تازہ ترین
جنگجوؤں کیساتھ مراسم میں گرفتار’ڈی ایس پی‘کا معمہ
این آئی اے نے جنوبی کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپے ڈالے
سرینگر 2،فروری:کے این ایس / جنگجوؤں کیساتھ مراسم کے الزام میں گرفتار ’ڈی ایس پی دویندر سنگھ معاملے‘ کی نسبت ’قومی تفتیشی ایجنسی‘(این آئی اے)نے اتوار کی علی الصبح جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر چھاپے ڈالے۔چھاپہ مار این آئی اے کی ٹیم نے کئی رہائشی مکانوں اور نجی دفاتر کی تلاشی لی اور ڈی ایس پی کی گرفتاری کے معاملے سے متعلق کئی اہم دستاویزات بھی ضبط کئے۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اتوار کو گرفتار ڈی ایس پی کے معاملے سے متعلق کشمیر میں کئی مقامات پر چھاپہ ماری کی۔معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی علی الصبح این آئی کی ایک خصوصی ٹیم جنوبی ضلع شوپیان پہنچ گئی،جہاں مذکورہ ٹیم نے2جنگجو نوجوانوں کی رہائش گاہ اور ایک دیہی نمائندے(سر پنچ) کی رہائش گاہ پر چھاپے ڈالے۔ذرائع نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی تلاشی کارروائی کے دوران مکینوں اور سرپنچ سے پوچھ تاچھ بھی کی اور گرفتار ڈی ایس پی کے کیس سے متعلق معلومات اکھٹی کی۔ذرائع نے بتایا کہ سرینگر میں بھی این آئی اے کی ٹیم نے چھاپہ ماری کی،جس دوران این آئی اے کی ٹیم نے گرفتار ڈی ایس پی کی زیر تعمیر مکان اور اُس مقام پر بھی گئی،جہاں گرفتار ڈی ایس پی عارضی طور پر رہائش پذیر تھا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سنیچر کو این آئی اے کی ایک خصوصی ٹیم کے اعلیٰ افسران جنوبی ضلع اننت ناگ میں پولیس کے اعلیٰ حکام کیساتھ ایک میٹنگ میں بھی کی،جس میں گرفتار دویندر سنگھ معاملے سے متعلق کئی امور کو زیر بحث لایا گیا۔یاد رہے کہ جموں وکشمیر پولیس میں ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ عہدے پر فائز دویندر سنگھ ساکنہ ترال پلوامہ کو 11جنوری کو ایک غیر معمولی کارروائی کے دوران سرینگر۔جموں شاہراہ پر قاضی گنڈ میں اُس وقت گرفتار کیا گیا،جب وہ جنگجوؤں کو جموں اور بعد میں چندی گڑھ لیجانے کیلئے ایک نجی گاڑی میں سوار تھا۔اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کیلئے معمہ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کے سونپ دیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ این آئی اے کی ٹیم نے جموں میں بھی چھاپہ ماری عمل میں لائی،جس دوران کئی مقامات پر مکانوں اور دفاتر کی تلاشی لی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ڈی ایس پی معاملے کی نسبت اتوار کو عمل میں لائی گئی چھاپہ ماری کے دوران این آئی اے کی ٹیموں نے کئی مقامات پر دستاویزات کو بھی ضبط کیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہ چھاپہ ماری این آئی اے نے کیس کے سلسلے میں گرفتار سبھی ملزمان سے پوچھ تاچھ کرنے کے بعد کی۔اس معاملے میں جن کو گرفتار کیا گیا،اُن میں حزب کمانڈر سید نوید مشتاق احمد عرف ناوید بابو،رفیع احمد راتھر اور عرفان شفیع میر،جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وکیل ہیں۔پنجاب سے بعد ازاں نوید کے بھائی سید عرفان احمد کو23جنوری کے روز گرفتار کیا گیا۔نوید نے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ وہ چندی گڑھ میں کوئی کرایہ کا کمرہ دیکھیں،جہاں وہ شدید سردیوں کے ایام کاٹ سکیں۔ادھر ایک میڈیا رپوٹ سرحدی ضلع کپوارہ میں پولیس نے جنگجوؤں کے ساتھ رابطوں کے الزام میں ایک پولیس اہلکار کو حراست میں لیا جبکہ دو لڑکوں کو سیکیورٹی فورسز نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ بارہمولہ ضلع میں لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کپوارہ میں پولیس نے ایک پولیس اہلکار، امتیاز احمد کو ڈی پی ایل بارہمولہ میں جنگجوؤں کے ساتھ رابطوں کے الزام حراست میں لیا۔ اس سے ایک مشتبہ عسکریت پسند کے بارے میں اس کے روابط پر پوچھ گچھ کی جارہی ہے جس کے قبضے سے ایک اے کے47 رائفل برآمد ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے ایک مقدمے میں ایف آئی زیر نمبر16/20زیر دفعہ 13/18یو ایل اے اور 25آر مز ایکٹ میں حراست میں لیا گیا تھا،جس میں ایک مشتبہ فیاض احمد میر ساکنہ کپوارہ کو30جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
