تازہ ترین
بلدیاتی انتخابات : جموں میں جوش و خروش، وادی میں سردمہری ،کشمیر سے 715جبکہ جموں سے 2136امیدوار قسمت آزمائیں گے
خبراردو:
ریاست جموں کشمیر میں 8اکتوبر سے 4مراحل میں منعقدکئے جارہے بلدیاتی انتخابات کے لئے جہاں جموں میں کافی گہما گہمی پائی جارہی ہے وہیں وادی کے بیشتر حصوں میں سر د مہری دیکھی جارہی ہے ۔ وادی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے داخلہ نامز دگی در خواستوں کی تاریخ اگر چہ اختتام پذیر ہو چکی ہے تاہم اس دوران اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ وادی کے 624میونسپلٹی وارڈوں میں سے 215وارڈوں پر مد مقابل امیدواروں کی عدم مو جود گی کے نتیجے میں درخواستیں جمع کر نے والے امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جائے گا ۔ وہیں وادی میں کشیدہ سیکورٹی صورتحال کے بیچ اور ریاست کی 2سب سے بڑی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے بیشتر بلدیاتی وارڈوں میں نامزدگی داخل کر نے والے امیدوار بلا مقابلہ ہی کامیاب قرار پائیں گے ۔
جنوبی کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں لگ بھگ 177بلدیاتی وارڈوں سے کسی بھی امیدوار نے نامزدگی در خواست جمع نہیں کرائی ہے جس کی وجہ سے ان وارڈوں میں ہزاروں کی تعداد میں رائے دہند گان اپنی رائے دہی کا استعمال نہیں کر پائیں گے ۔ جنوبی کشمیر کے کولگام ،اننت ناگ ،شوپیاں اور پلوامہ جیسے حساس علاقوں میں گزشتہ کئی بر سوں سے نا مساعد حالات کے نتیجے میں 177بلدیاتی وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا ۔معلوم ہوا ہے کہ اسی طرح وادی کے 624وارڈوں میں سے 215وارڈوں میں بلا مقابلہ امیدواروں کو کامیاب قرار دیا جائے گا کیونکہ ان کے مقابلے میں کسی بھی امیدوار نے اپنی نامزدگی داخل نہیں کرائی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ پُر تناؤ صورتحال اور مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کے پیش نظر ان حلقہ جات میں لوگوں کی شر کت ماند پڑ گئی ہے ۔
ادھر ذرائع نے بتایا کہ وادی کشمیر سے کل ملا کر 930نامزدگی در خواستیں جمع کرائی گئی ہیں جن میں سے 215وارڈوں پرامیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جائے جبکہ715امیدوار 232وارڈوں پر اپنی قسمت آ زمائیں گے ۔معلوم ہوا ہے کہ وادی میں ہر وارڈ پر 3امیدوار انتخابات میں اپنی قسمت آزمائیں گے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 8اکتوبر کو پہلے مرحلے میں کل ملا کر 175وارڈوں پر انتخابات عمل میں لائے جائیں گے تاہم اس دوران 69وارڈوں پر امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جائے گا ،جبکہ 23وارڈوں پر کسی بھی امیدوار نے نامز دگی در خواست جمع نہیں کرائی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ پہلے مر حلے کے دوران 273امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ 10اکتوبر کو دو سرے مر حلے کے دوران وادی میں کل ملا کر 166وارڈوں پر انتخابات عمل میں لائے جائیں گے جس کے دوران 60وارڈوں پر امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جائے گا ،جبکہ 60وارڈوں پر کسی بھی امیدوار نے نا مز دگی در خواست جمع نہیں کرائی ہے ۔اسی طرح 13اکتوبر کو تیسرے مر حلے کے دوران کل ملاکر 151وارڈوں پر انتخابات منعقد ہو نگے۔معلوم ہوا ہے کہ اس دوران 49وارڈوں پر امیدواروں کو بلا مقا بلہ کامیاب قرار دیا جائے گا جبکہ 55وارڈوں پر الیکشن نہیں ہو نگے کیونکہ ان وارڈوں پر کسی بھی امیدوار نے نا مز دگی در خواست جمع نہیں کرائی ہے ۔
علاوہ ازیں 16اکتوبر کو چو تھے مر حلے کے دوران 132وارڈوں پر انتخابات منعقد ہو نگے ، جن میں 37وارڈوں پر امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جائے گا جبکہ اس دوران 39وارڈوں پر انتخابات نہیں ہو نگے ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ شہر سرینگر کے میو نسپل کونسل سبھی وارڈوں پر نا مزدگیاں جمع ہو چکی ہیں جن میں 7وارڈوں پر امیدواروں کو بلا مقا بلہ کامیاب قرار دیا جائے گا جبکہ باقی بچنے والے وارڈوں پر 305سے زیادہ امیدوار اپنی قسمت آ زمائیں گے۔ادھر جموں میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کافی گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے اور یہاں 534وارڈوں پر 2136امیدوار اپنی قسمت آ زمائیں گے ۔معلوم ہوا ہے کہ صوبہ جموں کے صرف13وارڈوں پر مد مقابل امیدواروں کی عدم مو جود گی کے نتیجے میں در خواست جمع کر نے والے امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا جائے گا ۔
صو بہ جموں کے مختلف وارڈوں سے 2123امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے اور لگ بھگ ہر وارڈ سے 4نا مزدگیاں داخل کرائی گئی ہیں جو چار مراحل میں ہو نے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے لئے اپنی قسمت آزمائیں گے ۔KNS
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
