ہندوستان
بچوں کی ذہنی نشو و نما کے لئے معاون غذا کی فراہمی بنیادی اہمیت کی حامل:ڈاکٹر اننیا اوستھی
نئی دہلی، ماہ ستمبر میں ہندوستان نے ساتواں راشٹریہ پوشن ماہ 2024 منایا ہے یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو تغذیہ سے متعلق بیداری اور عملی کارروائی کے لیے وقف ہے یہ ایک ایسا اہم پہلو ہے جو ہماری اجتماعی توجہ کا متقاضی ہے اور وہ توجہ معاون غذائی فراہمی کی شکل میں کی جانی ہے نوزائیدہ بچوں کو پستان کے ذریعہ مخصوص غذا کی فراہمی کے علاوہ ایک ایسی غذا فراہم کرنے کا طریقہ کار جس میں ٹھوس اور نیم ٹھوس خوراک کے عناصر شامل ہوں، ہندوستان میں تغذیہ کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے معاملے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے ان خیالات کا اظہارمحقق برائے صحت عامہ اورسائنٹفک مشاہدات کو پالیسی عمل میں بدلنے والے ادارے انوواد سالیوشنز کی ڈائرکٹر ڈاکٹر اننیا اوستھی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ معاون غذا کی فراہمی محض خوراک تک محدود نہیں ہے۔ اس کے تحت اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ بچوں کو صحیح وقت پر صحیح تغذیہ پر مبنی عناصر فراہم کرائے جائیں جو صحت مند اور بارآور زندگی کی بنیادیں استوار کر سکیں۔ چونکہ واحد طور پر دودھ نمو پذیر بچے کی تمام تغذیہ جاتی خوراک کی تکمیل مکمل طو رپر نہیں کر سکتا۔ عالمی ادارہ صحت نے چھ ماہ کی عمر کے بچوں کے لیے تغذیہ کے لحاظ سے وافر معاون خوراکوں کی سفارش کی ہے جس کے ساتھ دو برس کی عمر یا اس سے بھی زیادہ تک انہیں پستانوں سے دوھ بھی پلایا جانا ضروری ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے مزید کہا کہ معاون غذا کی فراہمی ذہنی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جسمانی نمو اور امراض سے محفوظ رکھنے کی قوت کو بڑھاتی ہے۔ ذہن کی نشو و نما کے سلسلے میں سائنٹفک مشاہدات سے انکشاف ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش کے دو برسوں کے اندر اس کا ذہن 100 فی صد سے زائد نمو سے ہمکنار ہوتا ہے اوراس میں بنیادی طو رپر اس کے ذہن اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کے اندر موجود خلیے نشو و نما کے حامل ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسی طریقے سے پہلے سال کے دوران ایک بچے کی پیدائش کے وقت جو وزن ہوتا ہے، وہ وزن سال کے اندر تقریباً تین گنا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا معاون طور پر غذا کی فراہمی نہ صرف یہ کہ ذہنی نشو و نما کے لیے لازمی ہے بلکہ بچے کے سوئے تغذیہ کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جو ہندوستان میں پانچ برس سے کم کی عمر کے تقریباً ایک تہائی بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ بچوں میں ناقص تغذیہ کی متعدد صورتیں ہیں جو ان کی نشو و نما میں رکاوٹ (عمر کے لحاظ سے لمبائی نہ بڑھنا)، ویسٹنگ (لمبائی کے لحاظ سے کم وزن) اور ناکافی وزن (عمر کے لحاظ سے کم وزن) پر مشتمل ہیں۔ یہ سبھی صورتیں نمو پذیر بچے کی جسمانی اور ذہنی ترقی اور نشو و نما پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی نشو و نما رک ہو جانے والے بچے امتحانات وغیرہ میں کم نمبر لاتے ہیں، ان کے مجموعی نتائج بھی حوصلہ افزا نہیں ہوتے اور بعد کی زندگی میں ان کی اقتصادی پیداواریت بھی کم نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے کہا کہ اس کے علاوہ معاون غذا کی فراہمی سنگین امراض سے نبرد آزما ہونے کے نظام کی تعمیر کے لیے بھی لازم ہے۔ اس سے اسہال، سانس کی بیماریاں اور خوراک سے ہونے والی الرجی وغیرہ لاحق ہونے اور چھوت لاحق ہونے کے معاملات میں تخفیف لانے میں مدد ملتی ہے جو بچوں میں عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک بچے کی زندگی کے پہلے دو برس مواقع کا وہ اہم موقع ہوتا ہے جب وافر تغذیہ اہم طو رپر اس کی جسمانی نمو، ہوش و حواس اور ہماری مستقبل کی پیڑھیوں کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی اہم نازک مدت ہوتی ہے جس کے دوران ایک متوازن غذا جو وٹامن سے مالامال پھلوں اور سبزیوں، ثابت اناجوں، پھلیوں، انڈوں اور دودھ کی صنعت سے حاصل ہونے والی اشیاءکی شکل میں بچے کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس کی اہمیت کے باوجود ہندوستان میں معاون غذا کی فراہمی تشویشناک طو رپر فقدان کا شکار ہے۔ قومی کنبہ سروے کے ذریعہ حاصل شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے معاون غذا کے معاملے میں فاصلہ باقی ہے جس پر سوئے تغذیہ سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر موثر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت نے راشٹریہ پوشن ماہ (قومی تغذیہ ماہ2024) میں معاون غذا کی فراہمی کو ترجیح دی ہے جس سے ہندوستان کے تغذیہ ایجنڈے میں ایک اہم سنگ میل اجاگر ہوتا ہے۔
یہ ہمیں ایک اہم اور کلیدی سوال پر سوچنے کے لیے مجبور کرتا ہے: ہندوستان میں چھوٹے بچوں کی معاون تغذیہ فراہمی کو بڑھانے اور اختیار کرنے کے لیے کون کون سے اقدامات کیے جاتے ہیں؟
کامیاب معاون غذا کی فراہمی کے لیے پہلا اور سب سے لازمی امر یہ ہے کہ بچے کی ڈائٹ میں صحت بخش اور تغذیہ بخش خوراک شامل کی جائے خصوصاً چھ مہینے کی عمر سے لے کر دو برسوں کی عمر تک پہنچنے کے درمیان ایسا کرنا ضروری ہے۔ بھارت میں غذا¶ں کا مالامال سلسلہ دستیاب ہے اور اس کے تحت مختلف النوع تغذیہ بخش متبادل دستیاب ہیں جو چھوٹے بچے کے لیے مثالی تغذیہ فراہم کرسکتے ہیں۔ کھچڑی اور دلیہ جیسے روایتی کھانے نہ صرف یہ کہ تیار کرنے میں آسان ہوتے ہیں بلکہ ان میں لازمی تغذیہ جاتی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر راگی کیلے اور دلیہ پر مشتمل غذا آئرن اور کیلشیم کا عمدہ وسیلہ ہے۔ جبکہ باجرے کی کھچڑی ایسی چیز ہے جو وٹامنوں اور معدنیات کا عمدہ مرکب ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین اور اطفال کی ترقیات کی وزارت کی جانب سے مشن پوشن 2.0 کے لیے جاری کیے گئے رہنما خطوط میں غذائی تنوع کو فروغ دینے پر ازحد زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی تازے پھلوں، سبزیوں، موٹے اناجوں اور ثابت شکل میں خوراک کے استعمال کو بھی اہمیت دی گئی ہے جو مقامی طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔ تغذیہ سے مالامال ہوتے ہیں اور علاقائی پس منظر میں بھی مناسب خیال کیے جاتے ہیں۔ ان رہنما خطوط کو بنیاد بناکر روایتی طور پر جن کھانوں کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے انہیں مقامی طور پر دستیاب کرایا جاتا ہے اور قابل استطاعت عناصر یا خصوصیات اس امر کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں کہ بچے کو ایسی متوازن غذا فراہم ہو جو اس کی نشو و نما میں معاون ثابت ہو۔
انھوں نے کہا کہ دوسری بات، سائنٹفک طو رپر پیغام پہنچانے کے لیے ثقافتی پلیٹ فارموں کا استعمال بڑے پیمانے پر سماجی اور برتا¶ جاتی تبدیلی کو فروغ دینے کے معاملے میں کلیدی حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے بچے کی پیدائش کے چھ مہینوں کے بعد معاون غذا کی فراہمی کا نظام الاوقات شروع کرنے کا ایک وقت مقرر کیا ہے جو صدیوں سے چلی آر ہی رسم اَن پراشن سے ہم آہنگ ہے۔ یہ رسم بھارتی ثقافتی پس منظر میں ایک اہم سنگ میل کہی جا سکتی ہے۔ معاون غذا کی فراہمی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت نے اَن پراشن دیوس کو معاشرتی بنیادوں پر ایک تقریب کی شکل میں منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اہتمام آنگن واڑی کارکنان کے ذریعہ ملک بھر میں کیا جاتا ہے تاکہ ماو?ں اور مقامی برادریوں کو بچوں کی غذا میں متنوع اور تغذیہ سے مالامال غذا کی شمولیت کی اہمیت کے بارے میں آگہی فراہم کی جا سکے۔روایتی فہم و دانش اور سماجی ثقافتی طریقہ ہائے کار کا استعمال کرتے ہوئے، جس کے ذریعہ سائنٹفک طور پر یہ پیغام عام ہو سکے، یہ طریقہ نوزائیدہ بچوں اور چھوٹے بچوں کو غذا کھلانے کے سلسلے میں اس کی قبولیت کے لیے بہترین طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے بتایا کہ تیسری بات، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر چھوٹے بچے خواہ ان کا سماجی اقتصادی پس منظر کچھ بھی ہو، تغذیہ بخش خوراک تک ان کو رسائی حاصل ہو۔ یہ موجودہ سرکاری پروگراموں سے استفادہ کرنے کے لیے ازحد اہم ہے۔ خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت کی جانب سے چلایا جانے والا معاون تغذیہ پروگرام (ایس این پی ) جہاں ایک جانب ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر) اور گرم پکا ہوا کھانا (ایچ سی ایم) جیسی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو چھ مہینے سے لے کر چھ سال تک کے بچوں کے لیے ہوتا ہے۔ یہ عمل ان کنبوں خصوصاً کم آمدنی کی حامل برادریوں کے کنبوں کے لیے زندگی کے ایک سہارے کے طور پر کام کرتا ہے جہاں تغذیہ بخش خوراک تک رسائی اکثر بہت محدود ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ چوتھی بات، صحت بخش خوراک کو فروغ دیتے ہوئے مساوی طور پر یہ بات بھی اہم ہے کہ بچوں کو رکھے ہوئے باسی کھانے اور حد سے زیادہ پکائے ہوئے کھانوں خصوصاً زیادہ چکنائی والے، شکر اور نمک آمیز کھانوں کے خطرات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ جنک فوڈ، مثلاً کوکیز، چپس، نمکین، فوری طور پر تیار کیے جانے والے نوڈلس، سافٹ ڈرنکس اور بیکری میں تیار ہونے والی مصنوعات بدقسمتی سے اب بچوں کے مینو میں شامل ہو چکی ہیں۔ مزید برآں بڑے زور و شور سے فروخت کے لیے بے بی فوڈس کی تشہیر کی جاتی ہے جو سرکردہ کثیر ملکی برانڈس کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں حال ہی میں قومی اداروں مثلاً قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کی نگرانی میں آئی ہیں کیونکہ ان چیزوں میں بڑے پیمانے پر شکر کے اجزاءخصوصاً ہندوستان میں فروخت کے لیے پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ جنک فوڈ کا استعمال ہندوستان میں چھوٹے بچوں میں عام ہو رہا ہے اور اس میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال بڑے پیمانے پر ایسا ہو رہا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ حالیہ سائنٹفک مشاہدات سے اشارہ ملا ہے کہ ان غیر صحت بخش کھانوں کو جب بچے کھاتے ہیں تو ان کے جسم میں موٹاپا، ذیابیطس جیسے امراض کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور وہ بالغ ہوکر دائمی صحتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا پروسیس شدہ کھانوں کے مضر اثرات کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنا ازحد اہم ہے اور والدین کو اس بات کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کی جانی چاہئے کہ وہ صحت بخش متبادل اختیار کریں۔ یہ کامیابی معاشرتی تعلیم، میڈیا مہمات اور حفظانِ صحت فراہم کاروں کی سرگرم شراکت اور سماجی طور پر کام کرنے والے صحتی کارکنان کے تعاون سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ لوگ والدین کو معقول غذائی طریقہ ہائے کار اپنانے کے تئیں راغب کر سکتے ہیں۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ معاون غذا کی فراہمی ساتویں پوشن ماہ 2024 کا ایک عنصر تھاجس کے ذریعہ ماں اور بچے کے تغذیہ سے متعلق نظرانداز کیے گئے پہلوں اور ان سے وابستہ مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ مشاہدے پر مبنی طریقہ ہائے کار کو فروغ دے کر ثقافتی روایتی طریقہ ہائے کار کو بروئے کار لاکر جن میں اَن پراشن جیسا طریقہ شامل ہے، قابل استطاعت اور مقامی طور پر دستیاب کھانے فراہم کرکے اور بچوں کو غیر صحت بخش کھانوں سے تحفظ فراہم کرکے ہندوستان نقصِ تغذیہ کے خاتمے کے ترجیحاتی ایجنڈے سے نمٹنے کے معاملے میں اہم اقدام کر سکتا ہے۔ جن آندولن یا عوامی تحریک کے ساتھ حکومت کی کوششیں اس امر کو یقینی بنا سکتی ہیں کہ تمام تر بچے ایسی غذا حاصل کریں جس کی انہیں ضرورت ہے جو ان کی نشو و نما میں معاون ثابت ہو اور اس طریقے سے وہ ملک کے لیے ایک صحت بخش مستقبل کی بنیاد ڈال سکیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
کمرشیل ایل پی جی گیس سلنڈر مہنگا ہوا
نئی دہلی، تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں نے جمعرات سے کمرشیل ایل پی جی ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، حالانکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
دہلی میں ریستوران، ہوٹل وغیرہ میں استعمال ہونے والا 19 کلوگرام کا ایل پی جی سلنڈر آج سے 2810 روپے کا ہوگیا ہے۔ ستمبر میں اس کی قیمت 2747.50 روپے تھی۔ اس طرح یہاں 62.50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ممبئی میں تجارتی ایل پی جی سلنڈر 63.50 روپے مہنگا ہوکر اب 2764.50 روپے کا ہوگیا ہے۔ چنئی میں اب یہ 66.50 روپے بڑھ کر 2983 روپے اور کولکاتا میں 70 روپے بڑھ کر 2954 روپے کا ہوگیا ہے۔ اسی طرح دوسرے شہروں میں بھی نقل و حمل کی لاگت وغیرہ کے حساب سے قیمتوں میں تقریباً اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے، جب کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کے دام بڑھے ہیں۔ اس سے پہلے ستمبر میں دہلی میں 9.50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
گھریلو ایل پ جی سلینڈروں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ دہلی میں اس کی قیمت 942 روپے، کولکاتا میں 968 روپے، ممبئی میں 941.50 روپے اور چنئی میں 957.50 روپے پر برقرار ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
ہندوستان پر 100 فیصد امریکی برآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے درمیان مودی اور ٹرمپ نے کی ٹیلی فون پر بات چیت
نئی دہلی، روس-ایران پابندیوں کے قانون کے تحت امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر مجوزہ 100 فیصد برآمدی ڈیوٹی کے تعلق سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تبادلۂ خیال کے درمیان وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
اس بات چیت کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا، “صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔ ہم نے تجارت، دفاع، توانائی، اہم ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کا جائزہ لیا۔ ہم اپنی ‘جامع اسٹریٹجک شراکت داری’ کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر متفق ہوئے۔ ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں عالمی امن اور سکیورٹی کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششیں بھی شامل ہیں۔”
وزیرِ اعظم کے دفتر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہند-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے تئیں اپنے عزم کو دہرایا اور دونوں ممالک کے لوگوں کے فائدے کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے قریب رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور شدہ یہ قانون امریکی صدر کو روس سے خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے سرفہرست پانچ ممالک پر 100 فیصد تک برآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بیلا کلسٹر کچی آبادیوں کے ووٹر لسٹ سے 729 میں سے 728 ووٹروں کا نام ہٹانا ووٹ چوری کا واضح ثبوت ہے، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ہندوستانی شہریت کے تمام دستاویزات اور ثبوت ہونے کے باوجود یہ لوگ دفاتر اور عہدیداروں کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نسلوں سے وہاں رہ رہے ہیں، زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں اور ہر الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی شہری سے ووٹ کا حق صرف اس لیے چھین لیا جا سکتا ہے کہ وہ غریب یا بے گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ایک شخص، ایک ووٹ کی ضمانت دیتا ہے اور ایک ووٹ کو بھی حذف کرنا محض ایک فعل نہیں بلکہ ووٹ چوری ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ 728 ووٹوں کے حذف ہونے پر افسوس کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے اور اسی ڈھٹائی کے ساتھ ملک بھر میں لاکھوں ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ووٹ کو بھی حذف نہیں ہونے دیں گے” اور ذمہ داروں کو نتائج کا سامنا کرنے کی تنبیہ کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
