تازہ ترین
جموں وکشمیر کی سلامتی صورتحال : قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال کی اعلیٰ افسران سے میٹنگ
قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال نے ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی میٹنگ میں جموں وکشمیر کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔اس میٹنگ میں لائن آف کنٹرول کی صورتحال،وادی کشمیر میں ملی ٹنسی مخالف آپریشنز،در اندازی،پاکستان اور دیگر سیکیورٹی اموار پرتبادلہ خیال کیا گیا۔کشمیر نیوز سروس کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئی دہلی میں منعقدہ اس غیر معمولی میٹنگ میں فوج،فورسز،پولیس اور خفیہ وسراغ رساں ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔۔ذرائع نے بتایا کہ اس غیر معمولی سیکیورٹی میٹنگ میں خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی فورس کے افسران نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال کو جموں وکشمیر کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال سے متعلق جانکاری دی۔
ذرائع کے مطابق جموں وکشمیر سے متعلق اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں فوج کے سربرا ہ،منوج موکنڈ ناروانے، انٹلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر اروند کمار،ریسرچ اینڈ اینالائزز ونگ (را) کے چیف سمنت کمار گوئل،بی ایس ایف کے ڈائریکتر جنرل ایس ایس دیسوال،سی آر پی ایف کے چیف اے کے مہا شیواری، فوج کے شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل وائی کے جوشی،جی او سی15کور بی ایس راجو،16ویں کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ہرشا گپتا،جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے میٹنگ میں شرکت کی۔
اس میٹنگ کے دوران جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال کو جموں وکشمیر کی موجودہ سیکیورٹی کی مکمل جانکاری دی جبکہ انہوں نے سرحدی صورتحال کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی۔جموں وکشمیر کی سیکیورٹی صورتحال ملی ٹنسی مخالف آپریشنز،در اندازی،پاکستان اور دیگر سیکیورٹی اموار پر مکمل جانکاری حاصل کرنے کے بعد قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال نے میٹنگ میں شامل متعلقہ افسران کو ضروری ہدایت بھی دی۔ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال نے وادی کی تمام اہم فوجی تنصیبات بشمول سری نگر کے ایئر بیس سیکیورٹی کو مزید چوکس کرنے،لائن آف کنٹرول پر در اندازی مخالف سیکیورٹی گرڈ کو مزید مضبوط بنانے اور وادی کشمیر میں جنگجو مخالف آپریشنز جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے کہا کہ حزب کمانڈر ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد عسکریت پسند کوئی بھی بڑی کارروائی انجام دے سکتے ہیں،لہٰذا سیکیورٹی فورس کو مزید چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہئے جبکہ سیکیورٹی گرڈ کو مضبوط تر مضبوط بنانا چاہئے۔انہوں نے فوج کے افسران کو بتایا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر نگرانی کو مزید فعال بنائیں تاکہ دراندازی کے واقعات کو قبل از وقت ہی روکا جاسکے۔ذرائع نے بتایا کہ اجیت ڈوال نے یہ سیکیورٹی میٹنگ حالیہ دنوں کامیاب ترین جنگجو مخالف آپریشن کے دوران جاں بحق کئے گئے حزب المجاہدین کے اعلیٰ ترین کمانڈر ریاض نائیکو کی ساتھی سمیت ہلاکت کے پس منظر میں بلائی گئی تھی۔اس میٹنگ سیکیورٹی فورس کو نائیکو کے خلاف کامیاب آپریشن انجام دینے پر سراہنا بھی کی گئی اورعسکری کمانڈروں کے خلاف آپریشنز کو کامیابی سے جاری رکھنے کے عزم کو دوہرا گیا۔
ادھر ذارئع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی انٹلی جنس ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ اس وقت وادی کشمیر میں جیش محمد نامی عسکری تنظیم کے اعلیٰ تربیت یافتہ20سے30جنگجو سرگرم ہیں۔ذرائع کے مطابق انٹلی جنس ایجنسیوں نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگجو کسی بھی وقت کوئی بڑی جنگجویانہ کارروائی انجام دے سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز پر کسی بھی وقت جیش محمد کے فدائین حملہ کر سکتے ہیں۔
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
