ہندوستان
حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کسی بھی بحران سے نمٹنے میں اہم : اسمرتی
نئی دہلی:خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے بدھ کو کہا کہ کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری اہم ہے۔
5ویں راشٹریہ پوشن ماہ (یکم ستمبر سے 30ستمبر 2022)کے دوران ملک بھر میں مختلف موضوعات کے تحت 15کروڑ سے زیادہ سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جو سوپوشت بھارت کے لئے وزیر اعظم کے وژن میں تعاون کرتی ہے۔ 5ویں پوشن ماہ سے قبل ، ابھیان کے آغاز کے بعد سے 40کروڑ سے زیادہ کی اجتماعی سرگرمی کے ساتھ 4پوشن ماہ اور 4پوشن پکھواڑا منعقد کئے جاچکے ہیں۔
اس سال پوشن ماہ کے دوران گرام پنچایتوں کو تمام سرگرمیوں کا نقطہ بنایا گیا۔اس سے زمینی سطح پر مختلف کمیٹیوں کو منظم کرنے میں مدد ملی۔ جس میں دیہی صحت، صفائی اور تغذیہ کمیٹی (وی ایچ ایس این سی)، اسکول انتظامیہ کمیٹی(ایس ایم سی)؍تعلیمی کمیٹی، آبی اور ماحولیاتی رکھ رکھاؤ کمیٹی، منصوبہ اور ترقیاتی کمیٹی ، سماجی انصاف اسٹینڈنگ کمیٹی وغیرہ شامل ہیں۔پوشن پنچایتوں کو تمام سرگرمیوں کے مرکز کی شکل میں دیکھتے ہوئے وسیع تر پوشن ماہ 2022 کے لئے مہیلا اور سواستھیہ ، بچہ اور شکشا، صنفی حساسیت آبی نظم اور خواتین و بچوں کے لئے روایتی غذا جیسے موضوعات شامل تھے۔
’مہیلا اور سواستھیہ‘موضوع کے تحت ملک بھر میں اہم سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن میں انیمیا جانچ اور بیداری مہم (تقریباً 32لاکھ)، زچگی سے قبل جانچ کیمپ(تقریباً 11لاکھ)، ماہواری صفائی پر بیداری مہم (تقریباً 7لاکھ)، ہاتھ دھونےاور صاف صفائی (تقریباً 41لاکھ)وغیرہ پر سرگرمیاں شامل ہیں۔
دیگر اہم موضوع بچہ اورشکشا-پوشن بھی، پڑھائی بھی، جس میں 6 سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے معیاری پری اسکول تعلیم پر ماہ 2022 کے دوران توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا گیا۔اس موضوع کے تحت ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم پر مرکوز 81لاکھ کے قریب سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ علاوہ ازیں ابتدائی سیکھ کے لئے عام حساسیت پیدا کرنے کی غرض سے آنگن واڑی مراکز میں سودیشی اور مقامی طور سے دستیاب کھلونوں کے استعمال اور فروغ کو قومی سطح پر بڑھاوا دیا گیا۔
خواتین و اطفال ترقی کی مرکزی وزیر کی صدارت میں دہلی میں ابتدائی بچپن میں نشو و نما کے لئے سودیشی کھلونوں پر ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔آنگن واڑی کارکنان؍معاونین تک تمام آئی سی ڈی ایس عہدیداران کے فائدے کے لئے ورکشاپ؍ سیمینار کا براہ راست نشریہ یوٹیوب پر کیاگیا۔ماہرین کے ذریعے عمر کے حساب سے کھلونوں اور کھلونوں کی اہمیت پر پینل مباحثے کے علاوہ ورکشاپ میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنگن واڑی کارکنان کے ذریعے مقامی کھلونوں کی تعمیر کے ماسٹر آرٹسٹوں-افراد کے ذریعے سودیشی کھلونوں کی تعمیر کا لائیو مظاہرہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ موضوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے متعدد ریاستوں نے اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔ جیسے منی پورمیں اسٹیٹ ٹوائے تھن ؍کھلونا میلہ، گجرات کے اے ڈبلیو سی میں چھوٹے بچوں کے کھلونوں ؍کھیلو اور پڑھو میلہ منعقد کیا گیا۔ جھارکھنڈ میں اے ڈبلیو سی میں مقامی کھلونوں کی تعمیر سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد ہوا اور اُڈیشہ کے اے ڈبلیو سی میں بچوں اور ماؤں کے ذریعے کھلونوں کی تعمیر کا پروگرام منعقد ہوا۔
اس کے علاوہ پوشن پکھواڑا 2022 میں آنگن واڑی مراکز میں آبی رکھ رکھاؤ اور نظم پر صنفی حساسیت بیداری اور قبائلی علاقوں میں روایتی غذائی اشیاء پر مرکوز موضوعات کے تحت کامیاب سرگرمیوں کے بعد ان اہم موضوعات کے تحت سرگرمیاں پوشن ماہ 2022 میں بھی جاری رہی ہیں۔بارش کے پانی کے رکھ رکھاؤ کے لئے بنیادی ڈھانچے کے قیام کی غرض سے آنگن واڑی مراکز کی شناخت کے لئے ورکشاپ، سمپوزیم اور ڈرائیو کے توسط سے صنفی حساسیت آبی نظم اور رکھ رکھاؤ کے موضوع پر تقریباً 43لاکھ سرگرمیوں کا انجام دیا گیا۔
سوستھ بالک اسپردھا کو چار ریاستوں، اترپردیش ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور آسام میں پوشن ماہ کے دوران کامیابی کے ساتھ چلایاگیا۔ اس مقابلے کا اہم مقصد ’صحت مند بچہ‘کی شناخت کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور اس طرح بچوں اور خاندانوں میں اچھی صحت اور تغذیہ کی صورتحال کے لئے مقابلے کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ پروگرام کے دوران پانچ سال کے کم عمر کے بچوں کے لئے نشو و نما ناپ سے متعلق اہم سرگرمیوں کا انجام دیا گیا۔فاتحین کا اعزاز کرنے کے لئے فاتح بچے اور والدین کو سرٹیفکیٹ مہیا کرنے کے پس منظر میں تغذیہ کِٹ ؍صاف صفائی کِٹ، مقامی طور سے دستیاب سودیشی کھلونے، پانی کی بوتل وغیرہ جیسے انعامات ؍تحائف تمام چار ریاستوں میں تقسیم کئے گئے۔
5ویں راشٹریہ پوشن ماہ کا اختتام 30ستمبر سے 2؍اکتوبر 2022 تک کرتویہ پتھ نئی دہلی میں پوشن اُتسو کے ساتھ ہوا۔ پوشن اُتسو نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو درست تغذیہ کی اہمیت پر اہم پیغامات کی تشہیر کے لئے ایک پلیٹ فارم کی شکل میں کام کیا، خاص طور سے بچوں کے لئے۔ ملک میں عدم تغذیہ کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے چھوٹے بچوں اور خواتین کو عمر کے حساب سے بہترین صحت روایتوں کے بارے میں بیدار کرنا اس اُتسو کا بنیادی مقصد تھا۔ پوشن اُتسو میں پوشن سے متعلق پوشن پریڈ ، صحت مند –غذا اسٹالوں، صحت جانچ اسٹالوں وغیرہ پر ثقافتی پروگراموں کے ساتھ اور عزت مآب وزیر اعظم کے ساتھ اے آر فوٹو سیشن شامل تھے، جس نے بچوں اور دوسرے لوگوں کو بڑے پیمانے پر متوجہ کیا۔
اُتسوکے حصے کی شکل میں آیوش وزارت نے نمائش ؍فروخت کے لئے آیوش تغذیاتی روایتوں اور آیوروید مصنوعات ؍یوگا سے متعلق لیٹریچر کے ساتھ اسٹال نصب کئے۔مفت صحت جانچ کے لئے بوتھ بھی لگائے گئے، جس میں مہمانوں کی بی ایم آئی جانچ کے لئے مشینیں بھی شامل تھیں۔چونکہ آنگن واڑی مراکز میں بچوں کی ابتدائی سیکھ اور نشو و نما کے لئے سودیشی کھلونے ایک اہم سامان ہے، اس لئے ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً 9مقامی روایتی کھلونوں کے گروپ جیسے ایٹی کوپکّا(آندھر پردیش)، کونڈا پلّی(آندھر پردیش)، چترکوٹ(اترپردیش)، وارانسی (اتر پردیش)، کٹھ پتلی دستکاری(راجستھان)، میسور (کرناٹک)، منگلور(کرناٹک)، چنّا پٹنا(کرناٹک)، اندور(مدھیہ پردیش)وغیرہ کے گروپ شامل تھے۔
بڑے پیمانوں پر بچوں اور عوام کو متوجہ کرنے کے لئے وزیر اعظم کے ساتھ فوٹو کے لئے ایک اے آر فوٹو بوتھ قائم کیا گیا تھا۔تمام آنے والوں کے لئے ایک بڑی کشش کا مرکز تھا۔ اندازہ ہے کہ 3دنوں میں تقریباً 1.5 سے 2لاکھ افراد نے اس پوشن اُتسو میں حصہ لیا۔
8مارچ 2018 کو وزیر اعظم کے ذریعے شروع کیا گیا پوشن ابھیان بچوں ، نو عمر بچیوں ، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے تغذیہ سے متعلق نتائج میں بہتری لانے کے لئے حکومت ہند کا اہم پروگرام ہے۔عوامی تحریک کے توسط سے ابھیان کا مقصد پورے ہندوستان میں تغذیہ سے جڑے رویے میں تبدیلی لانا ہے، جس سے وزیر اعظم کے سوپوشت بھارت وژن میں تعاون ملتا ہے۔
15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے لئے آنگن واڑی خدمات (اے ڈبلیو ایس)اور نو عمر بچیوں کےلئے اسکیم(ایس اے جی)کے ساتھ پوشن ابھیان سے مربوط آنگن واڑی اور پوشن 2.0نامی ایک مربوط پوشن امدادی پروگرام کا حصہ ہے۔پوشن ابھیان کے تحت تغذیہ پر مرکوز جن آندولن پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑہ کی شکل میں سال میں دو بار منعقد ہوتا ہے، جو لوگوں کے درمیان خواہش کے مطابق رویے میں تبدیلی لانے کے لئے اہم اکائیوں میں سے ایک بنا ہو اہے۔
یو این آئی۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان1 day agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
