فن و ادب
بپی لہری: ڈسکو کنگ کے طور پر شناخت بنائی
(15فروری برسی کے موقع پر )
ممبئی، الی وڈ میں بپی لہری ان موسیقاروں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے فلمی موسیقی آلات کے استعمال کے ساتھ فلمی موسیقی میں مغربی موسیقی کو ملا کر ’ڈسکو تھیک‘ کی ایک نئی صنف تیار کی۔
اپنے اس نئے تجربے کی وجہ سے بپی لہڑی کو اپنے کیرئیر کے ابتدائی دور میں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن بعد میں ان کے میوزک کو شائقین نے بے حد سراہا اور وہ فلم انڈسٹری میں ڈسکو کنگ کے نام سے مشہور ہوئے۔
بپی لہری کو بالی ووڈ کا راک اسٹار کہاجاتا تھا ان کی پیدائش 27 نومبر 1952 کو کولکتہ میں ہوئی ان کا حقیقی نام آلوکیش لہری تھا، وہ بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھے۔ان کے والد اپریش لہری بنگالی گلوکار تھے، جب کہ والدہ ونسری لہری ایک موسیقار اور گلوکارہ تھیں ۔ والدین نے ان کے موسیقی کی جانب بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے انہیں اس راستے پر چلنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے تِین سال کی عُمْر میں ہی طبلہ بجانا شُرُوع کر دِیا تھا۔ اس دوران انہوں نے اپنے والدین سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔
بپی لہڑی نے بطور موسیقار اپنے کیرئیر کا آغاز 1972 میں ریلیز ہونے والی بنگالی فلم ’دادو‘سے کیا لیکن یہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی۔ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے ممبئی کا رخ کیا۔ سال 1973 میں ریلیز فلم ’ننھا شکاری‘ بطور موسیقار ان کے کیریئر کی پہلی ہندی فلم تھی لیکن بدقسمتی سے یہ فلم بھی ٹکٹ کھڑکی پر ناکام ہوگئی۔
بپی لہری کی قسمت کا ستارہ سال 1975 میں فلم ’زخمی‘ سے چمکا۔اس فلم میں سنیل دت، آشا پاریکھ، رینا رائے اور راکیش روشن نے مرکزی کردار ادا کیے تھے، جس میں’ آو تمھے چاند پہ لے جائے ‘ اور ’جلتا ہے جیا میرا بھیگی بھیگی راتوں میں‘ جیسے نغمے مقبول ہوئے۔ آج بھی ہولی کے موقع پر ’زخمی دلوں کا بدلہ چکانے‘ جیسا نغمہ اپنا ایک خاص مقام رکھتاہے۔
سال 1976 میں بپی لہری کی میوزک ڈائریکشن میں بنی ایک اور سپرہٹ فلم ’چلتے چلتے‘ ریلیز ہوئی۔فلم میں کشور کمار کی آواز میں گانا ’چلتے چلتے میری یہ گیت یاد رکھنا‘ آج بھی شائقین میں اپنی انمٹ شناخت بنائے ہوئے ہے۔ فلم زخمی اور چلتے چلتے کی کامیابی کے بعد بپی لہڑی بطور موسیقار اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
سال 1982 میں آئی فلم ’نمک حلال‘ کا شمار بپی لہری کے کیرئیر کی اہم فلموں میں کیا جاتا ہے۔پرکاش مہرا کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم میں سپر اسٹار امیتابھ بچن نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔فلم میں کشور کمار کی آواز میں بپی لہری کا ’ پگ گھنگرو باندھ میرا ناچی تھی‘ گانا ان دنوں شائقین میں کریز بنا ہوا تھا اور آج بھی جب کبھی سنائی دیتا ہے تو لوگ رقص کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سال 1983 میں ریلیز فلم ڈسکو ڈانسر بپی لہڑی کے کیرئیر میں سنگ میل ثابت ہوئی۔بی سبھاش کی ڈائریکشن میں متھن چکرورتی کی اداکاری والی اس فلم میں بپی لہڑی کی موسیقی کا ایک نیا انداز دیکھنے کو ملا۔’آئی ایم اے ڈسکو ڈانسر‘ ، جمی جمی جمی آجا آجا جیسے ڈسکو گانوں نے ناظرین کو جھومنے پر مجبور کردیا ۔بپی لہڑی فلم میں اپنی موسیقی کی کامیابی کے بعد ڈسکو کنگ کے طور پر مشہور ہوگئے۔
سال 1984 میں بپی لہری کے سنے کیریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’شرابی‘ منظرعام پر آئی۔ اس فلم میں انہیں ایک بار پھر پروڈیوسر پرکاش مہرا اور سپر اسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ بپی لہری نے فلم میں اپنے میوزیکل سپر ہٹ نغموں ’دے دے پیار دے، منزلیں اپنی جگہ ہے‘ سے سامعین کو مسحور کردیا، اور انہیں اپنے کیریئر میں پہلی بار بہترین میوزک ڈائریکٹر کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔
نوے کی دہائی میں بپی لہری کی فلموں کو متوقع کامیابی نہیں ملی۔حالانکہ وہ 1993 میں’ آنکھیں اور دلال‘ کے ذریعے فلم انڈسٹری میں واپس آئے لیکن اس کے بعد ان کی فلمیں زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔
بپی لہری نے کئی فلموں میں اپنی گلوکاری سے بھی سامعین کو اپنا دیوانہ بنایا ہے، ان کے گائے ہوئے گانوں کی طویل فہرست میں ’ بمبئی سے آیا میرا دوست، دیکھا ہے میں نے تجھے پھر سے پلٹ کے، تو مجھے جان سے بھی پیارا ہے۔ ، یاد آرہا ہے تیرا پیار، سپر ڈانسر آئے ہیں آئے ہیں، جینا بھی کیا ہے جینا، یار بنا چین کہاں رے، تمہ تمہ لوگے، پیار کبھی مت کرنا، دل میں ہو تم خوابو میں تم، او لالا اولالا وغیرہ شامل ہیں۔ بپی لہری کا انتقال 15 فروری 2022 کو ہوا۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب
سری نگر، جموں و کشمیر کے ہدایت کاروں کی بنائی ہوئی پانچ فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر 2026 کے مسابقتی ’’جموں و کشمیر سلیکٹ‘‘ حصے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘، روہن رویندرن نائر کی ’عریفہ‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’بٹ کوچ‘ (گم شدہ گلی)، کپل متو کی ’تصرف دار‘ (کشمیر کے جنات) اور بابا تصدق حسین کی ’نقشِ دور‘ (غلام نبی دھر کی کہانی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فیسٹیول کے لیے قائم پیش نظارہ کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے اور ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی حصے کے لیے موزونیت کا جائزہ لینے کے بعد ان فلموں کی سفارش کی۔ اس انتخاب میں مختلف النوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کو جگہ دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی کہانیوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ پانچوں فلمیں بچپن، خاندان اور یادداشت سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ورثے، ثابت قدمی اور کشمیر کے بدلتے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے۔ ’عریفہ‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’بٹ کوچ‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے دیرینہ تصور کو پیش کرتی ہے۔ ’تصرف دار‘ کشمیر کے ماضی کے پراسرار واقعات، یادوں اور زخموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے، جبکہ ’نقشِ دور‘ پدم شری سے سرفراز لکڑی کے ایک کاریگر کی زندگی اور خدمات کو پیش کرتی ہے جو سری نگر کے وسطی علاقے میں رہتے ہوئے کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
منتخب فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روبرو ہونے اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
یو این آئی۔ م ع
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
