تازہ ترین
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات میں روز بروز اضافہ
اسپین اور اٹلی میں مجموعی طور پر مزید ایک ہزار سے زائد ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 14ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
چین سے پھیلنے والے اس وائرس سے دنیا بھر میں خصوصاً یورپ میں تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اٹلی اور اسپین میں سمیت دنیا بھر میں اموات میں اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 14ہزار 366 ہو گئی ہے۔
اٹلی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک سب سے زیادہ اموات اٹلی میں ہوئی ہیں اور اتوار کو مزید 651 افراد کی ہلاکت کے بعد یورپ کے مشہور سیاحتی ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار 476 ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اٹلی میں ہفتے کو بھی 793 افراد کورونا وائرس کے سبب لقمہ اجل بن گئے تھے۔
اٹلی میں مزید ساڑھے پانچ ہزار افراد وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جس سے ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 59 ہزار 138 ہو چکی ہے جبکہ وائرس سے 7 ہزار افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔
امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے 14ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3 لاکھ 4 ہزار 500 افراد وائرس سے اب تک متاثر ہوئے۔
یونیورسٹی نے دعویٰ کیا کہ اب تک دنیا بھر میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 92 ہزار سے زائد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت چین کے عوام کی ہے۔
اسپین میں ایک دن میں 400 اموات
اسپین میں بھی اموات کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور اتوار کو ایک دن میں 400 سے زائد افراد کی موت کے نتیجے میں اسپین میں بھی اب تک 1700 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
جرمنی نے بھی سخت ترین اقدامات اٹھاتے ہوئے ملک میں ایک جگہ دو افراد سے زائد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔
کورونا کے سبب کولمبیا کی جیل میں جھگڑا
کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا میں کورونا وائرس کے باعث جیل میں جھگڑے کے نتیجے میں کم از کم 23 قیدی ہلاک اور 83 زخمی ہو گئے۔
قیدی کورونا وائرس کے تیزی کے پھیلاؤ کے پیش نظر جیل میں صفائی کی ناقص صورتحال پر احتجاج کر رہے تھے۔
جھگڑے میں 7 محافظ بھی زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔
کولمبیا میں اب تک 231 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور ملک میں منگل کی رات سے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے۔
بھارت میں 14گھنٹے کیلئے لاک ڈاؤن
بھارت میں وزیر اعظم کی اپیل پر 22 مارچ کو ملک بھر میں کورونا وائرس سے احتیاط کے پیش نظر جنتا کرفیو کے باعث عوام گھروں تک ہی محدود رہے جب کہ تمام کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی بند رکھی گئی۔
بھارتی حکومت نے قانونی طور پر کرفیو کا اعلان نہیں کیا تھا تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں عوام سے محض 14 گھنٹے کے لیے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی تھی۔
ان 14 گھنٹوں کے دوران ملک کے تقریباً ایک ارب افراد گھروں تک محدود رہے اور ملک بھر کی سڑکیں اور گلیاں مکمل طور پر سنسان رہیں۔
بھارت میں اب تک 334 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں 4 افراد موت کے منہ میں بھی جا چکے ہیں۔
کینیڈا میں 450فیصد زائد اموات
دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی اب صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور اتوار کو کینیڈا میں ہلاکتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔
کینیڈین حکومت کے مطابق ہفتے تک 13 افراد وائرس کے سبب ہلاک ہوئے تھے۔
کینیڈا میں متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک ایک ہزار 302 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔
اپریل، مارچ سے اور مئی، اپریل سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، رپورٹ
امریکا میں اب تک 25 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اب تک 340 افراد وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
ملک میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے ایک تہائی نیویارک میں رپورٹ ہوئے اور نیویارک کے میئر دی بلاسیو نے وائرس سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔
انہوں نے وائرس کو سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپریل کا مہینہ مارچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گا اور مجھے خطرہ ہے کہ مئی کا مہینہ اپریل سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔
معاشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ کورونا وائرس سے امریکا میں ایک کروڑ افراد وائرس کے سبب اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
افغانستان میں کورونا وائرس سے پہلی موت
ادھر افغانستان میں وائس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
صوبہ بلخ کی وزارت صحت کے ترجمان ونیداللہ مایر نے کہا کہ 40 سالہ شخص کی وائرس کے سبب موت ہو گئی۔
افغانستان میں اب تک 34 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور خدشہ ہے کہ جنگ زدہ ملک میں ناقص نظام صحت کے سبب کیسز بڑھنے کی صورت میں صورتحال ابتر شکل اختیار کر سکتی ہے۔
25 مارچ تک امارات کی پروازیں مسافروں کیلئے بند
ادھر دنیا کی بڑی ایئرلائنز نے وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر 25 مارچ تک اپنی تمام فلائٹس عبوری طور پر منسوخ کردی ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ جب تک ممالک اپنی سرحدیں نہیں کھولتے اور سفر کے حوالے سے اعتماد بحال نہیں ہوتا، اس وقت تک موجودہ صورتحال میں ہمارے لیے مسافروں کے لیے آپریشنز بحال رکھنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب سنگاپور میں مزید 23 کیسز رپورٹ ہونے سے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 455 ہو گئی ہے۔
ادھر کینیا میں پولیس اور تاجروں کے درمیان سنگین جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے جہاں حکومت کی جانب سے اعلانات کے باوجود تاجروں نے دکانیں اور کاروباری مراکز بند رکھنے سے انکار کردیا تھا۔
کسومو کاونٹی میں گورنر انیانگ نیونگ نے تاجروں کو اپنے تمام کاروباری مراکز بند رکھنے کا حکم دیا تھا جس پر تاجروں نے حکومتی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے گورنر کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
عراق میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان
ایران میں تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے بعد عراق نے بھی ملک میں 28مارچ تک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔
عراق کے 18 صوبوں نے اپنے تئیں کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن اب ملک بھر میں 28 مارچ تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کہا گیا کہ اسکول، یونیورسٹیز اور عوامی مقامات پر پابندی کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل فلائٹس بھی بند رہیں گی۔
فلسطینی عوام کو 14دن قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت
فلسطینی حکومت نے بھی اپنے عوام کو 14دن کے لیے قرنطینہ میں رہنے کا حکم دیا ہے۔
فلسطینی وزیراعظم محمد شطائے نے ٹی وی پر خطاب میں عوام سے گھروں میں رہنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خورونوش، ادویات سمیت اہم چیزوں کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
فرانس کی برطانیہ کو دھمکی
ادھر فرانس کے صدر ایمینوئیل میکرون نے دھمکی دی ہے کہ اگر برطانوی وزیر اعظم نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو وہ جمعہ سے فرانس۔برطانیہ سرحد کو بند کردیں گے۔
فرانس کے صدر نے ایک انٹرویو میں موجودہ بحرانی صورتحال پر برطانوی حکومت اور وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
فرانس میں برطانیہ سے قبل کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک 14ہزار سے زائد افراد متاثر اور 562 ہلاک ہو چکے ہیں۔
لیکن برطانیہ میں وائرس تیزی سے پھیلنے کے باوجود حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن سمیت اس طرح کے کسی بھی قسم کے اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا حالانکہ اب تک 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہونے کے ساتھ ساتھ 233 اموات کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔
آسٹریلیا کا بھی لاک ڈاؤن کا اعلان
ادھر آسٹریلیا نے ملک میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر پورے ملک میں شٹ ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔
وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے اعلان کیا کہ پیر سے عوام کے عوامی مقامات، جم سمیت کسی بھی غیر ضروری کام پر جانے پر پابندی ہو گی۔
آسٹریلیا میں ابتدا میں وائرس تیزی سے نہیں پھیلا تھا لیکن اب یہ تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا ہے جس کے سبب ملک میں اب تک تقریباً ایک ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 7 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
ایران میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 685 ہو گئی
ایران میں اتوار کو مزید 129 ہلاکتوں کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 685 ہو چکی ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور نے کہا کہ 24 گھنٹے کے دوران مزید ایک ہزار 28 افراد کے وائرس کی زد میں آنے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اب تک 7 ہزار 913 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
ملائیشیا میں مزید 123 افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 306 ہو چکی ہے جبکہ اب تک ملک میں 10 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
انڈونیشیا میں بھی مزید 10 افراد وائرس کے سبب ہلاک ہو چکے ہیں جس سے اب تک 48 افراد مر چکے ہیں جبکہ 64 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 514 ہوگئی ہے۔
دنیا
کولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
میکسیکو سٹی، کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے 10 اگست کو آئے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئینی طور پر معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کاراکول ٹیلی ویژن چینل پر نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا، ’’میں نے اس بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے معاشی ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ہمارے آئین میں فراہم کردہ ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زلزلے سے 53,526 مکانات کو نقصان پہنچا، 140 عمارتیں منہدم ہوگئیں، جبکہ 1,819 تعلیمی ادارے، 631 کمیونٹی مراکز اور 179 طبی مراکز بھی متاثر ہوئے۔ ایک پیدل پل تباہ ہوگیا، جبکہ 20 شاہراہوں کے پل، سڑکوں کے 203 حصے، پانی کی فراہمی کے 44 نظام اور 5 ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، قدرتی آفات کے خطرات کے انتظام کی قومی اکائی کے سربراہ ڈیوڈ تامایو نے کہا کہ کولمبیا کو شدید زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے خصوصی تلاش اور بچاؤ ٹیمیں موصول ہوں گی۔
میریدیانو ریجنل کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق تامایو نے کہا، ’’ہم امریکہ، ایل سلواڈور، ایکواڈور اور اسرائیل کی تلاش اور بچاؤ ٹیموں سے مدد کے لیے تعاون، درخواستوں اور اپیلوں کو باضابطہ شکل دینے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس سے کولمبیا کے ان امدادی کارکنوں کی مدد اور جزوی طور پر متبادل انتظام ممکن ہوگا، جو کئی دنوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
اس وقت کولمبیا بھر میں تلاش اور بچاؤ کی 23 منظور شدہ ٹیمیں تعینات ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ٹیمیں چوکو اور وائے کا ڈیل کاؤکا کے علاقوں کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ دیگر مقامات پر کام کر رہی ہیں۔
10 اگست کی صبح کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس کا مرکز چوکو محکمہ میں تھا۔ زلزلے کے جھٹکے کولمبیا کے بیشتر علاقوں اور پڑوسی ممالک میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے بتایا کہ زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 265 ہوگئی ہے، جبکہ 3,494 افراد زخمی اور 496 لاپتہ ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایرانی پاسداران کے اعلیٰ کمانڈر نے عراق کا دورہ کرکے مسلح گروہوں کی تخفیفِ اسلحہ کے منصوبے پر بات چیت کی: ذرائع
عراق کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل شیعہ اتحاد کوآرڈی نیشن فریم ورک کے ایک عراقی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی القدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں بغداد کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے بتایا کہ قاآنی نے پیر کے روز عراقی سیاسی و سکیورٹی رہنماؤں اور شیعہ نیم فوجی گروہوں کے کمانڈروں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں کیں، جن میں عراقی حکومت کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے کے مطابق، “تہران نے قاآنی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اس وقت گروہوں سے ہتھیار واپس نہ لیے جائیں۔” ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کا اندازہ ہے کہ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی پیغام میں حکومت اور ان مسلح گروہوں کے درمیان تصادم سے بچنے کے لیے سیاسی سمجھوتہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا جو اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق عراقی سیاسی جماعتیں حکومتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالف ہیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی بحران کا سامنا ہے، جبکہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کے لیے 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کی حکومت 2024 میں امریکی قیادت والے اتحاد کے فوجی مشن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت ستمبر کے آخر تک اس مشن کی جنگی فوجی موجودگی ختم ہونا ہے۔
عراقی حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری قائم کرنے، ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور تہران کے ساتھ بغداد کے تعلقات کے معاملات گزشتہ ماہ وزیراعظم الزیدی کے دورۂ امریکہ کے دوران بھی زیر بحث آئے تھے۔ مئی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے چند روز بعد الزیدی تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی مذاکرات کیے۔
منگل کو الزیدی نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی اور دفاعی کمیٹی کو آئینی تقاضوں کے مطابق ہتھیاروں کو ریاست تک محدود کرنے کے لیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ہتھیار ریاست کے لیے سب سے خطرناک خطرہ ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی اور سکیورٹی اداروں کے اختیار کو کمزور کرتے ہیں۔
تاہم متعدد مسلح گروہوں نے ریاستی سکیورٹی فورسز میں ضم ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن بعض طاقتور شیعہ نیم فوجی گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ اور حرکت النجباء شامل ہیں، کی جانب سے مزاحمت حکومت کی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن کولیشن کے اجلاس میں، جس میں اہم شیعہ جماعتوں کے علاوہ بعض سنی اور کرد سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول تک محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اتحاد نے ان اداروں کو، جو سرکاری اداروں سے باہر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، “غیر قانونی عناصر جن کے خلاف کارروائی ضروری ہے” قرار دیا۔
اتحاد نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی بھی مسلح سرگرمی کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے اطلاق کا بھی عندیہ دیا۔
دوسری جانب دیگر شیعہ رہنما کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکمت تحریک کے سربراہ عمار الحکیم کشیدگی کم کرنے اور مسلح گروہوں کو ڈیڈ لائن کے باقی ماندہ ایک ماہ کے دوران ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے پر آمادہ کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔
عراقی سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل نے کہا کہ عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے اپنے ہتھیار برقرار رکھنا معاملے کو ایک وسیع تر سکیورٹی بحران میں تبدیل کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ گروہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے عراقی سرزمین اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے رہے تو ان ممالک کو براہ راست جواب دینے یا خطرات کے ذرائع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کے مطابق خلیج اور اہم بحری راستوں کی سلامتی کے لیے بننے والے نئے علاقائی سکیورٹی اتحاد بھی ان مسلح گروہوں کو محض عراقی سیاسی جماعتوں کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کے ایک اہم فریق کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ان کے بقول، بحران سے نکلنے کا سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کے اصول کو مضبوطی سے نافذ کیا جائے اور جنگ و امن کا فیصلہ صرف عراقی آئینی اداروں تک محدود ہو، کیونکہ جو ریاست طاقت کے استعمال کا مکمل اختیار اپنے پاس نہیں رکھتی، وہ اپنی قومی سلامتی کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتی۔
گزشتہ ہفتے بغداد میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی اور امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکیوں کے پس منظر میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ ان حملوں میں گزشتہ ماہ کے آخر میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے 28 جولائی کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان “ایران نواز دہشت گردوں” کے خلاف مشترکہ حملے کیے جوآئی آر جی سی کی ہدایت پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں “ایران نواز دہشت گرد ملیشیاؤں” پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف ڈرون حملے کرکے “غیر ذمہ دارانہ طور پر کشیدگی بڑھانے” کا راستہ اختیار کیا۔
تاہم عراقی حکومت اور سیاسی گروہوں کی کوششوں سے کشیدگی پر قابو پانے میں کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
