دنیا
رومی آج بھی امریکہ میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر کیوں ہیں؟
قرون وسطیٰ کے فارسی صوفی شاعر جلال الدین محمد رومی کی سرمستی میں ڈوبی شاعری کی لاکھوں کاپیاں گذشتہ برسوں کے دوران امریکہ اور دنیا بھر میں فروخت ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ 813 سال قبل وہ سنہ 1207 میں پیدا ہوئے تھے اور آج بھی دنیا بھر میں ان کے پرستاروں کی کوئی کمی نہیں۔
رومی کی سوانح ‘سیکریٹس آف رومی’ نامی کتاب کے مصنف بریڈ گوچ کہا کہنا ہے کہ ’ان کی شخصیت صدیوں سے اسی قدر بلند و بالا اور جاذبِ نظر ہے۔‘
گوچ فرینک اوہارا اور فلینری او کونّر پر اپنی تنقیدی تصنیف کے لیے بھی مشہور ہیں۔ گوچ کہتے ہیں کہ ‘رومی کی زندگی کا نقشہ 2500 میل پر محیط ہے۔’ رومی نے اپنی جائے پیدائش بلخ سے سفر شروع کیا۔ یہ جگہ اب افغانستان میں ہے۔ وہاں سے وہ ازبکستان کے شہر ثمرقند سے ہوتے ہوئے ایران اور شام گئے جہاں دمشق اور حلب میں انھوں نے اپنی جوانی کے عالم میں تعلیم حاصل کی۔ان کا آخری پڑاؤ ترکی میں قونیہ تھا جہاں رومی نے اپنی زندگی کے آخری 50 سال گزارے۔ آج رومی کے مقبرے پر ہر سال 17 دسمبر کو ان کی وفات کی برسی کے موقع پر درویشوں کی تقریب کے لیے عقیدت مند اور سربراہان مملکت جمع ہوتے ہیں۔
رومی کی زندگی میں سنہ 1244 میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ان کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی ملاقات ایک آزاد منش صوفی شمس تبریز سے ہوئی۔
گوچ کہتے ہیں: ‘اس وقت 37 سالہ رومی اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر روایتی مسلمان مبلغ اور عالم تھے۔ لیکن ان دونوں میں برقی دوستی تین سال تک قائم رہی جب وہ عاشق اور محبوب [یا] شاگرد اور شیخ رہے، جو کبھی واضح نہیں ہوسکا۔’ رومی صوفی ہو گئے۔ تین سال بعد شمس غائب ہوگئے شاید ‘رومی کے کسی حاسد بیٹے نے ممکنہ طور پر انھیں قتل کر دیا، اور ممکنہ طور پر رومی کو ہجر کا ایک اہم سبق سکھا دیا۔’
رومی نے شعر سے اس ہجر کا مقابلہ کیا۔ ‘ان کی تمام تر تصانیف 37 سے 67 سال کی عمر تک کی ہیں۔ اس میں شمس، پیغمبر اسلام محمد اور اللہ کے لیے انھوں نے تقریباً 3000 [محبت کے گیت] لکھے۔ انھوں نے دو ہزار رباعیات اور قطعات لکھے۔ انھوں نے چھ جلدوں میں روحانی رزمیہ مثنوی لکھی۔’ن برسوں کے دوران رومی نے شاعری، موسیقی اور رقص کو مذہبی عمل میں شامل کر دیا۔ گوچ کہتے ہیں کہ ‘رومی جب مراقبے میں جاتے یا شعر کہتے تو ایک انداز میں رقص کرتے اور گھوم کر اسے لکھواتے۔’ اسے بعد میں ان کی وفات کے بعد پروقار استغراق والے رقص کے طور پر بنایا گیا۔’ اور جیسا کہ خود رومی نے اپنی 2351 ویں غزل میں لکھا ہے۔ ‘میں دعائیں کرتا تھا، اب میں شعر، نظم اور گيت پڑھتا ہوں۔’
ان کی وفات کے سینکڑوں سال بعد بھی اب تک رومی کے کلام کو پڑھا جاتا ہے، اس کا ورد کیا جاتا ہے، اسے موسیقی کے ساتھ گایا جاتا ہے، اور ناولوں، نظموں، موسیقی اور فلموں کے لیے اس سے تحریک حاصل کی جاتی ہے، اس کے تعلق سے یوٹیوب ویڈیوز اور ٹویٹس کے طور پر ان کے قول سامنے آتے ہیں۔ گوچ بھی رومی سیکریٹس کے تحت ٹویٹ کرتے ہیں۔ رومی کا کلام آخر اتنے عرصے تک کیونکر زندہ ہے؟گوچ کہتے ہیں: ‘وہ خوشی اور محبت کے شاعر ہیں۔ ان کا کلام شمس کی جدائی اور محبت اور خالق اور موت کی یاد کے نتیجے میں سامنے آتا ہے۔ رومی کا پیغام تمام طرح کی سرحدوں کو عبور کرتا ہے اور بات چیت کرتا ہے۔ میں نے ایک بار بمپر سٹیکر دیکھا جس پر رومی کی ایک سطر لکھی تھی: ‘غلط اور صحیح کے درمیان ایک میدان ہے۔ میں وہاں آپ سے ملوں گا۔’
ناروپا یونیورسٹی میں شعریات کی پروفیسر اور شاعرہ اینی والڈ مین کہتی ہیں کہ ‘رومی ہمارے زمانے کے بہت ہی پراسرار اور اشتعال انگیز شاعر اور شخصیت ہیں، کیونکہ جب ہم صوفی روایت کو سمجھنے [اور] وجد و سرمستی اور عقیدت کی نوعیت اور شاعری کی طاقت کو سمجھنے کے لیے نکلتے ہیں تو وہ ہمیں جکڑ لیتے ہیں۔’ وہ مزید کہتی ہیں کہ ‘ان کے یہاں مکمل یا خام شکل میں ہم جنس پرستانہ روایت بھی ہے۔ وہ سفو سے لے کر والٹ وہٹ مین تک سرمست صاحب نظر میں سے ایک ہیں۔’
پوئٹس ہاؤس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور امریکہ میں رومی پر نیشنل لائبریری سیریز کی مشترک سپانسر لی برائیسیٹی کہتی ہیں کہ ‘وقت، جگہ اور ثقافت کی قیود سے باہر رومی کی نظمیں اپنی جاودانی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ اور وہ ہمیں ہماری اپنی محبت کو تلاش کرنے اور روزمرہ کی زندگی کی خوشی کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔’ وہ رومی کے کلام کا موازنہ اس کی ‘گونج اور خوبصورتی’ کے لحاظ سے شیکسپیئر سے کرتی ہیں۔رومی کے کلام کو ترجمہ کرکے امریکہ میں روشناس کروا کر نشاۃِ ثانیہ پیدا کرنے والے اور امریکہ میں رومی کو ’بیسٹ سیلنگ‘ کا درجہ دلوانے والے کولمین بارکس بتاتے ہیں کہ رومی کو دوام اس لیے نصیب ہے کیونکہ ‘ان کے تخیل کی حیرت انگیز تازگی ہے اور اس سے پیدا ہوتی ہوئی شدید آرزو ہے، ان کے حس مزاح اور ان کے کھیل میں بھی عقل و دانش مندی کی باتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔’
سنہ 1976 میں شاعر رابرٹ بلائی نے بارکس کولمین کو کیمبرج کے اے جے آربری کے رومی کے ترجمے کی ایک نقل پیش کی اور کہا: ‘ان اشعار کو پنجروں سے رہا کرنے کی ضرورت ہے۔’ بارکس نے انھیں سخت تعلیمی زبان سے نکال کر امریکی طرز کی آزاد نظم کے قالب میں ڈھال دیا۔ تب سے بارکس نے تراجم کی 33 سالوں میں 22 جلدیں تیار کر ڈالیں جن میں ‘دی ایسنشیئل رومی، اے ایئر ود رومی ، رومی: دی بگ ریڈ بک اور رومی کے والد کی روحانی ڈائری، دی ڈراونڈ بک، شامل ہیں اور یہ تمام کتابیں ہارپر ون نے شائع کی ہیں۔ اس کی 20 لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئی ہیں اور 23 زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا گیا ہے۔بارکس کا کہنا ہے کہ ‘مجھے لگتا ہے ابھی ایک مضبوط عالمی تحریک چل رہی ہے، ایک ایسا جذبہ بیدار ہے جو فرقہ وارانہ تشدد اور مذہب کی قائم کردہ حدود کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ 1273 میں رومی کے جنازے میں آئے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمارے عقیدے کو پختہ کرتے ہیں۔ ان کی اپیل میں یہ ایک طاقتور عنصر ہے۔’
رٹگرز یونیورسٹی میں قرون وسطیٰ کے تصوف کے سکالر اور رومی کے ایوارڈ یافتہ مترجم جاوید مجددی کہتے ہیں: ‘رومی فارسی شاعروں میں ایک تجرباتی جدت پسند تھے اور وہ ایک صوفی پیر تھے۔ صوفیانہ خیالات کو جرات مند شاعرانہ لباس میں پیش کرنا آج ان کی مقبولیت کی کلید ہے۔’
مجددی کہتے ہیں کہ رومی کی چار اہم ایجادات میں سے پہلا یہ ہے کہ وہ قاری کو براہ راست مخاطب کرتے ہیں جو کہ اس وقت نادر چیز تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ عصری قارئین اس براہ راست خطاب سے اچھی طرح خود کو ہم آہنگ پاتے ہیں۔’
دوسری چیز ان کی سکھانے کی کوشش ہے: ‘ترغیبی ادب کے قارئین رومی کی شاعری کی طرف راغب ہیں۔’ تیسرے ‘ان کا روزمرہ کی منظر کشی کا استعمال۔’ اور چوتھے ‘ان کی غزلیات میں محبوب سے وصل کی پرزور امید ہے۔ یہاں روایت محبوب کے ظلم کو بیان کرنے اور اس کے ناقابل حصول ہونے کی رہی ہے لیکن رومی محبوب سے وصل کا جشن مناتے ہیں۔
جیسے جیسے نئے تراجم سامنے آ رہے ہیں ان کے کلام کی گونج بڑھتی جارہی ہے۔ رومی کا اثر و رسوخ برقرار رہے گا۔ یہ اشعار اور دلپذیر الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ شاعری روز مرہ کی زندگی کا ایک پائیدار حصہ کیسے ہوسکتی ہے۔
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران جنگ میں امریکہ کے 81 فوجی طیارے تباہ یا متاثر، نقصان کی تلافی پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ کا امکان
واشنگٹن، ایران جنگ میں امریکی فوج کے 81 طیارے تباہ یا متاثر ہوئے ہیں اور ان کی جگہ نئے طیارے حاصل کرنے پر 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ صرف فوجی سازوسامان کا نقصان ہے، جبکہ جنگ پر امریکہ کو اب تک کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ اس رقم میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔
نقصان اٹھانے والے طیاروں میں ایف-35 اے اسٹیلتھ فائٹر اور ای-3 سینٹری بھی شامل ہیں، جبکہ ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو خاص طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ای-3 سینٹری ایسا فضائی کمانڈ، کنٹرول اور نگرانی کا طیارہ ہے جس پر امریکی فوج اہداف کی نگرانی اور فضائی حدود کے انتظام کے لیے انحصار کرتی ہے۔ یہ طیارے یا تو محدود تعداد میں دستیاب ہیں، پرانے ہوچکے ہیں یا دونوں مسائل سے دوچار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فوری جگہ لینا مشکل ہے۔
رپورٹ کے مطابق نقصانات میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں، جن میں ایم کیو-9 ریپر کے نقصانات نصف سے زیادہ ہیں۔ 5 اکتوبر کو اپ ڈیٹ کی گئی سی آر ایس رپورٹ میں یہ اعداد و شمار امریکی محکمہ دفاع، سینٹرل کمانڈ کے بیانات، انسپکٹر جنرل کی رپورٹ اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
نقصان یا تباہ ہونے والے طیاروں میں امریکی فوج کے جدید اور تزویراتی طور پر اہم طیارے بھی شامل ہیں، جن میں ایف-35 اے فائٹر اور ای-3 سینٹری فضائی ابتدائی انتباہ و کنٹرول طیارہ شامل ہیں، جو اہداف کا سراغ لگانے اور فضائی حدود کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
سی آر ایس کے مطابق کانگریشنل بجٹ آفس نے ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ یکم اگست تک جنگ میں ضائع ہونے والے سازوسامان کی جگہ نئے سازوسامان کی فراہمی پر 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ اصل رقم پینٹاگون کی جانب سے طے کیے جانے والے متبادل منصوبے پر منحصر ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کی مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دستیاب ذرائع نے اندازہ لگایا ہے کہ اس تنازع پر امریکہ کو کم از کم 45 ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، تاہم اس میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت شامل نہیں ہے۔
سی آر ایس نے کہا کہ نقصان زدہ قرار دیے گئے بعض طیارے ممکن ہے بعد میں دوبارہ آپریشنل ہوگئے ہوں۔ مثال کے طور پر آٹھ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیاروں کو ستمبر میں اردن کے موافق السالتی ایئر بیس پر ایرانی حملے کے دوران معمولی نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیاروں کے نقصانات کے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی ہوسکتی ہے، کیونکہ جنگی کارروائیاں جاری ہیں، بعض معلومات خفیہ ہیں اور بعض نقصانات کی ذمہ داری طے کرنے سے متعلق سوالات موجود ہیں۔
امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ”آپریشن ایپک فیوری” کے نام سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اس تنازع میں مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں فضائی، بحری اور میزائل حملے شامل رہے۔ اپریل میں جنگ بندی کے بعد لڑائی کی شدت میں کمی آئی، تاہم چند ہفتوں کے اندر بعض حملے دوبارہ شروع ہوگئے اور صورت حال بدستور غیر یقینی رہی۔
رپورٹ میں اس بات پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا کانگریس کو پینٹاگون کی جانب سے طیاروں کے نقصانات کی مکمل نوعیت کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات طے کرنے کے لیے کافی معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی تجاویز پر غور کر رہے ہیں:ایران
تہران، ایران نے تصدیق کی ہے کہ علاقائی تنازعہ کو ختم کرنے کے مقصد سے پیش کردہ امریکی تجاویز پر اس کا جواب سفارتی ثالثوں کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔
اس بات کا اعلان وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کیا، جبکہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راہداریاں قائم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ اہم پیش رفت کا بھی انکشاف کیا۔
بقائی نے واضح کیا کہ تہران نے تمام محاذوں پر دشمنی روکنے اور خلیج میں بحری سکیورٹی بحال کرنے کے لیے اپنی شرائط طے کر دی ہیں۔
ترجمان بقائی نے تصدیق کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ روابط بدستور فعال ہیں، انہوں نے یہ بھی کہاکہ دوسرے فریق کی تجاویز کا ضروری جواب بھی ثالثوں کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔”
یہ اعلان ایتھنز میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے تنازعہ کو حل کرنے کے متعدد مواقع گنوا دیے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول کھو چکا ہے۔
روبیو کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے سے رائے عامہ کے ذہنوں سے امریکہ کی جانب سے اپنے وعدوں کی بار بار خلاف ورزیوں کی حقیقت کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس سلسلے میں 2015 کے جوہری معاہدے سے 2018 میں واشنگٹن کی دستبرداری اور سفارتی عمل کے دوران جاری فوجی حملوں کی طرف اشارہ کیا۔
تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے بقائی نے بتایا کہ تہران اور مسقط کے درمیان دوطرفہ مشاورت کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے محفوظ راستوں کے لیے درست جغرافیائی حدود پر اتفاق ہو گیا ہے۔
اس طے شدہ بحری انتظام کو جلد ہی بین الاقوامی بحری حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ سفارتی سرگرمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
