تازہ ترین
دسویں کے کامیاب طلبہ اور تعلیم
الطاف جمیل ندوی
کل یعنی ۲۶ فروری کو صبح ہی صبح یہ نوید مسرت سنائی دی کہ ہماری وادی کے دسویں جماعت کے طلبہ و طالبات کی کامیابی و ناکامی کا اعلان ہوچکا ہے تو اس لحاظ سے سوشل میڈیا پر مبارکبادیاں پیش کی گئی ہر جگہ یا تو مبارکباد لکھی گی یا انگریزی زبان میں congratulations یا best wishes جیسے الفاظ کا تبادلہ ہوتا رہا کسی نے اپنے بچوں کی کامیابی پر اظہار مسرت کیا تو کسی نے اپنے کسی عزیز کی کامیابی پر خوشی کا اظہار اچھی بات ہے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی چھوٹی یا بڑی کامیابی پر ان سے اظہار محبت کرنا ان معصوم بچوں کو حوصلہ دینے کے لئے اہم ہے ان کی کامیابی پر انہیں تہنیت دینا ایک طرح سے انہیں تحریک دینا ہے مزید کامیابی سمیٹنے کے لئےاکثر یہ سب ہوتا رہا ہے کہ جب بھی خاص کر دسویں یا بارہویں جماعت کے نتائج ظاہر کئے جاتے ہیں تو بچوں میں امید اور خوف کی کیفیت یکساں ہوتی ہے تب تک جب تک انہیں آئے نتائج معلوم نہیں ہوتے اپنے بارے میں اب جوں ہی انہیں معلوم ہوجاتا ہے یا تو کھلکھلا جاتے ہیں چہرے ان کے اپنی کامیابی کی نوید سن کر یا مرجھا جاتے ہیں ان کی پیاری اور حسین صورتیں پر امسال آئے نتائج اس لحاظ سے کچھ زیادہ اہم نہیں ہیں اہل تفھیم کی نظر میں کیونکہ پورے سال کبھی طلبہ نے ایک لفظ بھی اساتذہ سے نہیں پڑھا
پورے سال طلبہ نے تعلیم سے آشنائی تو کیا ملاقات تک بھی نہیں کی اور آخر پر انہیں کامیابی اور ناکامی کی نوید سنائی گئی جب کہ سوائے پرچہ دینے کے طلبہ نے کبھی اسکول کالج کو مسلسل ایک سال تک دیکھا بھی نہیں خیر یہ ایک ایسا نقصان ہے کہ جس کی بھرپائی کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ ایک سال بیکار ہوجانا یا تعلیمی کوششوں سے دور ہوجانا نقصان ہے پر جو ہوگیا سو ہوگیا اب اس پر آنسو بہانے سے کیا ہوگا اصل میں ہماری تعلیمی پالیسی ہی کچھ ایسی ہے کہ جہاں یہ ممکنات میں سے ہے کہ تعلیم کا کچو مر ہی کیوں نہ نکل جائے تو بھی ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ ایسا ہوا ہے مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ایران چین وغیرہ جیسے ممالک میں تعلیمی اداروں نے کوشش کی کہ بچوں کو دوران لاک ڈاؤن تعلیم سے محروم نہ ہونے دیا جائے اس کے لئے انہوں نے جہاں مختلف کام کئے وہیں انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھا اس کے لئے کسی خاص کلاس کی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ پہلی کلاس سے آخری کلاس تک کے بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش مسلسل کی گئی ہم اپنی وادی کی بات کریں تو ہم اس سلسلے میں انتہائی بدنصیب لوگ ہیں کہ اس تیز رفتار اور ترقی پذیر دور میں بھی ہمیں انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لئے لیپ ٹاپ موبائل میں سگنل آنے کے لئے اس قدر انتظار کرنا پڑتا ہے کہ بال سیاہ سے سفید تو ہوجاتے ہیں پر انٹرنیٹ سگنل کو نہیں آنا ہوتا ہے وہ آتا نہیں ہے نتیجہ پہلے ہمارے لمحے پھر دن پھر مہینے اسی انتظار میں بیت جاتے ہیں کہ کب سگنل آجائے اور میں پڑھنا شروع کر دوں پر اسے نہیں آنا تھا نہیں آیا اور بچے دیکھتے ہی رہ گئے
ہمارے ہاں بھی تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے زوم یا ویڈیوز کے ذریعے پڑھانے کی کوشش کی پر نیٹ کا سگنل نہ ہونے کے سبب یہ تعلیم سے زیادہ وقت کا زیاں ثابت ہوا کئی ایسے بچوں کو بھی دیکھا کہ جو آنسو بہا رہے تھے کہ اب کیا ہوگا ہماری پڑھائی کا بہرحال تعلیم کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے بچے کامیاب ہوگئے یہ ایک معجزہ یا کرامت ہی ہوسکتی ہے اب ایسا کیا کیا جائے کہ تعلیم کی یہ کمی پوری ہوسکے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم خود کو اس بات کے لئے آمادہ کرلیں کہ تعلیم کی اپنی اہمیت ہے اور ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم علم کے زیور سے آراستہ ہوجائین ایسا نہیں کہ صرف ڈگری حاصل کرنے کی دوڑ لگا کر ہم صاحب استعداد ہیں یہ سوچ و فکر انتہائی درجہ کی پستی کی علامت ہے کہ ڈگری حاصل کرکے کوئی کبھی کمال کرسکے ایسا نہیں ہوا ہے جو لوگ بھی علمی دنیا خواہ وہ دنیاوی علوم ہوں یا مذہبی علوم دونوں کے لئے ایک چیز لازم ہے کہ مسلسل اس تاک میں رہا جائے کہ علم سے مزید آشنائی کے ذرائع میسر ہوں اور ان سے فائدہ اٹھایا جاسکے مطالعہ کتب علم کی دنیا کا سب سے کارآمد وسیلہ ہے مطالعہ سے ہی آدمی کسی بھی بات کو سمجھ سکتا ہے جیسے کہ گر آپ پی ایچ ڈی کسی بھی شعبہ یا شخصیت پر کر رہے ہیں اس کے لئے لازم ہے کہ آپ اس شعبے یا شخصیت کا خاکہ بنانے کے لئے اس بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہوں اور معلومات سوائے مطالعہ کتب کے میسر ہونا ناممکن ہے آپ چاہیں کتاب نیٹ پر پڑھیں یا کتاب اصلی صورت میں پڑھیں دونوں صورتوں میں کتاب تو پڑھنی ہی پڑھنی ہے اس کے سوا کوئی صورت ہے ہی نہیں معلومات کی جو تعلیمی نقصان امسال کرؤنا وائرس کے چلتے ہوا ہے اس کا ازالہ کرنے کے لئے آپ سب پیارے بچوں کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے
تعلیم سے ہی ہے وجود اقوام عالم
تعلیم زندہ اقوام کی زندگی کے لئے ایسی ہی حیثیت رکھتی ہے جیسے کہ انسانی جسم کے لئے اس کا سانس لینا لازم ہے اس کی نگاہ کے لئے روشنی ایسے ہی تعلیم بھی لازم ہے میں اپنے ان پیارے اور ذہین و فطین بچوں سے مخاطب ہوں جو وادی کشمیر یا بیرون وادی کے مکین ہیں پہلی بات جو آپ کو سمجھنا لازمی ہے آپ کسی بھی مذہب کی مقدس کتاب کو لے لیجیے تعلیم کے لئے ہر مذہب ترغیب ہی دیتا ہے اسی طرح ہمارے دین اسلام میں تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت بھی اور فضائل بھی بیان کئے گئے ہیں آپ قرآن کریم احادیث سیرت طیبہ یا فقہ میں سے کوئی سی بھی کتاب اٹھائیں ہر جگہ تعلیم کے سلسلے میں ترغیب کے احکام و فضائل واضح بھی اور اشارے کنایہ میں بھی مل جائیں گئیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہو تعلیم کے سوا اہل ایمان کو چارہ ہی نہیں تعلیم کے سلسلہ میں ہمارے اسلاف نے کس قدر آلام و مصائب برداش کئے یہ معلومات ہم آسانی سے ان کی کتابوں سے حاصل کرسکتے ہیں یہ فرائض سے بھی ہے اور سنن واجبات آپ جہاں چاہیں اس کے احکام مل جائیں گئے آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں بنا تعلیم کے ہمارا ایمان مکمل ہونا محال اور دشوار ہے جہالت اور لاعلمی اسلام میں ایک نا پسندیدہ کام ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنا اہم ہے
والدین کی خوشی
آپ کے والدین اپنا وجود کھو دیتے ہیں رات دن محنت و مشقت بھوک پیاس برداشت کر لیتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے بچے کامیاب ہوکر ہمارے مصائب کا مداوا کریں گئے کیا آپ نے کبھی یہ تصور کیا ہے کہ آپ کے والد جو صبح سویرے ہی گھر سے نکل جاتا ہے اور دن پر بھر کام میں مصروف رہ کر تھکاوٹ سے چور ہوکر شام کو گھر پہنچ جاتا ہے وہ آپ کو خوشیاں میسر رکھنے کے لئے اپنا آرام اپنا درد اپنی کمزوری اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتا ہے کبھی آپ نے سوچا ہے کہ گر آپ اس کی امیدوں کو پورا نہیں کرتے یا اس کے لئے کوشش بھی نہیں کرتے تو یقین کریں آپ کا والد ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے پر آپ کو احساس تک نہیں ہونے دیتا پر یہاں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ فضول قسم کے مشورے دے کر بچے کو پریشان نہ کریں اپنی تمنائیں سوچ کر ان کی تکمیل کے لئے اپنے بچوں کو مختلف کورسسز کرنے کے لئے دباؤ نہ ڈالیں اس صورت میں بچہ پڑھنے کے بجائے الٹا پریشان ہوکر اپنی پسند سے بھی دور ہوجاتا ہے نتیجہ نہ ہی ادھر رہتا ہے نہ ادھر مثال کے طور پر بچے کی خواہش ہے اور اسکی پسند بھی کہ یہ انجینئر بن جائے اس کے لئے بچہ ہر طرح کی کوشش از خود کر رہا ہے پر اچانک والدین کہہ دیں کہ نہیں بیٹا آپ کو ڈاکٹر کسی صورت بھی بننا ہے تو یقین کریں بچہ کچھ بھی نہیں بنے گا الٹا یہ تعلیم سے بیزار ہوجائے گا بہتر ہے جن مضامین میں اس کی کارکردگی اچھی ہے اسے حق دیں ان کا ہی انتخاب کرنے کا
پیارے بچو
یہ جو ٘اپ اقوام عالم میں سے کچھ ممالک کو کامیاب یا کامیاب ممالک کہتے ہیں یا دیکھتے ہیں اس کے پیچھے بھی ان نوجوانوں کی محنت اور ہمت ہی پوشیدہ ہے جو تعلیم سے آراستہ ہیں ورنہ جاہل و مجہولوں کی افواج کتنی بھی زیادہ ہوں وہ کسی ملک اور قوم کی کامیابی اور فلاح کے ضامن ہو ہی نہیں سکتے آپ بڑے سے بڑے یا چھوٹے سائنس دانوں کو دیکھیں یا ڈاکٹر انجینئر دیکھیں ہر جگہ کامیابی کا واحد ذریعہ ہے تعلیم تو کیوں ہم اس جانب توجہ نہ دیں اور اپنی ملت و قوم کو ملک کا نام روشن کرنے کے لئے خود کو کیوں نہ زیور تعلیم مزین کریں اس میں صرف ہم دوسروں کے لئے ہی نہیں بلکہ خود اپنے لئے بھی کامیابیاں اور عزت نفس کے حصول کی راہ پاتے ہیں
دنیا
حوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے باب المندب آبنائے میں ایک مال بردار جہاز پر دو مرحلوں میں حملہ کرکے کم از کم 6 افراد کو ہلاک اور 10 کو زخمی کردیا۔
مصر کی ملکیت والے بحری جہاز تہامہ پر منگل کو ہونے والا یہ حملہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد حوثیوں سے منسوب بحری جہازوں پر ایسا پہلا حملہ ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یمن کی وزارتِ نقل و حمل کے مطابق حوثیوں نے تجارتی جہاز پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے ’’شدید نقصان‘‘ پہنچا۔
وزارت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
یمن کی کوسٹ گارڈ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ امدادی اہلکار جب ہلاک اور زخمی افراد کو جہاز سے نکال رہے تھے تو حوثیوں نے ایک اور میزائل داغ دیا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق، ’’حملہ امدادی کارروائی کے مقام پر ہوا، جس کے نتیجے میں امدادی کارروائی میں حصہ لینے والی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘‘
دوسرے حملے میں کم از کم دو فوجی ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 10 افراد زخمی ہوئے، جن میں جہاز کے سات عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔
یمن کی وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف محض مذمت تک محدود نہ رہے بلکہ ’’مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی‘‘ کرے۔
حوثیوں کی جانب سے اس حملے پر فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا۔تاہم حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے صبا نے رپورٹ کیا کہ گروپ نے باب المندب میں فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک سعودی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں جہاز کا نام نہیں بتایا گیا اور سعودی عرب کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایک الگ واقعے میں امریکی فوج نے منگل کو کہا کہ اس نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز پر فائرنگ کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم والے مال بردار جہاز ویلا نووا پر دو ہیل فائر میزائل داغے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ عملے کا کوئی رکن زخمی ہوا یا نہیں۔
یمن میں تازہ کشیدگی حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان کئی سال سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ 2022 کی جنگ بندی اس وقت ختم ہوئی جب 13 جولائی کو سعودی عرب نے صنعا ہوائی اڈے کے رن وے پر فضائی حملہ کیا، جس کے باعث ایک ایرانی پرواز کو اترنے سے روک دیا گیا۔ اس پرواز میں حوثیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سوار تھا۔اس کے بعد حوثیوں نے جنوب مغربی سعودی عرب میں ابہا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا اور بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔
حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور مملکت کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس سے عالمی معیشت میں مزید خلل پیدا ہوا۔
جواباً سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ اور بحیرۂ احمر کے سب سے بڑے جزیرے کمران کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں نے یمن میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر بھی حملے کیے، جن میں بحیرۂ احمر کا ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب شامل ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں فوجی اور شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے منگل کو کہا کہ حوثیوں نے ملک کے مغربی ساحل پر مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے مزید حملوں کے دوران 10 میزائل اور چار ڈرون داغے۔
دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے المخا اور وسطی صوبہ مارب میں سعودی فوجی اجتماع، ہتھیاروں کے ذخائر اور کمانڈ پوسٹوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی یمن کو ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹ سکتی ہے، جس کے یمنی عوام کے لیے ’’تباہ کن نتائج‘‘ ہوں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر20 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان22 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا24 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
