تازہ ترین
دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے:بھارتی ایلچی
خبراردو: بھارت کے خصوصی ایلچی برائے امریکہ ہرش وردھن شرنگلا نے ہندپاک مملکتوں کے درمیان کسی بھی مذاکراتی عمل کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت بند نہیں کرتاتب تک کوئی بھی بات چیت ممکن نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیائی خطے میں دونوں ممالک کے درمیان مسحکم رشتوں کو یقینی بنانے اور امن کی بحالی کے لیے پاکستان کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
بھارت کے خصوصی ایلچی برائے امریکہ ہرش وردھن شرنگلا نے پاکستان کےساتھ کسی بھی مذاکرتی عمل کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کےساتھ رشتوں کی بحالی کےلئے پاکستان کو سب سے پہلے اپنی سرزمین سے دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت بند کرنی ہوگی تب ہی آگے کا لائحہ عمل طے کیا جاسکتا ہے۔ بھارتی ایلچی کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین سے بھارت مخالف سرگرمیوں کو بند نہیں کرتا تب تک کوئی بھی بات چیت خارج از امکان ہے۔”بھارت پاکستان کےساتھ کوئی بھی مذاکرات نہیں کرےگا جب تک پاکستان دہشت گردوں کی حمایت سے متعلق اپنی قومی پالیسی کو ترک نہیں کرے گا“۔
ہرش وردھن شرنگلا نے ان باتوں کا اظہار ملک میں بھاجپا کی دوبارہ ناقابل جیت کے بعدامریکہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔خیال رہے وادی کشمیر کے پلوامہ علاقے میں 14فروری 2019کو ہوئے خود کش حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں کافی گراوٹ دیکھنے میں آرہی ہے جبکہ اس دوران سرحدی علاقوں میں بھی آر پار کی افواج نے بے تحاشا ایک دوسری پر بندوقوں کے دہانے کھول کر آگ پر مزید جلتی کا کام کیا۔شرنگلا کے بقول بھارت کے ساتھ دوستی کے رشتے کو دوبارہ بحال کرنے کےلئے پاکستان کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
”جنوبی ایشیائی خطے کے دو ممالک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان رشتوں میں استحکام پیدا کرنے اور امن کی فضا کو بحال کرنے کےلئے پاکستان کو آگے آکر اپنادہشت گردی کےخلاف اپنا رول ادا کرنا ہوگا“۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے بھارت مخالف سرگرمیوں کو جاری و ساری رکھنے کو اپنی قومی پالیسی بنائی ہے جس کے نتیجے میں بھارت کو اس سب کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے۔ بھارتی حکومت کبھی بھی اس طرح کی جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتی اور نہ ہی ملکی عوام حکومت کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کےلئے منڈیت فراہم کرسکتی ہے۔بھارت پاکستان مستقبل سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بھارتی ایلچی کا کہنا تھا کہ ہمیںمحسوس کرتے ہیں جونہی پاکستان اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی خاطر دہشت گردی کو ترک کرے گا تو بھارت بھی کئی قدم آگے بڑھ کر بہتر رشتوں کی بحالی کےلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائےگا۔
”میں سمجھتا ہوں کہ ہر بھارتی پاکستان کےساتھ دوستانہ رشتوں کے قیام کا خواہش مند ہے۔ آپ بنگلہ دیش ، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، مال دیوس اور افغانستان جیسے ممالک کے ساتھ ہمارے رشتوں کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ہمارے ایک دوسرے کےساتھ عمدہ رشتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نریندر مودی کا نعرہ ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس“ ہے ،ان کی پالیسی ہر ایک کی ترقی ہے جن میں ہمارے پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں۔ شرنگلا کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک پڑوسی ممالک میں27بلین امریکی ڈالرکے تناظر میں ترقی کو یقینی بنانے کےلئے وعدہ بند ہے اورپاکستان کو اس کا حصہ بننے کے لئے خیر مقدم کیا جائےگا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف دہشت گردانہ کارروائیوں کا ساتھ دیا جائے اور دوسری طرف امن کی بحالی کا راگ الاپا جائے۔
ہم اس دوہری پالیسی کو مزید برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔پلوامہ حملے کی مابعد صورتحال سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی ایلچی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی خاطر ملکی عوام ایک ہی صفحے پر تھے۔شرنگلا کے بقول دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو دوبارہ بحال کرنے کےلئے پاکستان پر ہی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے اوردوسری سمت سے کسی بھی مثبت کارروائی تک ہم صرف انتظار کرسکتے ہیں۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
