ہندوستان
جے رام رمیش نے ہندوستان کے آئین کی تشکیل پر گفتگو کی
نئی دہلی، ہندوستانی آئین کے نفاذ کو 76 برس مکمل ہونے پر سینئر کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے پیر کے روز آئین بننے اور ہندوستان کے قومی نشان اور قومی نعرے کی کم معروف تاریخ پر روشنی ڈالی اور ان علمی مباحث اور تاریخی فیصلوں کی جانب توجہ مرکوز کرائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ 1966 میں ‘گرین ول آسٹن’ کی اہم کتاب ‘دی انڈین کانسٹی ٹیوشن کارنر اسٹون آف اے نیشن’ اور 1968 میں مکمل ہونے والی بی شیوا راؤ کی پانچ جلدوں پر مشتمل کتاب ‘دی فریمنگ آف انڈیاز کانسٹی ٹیوشن’ کی اشاعت کے بعد سےآئین کی تدوین کے عمل کا مسلسل اورگہرائی سے مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے مزید کہا کہ اگرچہ اس کے بعد کئی اہم تصانیف سامنے آئیں، تاہم روہت دے اور اورنٹ شانی کی حالیہ کتاب ‘اسمبلنگ انڈیاز کانسٹی ٹیوشن اے نیو ڈیموکریٹک ہسٹری’ کا خصوصی طور پر ذکر ضروری ہے۔ مسٹر رمیش نے بتایا کہ آئین کی پہلی دو دستی تحریر شدہ نقول، ایک انگریزی اور دوسری ہندی میں، کے سرورق پر پہلے ہی قومی نشان موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ اشوک کے سنگھاسن کو قومی نشان کے طور پر اختیار کرنے کا فیصلہ 1947 کے اختتام تک کر لیا گیا تھا، جو 1905 میں سارناتھ سے دریافت ہونے والے مجسمے پر مبنی تھا۔ تاہم آج معروف نعرہ’ ستیہ میو جیتے ‘ابتدا میں قومی نشان کا حصہ نہیں تھا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ 1949 کے اوائل میں منڈکا اُپنشد سے ماخوذ نعرہ’ ستیہ میو جیتے‘ کو ابیکس کے نیچے قومی نعرے کے طور پر شامل کیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ الفاظ کے انتخاب پر بھی بحث ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ اسے ستیہ میو جیتی ہونا چاہیے نہ کہ ستیہ میو جیتے، اور سنسکرت کے ماہرین سے مشورے کے بعد مؤخر الذکر پر اتفاق کیا گیا۔
مسٹر رمیش نے 1956 میں معروف مؤرخ اور اس وقت کے رکن پارلیمنٹ رادھا کُمُد مکھرجی کی مداخلت کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے نشاندہی کی تھی کہ اصل اشوک سنگھاسن میں شیروں کے کندھوں کے اوپر ایک بڑا پہیہ بھی شامل تھا۔ اس نشاندہی کے باوجود قومی نشان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، کیونکہ اسے پہلے ہی وسیع پیمانے پر اختیار کیا جا چکا تھا۔
کانگریس رہنما نے مزید بتایا کہ دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران متبادل عبارتوں پر بھی غور کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1948 میں دستور ساز اسمبلی کی بعض رپورٹس میں ابیکس کے نیچے ‘دھرما چکرا پروارتنایا’ کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ بعد ازاں 1949 کے اوائل میں اس فقرے کی جگہ ستیہ میو جیتے نے لے لی۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ ‘دھرما چکرا پروارتنایا’ نے ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں علامتی حیثیت برقرار رکھی۔
انہوں نے لکھا کہ پرانی پارلیمنٹ کی عمارت میں لوک سبھا اسپیکر کی نشست کے عین اوپر ان الفاظ پرروشنی مرکوز کی گئی تھی اور یہ سلسلہ ستمبر 2023 میں لوک سبھا کی نئی عمارت میں منتقل ہونے تک جاری رہا۔ مسٹر رمیش کی یہ پوسٹ آئینی اقدار اور علامتوں سے متعلق جاری عوامی اور علمی مباحث کے درمیان سامنے آئی ہے۔ آرکائیو کی تفصیلات اور علمی مباحث کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کے آئینی سفر کی گہرائی اور غور و فکر پر مبنی نوعیت کو اجاگر کیا، جو 76 برس بعد بھی فکر اور نئی تشریحات کی دعوت دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ ایس وائی
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
