تازہ ترین
ریاست میں گزشتہ 66ماہ کے دوران 1376انسانی جانیں تلف: مرکزی سرکار
خبراردو: مرکزی سرکارنے منگل کے روزاسبات کاانکشاف کیاکہ جموں وکشمیرمیں گزشتہ66ماہ کے دوران ملی ٹنسی سے جڑے واقعات میں کل1376انسانی جانیں تلف ہوئیں۔
سابق مرکزی وزیراورکانگریس کے رکن پارلیمان ششی تھروؤرکی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ جی کشن ریڈی نے ایوان کویہ جانکاری فراہم کی کہ سال2014کے اوائل سے اخیرجون2019تک جموں وکشمیرمیں جھڑپوں اورملی ٹنسی سے جڑے دیگرواقعات کے دوران1376افرادمارے گئے،جن میں 963مقامی وغیرمقامی جنگجواور413سیکورٹی اہلکارشامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ موجودہ مرکزی سرکارنے روزاول سے ہی دہشت گردانہ اورملک دشمنانہ سرگرمیوں کوناقابل قبول مانتے ہوئے جموں وکشمیرکے حوالے سے ایک جامع پالیسی اپنارکھی ہے،جسکے خاطرخواہ اورحوصلہ افزاء نتائج برآمدہوئے ہیں۔
مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ کاکہناتھاکہ مرکزی سرکارنے ’جنگجوؤں اورملک دشمن‘عناصرکے حوالے سے ’زیرؤٹالرنس‘پالیسی اپنارکھی ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں جنگجوئیانہ اورعلیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کاقلع قمع کرنے کیلئے ایک فعال پالیسی پرعمل کیاجارہاہے،اوریہ سیکورٹی فورسزکی اسی پائیداراورٹھوس پالیسی کانتیجہ ہے کہ اب جنگجوچھپتے اورجان بچاتے پھررہے ہیں۔جی کشن ریڈی کامزیدکہناتھاکہ گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں کے دوران963سرگرم جنگجومارے گئے جبکہ انسدادملی ٹنسی کارروائیوں اورجنگجوؤں کے حملوں کے دوران413سیکورٹی اہلکاراپنی جانیں گنوابیٹھے۔مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ جی کشن ریڈی نے کہاکہ جموں وکشمیربالخصوص وادی میں ملی ٹنسی اورعلیحدگی پسندانہ فکروعمل آخری سانسیں لے رہاہے اوربہت جلدطویل شورش سے یہ ریاست نجات پالے گی،اوروہاں پہلے جیساامن وامان قائم ہوجائیگا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3برسوں کے دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد سے لگ بھگ 400جنگجوؤں نے اس پار دراندازی کی جن میں 126جنگجوؤں کو سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران مار گرایا۔مرکزی وزیر مملکت برائے اُمور داخلہ جی کرشن ریڈی نے لوک سبھا کو بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے اور ان کی دراندازی کو ناکام بنانے کے نتیجے میں 27فورسز اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پر دراندازی کا قلع قمع کرنے کی خاطر فورسز انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کررہی ہے جس دوران انہوں نے اس عرصے کے دوران 4دراندازوں کو زندہ گرفتار کرلیا۔لائن آف کنٹرول پر گزشتہ برسوں کے دوران دراندازی سے متعلق واقعات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے جی کرشن ریڈی نے لوک سبھا کو بتایا کہ سال2016اور 2017میں بالترتیب136اور 119دراندازی کے واقعات پیش آئے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2018میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر 143دراندازی کے واقعات پیش آئے جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے تاہم انہوں نے کہا کہ امسال کے نصف اول حصے میں دراندازی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جی کرشن ریڈی کا کہنا تھا کہ رواں سال کے چھ مہینوں میں اب تک دراندازی کے واقعات میں 43فیصدی کمی واقع ہوچکی ہے۔انہوں نے لوک سبھا میں موجود ممبران کو بتایا کہ مرکزی سرکار نے سرحد پر دراندازی کے واقعات سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں جن میں کثیر مقاصد والے منصوبے شامل ہیں۔ مرکزی سرکار پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پرکی جارہی دراندازی کے واقعات سے نمٹنے میں انتہائی سنجیدہ ہے جس کے روکتھام کیلئے کثیر مقاصد والے منصوبوں پر کام شروع کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس کے ابتدائی چھ مہینوں میں دراندازی کے واقعات میں جو کمی واقع ہوئی ہے وہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کثیر مقاصد والے اہداف میں جو اُمور شامل ہیں اُن میں لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر فورسز کی سخت دائروں والی سیکورٹی، سرحد پر تار بندی، خفیہ اطلاعات کو مزید بہتر بنانا، آپریشنوں کے دوران آپسی تال میل، سیکورٹی فورسز کو جدید اسلحہ سے لیس کرنا اور دراندازوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا شامل ہیں۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
