تازہ ترین
چلہ کلان میں برف وباراں کا چوتھا مرحلہ
سرینگر۔جموں شاہراہ پھر بند،سیکڑوں گاڑیاں درماندہ
گریز میں 100درماندہ شہریوں کو ائرلفت کیا گیا،جمعرات سے موسمی تبدیلی کا امکان
سرینگر: وادی کشمیر جاری شدید سردی کے پہلے مرحلے (چلہ کلان) میں منگلوار کو چوتھی مرتبہ برف وباراں کا سلسلہ شروع ہوا،جسکی وگہ سے سردی نے پورے کشمیر کو اپنی گرفت میں لیا جبکہ تازہ برفباری اور رامسو کے مقام پر پسیاں گرآنے کے نتیجے میں سرینگر۔جموں شاہراہ آمد ورفت کیلئے دوبارہ بند کردی گئی۔
کشمیر شاہراہ بند رہنے سے کئی مقامات پر سیکڑوں گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئیں۔ادھر فوج نے گریز میں 100 درماندہ شہریوں کو ’ائر لفٹ‘ کیا۔دریں اثناء محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ جمعرات سے موسمی تبدیلی کا امکان ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق برف وباراں کا تازہ سلسلہ: وادی کشمیر میں 7نومبر 2019کو موسم سرما کی پہلی برفباری ہوئی،جب سے لیکر آج تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے گذشتہ ایک اور برف وباراں کے ’اسپیل‘ کی پیش گوئی کی تھی اور پیش گوئی کے عین مطابق منگلوار کی صبح سرینگر کے علاوہ شمال وجنوب میں برف وباراں کا سلسلہ صبح سویرے شروع ہوا،جو وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا۔
وسطی کشمیر:وسطی کشمیر کے تین اضلاع سرینگر،بڈگام اور گا ندر بل میں منگلوار کی صبح میدانی علاقوں میں بارشوں کیساتھ ساتھ ہلکی برفباری بھی ہوئی جبکہ بڈگام اور گاندر بل کے بعض بالائی علاقوں میں درمیانہ درجے کی بر ف باری ہوئی۔گاندر بل کے کنگن،سونہ مرگ،نارا ناگ،گگن گیر،زوجیلا پاس اور دیگر علاقوں میں 6انچ سے10انچ برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ بڈگام ضلعے میں واقع سیاحتی مقام دودھ پتھری سمیت دیگر کئی بالائی علاقوں میں 4سے5برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔
کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ہلکی برفباری ہوئی،تاہم دن بھر بوندا باندی کا سلسلہ جاری رہا۔شمالی کشمیر:شمالی کشمیر کے تین اضلاع کپوارہ،بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی ہلکی برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔شما لی کشمیر کے تینوں اضلاع کے میدانی علاقوں میں بارشوں کیساتھ ساتھ ہلکی برفباری ہوئی جبکہ بالائی و سرحدی علاقوں میں درمیانہ درجے کی برفباری کا امکان ہے۔
بارہمولہ ضلع کے حدود میں واقع شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ اور ٹنگمرگ میں بھی موسم کی تازہ برفباری ہوئی ہے۔جنوبی کشمیر:جنوبی کشمیر کے4اضلاع پلوامہ،کولگام،اننت ناگ اور شوپیان میں بھی منگلوار کو برف وباراں کا تازہ سلسلہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔نمائندوں کے مطابق جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع میں ہلکی سے لیکر درمیانہ درجے کی برفباری ہوئی۔جنوبی کشمیر کے نامہ نگار نے بتایا کہ ٹنل کے آر پار برفباری ہوئی۔تاہم میدانوں علاقوں میں زیادہ تر بارشیں ہوئیں جبکہ بالائی علاقوں میں جن میں سیاحتی مقام پہلگام بھی شامل ہے،میں نصف انچ برفباری ہوئی۔
درجہ حرارت:محکمہ موسمیات کے ترجمان نے درجہ حرارت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ منگلوار کی شب سرینگر میں منفی0.6ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جبکہ پہلگام میں شبانہ درجہ حرارت منفی3اور شہرہ آفا سیاحتی مقام گلمرگ میں رات کا درجہ حرارت منفی8ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔لہیہ میں یہ درجہ حرارت منفی13.5ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے تر جمان نے بتایا کہ بدھ کو بھی کہیں کہیں موسم ’تر‘ رہنے کا امکان ہے جبکہ مجموعی طور مطلع ابر وآلود رہے گا۔
چلہ کلان کی مدت :وادی کشمیر میں 40روزہ چلہ کلان کی مدت جمعہ یعنی31جنوری کو اختتام پذیر ہوگی۔کشمیر میں شدید سردیوں کے ایام تین مراحل پر محیط ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے کو سردیوں کا شہنشاہ ’چلہ کلان‘ کہا جاتا ہے،جسکی مدت40روز تک ہوتی ہے،دوسرے مرحلے کو ’چلہ خرد‘کہا جاتا ہے اور اسکی مدت 20روز تک رہتی ہے تیسرے اور آخری مرحلے کو ’چلہ بچہ‘ کہا جاتا ہے،جسکی مدت10روز کی ہوتی ہے۔
رواں چلہ کلان کی 40روزہ مدت کے دوران 4مرتبہ برفباری ہوئی،جس دوران کشمیر میں درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری ہوئی۔آمد ورفت:تازہ برف وباراں کے باعث رامسو کے مقام پر پسیاں گرآئیں جسکے نتیجے میں سرینگر۔جموں شاہراہ پر آمد ورفت بند رہی۔ٹریفک حکام نے بتایا کہ برفباری سے ایک تو شاہراہ پر پھسلن پیدا ہوگئی ہے جبکہ رامسو کے مقام بھاری پسیاں بھی گر آئیں،جسکے بعد احتیاطی اقدامات کے تحت شاہراہ پر گاڑیوں کی آ مدو رفت کو روک دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ منگلوار کو جموں سے سرینگر کی طرف گاڑیوں کو آنے کی اجازت دی تھی،تاہم خراب موسم اور شاہراہ کی خستہ حالی کے سبب اسے معطل کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ شاہراہ پر تعینات افسران اور متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کی جانب سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی شاہراہ پر گاڑیوں کی آ مدورفت بحال کی جائیگی۔انہوں نے اعتراف کیا کہ شاہراہ پر سیکڑوں گاڑیاں درماندہ ہیں۔دریں اثناء گریز میں فوج نے100درماندہ شہریوں کو ائر لفٹ کرکے اپنی منزل مقصود پر پہنچا دیا۔دفاعی ترجمان کے مطابق درماندہ شہریوں میں مریض اور بزرگ شہری بھی شامل تھے۔ان کا کہناتھا کہ 27جنوری کو فوج کو سیول انتظامیہ کی جانب سے ایک ہنگامی در خواست ملی تاکہ درماندہ مریضوں اور دیگر شہریوں کو نکالا جاسکے۔ان کا کہناتھا کہ27کنبوں میں 81مرد 6بچے اور3شدید بیمار تھے،جنہیں ائر لفٹ کیا گیا۔(کےاین ایس)
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
معروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
سرینگر، جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز معروف کشمیری شاعر و مصنف سروا نند کول ‘پریمی’ اور ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے 1990 میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے مارے۔
حکام نے بتایا کہ یہ تلاشی ضلع اننت ناگ کے ڈورو تھانے میں درج ایف آئی آر کے تحت لی گئی۔ اس کیس کی تحقیقات اب ایس آئی اے کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
بدھ کے روز چلائے گئے اس آپریشن کے دوران تلاشی والے مقامات، برآمد شدہ مواد یا ثبوتوں کے حوالے سے تفصیلی معلومات کا ابھی انتظار ہے۔
مسٹر پریمی (65) اور ان کے بیٹے ویریندر (27) کو مئی 1990 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
مسٹر پریمی ایک معروف شاعر، مصنف اور مترجم تھے، جنہوں نے تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کی اہم ادبی تخلیقات میں ‘بھگود گیتا’ کا اردو میں، ‘رامائن’ کا کشمیری میں اور ربندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی‘ کا ترجمہ شامل ہے۔
یہ تازہ چھاپے ایس آئی اے کی جانب سے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے جڑے ایک اور طویل عرصے سے زیر التواء کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں۔
ایجنسی نے 29 جون کو سرینگر کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پیش کی تھی، جس میں محترمہ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے کیس میں جیل میں بند محمد یاسین ملک سمیت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارندوں کے نام شامل ہیں۔ ملزمان میں سے تین کی موت ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو فرار ہے اور اس کے پاکستان بھاگ جانے کا اندیشہ ہے۔
ایس آئی اے نے کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی دور کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس کو دوبارہ کھولا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان23 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
