تازہ ترین
جانئے : جموں کشمیر میں نئی حد بندی معاملہ کیا ہے ؟
مشتاق شمیم ، بڈگام 
چناچہ حالیہ الیکشن مہم کے دوران امت شاہ این ڈی اے کے فرنٹ کمپینر رہ چکے ہیں۔آپ ہر جگہ اپنی چناوی ریلیوں جلسوں یہاں تک کہ پریس کانفرنسوں میں زور وشور سے دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرانے کا دعویٰ کرتے رہے بشرطیکہ بی جے پی اقتدار میں واپس آگئی تو۔اس دوران اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے کانگریس این سی اور پی ڈی پی امت شاہ کے اس دعوے کو مسترد کرتے رہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ایک پریس کانفر نس میں یہاں تک کہہ دیا تھاکہ امت شاہ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں۔مودی کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند کے تحت حاصل شدہ خصوصی پوزیشن کو ہٹانا تو دور اسکے ہاتھ تک نہیں لگا سکتی ہے۔ عمر عبدااللہ نے کہا جس دن دفعہ (370)کو آئین ہند سے ہٹایا گیا مانو اُسی دن جموںو کشمیر ریاست کا ہندوستان کے ساتھ جوڑا گیارشتہ خود بخودٹوٹ کے رہ جائیگا۔محبوبہ مفتی نے اس مدعے پر امت شاہ کو جواب دیتے ہوئے خبر دار کیا کہ شاہ کو ایسی بےکار باتیں کہنے سے اجتناب کردینا چاہئے جن باتوں سے اہلیان کشمیر کے دلوں میں موجود ہندوستان کے خلاف نفرت اور بیگانگی کی آگ کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ شاہ اپوزیشن پارٹیوں کے رد عمل پر کان نہ دھر تے ہوئے اپنی بات پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور ہر ایک چناوی ریلی میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ دہراتے رہے ۔
اب چناچہ بی جے پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ پر دوبارہ قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی اور امت شاہ ملک کے وزیر داخلہ بن گئے۔اُن کے سامنے اب مذکورہ بالا دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنے کا معاملہ ایک چلینج کی صورت میں کھڑا ہوگیا ہے۔حالانکہ ان دفعات کو آئین ہند سے حذف کرنا امت شاہ کا صرف ایک کھوکھلاالیکشن نعرہ ہی نہیں تھابلکہ ایسا کرنا بی جے پی کے تنظیمی دستور میں تب سے سرفہرست رہا جب سے اس تنظیم کی بنیاد ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی نے بھارتیہ جن سنگ کی شکل میں 1952ءمیں ڈالی تھی۔اگرچہ2014ءکے عام چناﺅ میں بھی یہ مدعا بی جے پی کے الیکشن منشور میں سر فہرست رہا تھا لیکن نا معلوم وجوہات کی بناءپر سابقہ مودی سرکار ایوان پارلیمان میں اسکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی ہمت جُٹا نہیں پائی البتہ سرکار ھٰذا اپنے بعض سیاسی حواریوں اور پسر پروردہ سماجی تنظیموں کی وساطت سے دفعہ 35۔اے کو عدالت عالیہ میں بڑی شدت کے ساتھ چلینج کرواتی رہی حتاکہ اس معاملے پر آنریبل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنا حتمی فیصلہ بھی تیار کر رکھا ہوا ہے جس کو منظر عام پر لانے کیلئے بینچ ھٰذا موزون موقع و محل کے انتظار میں تیار بیٹھا ہے۔
بہر حال اب کی بار اس معاملے سے نپٹنے کیلئے مودی نے بھی اپنے وزیر خاص اور دست راست امت شاہ کو مکمل چھوٹ دیکے رکھی ہوئی ہے اور شاہ اس حوالے سے مودی کی امیدوں پر کھرا اُتر نے کیلئے ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں جس راستے پر چل کر سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق وہ اس معاملے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بغیرکسی شور و شرابے کے دفن کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ چونکہ ریاست جموں و کشمیرکوفی الوقت خصوصی درجہ حاصل ہے ۔یہاں پراپنا ایک آئین بھی نافذ العمل ہے ۔پارلیمنٹ ہاوس میں منظور ہوچکی کوئی بھی حتمی بل یا کوئی بھی ترمیمی مسودہ ریاست جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس بل یا ترمیمی مسودے کو ریاستی قانون ساز اسمبلی توثیق نہیں کرتی۔ اس پیچیدگی اور ایسی ہی دوسری قسم کی آئینی وقانونی پیچیدگیوں سے نپٹنے کیلئے امت شاہ اپنی پہلی ہی فرصت میں جموں کشمیر ریاست کی طرف اپنی خاص توجہ مبذول کرچکے ہیں۔امورداخلہ کا قلمدان سنبھالتے ہی انہوں نے کشمیر ایشو کو لیکر صرف ایک ہفتے میںچار میٹنگیں لیں جو اس بات کا غماز ہے کہ شاہ ریاست جموں و کشمیر کے معاملات میں کتنی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
بہر کیف امت شاہ کا پلان جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے وہ اس وقت زبردست سرگرم عمل ہیں وہ یہ کہ ریاست کا اقتدار اعلیٰ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں آجا نا چاہئے اور ریاست کا وزیر اعلیٰ اب کی بار جموں خطے سے تعلق رکھنے والا کوئی ہندو انتہا پسندلیڈر ہی منتخب ہوجانا چاہئے تاکہ ایوان اسمبلی میں آئینی حدود کے اندرہی دفعات (370) اور (35۔اے) کو آئین ہند سے حذف کرنے کا آرڈینینس پاس ہوکر مرکزی سرکار کے دربار اعلی میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔چناچہ ریاست میں بی جے پی سرکار کا معرض وجود آنافی الحال مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی لگ رہاہے کیونکہ وادی کشمیر کے (46)۔اسمبلی حلقوں میں سے بی جے پی کو کسی بھی حلقے پر کامیابی ملنے کے آثار دُور دُور تک کہیں نظر نہیں آرہے ہیں البتہ اس بات میں بھی دورائے نہیں کہ بی جے پی کی اتحادی جماعت پیپلز کانفرنس وادی میں اس مرتبہ چار پانچ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی (44) اسیٹوں کا جادوئی آنکڑا پار کرنا امت شاہ کو مشکل نظر آرہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جموں اور لداخ خطوں میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کا سیاسی کارڑ کھیلنا شروع کردیا ۔امت شاہ کاخیال ہے کہ ان دو خطوں میں بی جے پی کی پوزیشن اس وقت مستحکم ہے اسلئے اگر یہاں پر چار پانچ نئے اسمبلی حلقے وجود میں آجاتے تو جادوئی آنکڑے تک پہنچنابھاجپا کیلئے آسان ہوسکے ۔اس کارڑ کو جواز بخشنے کیلئے بی جے پی دعویٰ کر رہی ہے کہ جموں اور لداخ خطے رقبہ کے لحاظ سے ریاست کے دوبڑے خطے ہیں اور ان دونوں خطوں کو ایوان اسمبلی میں اب تک بھر پور نمائندگی نہیں دی جاچکی ہے اسلئے وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں خطوں کے اسمبلی حلقوں کی تعداد میں مناسب اضافہ کرانے کی غرض سے نئے سرے سے حد بندی کرائی جائے۔ اس حوالے سے 7 جون کو نئی دلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے علاوہ ملک کے بعض ماہرین قانون اور اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔میٹنگ میں اور باتوں کے علاوہ ریاست جموں و کشمیرمیں فاروق سرکار کی طرف سے2002ءمیں نئی حد بندی عمل میں لانے کے پروگرام پر 2026ءتک لگائی جاچکی پابندی کو ہٹانے اور نیا حد بندی کمیشن قائم کرانے پربھی غور و خوض کیا گیا۔ اس حوالے سے ریاست کے ایک نامور ماہر قانون اور رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے واضح کردیا کہ مرکزی سرکار اورریاستی گورنر انتظامیہ کے پاس ایسے اختیارات بلکل بھی نہیں ہیں کہ وہ کسی منتخبہ سرکار کی طرف سے لئے گئے کسی بھی فیصلے کو بدل سکیں۔
چناچہ مودی سرکار کا الزام ہے کہ شیخ محمد عبداللہ سے لیکر محبوبہ مفتی تک جتنے بھی وزیر اعلیٰ آج تک ریاست جموں و کشمیر میں منتخب ہوتے آئے وہ سب اپنے ذاتی سیاسی مقاصد اور مفاد ات کو ملحوظ نظر رکھ کرہمیشہ جموں اور لداخ خطوں کے ساتھ استحصالی پالیسی اختیار کر تے رہے۔اسی استحصالی پالیسی کو دوام بخشنے کیلئے فاروق سرکار نے 2002ءمیں ریاست میں نئے سرے سے حد بندی کرانے کے پروگرام پر 2026ءتک روک لگاکے رکھ دی ہے۔حالانکہ پنتھر پارٹی کے سربراہ پروفیسربھیم سنگھ نے فاروق سرکار کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیکر اس کو کالعدم کرانے کی غرض سے ریاستی ہائی کورٹ میں چلینج کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ جب ریاستی ہائی کورٹ نے پٹیشن ھٰذا کوشنوائی کیلئے ایڈمٹ کرنے سے انکار کردیا تب جاکے بھیم سنگھ یہ معاملہ لیکر سپریم کورٹ میں چلے گئے۔اگرچہ سپریم کورٹ میں اس ایشو پر کئی برس تک شنوائی ہوتی رہی تاہم 2010ءمیں عدالت نے پٹیشن ھٰذا کو سرے سے ہی خارج کردیا ۔ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فاروق سرکار کی طرف سے حد بندی کی عمل آوری پر روک لگانے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 2001ءمیں مرکزی سرکار نے آئین ہندکی دفعات (82)اور( 170 )کے تحت ملک میں نئے سرے سے مردم شماری کرانے تک نئی حد بندی کی عمل آوری پر روک لگادی تھی۔مرکزی سرکار کی طرف سے لئے گئے اسی فیصلے کی فاروق سرکار نے جموں و کشمیر رپرزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ (57)کے سیکشن (3)47 کے تحت توثیق کردی تھی کیونکہ مرکزی سرکار کے کسی بھی فیصلے کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں تب تک نہیں ہوپا تا جب تک کہ ریاستی سرکار اسکی توثیق نہیں کرتی ہے۔ ادھر این سی اور پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ محمد یوسف تاریگامی حکیم محمد یاسین غلام حسن میراور انجینئر رشید کا ماننا ہے کہ بھلے ہی کشمیر خطہ رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ہے لیکن یہ خطہ آبادی کے لحاظ سے ریاست کا سب سے بڑا خطہ ہے اور اسمبلی و پارلیمانی نشستوں کا تعین رقبے کے اعتبار سے نہیں بلکہ آبادی کے تباسب سے ہی کیا جاتا ہے ۔حکیم محمد یاسین نے مودی سرکار کی طرف سے روا رکھی جارہی جارہانہ پالسیوں پر زبردست تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میرا بھی یہی ماننا ہے کہ پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین آبادی کے لحاظ سے ہی کیا جارہا ہے۔ہندوستان کی جملہ ریاستوں میں بھی آبادی کا تناسب مد نظر رکھتے ہی پارلیمانی و اسمبلی حلقوں کا تعین کیا جاچکا ہے۔چناچہ رقبے کے لحاظ سے راجستھان بھارت کی سب سے بڑی ریاست ہے جبکہ آبادی کے اعتبار سے اُتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔راجستھان میں کل (28)پارلیمانی حلقے ہیں جبکہ اُتر پردیش میں پارلیمانی حلقوں کی تعداد (80 )ہے۔اس طرح سے یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان ریاستوں میں پارلیمانی حلقوں کا تعین رقبہ نہیں بلکہ آبادی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کیا جاچکاہے۔
یہاں پر ریاست کے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے حوالے سے قارئین کرام کو واقف کرانا میں ضروری سمجھتا ہوں ۔ہندوستان کے ساتھ الحاق کے بعد صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ کی ہداہت پر شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی سرکار نے اسمبلی سیگمنٹوں کا تعین عمل میں لانے کیلئے یکم مئی 1951ءکو(75) ممبران پر مشتمل ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کی سربراہی ریاستی وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ از خود کر رہے تھے۔ صدر موصوف کی ہدایت پر ہر ایک اسمبلی سیگمنٹ کو کم و بیش چالیس ہزار ووٹوں پر مشتمل رکھا گیا۔ اس طرح سے پہلی حد بندی کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کیلئے (75) نشستیں قائم کی گئیں جن میں آبادی کا تناسب ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کشمیر خطے کے حصے میں (43) جموں خطے کے حصے میں (30) جبکہ لداخ صوبہ کے حصے میں (2 ) حلقے آئے ۔ 1993ءکے دوران ریاست میں نئی حد بندی عمل میں لائی گئی جس دوران اسمبلی حلقوں کی تعداد (87) تک بڑھادی گئی۔اس نئی حد بندی میں صوبہ جموں کو مزید (7) حلقے ملے صوبہ کشمیر کو صرف(3) جبکہ صوبہ لداخ میں مزید (2) اسمبلی حلقوں کا اضافہ کیاگیا۔
یہاں ایک اوربات میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر ریاست جموں کشمیر میں نئے سرے سے حد بندی کرانا ناگزیر بن چکا ہے تو تینوں صوبوں میں آبادی کے تناسب سے ہی یہ عمل شروع کردینا چاہئے نہ کہ صرف دو خطوں جموں اور لداخ میں۔اگر ایسا کیا گیا تو وادی کشمیر میں حالات بد سے بدتر ین ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔یہاں کے بچوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کیلئے جواز مل سکتا ہے۔ یہاں کے علیحدگی پسند جماعتوں اور حریت پسند عوام کو آزاد ی کی جنگ جاری رکھنے کیلئے میدان ہموار ہوسکتا ہے۔ اسلئے طاقت کے نشے میں نریندر مودی اور امت شاہ کو کوئی ایسا قدم اُٹھانے سے گریز کردینا چاہئے جس سے خرمن امن کو آگ لگنے کا احتمال پیدا ہوسکے۔ان دونوں رہنماﺅں کو ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی قدم اُٹھانے سے قبل سو بار سوچنا اپنے اوپر لازم کردینا چاہئے۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
نوٹ : مضمون نگار سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں .
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا12 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر8 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا12 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا12 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا11 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان10 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا8 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
