کہناتھا کہ مستقبل میں انسان۔حیوان تصادم آرائی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے،کیونکہ جنگلی جانوروں کا آبادی والے علاقوں کی طرف رخ کو روکنا ناممکن ہے،تاہم خوراک کے انتظام سے اس کے روکتھام میں مدد ملتی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ہانگل اور سرمئی ہمالیہ لنگور گھاس،پودوں اور پتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ہلکی برفباری کی وجہ سے بھی خوراک تک انکی رسائی نا ممکن بن جاتی ہے جسکی وجہ سے بعض او قات کو نچلے علاقوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ داچھی گام نیشنل پارک میں جنگلی جانوروں کیلئے خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے۔ادھر جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں جنگلی جانوروں کے نمودار ہونے سے لوگوں میں خوف پایا جارہا ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پلوامہ کے پاریگام میں چار روز قبل مقامی لوگوں نے اُس وقت ایک تیندوے پر لاٹھیوں اور آہینی ہٹھیاروں سے حملہ کرکے اُس کو ہلاک کردیا جب تیندوے نے علاقے میں دن دھاڈے نمودار ہوکر علاقے کے2 نوجوانوں پر حملہ کرکے زخمی کیا۔محکمہ جنگلی حیات کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ احتیاط ہی انسان۔حیوان تصادم آرائی سے محفوظ رہنے کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جنگلی جانوروں کی نقل وحرکت کو دیکھتے ہیں متعلقہ محکمہ سے رابطہ کریں۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
