تازہ ترین
بھارت میں شرح بے روزگاری نے توڑا 45 سالہ ریکارڈ:رپورٹ
خبراردو:
وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 لوک سبھا انتخابات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی حکومت بنی تو ہر سال 2 کروڑ لوگوں کو روزگار دیا جائے گا۔ اب جبکہ ان کی مدت کار ختم ہو رہی ہے، تو سرکاری اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری 45 سال کی سب سے اونچی سطح کو چھوتی ہوئی 6.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
یہ اعداد و شمار نیشنل سیمپل سروے آفس کے پیریوڈک لیبر فورس سروے سے سامنے آیا ہے۔ ’بزنس اسٹینڈرڈ‘ اخبار میں شائع رپورٹ میں اس تعلق سے کہا گیا ہے کہ یہی وہ رپورٹ ہے جس پر تنازعہ ہوا ہے اور اسی کی وجہ سے نیشنل اسٹیٹسٹکل کمیشن یعنی این ایس سی کے چیئرمین سمیت دو اراکین نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان لوگوں کا الزام تھا کہ حکومت نے اس رپورٹ کو چھپا رکھا ہے اور برسرعام کرنے میں سست روی اختیار کر رہی ہے۔
’بزنس اسٹینڈرڈ‘ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری 73-1972 کے بعد ’ہائی لیول‘ پر پہنچ چکی ہے۔ اسی سال سے این ایس ایس او نے بے روزگاری کے تعلق سے موازنہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 12-2011 میں بے روزگاری 2.2 فیصد تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایس ایس او نے جولائی 2017 سے جون 2018 کے درمیان ’پیریوڈک لیبر فورس سروے‘ کیا تھا۔ یہ سروے اس معنی میں بے حد اہم ہے کیونکہ نومبر 2016 میں نوٹ بندی کے اعلان کے بعد کسی سرکاری ایجنسی نے پہلی بار بے روزگاری کے اعداد و شمار جمع کرنے کا کام کیا تھا۔
سروے میں سامنے آیا کہ بے روزگاری کی شرح گاؤں کے مقابلے شہروں میں کہیں زیادہ ہے۔ شہروں میں یہ شرح 7.8 فیصد ہے جب کہ گاؤں میں بے روزگاری کی شرح 5.3 فیصد ہے۔ اتنا ہی نہیں، بڑی تعداد میں لوگ لیبر فورس سے باہر جا رہے ہیں کیونکہ لیبر فورس پارٹیسپیشن یعنی مزدوری میں شراکت داری کے تعلق سے گزشتہ سالوں کے مقابلے بے حد کمی آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے روزگاری کی شرح نوجوانوں میں زیادہ ہے۔ سبھی عمر کے لوگوں میں سے 18-2017 کے درمیان نوجوانوں میں شرح بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 18-2017 میں گاؤں کے 29-15 سال عمر کے مردوں میں بے روزگاری کی شرح 17.4 فیصد ہے جب کہ 12-2011 میں یہ شرح 4.8 فیصد تھی۔
انگریزی اخبار ’بزنس اسٹینڈرڈ‘ نے این ایس ایس او کی جس رپورٹ کو دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے اس کے مطابق ’’نوجوان اب زراعتی سیکٹر میں کام سے باہر جا رہے ہیں کیونکہ اس سے انھیں واجب محنتانہ نہیں مل پا رہا ہے۔ یہ نوجوان اب شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔‘‘ اخبار نے اس سلسلے میں کچھ ماہرین معیشت سے بھی بات چیت کی ہے۔ کیئر ریٹنگ ایجنسی کے چیف اکونومسٹ مدن سبنویس کے مطابق شہری علاقوں میں پہلے شعبۂ تعمیرات میں روزگار کے مواقع تھے، لیکن 18-2017 میں اس شعبہ میں زبردست اتھل پتھل دیکھنے کو ملی جس کے سبب روزگار میں کمی آئی۔ انھوں نے بتایا کہ 12-2011 میں اس شعبہ میں مزدوروں کی شراکت داری 39.5 فیصد تھی جو 18-2017 میں گھٹ کر 36.9 فیصد ہو گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں میں بے روزگاری کی شرح بھی تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہوئی ہے۔ 05-2004 میں تعلیم یافتہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح 15.2 فیصد تھی جو 18-2017 میں بڑھ کر 17.3 فیصد پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح شہروں میں تعلیم یافتہ مردوں میں بھی بے روزگاری کی شرح 12-2011 کے 4.4-3.5 فیصد سے بڑھ کر 18-2017 میں 10.5 فیصد پہنچ گئی ہے۔
قومی آواز
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
