تازہ ترین
جموں وکشمیر میں متاثرین کی تعداد 1200متجاوز
جموں وکشمیر میں جاری کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے بیچ 5ڈاکٹر وں اور19آر مڈ پولیس اہلکاروں سمیت45افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے اور اس طرح یہاں کووڈ۔19دسے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر1200تجاوز کر گئی جبکہ مزید مثبت کیسوں کا قوی امکان ہے کیونکہ اب کئی کورونا ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں سوموار کی صبح اُس وقت اضطرابی کیفیت میں مزید اضافہ ہوا،جب مزید45افراد کورونا پازیٹیو پائے گئے۔معلوم ہوا ہے کہ مختلف تشخیصی گاہوں میں کئے گئے کورونا وائرس ٹیسٹ کے دوران پانچ ڈاکٹر اور 19آرمڈ سمیت45افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے۔
انگریزی خبر رساں ادارے جی این ایس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتا یا کہ ڈی پی ایل اننت ناگ میں 19نمونے جانچ کیلئے لئے گئے تھے،جوکہ ایک ’کولیکشن پوائنٹ‘(جمع کرنے کا مرکز) ہے،کے سبھی ٹیسٹ کورونا پازیٹیو پائے گئے۔تاہم ان میں ڈسٹرکٹ پولیس اننت ناگ کا کوئی اہلکار نہیں ہے۔ایک پولیس نے افسر نے بتایا کہ ہے یہ سبھی ٹیسٹ آر مڈ پولیس اہلکاروں کے ہیں۔ادھرجموں و کشمیر میں کووڈ۔19 کے مثبت کیسز میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے،سوموار کے روز کشمیر میں 5 ڈاکٹرز میں بھی کووڈ۔19 کی تصدیق ہوئی ہے۔سرینگر میڈیکل کالج کے ترجمان ڈاکٹر سلیم خان نے بتایا کہ ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کے شعبہ ای این ٹی کے3، ڈینٹل کالج کا ایک اور سکمز بمنہ میں ایک ڈاکٹر مثبت پایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایچ ایس اور ڈینٹل کالج کے ڈاکٹرز نے گزشتہ روز سرینگر کی متوفی خاتون کا علاج کیا تھا، جس سے وہ اس کے رابطے میں آئے تھے۔
گزشتہ کل سرینگر کے حبہ کدل علاقے کی رہنے والی ایک جواں سال خاتون فوت ہوئی تھی،جس کا کووڈ۔19 ٹیسٹ مثبت پایا گیا تھا۔ڈاکٹر سلیم خان نے بتایا کہ یہ خاتون دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بعد ان ڈاکٹروں کے رابطے میں آنے والے افراد اور طبی عملے کی نشاندہی شروع کی گئی ہے اور انہیں قرنطینہ میں رکھنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جبکہ ان کا جلد ٹیسٹ بھی کیا جائے گا۔ دیگر مریضوں میں سی ڈی اسپتال کی کووڈ۔19ٹیسٹنگ لیب میں بمنہ سرینگر سے تعلق رکھنے والی 50خاتون جوکہ ایس ایم ایچ ایس کے آئیسو لیشن میں وارڈ میں زیر علاج ہے۔ دیگران میں کوکرناگ کی75سالہ خاتون،فتح کدل سرینگر کا55سالہ شہری،65سالہ خاتون کا تعلق کولگام،56سالہ شخص کا تعلق کرگل،بڈگام سے تعلق رکھنے والی70سالہ معمر خاتون،پٹن سے تعلق رکھنے والے55سالہ شہری اور سلر اننت ناگ سے تعلق رکھنے والا27 سالہ نوجوان شامل ہے،جو کہ صدر اسپتال میں زیر علاج ہے۔19آر مڈ پولیس اہلکاروں کی عمر25سے53برس کے درمیان ہیں،جن میں بیشتر کی تعداد30 برس کی ہے۔دو دیگر مریضوں کے مثبت ٹیسٹ راجوری سے آہیں،جو جی ایم سی جموں نے تصدیق کی ہے۔
اسطرح جموں وکشمیر میں کورونا پازیٹیو مریضوں کی تعداد بڑھ کر1228ہوگئی،جن میں 600 ایکٹو پازیٹو(سرگرم معا ملات) ہیں جبکہ دیگر مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ممکنہ طور پر اس تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔13 افراد اس مہلک وبا کی وجہ سے فوت ہو ئے ہے۔اس وبا کی روک تھام کے لیے گزشتہ 60 دنوں سے نافذ لاک ڈاون جاری ہے جس دوران لوگ کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔کشمیر میں تاجروں کے اتحاد کشمیر ٹریڈ الائنس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن سے صرف گزشتہ دو ماہ کے دوران وادی کشمیر کی معیشت کو 8ارب41کروڑ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
کشمیر ٹریڈ الائنس کے سرپرست اعلی فاروق احمد ڈار نے سرینگر میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاکہ یہ اعدادو شمار 19 مارچ کے بعد سے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے ہیں اوراس دوران کشمیری تاجروں کو 8ارب41کروڑ روپے سے زائد کا نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعزاز شاہدھر نے کہا کہ وادی کشمیر میں لاک ڈان ختم ہونے کے بعد کشمیری تاجروں کو اس دوران ہونے والے نقصانات کے بارے میں حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ کشمیر پریس کلب نے سرینگر میں ایک بیان میں کورونا وائرس کے نام پر جاری لاک ڈاؤن کے باعث کشمیر کی گھمبیر صورتحال اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث صحافیوں کو درپیش مشکلات پرشدید تشویش ظاہر کی ہے۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ عالمی وبانے پوری میڈیا انڈسٹری کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور لاک ڈاؤن کو میڈیا سے وابستہ کارکنوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے عذر کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
