تازہ ترین
رشتہ داروں کا جنگجو ہونا اساتذہ کو پڑرہا ہے مہنگ،ا سیکورٹی ایجنسیوں کی تازہ چھان بین، 650اساتذہ شکنجے میں
خبراردو:
معروف سیاسی و مذہبی پارٹی جماعت اسلامی پر مرکزی حکومت کی جانب سے گزشتہ مہینے پابندی عائد کرنے اور بعد میں وابستگان جماعت کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں امن عامہ کو بحال کرنے میں کسی بھی دقیقے سے فروگزاشت کرنے کی متحمل دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جہاں سرکاری محکمہ جات میں کام کررہے تحریک نواز ملازمین کی لسٹ تیار کرتے ہوئے ان پر بھی شکنجہ کسنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہے تاہم ادھرریاست میں کام کررہے اساتذہ صاحبان بھی سیکورٹی راڈار پر رکھے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے 1990کے کیس کو دوبارہ کھولتے ہوئے نئے سرے اُن افراد کی فہرست مرتب کی ہے جن کا بلاواسطہ جنگجوئیت کے ساتھ کوئی واسطہ رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے وادی میں کام کررہے 650اساتذہ صاحب کو سیکورٹی راڈار پر دوبارہ لاتے ہوئے اُن کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ خفیہ ذرائع نے بتایا کہ جن اساتذہ کا 90کی دہائی میں کسی بھی طور پر جنگجوئیت کے ساتھ تعلق رہا ہے سیکورٹی ایجنسیوں نے اُن کے خلاف دوبارہ مقدمات کھولنے کا فیصلہ لیتے ہوئے ایسے 650سے زائد اساتذہ کو فہرست میں لاتے ہوئے اُن پر کڑی نگاہ کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے اساتذہ کا ماضی قریب میں کوئی گھریلو فرد یا بذات خود ایسے افراد کا افراتفری یا گڑ بڑ پھیلانے میں ہاتھ رہا ہے جس کے بعد ہی پولیس نے ایسے افراد کے خلاف دوبارہ شکنجہ کس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ خفیہ ذرائع نے مزید بتایا کہ ریاست میں 11اپریل سے لوک سبھا انتخابات منعقد ہونے جارہے جبکہ مختلف سطحوں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اسمبلی انتخابات کو بھی ساتھ ساتھ منعقد کرانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے تاہم ریاست جموں وکشمیر کے کونے کونے میں انتخابات کو پرامن اور افرا تفری سے پاک ماحول میں منعقد کرانے کے لیے امن دشمن عناصر پر لگام کسنا ناگزیر بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے پیش نظر ہی گزشتہ مہینے مذہبی و سیاسی پارٹی جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی جبکہ اس کے بعد وابستگان جماعت کا وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن بھی شروع کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیاں انتخابات کو پرامن طور پر منعقد کرانے کے لیے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی جس کے پیش نظر اُن تمام افراد پرلگام کسی جائیگی جو امن عامہ کے لیے خطرہ پید اکرسکتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ انتظامیہ آنے والے دنوں میں سرکاری محکمہ جات میں کام کررہے تحریک نواز عناصر پربھی شکنجہ کسے گی جس دوران ایسے ملازمین کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں اپنی نوکریوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔ ادھر تازہ رپورٹ کے مطابق ریاستی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر 90میں متحرک جنگجوؤں کے اُن رشتہ داروں جو فی الوقت سرکاری استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، کو سیکورٹی راڈار پر لاتے ہوئے اُن پر کڑی نگاہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اُن تمام اساتذہ صاحب جو بذات خود کسی تخریبی کام سرگرمی میں ملوث تو نہیں ہے تاہم اُن کے خاوند (خاتون ہونے کی صورت میں) کو کسی کیس میں ملوث پاکر گرفتارکرلیا گیا ہو۔ رپورٹ میں اساتذہ کے چچا یا دیگر رشتہ داروں کا جنگجوئیت کی جانب رجحان کا بھی سخت نوٹس لیا گیا ہے۔ اگر کسی استاد کا کوئی رشتہ دار پاکستان سے اسلحہ کی تربیت کرکے واپس آیا ہو تو ایسے استاد کو بھی فہرست میں درج کیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ 654اساتذہ صاحب کی نئے سرے سے تمام معلومات سیکورٹی ایجنسیوں نے حاصل کرلی ہے جس کے بعد ایسے اساتذہ صاحب کے خلاف پولیس ریکارڈ میں منفی رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔اس سلسلے میں جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ سے تعلق رکھنے ایک استاد کا کہنا ہے کہ ’میں نے سال 2004میں محکمہ تعلیم کو جوائن کیا ہے جس کے بعد 2009میں مجھے مستقل نوکری فراہم کی گئی۔ 2004میں بھی میری ویری فکیشن عمل میں لائی گئی تاہم اس وقت میرے خلاف کوئی منفی بات پولیس نے ریکارڈ نہیں کی‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’سال 1990میں میرا بھائی لاپتہ ہوا اور میری عمر اُس وقت صرف 8برس کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ میرے بھائی نے سال 1992میں لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے پاکستان چلاگیا اور یہی وجہ ہے کہ مجھے پولیس ویری فکیشن میں منفی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے‘۔
ادھر جنوبی کشمیر کے ہی دوسرے استادجو پچھلے 15برسوں سے محکمہ تعلیم میں کام کررہے ہیں، کا بڑا بھائی فورسز کے ساتھ ایک معرکے میں سال 1996میں مارا گیا اور اب بھائی کے بدلے استاد کو بھی منفی ویری فکیشن فہرست میں دکھایا گیا ہے۔کیا قانون اس معاملے میں رہنمائی نہیں کرتا؟ پولیس رپورٹ میں میری ذات سے متعلق کوئی بھی منفی ریکارڈ موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی میرے خلاف منفی رپورٹ کا اندراج عمل میں لایا گیا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں ہی صرف 26ایسے اساتذہ ہیں جنہیں پولیس ریکارڈ میں منفی ویری فکیشن دکھائی گئی ہے۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی طرف سے کئی اساتذہ صاحبان کے خلاف جو مقدمات درج ہیں وہ ابھی بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے چند اساتذہ پر جنگجوئیت کیساتھ قریبی رابط ہونے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ادھر انتظامیہ کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ انہیں سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تیار کردہ فہرست میں موجود خامیوں کا علم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فہرست کی ابھی اور جانچ پڑتال ہوگی۔ یہ پہلا قدم ہے اور اس کی اچھی طرح سے جراحی عمل میں لائی جائیگی۔آفسر نے بتایا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ دوبارہ چھان بین کے بعد اس فہرست کا ایک تہائی حصہ بھی باقی رہے گا۔خفیہ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ مہینے سے ریاست علیحدگی پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے کریک ڈاؤن کے بعد انتظامیہ اُن تمام سرکاری سینئر و جونیئر افسران پر کڑی نگاہ شروع کی ہے جن کے قریبی رشتہ دار جنگجوئیت یا علیحدگی پسند سوچ کے حامی ہے یا کسی بھی طور پر پتھراؤ یا افرا تفری کے واقعات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تازہ چھان بین جاری ہے اور ریاست کی سالمیت کے خلاف کی جارہی کسی بھی چھوٹی یا بڑی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا کریک ڈاؤن طویل مدتی منصوبہ ہے۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
