تازہ ترین
حضرت شمس فقیرؒ کی سماجی و شاعرانہ زندگی پرایک مختصر جائزہ
مشتاق شمیم ،خانصاحب بڈگام

24۔ماہ جون کو شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ کا عرس آپ کے آستان عالیہ بمقام باغ شمس کلشی پورہ خانصاحب میں نہایت ہی عقیدت اور تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ۔ عرس کے موقع پر حسب روایت ذائرین کی طرف سے درود و اذکار اور نعت و مناجات کی مجلسیں آراستہ کی گئیں۔ ساز و سماع کی محفلیں سجائی گئیں۔سجادہ نشین و متولی خاص پیر محمد الطاف اور آستان عالیہ سے وابستہ منتظمین کی طرف سے عقیدت مندوں کیلئے قیام و طعام کا اعلیٰ انتظام کیا گیا تھا۔اس بار ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند شمس فقیرؒ کے آستان پراس روحانی و صوفی بزرگ کو عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کیلئے حاضر ہوگئے جن میں خواتین و حضرات کے ساتھ ساتھ ایک اچھی خاصی تعداد میں نوجوان پیڑی کے لوگ بھی شامل تھے۔ آج کے کالم میں راقم نے اسی صوفی شاعر کی سماجی و شاعرانہ زندگی کا ایک مختصر جائزہ عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔امید ہے کہ سامعین کرام کو میری یہ کوشش پسند آجائیگی انشااللہ۔
شاعر معرفت و شریعت حضرت شمس فقیر ؒ صوفیانہ شعر و ادب کے اُفق پر ایک ایسے درخشندہ ستارے کی مانند جلوہ افروز ہیں جو تا قیام قیامت اپنے نور سے وادی کشمیر کے چپہ چپہ اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے خواتین و حضرات کے دلوںکو روشن اور منور کرتے رہیں گے۔انہوں نے جوعارفانہ کلام فرمایا ہے اُس کلام میں اللہ پاک کی تعریف و تمحید اور رسول پاک ﷺ کے عشق و محبت کا عکس اس طرح سے آشکارہ کیا جاچکا ہے کہ اصحاب ایمان کے قلوب و اذہان کو یہ پُر مغزکلام سکون اور راحت بخش احساس فراہم کرتا رہتا ہے ۔عبادت گزاری دین داری خدا پرستی اورعشق نبوی ﷺ سے اُن کا کلام اس قدر مالا مال ہے کہ اس کا مطالعہ و سماعت کرنے والے حضرات کسی بھی صورت میں متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر شریعت حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒ کے بعد جس کشمیری صوفی شاعر نے اپنے الہامی کلام سے سب سے زیادہ دین اسلام کا باغ رحمت سینچا سنوارا ہے آپ ہیں حضرت شمس فقیر ؒ ۔
شمس فقیرؒ کا تعلق صوفی سلسلہ قادریہ کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔آپؒ میںبچپن سے ہی شعر و ادب کے ساتھ زبردست عقیدت اور دلی وابستگی پائی جاتی تھی۔دوران حیات برگزیدہ صوفی شاعروں کا کلام سماعت فرمانا حضرت شمس فقیر ؒکے اہم ترین مشاغل میں شامل رہا کرتاتھا۔سب سے زیادہ آپ ؒ انیس ویں صدی کے معروف صوفی شاعرحضرت نعمہ صابؒ کے کلام سے فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ نعمہ صابؒ کو شمس فقیرؒ اپنا رہبر مانا کرتے تھے ۔اُن کا کلام سماعت کرنے کیلئے شمس فقیرؒ میلوں کا سفر پیدل طے کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا کرتے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ نعمہ صابؒ کی شخصیت اور اُن کے عارفانہ کلام نے ہی شمس فقیر کو شعرو سخن کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔شعر و شاعری کے میدان میں قدم رکھنے سے قبل شمس فقیرؒ نے وقت کے بعض کئی اہم صوفی بزرگوں کی صحبت اختیار کررکھی ہوئی تھی جن میں سوچھ ملیاری عبدالرحمان صاحب برزلہ عطیق اللہ صاحب گلاب باغ محمد جمال صاحب و غلام رسول صاحب سرینگر شامل ہیں۔ان بزرگان دین کو شمس فقیر ؒاپنا رہبرمانا کرتے تھے۔ان ہی بزرگوں کی پاک صحبت میں رہ کر شمس فقیر ؒ شعر و شاعری کے میدان میں ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
شمس فقیر ؒ کا اسم شریف اصل میںمحمد صدیق بٹ صاحب تھا اور آپ کی ولادت باسعادت شہر سرینگر کے چینکرال محلہ علاقے میں رہائش پزیر ایک غریب اور ناخواندہ خانوادے میں 1843 ءمیں ہو چکی تھی ۔گھر کی ابترتعلیمی و مالی حالات کے پیش نظر آپ ؒ کوکبھی ژاٹہ ہال یا درسگاہ جانے کا موقع نصیب نہیں ہو پایا اسلئے آپؒ کو ظاہری صورت میں تعلیم و تربیت کی دولت سے بہرہ ور ہونے کا موقع نہیں مل سکا ۔ اپنے گھرپریوار کی مالی حالت سدھارنے اور رزق حلال کا انتظام کرنے کی غرض سے آپؒ کو محنت و مشقت کا راستہ اختیار کرنا پڑا ۔ مزدوری کا پیشہ اختیار کرنے کے سوااُن کے پاس کوئی دوسرا چارہ باقی نہیں تھا۔ مزدوری کے سلسلے میں آپ کو لگ بھگ 25 سال کی عمر میں ہی اپنا گھر بار اور وطن عزیز چھوڑ کرمتحدہ ہندوستان کے شمالی علاقہ جات کا رُخ کرنا پڑا کیونکہ کشمیر میں اُس زمانے میں ڈوگرہ راجا مہاراجاﺅں کی متعلق العنان حکومت کا دور دورہ تھااوریہ حکمران یہاں کے نوجوانوں یہاں تک کہ بزرگوں اور مستورات کو بھی بے گار پر لے جانے میں کوئی شرم یا حیامحسوس نہیں کیا کرتے تھے۔وہ ظالم حکمران کشمیری نوجوانوں سے جانوروں کی طرح مشقت کروانے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔وہ جابر حاکم یہاں کے بد نصیب لوگوں سے بے حد و حساب کام تو کرواتے تھے لیکن بدلے میں پیٹ کی آگ مٹانے کیلئے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ان بیچاروں کو فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کیا کرتے تھے۔اسی وجہ سے یہاں کے نوجوان پڑوسی ملک ہندوستان کے مختلف شہروں خاص طور سے پنجاب کے امرتسرچندی گڑھ اور لاہور نامی زرعی طور آباد و خوشحال بستیوں کی طرف چار پیسہ کمانے اور پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر جوق در جوق جانے کیلئے بےتاب رہا کرتے تھے۔شمالی ہندوستان کے بعض شہروں میں ہمارے جدو اجداد کو بہ آسانی کام بھی ملا کرتا تھا اور مزدوری بھی اچھی خاصی ملاکرتی تھی۔
جانکار حلقوں اور تاریخ دانوںکے مطابق محمد صدیق بٹ(شمس فقیرؒ) کی حرکتیں تو بچپن سے ہی باقی بچوں کی حرکات سے بہت حد تک مختلف ہوا کرتی تھیں۔آپ ؒ کے خیالات احساسات اور جذبات باقی بچوں سے بلکل الگ تھلگ اور جُداگانہ نظر آتے تھے۔آپ تو زیادہ ترگُم سُم اور کھوئے کھوئے سے رہا کرتے تھے۔آپ کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیال کرنے کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کا من خوابوں اور خیالوں کے ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہوتا تھا جس سمندر کی سرحدیں آسمان کی گود میں سرَ رکھ کر کسی خاص دوست کی کھوج میں بے قرار سی رہا کرتی ہیں۔چونکہ جوانی کی د ہلیز پر قدم رکھتے ہی آپؒ کو معاش کی تلاش میںامرتسر کی راہ لینی پڑی لیکن وہاں پر بھی آپؒ نے بعض بزرگان دین کو اپنا دوست اور رہبربنا کے رکھ دیااور اُن کی نیک صحبت میں رہ کر گھیان دھیان حاصل کرتا رہا۔
امرتسر سے واپس لوٹ آنے کے بعد شمس فقیرؒ نے جنوبی کشمیر کے انت ناگ ضلع میں عارضی سکونت اختیار کی۔وہیں پر آپ ؒ نے اپنے آپ کو شادی کے پاک بندھن میں باندھ لیا ۔لیکن نہ جانے کیوں انت ناگ کا آب و ہواشمس فقیر ؒ کو زیادہ دیر تک راس نہیں آیا ۔آپ ؒ اپنی رفیق حیات کو ساتھ لیکر اپنے آبائی گھر واقع چینکرال محلہ حبہ کدل واپس تشریف لے کے آئے۔اس دوران ان کے پشت سے دو فرزندان ارجمند اور ایک دختر نیک اختر نے تولت ہونے کا شرف بھی حاصل کرلیا تھا۔اپنے آبائی گھر میں تشریف اشرف رکھنے کے دوران حضرت شمس فقیر ؒ فقیری اوردرویشی کے اعلیٰ مقام پر براجمان ہو گئے۔ آپ ؒ کے وجود میں تو اب دنیا اور دنیاداری کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی۔آپ نے گھر گرہستی کی پریشانیوں اور مادی دنیا کی لذتوں سے ناطہ توڑ کر اپنے معبود برحق کی تلاش اوررضا حاصل کرنے کا مسمم اور مکمل ارادہ باندھ لیا۔اس اعلیٰ مقصد کی حصول یابی کیلئے آپ ؒ نے بڈگام ضلع کے قاضی باغ نامی گاﺅں میں موجود ایک قدیم ترین گھپا میں تشریف رکھ کرمکمل تنہا ئی اختیار کرلی۔مسلسل چھ ماہ تک اس تنگ وتاریک غار میں تن تنہارہتے ہوئے حضرت شمس فقیر ؒ کو اپنے خالق حقیقی کو قریب سے جاننے اور پہنچاننے کا موقع نصیب ہوااور آپ ؒ کوروحانیت کا اعلیٰ منصب حاصل ہوگیا۔روحانیت کے عالم میںآپ ؒ شاعری کی صورت میں علم و عرفان کے ایسے میٹھے دریا بہانے لگے جن دریاﺅں کے شیریں آب رواں نے آج تک نہ جانے کتنے مردہ دلوں کو حیات جاودانی سے سرفراز اور سرشار کرکے رکھ دیا ہے۔گھپا سے نکل کر آپؒ خانصاحب علاقے کے کلشی پورہ نامی ایک چھوٹے سے گاﺅں میں تشریف لے کے گئے اور وہیں پر اپنی زندگی کے آخری لمحات گزارنے کا فیصلہ کیا۔۱۰۹۱ءمیں ۸۵ برس کی عمر شریف میں آپؒ کلشی پورہ گاﺅں میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور اسی گاﺅں میں ان کی آخری آرام گاہ فی الوقت موجود ہے۔ شمس فقیرؒ کے مرید اور عقیدت مندسال بھر کلشی پورہ میں واقع ان کے مزار پر حاضری دیتے رہتے ہیں اور وہاں پر اپنے پیر و مرشد کے ایصال ِثواب کیلئے قرآن خوانی ونعت خوانی کی محفلیں آراستہ کرتے رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شمس صاحب ؒکے دونوں فرزند لا ولد گزر چکے ہیں البتہ اُن کا نسب ان کی دختر نیک اخترکے راستے ہی آگے بڑتا چلا جارہا ہے۔مرحوم پیر محی الدین صاحب شمس فقیر ؒ کے گھر داماد تھے جبکہ مرحوم پیر مبارک صاحب مرحوم پیر محی الدین صاحب کے گھر داماد رہے۔ پیر محمد الطاف پیر محی الدین صاحب کے دوسرے فرزند ہیں جو فی الوقت شمس فقیرؒ کے آستان عالیہ پر سجادہ نشین کی حثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
حضرت شمس فقیر ؒ کا لگ بھگ دو تہائی کلام کلیات شمس فقیر میں موجود ہے۔اگر چہ ادارہ جموں و کشمیر کلچرل اکادمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویجز ابھی تک کلیات شمس فقیر ترتیب دینے اور شائع کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایاتاہم یہ نیک کام وادی کے مایہ ناز ادباءڈاکٹر عزیز آفاق صاحب اور ڈاکٹر محفوظہ جان صاحبہ نے سر انجام دیکرعوامی و ادبی حلقوں سے داد تحسین حاصل کی ہے۔نند ریشی کلچرل سوسائٹی کو کلیات شمس فقیر شائع کرنے کا اعزازحاصل ہے۔
بہر حال شمس فقیر ؒ کا کلام وادی کے مشہور و معروف گلکار اپنی مدر لئے میں گانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں۔آپ کا کافی کلام ریڈیو کشمیر اور دور درشن کیندر سرینگر کی میوزک لائبرریوں میں معروف گلو کاروں کی مُدر آوازوں میں موجود ہے جس کو یہ دونوں ادارے عوام کی دلچسپی کو ملحوظ نظر رکھ کر روزانہ اپنی نشریاتی سروسز سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں۔عصر حاضرکے نئے گلو کار حضرات بھی شمس فقیر کا کلام موسیقی کے نئے اور جدید سانچوں میں ڈالکر گانے میں خاص دلچسپی دکھا رہے ہیں۔بالی وُڑ کی مایہ ناز گلو کارہ آشا بھونسلے جی نے 60 کی دہائی میں شمس فقیر کا ایک مشہور کلام” ہا عشقہ ژھورو رشکہ کر?تھس دیوانہ تے ۔۔۔۔۔ پنُن ا<سِتھ چھوکھ ژ? لاگان بیگانہ تے “ریڈیو کشمیر کے سٹیڈیوز میں ریکارڑ کروا کے اس عالمی شہرت یافتہ شاعر کے تئیںاپنے خراج عقیدت کا اظہار کیا۔ بہر حال ہر برس 24۔ جون کو حضرت شمس فقیر کا عرس(یوم وصال) اُ ن کی آرام گاہ پر مذہبی عقیدے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جموں کشمیر کلچرل اکادمی محکمہ انفارمیشن سانگ اینڈ ڈرامہ ڈیویژن ریڈیو کشمیر سرینگر دور درشن کیندر سرینگراور دیگر ادبی و ثقافتی تنظیمیں باہمی اشتراک سے اس روز شمس فقیرؒ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے محفل سماع و محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ وادی کی معروف موسیقی پارٹیاں اس موقع پرشمس فقیرؒ کا کلام اُن کے عقیدت مندوں کے سامنے پیش کرکے اس برگزیدہ شاعر کواپنا والہانہ خراج پیش کرنے میں اظہار مسرت کرتے ہیں۔ امسال کی تقریب پر ثقافتی مرکز بڈگام کی طرف سے تین شاعری مجموعوں کی رسم رونمائی انجام دی گئی اور شعر و ادب سے وابسطہ بعض قلم کار حضرات کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ مکہ مدینس بر چھ وتھئے نیری لتئے روف کران دُورِ چھی ہران نورہ پھتئے نیری لتئے روف کران
دنیا
ریاض ہوائی اڈے پر دو حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک، متعدد زخمی
ریاض، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو دو الگ الگ حملوں میں تین سعودی شہریوں کی موت ہو گئی، جبکہ مختلف ممالک کے متعدد شہری زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے یہ اطلاع دی۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سعودی فضائی نقل و حمل اتھارٹی کے مطابق، پہلا حملہ ہوائی اڈے کے احاطے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جبکہ دوسرا حملہ سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے پر ہوا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی، تاہم فضائی ٹریفک کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
ماسکو، یف،
روسی اور یوکرینی حکام نے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر مہلک حملوں کی اطلاع دی جب ماسکو اور کیف ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے اور کشیدگی میں اضافہ جاری رہا۔
چرنی ہیف کے گورنر ویاسیِسلاو چاوس نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے شمالی شہر پرلوکی پر روسی میزائل حملے میں 22 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
چاوس نے ٹیلگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ پرلوکی میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ چار موقع پر ہلاک ہوئے اور ایک بچہ اسپتال میں چل بسا۔
یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے رات بھر روس کی طرف سے داغے گئے 130 اسٹرائیک ڈرونوں میں سے 117 اور کم از کم 44 بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو مار گرایا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ حملے مزید فضائی دفاعی نظاموں اور گولہ بارود کی فراہمی کے مطالبات کو تقویت دیتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ “خطرہ ہر وقت موجود ہے، لہذا ہماری فضائی دفاعی بیٹریوں کے پاس میزائل تیار ہونے چاہئیں “اور کیف اپنے شراکت داروں سے فوری ترسیل اور مناسب پیداوار پر انحصار کر رہا ہے۔
مقامی حکام نے جمعرات کو کہا کہ ایک دوسرے روسی حملے میں مشرقی یوکرینی شہر کراماتورسک میں دو مسافر بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔
دونتسک کے علاقائی دفترِ گورنر کا کہنا ہے کہ صبح کے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی نقل و حمل معطل کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، روسی حکام نے کہا کہ ساحلی شہر نووروسیسک پر ایک یوکرینی ڈرون حملے میں ایک بچہ سمیت چار افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ تین زخمیوں کی حالت نازک ہے۔
علاقائی گورنر وینیامین کونڈراتیف نے یوکرین پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ تین مکانات، پانچ اپارٹمنٹس، ایک گرجا گھر اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچا۔
ڈرون کے ملبے نے قریب کے شہر اناپا میں بھی مکانات اور ایک کنڈرگارٹن کو نقصان پہنچایا، اگرچہ وہاں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے 11 علاقوں، بحیرہ اسود اور روس کے الحاق شدہ کریمیا علاقے کی فضاوں میں 596 یوکرینی ڈرونز مار گرائے ہیں۔
یوکرینی فوج نے کہا کہ اس نے رات کے دوران نووروسیسک نیول بیس کو نشانہ بنایا، جس سے بیس اور سمندری تیل ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔ اس نے اس بیس کو روسی بحیرہ اسود بیڑے کے جہازوں کی موجودگی، مرمت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے اہم مرکز قرار دیا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
روسی سرکاری خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا کہ ایک دوسرےڈرون حملے نے روسی ٹیکنالوجی کمپنی یانڈیکس کے زیرِ انتظام ساسوو میں واقع ایک ڈیٹا سینٹر میں آگ لگا دی ۔
یانڈیکس نے کہا کہ حملے سے اس کے انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ متاثر ہوا، جس کی وجہ سے اس نے اس تنصیب میں آپریشنز معطل کر دیے ہیں اور ممکنہ طور پر کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ کمپنی نے کوئی جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔
گزشتہ چند مہینوں میں ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کے لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو زیادہ حد تک نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
دونوں فریق یہ انکار کرتے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے حملے عسکری اہداف یا فوجی سرگرمیوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
