دنیا
’سال2025 میں 56200 سے زیادہ میکسیکن امریکہ سے وطن واپس آئے‘
میکسیکو سٹی، میکسیکو کی حکومت نے بتایا ہے کہ اس سال 20 جنوری سے اب تک کل 56298 میکسیکن باشندوں کو امریکہ سے وطن واپس لایا گیا ہے، جن میں سے 12183 فضائی راستے سے آئے ہیں۔
انسانی حقوق، آبادی اور ہجرت کے انڈر سکریٹری آرٹورو میڈینا نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکی امیگریشن کارروائی کے جواب میں شروع کئے گئے حکومت کے وطن واپسی کے پروگرام ’میکسیکو ایمبریس یو‘ کے تحت سرحد پر قائم کیئر سینٹرز میں 24082 شہری پہنچے ۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 92,246 سے زائد افراد میں راشن تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اس کے ساتھ 9,786 افراد کو طبی خدمات اور 4,019 افراد کو نفسیاتی خدمات فراہم کی گئی ہیں۔ صنفی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کو قانونی مشورہ اور مدد بھی فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا’’19,282 سے زیادہ لوگوں کو پیسانو ویلفیئر کارڈز جاری کیے گئے، جو انہیں ان کی آبائی برادریوں کا دورہ کرنے کے لیے سفری اخراجات میں 2,000 پیسو ( 105 امریکی ڈالر) فراہم کرتے ہیں اور ہمارے ساتھی شہریوں کوبینسٹار (فلاحی) پروگراموں میں شامل کیا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے واپس آنے والوں کو شناختی کارڈ اور پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں بھی مدد کی گئی۔ اہلکار نے بتایا کہ اس کے علاوہ، نجی شعبے کی مدد سے 2,495 ملازمتیں مہیا کرائی گئی ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
جنگ دوبارہ شروع ہونے پر 20 کھرب ڈالر کے امریکی ٹیکنالوجی اثاثے نشانہ بن سکتے ہیں: ایران
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کی تو مغربی ایشیا میں 20 کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت کے امریکی روابط رکھنے والے ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے ہفتے کو پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ تہران نے گزشتہ لڑائی کے دوران اپنی بعض فوجی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا تھا اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں وہ نئی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا، ”اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض دنیا کے ہمارے اس حصے سے ہو کر گزرتی ہے۔”
رضائی نے امریکی روابط رکھنے والے علاقائی ٹیکنالوجی نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے، لیکن اگر جنگ چھڑتی ہے تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر مقامات تباہ کر دیے جائیں گے۔”
رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں امریکہ کو بار بار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور فوجی مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد واشنگٹن نے اقتصادی دباؤ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق، اس محاذ آرائی کا خاتمہ کب ہوگا، اس کا فیصلہ امریکہ نہیں بلکہ ایران کرے گا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ 3 کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے امریکی جارحیت کی صورت میں ہتھیار اٹھانے کے لیے ”جاں فدا” (ایران کے لیے قربانی) مہم میں اپنا اندراج کرایا ہے۔
سفارتی کوششوں کے حوالے سے رضائی نے کہا کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ اپنے سابقہ طریقۂ کار پر واپس نہیں آئے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے ایران پر حملے شروع کرنے سے پہلے مذاکرات کے تین دور ترک کر دیے تھے۔
انہوں نے کہا، ”یقیناً، ہم نے کبھی سفارت کاری ترک نہیں کی اور نہ ہی کبھی کریں گے، لیکن ہم نے اپنا طریقۂ کار تبدیل کر لیا ہے۔”
رضائی کے مطابق، ایران نے پاکستان، قطر اور عراق کے توسط سے امریکہ کو سات شرائط پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ان تجاویز کا جواب دیا ہے، لیکن تہران اسے ناکافی سمجھتا ہے اور بعض معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہم امریکیوں کو جواب دینے کے مرحلے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیں جواب دیا ہے، لیکن ہم اسے ناکافی سمجھتے ہیں۔” ان کے مطابق، مزید اقدامات سے پہلے واشنگٹن کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر رضائی نے کہا کہ ایران اس آبی گزرگاہ کے انتظام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور اسے ایک اہم ”قومی اثاثہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ”اب سے ہم آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔ خطے میں امن اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے یہ ہمارے انتظام میں رہے گی۔ ہم اس معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
رضائی نے امریکہ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بہت کم ہے اور بعض جہاز اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے سفر کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران ایرانی افواج عام طور پر ہر رات ایسی کارروائیوں میں ملوث پانچ یا چھ جہازوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
رضائی نے کہا کہ بحری آمدورفت پر پابندیوں سے تیل، گیس، ہیلیم اور کھادوں کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے، جس سے توانائی کی لاگت اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کے مجوزہ انتظامی نظام کے تحت سلامتی، بیمہ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں اقتصادی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں اضافی فوجی صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تہران نے 12 روزہ جنگ کے دوران جان بوجھ کر اپنی بعض صلاحیتیں استعمال نہیں کیں، جبکہ بعد میں ہونے والی اس کارروائی کے دوران زیادہ صلاحیتیں بروئے کار لایا گیا جسے انہوں نے 40 روزہ جارحیت قرار دیا۔
رضائی نے کہا، ”آج ہم جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں نئی صلاحیتیں متعارف کرانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”
انہوں نے امریکی دباؤ کے سامنے ایران کے جھکنے کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محاذ آرائی کا نتیجہ ایرانی عوام کے ہاتھ میں ہے۔
انہوں نے کہا، ”ایرانی عوام ہتھیار نہیں ڈالتے۔ وہ دوسروں کو اپنے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں، لیکن خود کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔”
رضائی نے زور دیا کہ ایران اپنے مطالبات پورے ہونے اور حقوق تسلیم کیے جانے تک مزاحمت جاری رکھے گا۔ ان کے بقول، ”اس جنگ کا خاتمہ ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب تک واشنگٹن ایران کے حقوق تسلیم نہیں کرتا، ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور دفاع سے دست بردار نہیں ہوں گے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف جنوبی جائنٹس بریگیڈز کی جوابی کارروائی میں اہم کردار
دوحہ، یمن کی جنوبی جائنٹس بریگیڈز حوثی باغیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں ایک اہم طاقت بن کر ابھری ہیں۔ پانچ اکتوبر کو سابق جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سے وابستہ گروپوں، جن میں طاقتور جائنٹس بریگیڈز بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج نے آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ شروع کیا تھا۔
یہ کارروائی ملک گیر فوجی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلح گروپ حوثیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کو ان کے زیر قبضہ علاقوں سے باہر نکالنا ہے۔ ان علاقوں میں اہم ساحلی خطہ بھی شامل ہے، جس پر ایران سے وابستہ اس گروپ نے ستمبر میں قبضہ کیا تھا۔ پیر کی دوپہر تک، جائنٹس بریگیڈز کی قیادت میں حکومت نواز فورسز نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر موخا کو آبنائے باب المندب سے ملانے والی مرکزی سڑک منقطع کرنے کا دعویٰ کیا۔ باب المندب توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔
اس پیش رفت کو حوثیوں کے مخالفین کی کئی برسوں میں پہلی بڑی فوجی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی یمن کی صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے خلاف بڑے حملے کے اعلان کے بعد شروع ہوئی۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ مختلف سیاسی مقاصد رکھنے والی حوثی مخالف قوتیں مشترکہ کارروائی کے ذریعے مؤثر پیش رفت کر سکتی ہیں۔
اس اتحاد میں ایس ٹی سی سے وابستہ گروپ بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض جنوبی یمن کی آزادی اور علیحدگی کے حامی ہیں، جبکہ دوسری جانب مرکزی حکومت کی حمایت کرنے والی قومی فوجی قوتیں موجود ہیں۔
جنوبی یمن میں جنوری کے دوران ان دھڑوں کے درمیان نمایاں تصادم ہوا تھا، جب سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی حکومتی دستوں نے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی کو شکست دی۔ اس کے بعد حوثیوں کے مخالف فوجی دھڑوں میں نسبتاً زیادہ مرکزیت پیدا ہوئی۔
حکومت کے حالیہ فوجی اتحاد کی قیادت کرنے والی اہم فورسز میں جائنٹس بریگیڈز شامل ہیں، جن کی جڑیں جنوبی علیحدگی پسند تحریک میں پیوست ہیں۔ اس فورس کی کمان عبدالرحمٰن ابو زرا المحرمی کے ہاتھ میں ہے، جو سلفی نظریات کے حامل ہیں اور شمالی گورنری صعدہ کے سخت گیر مذہبی مدرسے دمّاج میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
جائنٹس بریگیڈز بنیادی طور پر سلفی جنگجوؤں پر مشتمل تھیں اور 2015 کی پہلی ششماہی میں جنوبی شہر عدن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی کے دوران تشکیل پائیں۔ جنگ کے دوران یہ یمن کی طاقتور ترین فوجی قوتوں میں شمار ہونے لگی ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ان جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کیا، تربیت دی اور مالی مدد کی۔ 2017 میں یہ بریگیڈز اس وقت نمایاں ہوئیں، جب انہوں نے مغربی یمن کے وسیع ساحلی علاقوں کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کی۔ تاہم، اقوام متحدہ کی ثالثی میں دسمبر 2018 میں اسٹاک ہوم معاہدہ ہونے کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر حدیدہ کے مضافات میں ان کی پیش قدمی رک گئی۔
جنوری 2022 میں جائنٹس بریگیڈز نے حوثیوں کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جنوبی گورنری شبوا کے تین اضلاع پر قبضہ کیا اور پڑوسی صوبے مآرب کی جانب پیش قدمی کی۔ تاہم، 17 جنوری 2022 کو حوثیوں کی جانب سے ابوظہبی پر حملے کے بعد ان کی کارروائی رک گئی۔
جاری۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
دنیا
‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
دوحہ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر روکنے کے لیے ‘توانائی جنگ بندی’ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چند روز قبل ان کی انتظامیہ نے اندرون ملک اور عالمی منڈیوں میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے روسی ایندھن پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تھی۔
اتوار کو اعلان کی گئی اس جنگ بندی سے روسی توانائی کے معاملے پر واشنگٹن کی پالیسی میں ایک اور تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اور روسی توانائی تنصیبات پر یوکرین کے حالیہ حملوں سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ٹرمپ نے یوکرین سے روسی تیل کی تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل بھی کی ہے، جبکہ روس ڈیزل کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ سروے کے مطابق، ایران کے خلاف غیر مقبول امریکی جنگ کے دوران ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے لیے امریکی شہری ٹرمپ انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
ویلتھ کلب کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ سوزانا اسٹریٹر نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور روس کی جانب سے توانائی تنصیبات پر باہمی حملوں کے نتیجے میں پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن منڈی کی پیداواری صلاحیت مزید متاثر ہوئی ہے۔ اس سے نقل و حمل، زراعت اور کاروبار کی لاگت بڑھ رہی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی پر حقیقی معنوں میں عمل ہوتا ہے تو اس سے سپلائی کو تحفظ مل سکتا ہے اور قیمتوں کا دباؤ کچھ کم ہو سکتا ہے، خصوصاً سردیوں کی آمد کے پیش نظر۔ تاہم، انہوں نے اسے فوری طور پر سفارتی پیش رفت قرار دینے سے گریز کیا، کیونکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ توانائی جنگ بندی کا اعلان ان کے لیے غیر متوقع تھا۔
ٹرمپ کے فیصلوں پر امریکی سیاست دانوں اور یورپی اتحادیوں نے تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی ایندھن کو دوبارہ عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے کی اجازت دینے سے ماسکو کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنے کے لیے اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ مارچ میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے سمندر میں موجود روسی تیل پر پابندیوں سے عارضی استثنا دیا تھا۔
آخر ٹرمپ روسی توانائی کے معاملے پر بار بار اپنا موقف کیوں بدل رہے ہیں، اور ان کے تازہ فیصلوں کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟
ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”دونوں فریق متفق ہوگئے ہیں۔ اس کی خلاف ورزی نہ کریں!” تاہم، انہوں نے معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ انہیں اس جنگ بندی کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی اور یہ اعلان ان کے لیے حیران کن تھا، تاہم انہوں نے اس کا خیرمقدم کیا۔ اس کے باوجود، زیلنسکی کے مطابق، ٹرمپ کے بیان کے بعد بھی روسی ڈرون یوکرین کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے، جن میں خارکیف کا ایک بجلی گھر بھی شامل ہے۔
زیلنسکی نے پیر کو وارسا میں ایک سکیورٹی کانفرنس سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ یوکرین امریکہ اور روس کے درمیان طے پانے والی شرائط کی تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے اور یہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ امریکہ روس سے معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے کیا عملی قدم اٹھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی جنگ بندی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے اور جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت بن سکتی ہے، بشرطیکہ امریکہ اس معاملے میں سنجیدگی سے مداخلت کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ روس اس پر عمل کرے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا5 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر5 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
ہندوستان6 days agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
