کھیل
خراب کارکردگی کے باوجود کئی کھلاڑیوں کی انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز دوروں کے لیے سلیکشن پر سوالیہ نشان!
کراچی —
پی ایس ایل سکس میں کئی کھلاڑیوں کی جانب سے خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا پانے کے باوجود انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لیے ان کے قومی ٹیم کے لیے منتخب ہونے پر ٹیم سلیکشن پر مبصرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ملتان سلطانز کی کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کا سورج غروب تو ہوگیا، لیکن جاتے جاتے کئی سوالات کو جنم دے گیا۔
پی ایس ایل سکس کے بعد قومی ٹیم کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا ہے، جہاں اچھی کارکردگی کے لئے جن کھلاڑیوں پر سلیکٹرز نے اعتماد کیا ہے، انہوں نے پی ایس ایل میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی ہی نہیں دکھائی۔
???#HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/66D54505le
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
جن کھلاڑیوں نے پی ایس ایل سکس میں اپنی کارکردگی سے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، ان میں سے کئی یا تو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ نہیں، یا پھر کسی ایسے فارمیٹ کا حصہ ہیں جس میں نہ تو ان کی ضرورت ہے، اور نہ ہی جس کا انہیں کوئی تجربہ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لئے قومی ٹیم کا اعلان بالکل درست وقت پر ہوا، دو ممالک کے درمیان سیریز میں ٹیم سلیکشن کے علاوہ بھی کئی معاملات دیکھنا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سیریز کی تیاری میں میزبان بورڈ کو قبل از وقت آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
ایونٹ کے فائنل میں پلئیر آف دی میچ قرار دئیے جانے والے صہیب مقصود بھی دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے اسکواڈ میں اس لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے، کیونکہ نوجوان بیٹسمین حیدر علی نے بائیو سیکیور ببل کی خلاف ورزی کی، اور ان کی معطلی کے بعد ایک بیٹسمین کی جگہ اسکواڈ میں بن گئی تھی۔
That's how you celebrate returning to the national side! ?? ?? @sohaibcricketer with an innings to remember!#HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/QXB8hHxKrw
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
پی سی بی کے مطابق صہیب مقصود کو اسکواڈ میں حیدر علی کی بجائے اس لئے آسانی سے جگہ مل گئی کیونکہ ان کے پاس انگلینڈ کا ویزا تھا، جو ان کے حق میں گیا۔
ٹیم میں کم بیک کرنے والے صہیب مقصود کون ہے اور کہاں غائب تھے؟
34 سالہ صہیب مقصود کا شمار پاکستان کے ان بیٹسمینوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے انٹرنیشنل کیرئیر کے دوران اپنی کارکردگی سے بہت سوں کو متاثر تو کیا لیکن جب ٹیم سے باہر ہوئے تو واپس نظر نہیں آئے۔
2013 سے 2016 کے درمیان 26 ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اس کھلاڑی نے 32 رنز فی اننگز کی اوسط سے 735 رنز اسکور کئے، جس میں 89 ناٹ آؤٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور، اور پانچ نصف سنچریاں شامل تھیں۔ 20 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی بیٹنگ اوسط تو کم رہی، لیکن 110 کا اسٹرائیک ریٹ ہی مخالف ٹیم کو ڈرانے کے لئے کافی تھا۔
A tournament to remember capped off with an iconic performance in the final.
New #HBLPSL6 champion @sohaibcricketer is the player of the final!#MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/xxbzdexuHB
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
ملتان سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی نے اپنے پہلے دونوں ون ڈے میچز میں نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔ لمبے چوڑے قد کاٹھ رکھنے والے اس بلے باز کا موازنہ انضمام الحق سے کیا جاتا تھا، لیکن مبصرین کے مطابق مستقل طور پر ایک نمبر پر بیٹنگ نہ کرانا اس کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بنی۔
پاکستان سپر لیگ میں نمبر تین پر بیٹنگ کرکے صہیب مقصود نے نہ صرف 428 رنز اسکور کئے بلکہ فائنل میں 35 گیندوں پر ناقابل شکست 65 رنز کی اننگز کھیل کر ملتان سلطانز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ پانچ سال بعد ٹیم میں ان کی واپسی حیدر علی کی بداحتیاطی کی وجہ سے ہوئی، ورنہ شاید آج بھی وہ کم بیک کی آس لگائے بیٹھے ہوتے!
کل تک پی ایس ایل ٹیم سے باہر، آج ٹیم آف پی ایس ایل سکس کا کپتان!
کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان گزشتہ سیزن میں کراچی کنگز سے جڑے ہوئے تھے، اور انہیں صرف دو میچز میں موقع دیا گیا تھا، لیکن اس بار نہ صرف فرانچائز بدلنا ان کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا، بلکہ انہیں پی ایس ایل سکس کی ٹیم کا وکٹ کیپر اور کپتان بھی مقرر کر دیا گیا تھا۔
قومی ٹیم میں ایونٹ کے ٹاپ پرفارمرز کو شامل کیا گیا ہے جن میں ملتان سلطانز ، اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے تین تین،پشاور زلمی کے دو اور کراچی کنگز کے ایک کھلاڑی کو شامل کیا گیا ہے۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے پشاور زلمی کے اوپنر حضرت اللہ زازئی کو کراچی کنگز کے بابر اعظم کے ساتھ اننگز کے آغاز کے لئے چنا گیا، تو اسلام آباد یونائیٹڈ کے کولن منرو اور ملتان سلطانز کے صہیب مقصود اور محمد رضوان کو مڈل آرڈر میں جگہ ملی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے جارح مزاج بلے باز آصف علی کو لوئر آرڈر میں رکھا گیا ہے جہاں وہ اننگز کے آخر میں اپنی تیز رفتار بیٹنگ سے مخالف ٹیم کو پریشان کرسکتے ہیں۔
Rizwan to captain Team of HBL PSL 6
Read more: https://t.co/YVBTlgeKBQ#HBLPSL6 | #MatchDikhao pic.twitter.com/X2Zhip4Ym1
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 25, 2021
باولنگ کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے ملتان سلطانز کے شاہنواز داہانی بھی موجود ہیں، پشاور زلمی کے وہاب ریاض، لاہور قلندرز کے راشد خان، جیمز فالکنر، اور شاہین شاہ آفریدی، اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے حسن علی ان کے ہمراہ بالنگ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
پی ایس ایل کا اسٹار فاسٹ بالر شاہنواز داہانی پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں کیوں نہیں؟
پاکستان کرکٹ ٹیم کو دورہ انگلینڈ میں تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل، اور تین ون ڈےانٹرنیشنل کھیلنا ہیں، جب کہ ویسٹ انڈیز میں انہیں پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور دو ٹیسٹ میچز کھیلنے کا موقع ملے گا۔ لیکن انگلینڈ میں پاکستان اسکواڈ کےساتھ اگر کوئی نہیں ہوگا، تو وہ ہیں شاہنواز داہانی، کیونکہ سلیکٹرز نے انہیں ٹیسٹ ٹیم میں منتخب کیا ہے۔
پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے اس بالر نے 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، سب سے چھوٹے فارمیٹ میں اپنی مہارت دکھائی، لیکن منتخب اسے ایک ایسے فارمیٹ میں کے لیے کیا گیا ہے جہاں پہلے ہی سے کئی امیدوار لائن میں ہیں۔
سینئیر اسپورٹس صحافی عبدالماجد بھٹی کا کہنا تھا کہ اگر شاہنواز داہانی کو ٹیسٹ کھلانا ہی تھا، تو انہیں زمبابوے کے خلاف موقع دے دیا جاتا، لیکن وہ کیوں ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل نہیں، یہ ایک معمہ ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کا یہ المیہ ہے کہ جس کی جس فارمیٹ میں جگہ بنتی ہے، اس میں اسے نہیں کھلایا جاتا۔
Rizwan to captain Team of HBL PSL 6
Read more: https://t.co/YVBTlgeKBQ#HBLPSL6 | #MatchDikhao pic.twitter.com/X2Zhip4Ym1
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 25, 2021
‘شاہنواز داہانی پرفارم کر رہا ہے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں، پی ایس ایل کی ایمرجنگ کیٹگری میں تھا جو کہ ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے، اور بیسٹ بالر بھی بنا بھی تو بیس اوورز والی کرکٹ میں، لیکن لے کر جارہے ہیں اسے ٹیسٹ فارمیٹ میں۔ قائد اعظم ٹرافی میں اسکی وکٹیں ہیں، اور اس نے وہاں اچھی بالنگ بھی کی، لیکن جس فارمیٹ میں پرفارم کررہا ہے اس میں منتخب نہیں ہورہا ہے۔’
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر شاہنواز داہانی کو زمبابوے لے گئے تھے تو وہاں موقع دینا چاہئے تھا کیونکہ زمبابوے ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں نسبتاً کمزور ٹیم تھی، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف کی موجودگی میں شاہنواز داہانی کو ٹیسٹ الیون میں موقع ملنا ، بقول ان کے مشکل لگتا ہے۔
کیا شاداب خان کو کرکٹ سے بریک لینا چاہئے؟
اچھے سے اچھا کھلاڑی بھی ہر میچ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتا، لیکن ہر کھلاڑی یہ جانتا ہے کہ ایک خراب کارکردگی انٹرنیشنل میچ کا نتیجہ بدلنے کے لئے کافی ہے۔
قومی ٹیم کے نائب کپتان اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان شاید یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ان کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ان سے بہتر لیگ اسپنر عثمان قادر کو کم مواقع مل رہے ہیں، اور آسٹریلوی بلے باز اسٹیو اسمتھ کے نقش قدم پر چلنا ان کے کیرئیر کے لئے نقصان دہ ہے۔
بقول ماجد بھٹی، شاداب خان کو وائٹ بال فارمیٹ میں نائب کپتان تو بنا دیا گیا ہے، لیکن ان سے بہتر کھلاڑی اسکواڈ میں موجود ہیں، جنہیں ان کی وجہ سے موقع نہیں ملتا۔
‘ہم بہت سارے لوگوں کو وقت سے پہلے اوپر لے جاتے ہیں اور پھر دھکا دے دیتے ہیں، شاداب خان کی نہ تو فٹنس ہے، نہ فارم ہے، نہ ہی پرفامنس۔ انہیں ماضی کی کارکردگی پر جنہوں نے منتخب کیا وہی ان کی ٹیم میں موجودگی کا جواب دے سکتے ہیں۔’
ان کا مزید کہنا تھا کہ زاہد محمود اور عثمان قادر کے ہوتے ہوئے شاداب خان کی قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی، بہتر تو یہی ہوگا کہ انہیں واپس ڈومیسٹک کرکٹ بھیجا جائے تاکہ وہ وہاں اپنی خامیاں دور کرنے کے بعد پاکستان کے لئے کم بیک کریں!
بلے بازوں کی ناکامی، قومی ٹیم کی سلیکشن پر سوالیہ نشان!
کیا سلیکٹرز کی جلد بازی قومی ٹیم کو اگلے ماہ شروع ہونے والے دورہ انگلینڈ اور اس کے بعد دورہ ویسٹ انڈیز میں مہنگی پڑے گی؟ کیا جیسے صہیب مقصود کو شاندار کارکردگی پر ٹیم میں واپس لائے، ویسے ناقص کارکردگی دکھانے والوں کو گھر نہیں بھیجا جانا چاہئے؟
سابق کپتان معین خان کے بیٹے اعظم خان ہوں، سابق کپتان محمد حفیظ ہوں یا قومی ٹیم کے جارح مزاج اوپنر فخر زمان، ان کی واجبی سی کارکردگی کسی بھی حال میں قومی ٹیم کے لائق نہیں۔
ویسے تو لاہور قلندرز کے محمد حفیظ نے 10 میچوں میں 271 اور فخر زمان نے 281 رنز بنائے، لیکن اہم میچز میں جب ان سے اچھی کارکردگی کی توقع تھی، تو ان میں سے کوئی بھی کام نہ آیا۔
دوسری جانب اعظم خان نے ایونٹ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے 10 میچز میں 174 رنز بنائے، جو نہ صرف کئی بلے بازوں سے کم تھے، بلکہ ان کے 134 کے اسٹرائیک ریٹ سے بہتر کئی اور کھلاڑیوں کے اسٹرائیک ریٹ تھے۔
ان کے برعکس ٹیم سے باہر رہنے والے صہیب مقصود نے 12 میچوں میں 428، شعیب ملک نے 13 میچوں میں 354 اور شان مسعود نے 7 میچز میں 209 رنز بناکر سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
He looked in silky touch tonight ??@shani_official #HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvIU pic.twitter.com/PYRsydbFX0
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 19, 2021
فی الحال صہیب مقصود نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لئے ٹیم میں جگہ بنائی ہے، لیکن امکان ہے کہ ورلڈ کپ کے اسکواڈ کے انتخاب سے قبل شعیب ملک اور شان مسعود کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔
اسٹار بالرز سے بہتر کارکردگی باہر بیٹھے بالرز نے دکھائی!
اور اگر بات باولرز کی جائے تو قومی ٹیم میں موجود بالرز سے بہتر کارکردگی انہوں نے دکھائی جو ٹیم میں ہیں ہی نہیں۔ قومی ٹیم میں شامل حارث رؤوف نے نو میچوں میں 10 وکٹیں تو حاصل کیں، لیکن 9.67 فی اوور کی اوسط سے پٹے، جو ایونٹ میں نو سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے بالرز کی فہرست میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے وہاب ریاض 8.97، محمد حسنین 8.89 اور شاداب خان 8.33 کے اکانومی ریٹ سے پٹنے والے بالرزکو بھی پیچھے چھوڑ دیا، اور رنز روکنے کے بجائے رنز دینے والے بالرز بن کر سامنے آئے۔
ویسے تو ملتان سلطانز کے شاہنواز داہانی 8.42 اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد وسیم 8.4 بھی مہنگے بالرز ثابت ہوئے، لیکن ایک نے ایونٹ میں 20، اور دوسرے نے 12 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
صرف 7 میچز میں 12 وکٹیں حاصل کرنے والے عمران خان کا اسٹرائیک ریٹ بھی اچھا تھا، اور اکانومی ریٹ بھی، لیکن وہ قومی ٹیم کا حصہ نہیں۔
What a catch by @iMRizwanPak!#HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/m18SXsamol
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
پاکستان ٹیم میں شامل دو اسپنرز عماد وسیم اور محمد نواز نے بھی پی ایس ایل سکس میں سخت مایوس کیا، کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے 11 میچز کھیل کر صرف سات وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد نواز نے نو میچز کھیلے اور صرف تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
کھیل
سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
آئیچی-ناگویا (جاپان)، ہندوستان کی سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ کی جوڑی نے جمعہ کو ایشیائی کھیلوں کے نشانہ بازی مقابلے میں 10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ مقابلے میں جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کا دوسرا تمغہ ہے۔
آج یہاں ہوئے مقابلے میں ہندوستانی جوڑی نے مجموعی طور پر 484.6 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ کمل جیت اور سروچی نے شروعات سے ہی اچھی برتری بنا لی تھی، لیکن جنوبی کوریا مسلسل ہندوستانی نشانہ بازوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ تاہم ہندوستانی جوڑی نے دباؤ میں کوئی غلطی نہیں کی اور جنوبی کوریا کو 6.6 پوائنٹس کے فرق سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔ جنوبی کوریا 478 اسکور کے ساتھ دوسرے جبکہ ایران 415.8 اسکور کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ کا خطاب جیت لیا
سری نگر، سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 کا خطاب جیت لیا۔ اس نے بارہمولہ کے جنرل بپن راوت اسٹیڈیم میں کھیلے گئے شاندار فائنل میں رمزی اسپورٹس سری نگر کو شکست دی۔
پہلے بلے بازی کرتے ہوئے سلطان واریئرز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، جس کے جواب میں رمزی اسپورٹس سری نگر کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح سلطان واریئرز نے شاندار کامیابی کے ساتھ خطاب اپنے نام کر لیا۔
سلطان واریئرز کے عاقب کھانڈے کو میچ جیتنے والی کارکردگی پر ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی عاصم بشیر کو پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی پر ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز دیا گیا۔
فوج کی سری نگر چنار کور کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعداد میں ٹیموں نے شرکت کی۔ مقابلے کے لیے 130 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے 79 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو کے علاوہ بارہمولہ میں تعینات ڈیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور مقامی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
منتظمین نے کہا کہ سی پی ایل 2026 نے پوری کشمیر وادی کے کرکٹ ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان ہندوستانی فوج اور مقامی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
دفاعی ترجمان نے کہا کہ سی پی ایل 2026 کا کامیاب انعقاد خطے کے کھیلوں کے کیلنڈر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی
اسلام آباد، پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم موجودہ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی نمائندگی کریں گے۔ انہیں ٹیم نے بطور گیسٹ کھلاڑی شامل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ طویل فارمیٹ میں اپنی فارم بہتر کرسکیں۔ اس کے بعد بورڈ نے انہیں او جی ڈی سی ایل کے ساتھ جوڑ دیا۔ بابر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے بعد سے 39 اننگز میں وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بناسکے ہیں، جبکہ 2023 کے آغاز سے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
ان کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ حالیہ انگلینڈ دورے میں پاکستان کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جبکہ لارڈز اور ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے تیز گیندبازوں نے شارٹ گیند کے خلاف بابر کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میں وہ چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کا اسکور 88 رنز رہا، جس سے پاکستان نے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار بیرون ملک ٹیسٹ جیتا۔
بابر نے آخری بار 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلا تھا، جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کی کپتانی کرتے ہوئے فائنل میں ناردرن کو شکست دے کر قائداعظم ٹرافی جیتی تھی۔ حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیزن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا سمیت کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ ماہر کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چھ، اے بی کیٹیگری کے ٹیسٹ اور ون ڈے ماہر کھلاڑیوں کے لیے چار، جبکہ بی سی کیٹیگری کے وائٹ بال ماہر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم دو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نو ٹیموں کی جدول میں آخری مقام پر ہے۔ وہ گزشتہ چار آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
