جموں و کشمیر
جموں وکشمیر: ای ڈی نے غیر قانونی اسلحہ لائسنس کیس میں 21 ملزموں کے خلاف استغاثہ کی شکایت درج کی
سری نگر، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جموں وکشمیر میں غیر قانونی اسلحہ لائسنس کیس سے جڑے ایک معاملے میں 21 ملزمان کے خلاف استغاثہ کی شکایت درج کرائی ہے۔
ایجنسی کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ ای ڈی نے 21 ملزمان کے خلاف استغاثہ کی شکایت درج کی جس میں اس وقت کے اسلحہ لائسنس حکام راجیو رنجن (آئی اے ایس) اور عترت حسین رفیقی جوڈیشل کلرک، ضلع مجسٹریٹ کپوارہ کے دیگر اہلکار اور گن ہائس ڈیلر، ایجنٹ میڈل من بشمول راہل گروور، سید عدیل حسین شاہ اور سید عقیل شاہ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ شکایت پی ایم ایل اے کورٹ جموں میں غیر قانونی طور پر متعدد اسلحہ لائسنس جاری کرنے کے کیس کے متعلق دائر کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا: ‘ای ڈی نے انسداد دہشت گردی اسکواڈ/خصوصی آپریشن گروپ راجستھان پولیس اور سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن چندی گڑھ کے ذریعے آئی پی سی اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی مختلف ایف آئی آر کی بنیاد پر تحقیقات شروع کیں’۔
انہوں نے کہا: ‘ای ڈی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ مدت کے دوران ضلع کپوارہ کے اس وقت کے ڈی ایم/ اے ڈی ایمز، عدالتی کلرکوں اور دفتر کے دیگر اہلکاروں نے آرمز ایکٹ کے مختلف اصولوں کی خلاف ورزی کرکے گن ہائوس ڈیلروں اور یجنٹوں کے ساتھ مل کر ایک مجرمانہ سازش رچی اور نا اہل لوگوں کو بڑی تعداد میں غیر قانونی اسلحہ لائسنسز جاری کیں یا ان کی تجدید کی’۔
قبل ازیں ای ڈی نے ملزموں کی4.69 کروڑ روپیے کی مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کرتے ہوئے عارضی اٹیچمنٹ آرڈر جاری کیا تھا اور تلاشی کے دوران 1.58 کروڑ روپیے نقد اور سونا ضبط کیا تھا۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
جے اینڈ کے: لیفٹیننٹ جنرل سیٹھ نے جموں میں قائم وائٹ نائٹ کور کے جی او سی کا عہدہ سنبھالا
جموں، لیفٹیننٹ جنرل موہت سیٹھ نے جمعرات کو جموں کے نگروٹا میں قائم وائٹ نائٹ کور کی کمان سنبھال لی۔
وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایاکہ ’’لیفٹیننٹ جنرل موہت سیٹھ نے لیفٹیننٹ جنرل پی۔ کے۔ مشرا سے وائٹ نائٹ کور کی کمان سنبھال لی ہے۔‘‘
کمان سنبھالنے کے بعد نئے کور کمانڈر نے تمام رینک کے اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور ٹیم کے جذبے کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھیں اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ .
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: لیفٹیننٹ گورنر کے جعلی لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرنے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف فردِ جرم داخل
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جرائم شاخ کی اقتصادی جرائم اکائی (ای او ڈبلیو) نے پلوامہ کے ایک باشندے کے خلاف جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے جعلی لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرنے کے الزام میں فردِ جرم داخل کی ہے۔
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ ملزم پولیس کے کام کاج کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
اس سال درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے معاملے میں پلوامہ کے ڈیری کے رہنے والے ثقلین مشتاق ڈار کے خلاف سری نگر کی سب جج عدالت میں فردِ جرم داخل کی گئی۔ جرائم شاخ کے مطابق، ڈار نے مبینہ طور پر اننت ناگ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے نام ایک جعلی خط تیار کیا اور اسے اس طرح پیش کیا جیسے وہ لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے جاری کیا گیا ہو۔
ایجنسی نے بتایا کہ یہ پیغام جعلی سرکاری لیٹر ہیڈ پر تیار کیا گیا تھا اور اس پر جعلی دستخط کیے گئے تھے۔
تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ اس جعلی پیغام کا مقصد اننت ناگ ضلع پولیس انتظامیہ کے کام کاج کو غیر قانونی طریقے سے متاثر کرنا تھا۔
ای او ڈبلیو نے کہا کہ تفتیش کے دوران جمع کیے گئے شواہد سے الزامات ثابت ہوئے اور ہندوستانی نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 204، 319(2)، 336(2) اور 340(2) کے تحت جرائم طے ہوئے۔ جرائم شاخ نے بتایا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور معاملہ ثابت مانا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالتی فیصلے کے لیے عدالت میں فردِ جرم پیش کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
