جموں و کشمیر
بڈگام اسمبلی نشست پر پی ڈی پی کی تاریخی جیت، نیشنل کانفرنس 62 سال بعد پہلی شکست سے دوچار
سری نگر، جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں جمعہ کا دن اُس وقت غیرمعمولی بن گیا جب بڈگام اسمبلی حلقے سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے امیدوار آغا سید منتظر مہدی نے نیشنل کانفرنس (این سی) کو شکست دے کر ایک ایسا باب رقم کیا جس کا حوالہ آئندہ انتخابات تک دیا جاتا رہے گا۔ یہ وہی بڈگام نشست ہے جہاں نیشنل کانفرنس گزشتہ چھ دہائیوں سے سیاسی چمک دمک کے ساتھ بلا روک ٹوک کامیاب ہوتی آئی ہے لیکن 2025 کے ضمنی انتخابات نے اس روایت کو پہلی مرتبہ توڑ کر این سی کے سیاسی قلعے میں دراڑ ڈال دی۔
آغا منتظر مہدی نے نہ صرف این سی کے امیدوار آغا محمود کو 4,478 ووٹوں کے واضح فرق سے مات دی بلکہ حلقے کی سیاسی فضا کو بھی نئے زاویے سے ترتیب دیا۔ پی ڈی پی امیدوار نے 21,576 جب کہ این سی کے آغا محمود نے 17,098 ووٹ حاصل کیے۔
بڈگام اسمبلی نشست 1962 سے انسدادِ تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی، کیونکہ یہاں نیشنل کانفرنس کے امیدوار شاذ و نادر ہی شکست دیکھتے تھے۔ سب سے پہلی جیت آغا سید علی صفوی نے حاصل کی تھی، جس کے بعد اس نشست پر برسوں این سی کا یکطرفہ غلبہ برقرار رہا۔ صرف 1972 کا انتخاب ایسا تھا جب نیشنل کانفرنس نے حصہ ہی نہیں لیا، جس کا فائدہ کانگریس کو ملا۔
تاہم 2025 میں رائے دہندگان نے پہلی بار اس روایت سے ہٹ کر ایسے فیصلے کو ترجیح دی جو این سی کے لیے پیغام بھی ہے اور انتباہ بھی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی نہ صرف عوامی ناراضگی کا غماز ہے بلکہ بڈگام میں خاندانوں کے اندر اختلافات نے بھی انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈالا۔
این سی کے لیے سب سے بڑا دھچکا پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ کے رویے سے لگا، جنہوں نے نہ صرف انتخابی مہم سے کنارہ کشی اختیار کی بلکہ الیکشن کے روز اپنا ووٹ بھی کاسٹ نہیں کیا۔
سینئر تجزیہ کار سجاد حسن کے مطابق’آغا روح اللہ اور نیشنل کانفرنس کے درمیان پیدا ہونے والی دوری نے حلقے میں وفادار ووٹ بینک کو تقسیم کر دیا۔ آغا روح اللہ کے حامیوں نے این سی کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے سے گریز کیا، جس کا نقصان براہِ راست آغا محمود کو اٹھانا پڑا۔‘
یہ پہلو نتائج پر اتنا حاوی رہا کہ مضبوط انتخابی ڈھانچے کے باوجود این سی حلقے کے اندر وہ یکجہتی پیدا نہ کرسکی جو اسے کامیابی دلاتی۔ اس طرح ‘آغا بمقابلہ آغا’ کی صورت میں یہ انتخاب دلچسپ اور غیرمتوقع رخ اختیار کر گیا۔
ضمنی انتخابات کو ریاستی سیاسی تناظر میں این سی حکومت کے ایک سالہ کارکردگی ٹیسٹ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت پر اپوزیشن جماعتیں مسلسل یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں میں سست رفتاری، زمینی سطح پر کمزور عمل درآمد اور عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔
پی ڈی پی سمیت اپوزیشن کا ماننا ہے کہ عوام این سی کے کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں اور یہ ضمنی انتخاب عوامی ردعمل کی ایک عملی تصویر ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ عمر عبداللہ نے 2024 کے انتخابات جیتنے کے بعد گاندربل سیٹ برقرار رکھی اور بڈگام کی نشست سے استعفیٰ دیا، جس سے یہاں ضمنی انتخاب ضروری ہوا۔ عوامی رائے یہی کہتی ہے کہ وزیراعلیٰ کا فیصلہ حلقے کے ووٹروں کو پسند نہیں آیا اور انہیں یہ احساس ہوا کہ بڈگام حلقے کو سیاسی طور پر ثانوی حیثیت دے دی گئی۔
بڈگام اور نگروٹہ دونوں نشستوں پر 11 نومبر کو ووٹنگ ہوئی۔
نگروٹہ میں بی جے پی نے اپنی نشست برقرار رکھی، جبکہ بڈگام میں صورتحال یکسر مختلف رہی۔
اگرچہ پی ڈی پی اور این سی دونوں مضبوط جماعتیں سمجھی جاتی ہیں، لیکن بڈگام کے انتخابی منظرنامے میں ایک تیسری آواز—جبران ڈار—بھی موجود تھی، جنہوں نے قابل ذکر حد تک ووٹ حاصل کیے مگر مرکزی مقابلہ دو ہی امیدواروں کے درمیان محدود رہا۔
تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حلقے میں کوئی بھی تیسری سیاسی قوت عوامی رائے کو اپنی جانب موڑنے میں ناکام رہی، جس کا فائدہ براہِ راست پی ڈی پی کو ملا۔
آغا منتظر مہدی کی جیت کو سیاسی ماہرین پی ڈی پی کے لیے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پی ڈی پی نے مسلسل نقصان دیکھا—پارٹی کے بڑے چہرے الگ ہوئے، کارکن مایوس ہوئے اور عوامی اعتماد متزلزل ہوا۔ لیکن بڈگام کی جیت پارٹی کے لیے ایک نئی زندگی، نئے اعتماد اور نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
یہ جیت پی ڈی پی کے لیے وسطی کشمیر میں ایک اہم واپسی ہے اور پارٹی اسے آئندہ انتخابات میں مضبوط بنیاد کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کی یہ شکست محض ایک انتخابی عدد نہیں بلکہ بڑی سیاسی حقیقت ہے۔یہ ثابت کرتی ہے کہ روایتی ووٹ بینک، خاندانی اثرورسوخ اور تاریخی تسلسل اب کافی نہیں۔
بڈگام کے عوام نے اپنی ترجیحات کا رخ تبدیل کیا ہے، اور این سی کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ووٹروں کے اندر سیاسی شعور، پارٹی کی کارکردگی اور مقامی مسائل پہلے سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
بڈگام کی ضمنی انتخابی جیت نہ صرف پی ڈی پی کے لیے خوش آئند ہے بلکہ سیاسی نقشہ بدلنے کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔این سی کو اب اپنی اندرونی صف بندی، قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور عوامی رسائی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔
پی ڈی پی کو اپنی اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اور زمینی سطح پر کام بڑھانا ہوگا۔
بڈگام ضمنی انتخاب یہ ثابت کرتا ہے کہ کشمیر کی سیاست میں اب روایتی جیت کا تصور کمزور ہو چکا ہے۔ عوام نہ صرف بیدار ہیں بلکہ وہ سیاسی جماعتوں سے کارکردگی، جواب دہی اور عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پی ڈی پی کی یہ جیت آنے والے انتخابی سال میں ایک بڑا اشارہ ہے کہ سیاسی فضا تبدیل ہو چکی ہے—اور بڈگام اس تبدیلی کی علامت بن کر ابھرا ہے۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
فاروق عبداللہ نے نانا پاٹیکر کو ‘بہت اچھا دوست’ اور ‘بہت اچھا انسان’ قرار دے کر یاد کیا
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعرات کو معروف اداکار نانا پاٹیکر کو اپنا ”بہت اچھا دوست” اور ”بہت اچھا انسان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف کردی تھی۔
75 سالہ نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے کہاکہ ”وہ میرے بہت اچھے دوست تھے اور سب سے بڑھ کر ایک بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی۔” انہوں نے کہاکہ ”وہ قبائلی دیہات میں پسماندہ لوگوں کے درمیان رہتے تھے اور ضرورت مند افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے تھے۔”
اداکار کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کئی مرتبہ جموں و کشمیر آئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ بار بار یہاں آتے تھے اور مجھ سے ملاقات کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ میری ایک شادی میں بھی آئے تھے، جہاں مجھے ان کے ساتھ رقص کرنے کا موقع ملا۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداکار میں ”نرم دلی” کی ایک نایاب خوبی تھی اور انہوں نے کبھی مذہبی معاملات کو لوگوں کی مدد کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کہاکہ ”وہ کبھی مذہب نہیں دیکھتے تھے، بلکہ کسی شخص کے درد کو دیکھتے تھے اور اسے زیادہ سے زیادہ کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔”
عبداللہ نے کہا کہ معاشرے کے لیے نانا پاٹیکر کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اللہ نے انہیں بہت نوازا تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے جو کچھ کرسکتے تھے، کیا اور ان کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔”
اداکار کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح یہ خبر سن کر انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے آنجہانی کی روح کے لیے دعا کی۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے عبداللہ نے انہیں ایک شاندار اداکار قرار دیا اور کہا کہ ان کی آخری فلم، جس کی شوٹنگ انہوں نے حال ہی میں گوا میں مکمل کی تھی، ان کی صلاحیتوں کی بھی عکاسی کرے گی۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
