ہندوستان
حکومت نیٹ امتحان میں دھاندلی کی جامع تحقیقات کرے: کھڑگے-پرینکا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ میڈیکل کے داخلے کے امتحان کا پرچہ لیک ہوا ہے اور امتحان کے نتائج میں بڑی دھاندلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے لاتعداد بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا اس لیے اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے مسٹرکھڑگے نے کہا، ‘ پیپر لیک، دھاندلی اور بدعنوانی نیٹ سمیت کئی امتحانات کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ اس کی براہ راست ذمہ داری مودی حکومت کی ہے۔ امیدواروں کے لیے بھرتی کے امتحانات میں حصہ لینا، پھر کئی بے ضابطگیوں سے نمٹنا، پیپر لیک چکر میں پھنسنا، ان کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک کے نوجوانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے تاکہ نیٹ اور دیگر امتحانات میں شرکت کرنے والے ہمارے ہونہار طلبہ وطالبات کو انصاف مل سکے۔
محترمہ واڈرا نے کہا، “پہلے نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہوا اور اب طلباء نے الزام لگایا ہے کہ اس کے نتائج میں بھی گھپلہ ہوا ہے۔ ایک ہی سنٹر کے 6 طلبہ کے 720 میں سے 720 نمبر حاصل ہونے پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں اور کئی طرح کی بے ضابطگیاں سامنے آرہی ہیں۔ دوسری جانب نتائج سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں کئی بچوں کی خودکشی کی اطلاعات ہیں۔ یہ بہت افسوسناک اور حیران کن ہے۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت لاکھوں طلباء کی آوازوں کو کیوں نظر انداز کر رہی ہے؟ طلبہ وطالبات کونیٹ امتحان کے نتائج میں دھاندلی سے متعلق جائز سوالات کے جوابات درکار ہیں۔ “کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ تحقیقات کرائے اور ان جائز شکایات کو حل کرے؟”
کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے کہا، ’’میڈیکل انٹرنس امتحان نیٹ میں لاکھوں امیدواروں کے ساتھ گھپلہ مکمل طور پر ناقابل قبول اور ناقابل معافی ہے۔ یہ ملک کے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے جس کی فوری سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس سال کے شروع میں اس میں پیپر لیک ہونے کی خبر آئی تھی جسے دبا دیا گیا تھا۔ اب میڈیکل کے داخلے کے امتحان نیٹ کے کئی امیدواروں نے طلباء کے نمبر بڑھانے کا الزام لگایا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اس بار ریکارڈ 67 امیدواروں نے ٹاپ رینک حاصل کی اور ان میں سے چھ امیدوارتو ایک ہی امتحانی مرکز کے بتائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ طلباء کے ساتھ دھوکہ کیسے ہوا، کس نے کیا اورکیوں امتحانی نتائج کا اعلان جان بوجھ کر 4 جون کوانتخابی نتائج کے شور کے درمیان کیاگیا، جب کہ اس کا اعلان 14 جون کو ہوناتھا۔
انہوں نے کہا، “نیٹ کے نتائج پر بہت سے سوالات کھڑے ہورہے ہیں – سوال نمبر ایک، ایک ساتھ 67 ٹاپرز کو 720 سے 720 نمبر کیسے آئے؟ سوال نمبر 2 یہ ہے کہ ایک ہی سنٹر کے 6 بچوں کے 720 سے 720 نمبر کیسے آئے؟ سوال نمبر 3 یہ ہے کہ ہر سوال 4 نمبرکا، پھر 718 سے 719 نمبر کیسے آئے۔
انہوں نے کہا، “نیٹ کے سوالیہ پرچہ کے لیک ہونے کے بعد جاری کردہ نتیجہ میں 67 طلباء کو 720 میں سے 720 نمبر ملنا بڑے شکوک پیدا کرتا ہے۔ شور مچانے کے بعد قومی امتحانی ادارے نے وضاحت تو دی ہے تاہم اس وضاحت کو متاثرہ طلباء کی جانب سے انتہائی سطحی اور ناقابل اعتبار قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں طلباء کا اس امتحان کے تقدس پراعتماد بحال کرنا بہت ضروری ہے جو کہ منصفانہ اور شفاف تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے یومِ پیدائش پر انہیں گلہائے عقیدت نذر کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
محترمہ گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی دانشمندی، عاجزی اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی معاشی تبدیلی میں ان کا تعاون اور ملک کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا ایک دائمی حصہ ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں معاشی اصلاحات کا معمار قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے دانشمندی، ایمانداری اور عاجزی کے ساتھ ملک کی خدمت کی نیز ان کے پرسکون عزم اور مدبرانہ بصیرت نے چیلنجنگ اوقات میں ملک کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمہ گیر ترقی اور عوامی خدمت کے لیے ڈاکٹر سنگھ کا عزم لوگوں کو تحریک دیتا رہے گا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان- خلیجی کونسل تجارتی بات چیت آگے بڑھی، تجارت اور توانائی کے تعاون کو مضبوط کرنے پر زور
نئی دہلی، ہندوستان اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان وزرا کی سطح کی میٹنگ میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سکیورٹی اور عوامی رابطوں کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔
دونوں فریقوں نے ہندوستان-جی سی سی آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی بات چیت کو آگے بڑھانے اور 2024-28 کے مشترکہ عمل کے منصوبے پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی قیادت میں جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے حاشیے پر منعقدہ میٹنگ میں رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دونوں فریقوں نے بتایا کہ مالیاتی سال 2025-26 میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان کل تجارت 178.66 ارب ڈالر رہی۔
میٹنگ میں ہندوستان-جی سی سی مشترکہ عمل کا منصوبہ 2024-28 کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں تجارت اور سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، نقل و حمل، توانائی، صحت، ثقافت اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔
ہندوستان اور جی سی سی نے اس سال فروری میں آزادانہ تجارتی معاہدے کے لیے شرائط و ضوابط اور دائرہ کار طے ہونے کے بعد شروع ہونے والی بات چیت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ معاہدے سے تجارت بڑھانے اور برآمدات میں تنوع لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران توانائی اور کھاد کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ قابلِ تجدید توانائی، بایو فیول اور گرین ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
میٹنگ میں مغربی ایشیا کی صورت حال، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی، کثیر ملکی اداروں میں اصلاحات، استحکام اور دہشت گردی جیسے مسائل پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اگلی ہندوستان-جی سی سی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میٹنگ جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
