دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف جنوبی جائنٹس بریگیڈز کی جوابی کارروائی میں اہم کردار
دوحہ، یمن کی جنوبی جائنٹس بریگیڈز حوثی باغیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں ایک اہم طاقت بن کر ابھری ہیں۔ پانچ اکتوبر کو سابق جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سے وابستہ گروپوں، جن میں طاقتور جائنٹس بریگیڈز بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج نے آبنائے باب المندب کے قریب حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ شروع کیا تھا۔
یہ کارروائی ملک گیر فوجی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلح گروپ حوثیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، کو ان کے زیر قبضہ علاقوں سے باہر نکالنا ہے۔ ان علاقوں میں اہم ساحلی خطہ بھی شامل ہے، جس پر ایران سے وابستہ اس گروپ نے ستمبر میں قبضہ کیا تھا۔ پیر کی دوپہر تک، جائنٹس بریگیڈز کی قیادت میں حکومت نواز فورسز نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر موخا کو آبنائے باب المندب سے ملانے والی مرکزی سڑک منقطع کرنے کا دعویٰ کیا۔ باب المندب توانائی کی عالمی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔
اس پیش رفت کو حوثیوں کے مخالفین کی کئی برسوں میں پہلی بڑی فوجی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائی یمن کی صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے خلاف بڑے حملے کے اعلان کے بعد شروع ہوئی۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ مختلف سیاسی مقاصد رکھنے والی حوثی مخالف قوتیں مشترکہ کارروائی کے ذریعے مؤثر پیش رفت کر سکتی ہیں۔
اس اتحاد میں ایس ٹی سی سے وابستہ گروپ بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض جنوبی یمن کی آزادی اور علیحدگی کے حامی ہیں، جبکہ دوسری جانب مرکزی حکومت کی حمایت کرنے والی قومی فوجی قوتیں موجود ہیں۔
جنوبی یمن میں جنوری کے دوران ان دھڑوں کے درمیان نمایاں تصادم ہوا تھا، جب سعودی عرب کے حمایت یافتہ یمنی حکومتی دستوں نے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی کو شکست دی۔ اس کے بعد حوثیوں کے مخالف فوجی دھڑوں میں نسبتاً زیادہ مرکزیت پیدا ہوئی۔
حکومت کے حالیہ فوجی اتحاد کی قیادت کرنے والی اہم فورسز میں جائنٹس بریگیڈز شامل ہیں، جن کی جڑیں جنوبی علیحدگی پسند تحریک میں پیوست ہیں۔ اس فورس کی کمان عبدالرحمٰن ابو زرا المحرمی کے ہاتھ میں ہے، جو سلفی نظریات کے حامل ہیں اور شمالی گورنری صعدہ کے سخت گیر مذہبی مدرسے دمّاج میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
جائنٹس بریگیڈز بنیادی طور پر سلفی جنگجوؤں پر مشتمل تھیں اور 2015 کی پہلی ششماہی میں جنوبی شہر عدن میں حوثیوں کے خلاف لڑائی کے دوران تشکیل پائیں۔ جنگ کے دوران یہ یمن کی طاقتور ترین فوجی قوتوں میں شمار ہونے لگی ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ان جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کیا، تربیت دی اور مالی مدد کی۔ 2017 میں یہ بریگیڈز اس وقت نمایاں ہوئیں، جب انہوں نے مغربی یمن کے وسیع ساحلی علاقوں کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے کارروائی کی۔ تاہم، اقوام متحدہ کی ثالثی میں دسمبر 2018 میں اسٹاک ہوم معاہدہ ہونے کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر حدیدہ کے مضافات میں ان کی پیش قدمی رک گئی۔
جنوری 2022 میں جائنٹس بریگیڈز نے حوثیوں کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جنوبی گورنری شبوا کے تین اضلاع پر قبضہ کیا اور پڑوسی صوبے مآرب کی جانب پیش قدمی کی۔ تاہم، 17 جنوری 2022 کو حوثیوں کی جانب سے ابوظہبی پر حملے کے بعد ان کی کارروائی رک گئی۔
جاری۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
دنیا
‘توانائی جنگ بندی’: روسی تیل کے معاملے پر ٹرمپ کی متضاد پالیسی کے پیچھے کیا ہے
دوحہ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر روکنے کے لیے ‘توانائی جنگ بندی’ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چند روز قبل ان کی انتظامیہ نے اندرون ملک اور عالمی منڈیوں میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے روسی ایندھن پر عائد پابندیوں میں نرمی کی تھی۔
اتوار کو اعلان کی گئی اس جنگ بندی سے روسی توانائی کے معاملے پر واشنگٹن کی پالیسی میں ایک اور تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اور روسی توانائی تنصیبات پر یوکرین کے حالیہ حملوں سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ٹرمپ نے یوکرین سے روسی تیل کی تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل بھی کی ہے، جبکہ روس ڈیزل کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ سروے کے مطابق، ایران کے خلاف غیر مقبول امریکی جنگ کے دوران ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے لیے امریکی شہری ٹرمپ انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
ویلتھ کلب کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ سوزانا اسٹریٹر نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین اور روس کی جانب سے توانائی تنصیبات پر باہمی حملوں کے نتیجے میں پہلے ہی دباؤ کا شکار عالمی ایندھن منڈی کی پیداواری صلاحیت مزید متاثر ہوئی ہے۔ اس سے نقل و حمل، زراعت اور کاروبار کی لاگت بڑھ رہی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی پر حقیقی معنوں میں عمل ہوتا ہے تو اس سے سپلائی کو تحفظ مل سکتا ہے اور قیمتوں کا دباؤ کچھ کم ہو سکتا ہے، خصوصاً سردیوں کی آمد کے پیش نظر۔ تاہم، انہوں نے اسے فوری طور پر سفارتی پیش رفت قرار دینے سے گریز کیا، کیونکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ توانائی جنگ بندی کا اعلان ان کے لیے غیر متوقع تھا۔
ٹرمپ کے فیصلوں پر امریکی سیاست دانوں اور یورپی اتحادیوں نے تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی ایندھن کو دوبارہ عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے کی اجازت دینے سے ماسکو کو یوکرین میں جنگ جاری رکھنے کے لیے اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ مارچ میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے سمندر میں موجود روسی تیل پر پابندیوں سے عارضی استثنا دیا تھا۔
آخر ٹرمپ روسی توانائی کے معاملے پر بار بار اپنا موقف کیوں بدل رہے ہیں، اور ان کے تازہ فیصلوں کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟
ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”دونوں فریق متفق ہوگئے ہیں۔ اس کی خلاف ورزی نہ کریں!” تاہم، انہوں نے معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ انہیں اس جنگ بندی کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی اور یہ اعلان ان کے لیے حیران کن تھا، تاہم انہوں نے اس کا خیرمقدم کیا۔ اس کے باوجود، زیلنسکی کے مطابق، ٹرمپ کے بیان کے بعد بھی روسی ڈرون یوکرین کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے، جن میں خارکیف کا ایک بجلی گھر بھی شامل ہے۔
زیلنسکی نے پیر کو وارسا میں ایک سکیورٹی کانفرنس سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ یوکرین امریکہ اور روس کے درمیان طے پانے والی شرائط کی تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے اور یہ بھی دیکھنا چاہتا ہے کہ امریکہ روس سے معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے کیا عملی قدم اٹھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی جنگ بندی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے اور جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت بن سکتی ہے، بشرطیکہ امریکہ اس معاملے میں سنجیدگی سے مداخلت کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ روس اس پر عمل کرے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کے کویت، قطر اور مصر کے ساتھ توانائی تعاون کے معاہدے
ریاض، سعودی عرب نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے کویت، قطر اور مصر کے ساتھ تین مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں میں بجلی، تیل و گیس، قابل تجدید توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کویت کے وزیر بجلی، پانی اور قابل تجدید توانائی صبیح عبدالعزیز عبدالمحسن المخیزیم، قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی امور سعد بن شریدہ الکعبی اور مصر کے وزیر پٹرولیم و معدنی وسائل کریم بدوی کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے۔
ان معاہدوں کے تحت ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، توانائی کے ذخیرے، سپلائی چین اور مشترکہ منصوبوں کی ترقی میں تعاون کیا جائے گا۔
کویت کے ساتھ مفاہمت نامے میں بجلی کی پیداوار اور برآمد، قابل تجدید توانائی، بجلی کے باہمی رابطوں، توانائی کی کارکردگی، ذخیرہ کرنے کے نظام اور اسمارٹ گرڈ کی ترقی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل تبدیلی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، اختراع، مقامی صنعتوں کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے والی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
قطر کے ساتھ معاہدے میں تیل و گیس، ریفائننگ، پیٹروکیمیکل، بجلی، صاف ہائیڈروجن اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک تیل و گیس کی برآمد کے لیے پائپ لائنوں کی تعمیر کے مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ تعمیرات اور دیگر صنعتوں میں پائیدار پیٹروکیمیکل مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی امور پر بھی تال میل قائم کیا جائے گا۔ اس میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی اور پیرس معاہدے کے تحت مذاکرات کے علاوہ پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تشکیل کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
مصر کے ساتھ مفاہمت نامہ خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس پر مرکوز ہے، جس میں تجارت، نقل و حمل، ذخیرہ، تقسیم اور رسد کے امور شامل ہیں۔ اس کا مقصد تجارتی بنیادوں پر اور دونوں ممالک کے قوانین کے مطابق توانائی کی منڈیوں کے انضمام کو بہتر بنانا، سپلائی چین کو مضبوط کرنا اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
سعودی عرب مصر میں ایندھن کے اسٹیشنوں کو جدید بنانے اور ان کے انتظام و آپریشن سے متعلق اپنا تجربہ بھی فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک مصر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینے اور پیٹروکیمیکل صنعت کے ساتھ موجودہ اور منصوبہ بند منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات کا جائزہ بھی لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک: حقوق انسانی کی تنظیم
خرطوم، سوڈان اور مصر کی متنازع سرحد کے قریب سونے کی ایک کان پر فضائی حملے میں کم از کم 72 کان کن ہلاک ہوگئے۔ سوڈان میں جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے والی تنظیم ‘ایمرجنسی لائرز’ نے یہ اطلاع دیتے ہوئے حملے کا الزام مصری فوج پر عائد کیا ہے۔
خرطوم میں قائم تنظیم نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مصری لڑاکا طیاروں نے سوڈان کے شمالی علاقے وادی میں شہری کان کنوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 72 شہری ہلاک ہوگئے۔
ہفتے کو ہونے والے اس مبینہ حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور مصر نے اس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس سال جبل العقیادات کے پہاڑی سرحدی علاقے میں یہ دوسرا حملہ ہے۔ یہ علاقہ سونے کی کان کنی کے لیے مشہور ہے۔ جون میں بھی اسی مقام پر اسی نوعیت کے حملے میں 23 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں کا الزام بھی مبینہ طور پر مصر پر عائد کیا گیا تھا۔
اس وقت مصری فوج نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں کے اندر غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔
سوڈان اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے پر تنازع ہے اور دونوں ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال حلايب مثلث پر دعویٰ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور مقامی حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے شیئر کی گئی ایسی تصاویر، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، میں ملبے کے درمیان درجنوں لاشیں اور کفن میں لپٹی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ کان کنوں نے بھی علاقے میں فضائی حملے کی اطلاع دی ہے۔
اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس بحران نے بڑی تعداد میں لوگوں کو سونے کی خطرناک کان کنی کی جانب دھکیل دیا ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی دونوں متحارب فریقوں کی جنگی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
معدنی ذخائر سے مالا مال یہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ سیکڑوں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں متنازع حلايب مثلث بھی شامل ہے۔
ایمرجنسی لائرز نے کہا کہ حملہ سوڈانی حدود کے اندر ہوا۔ تنظیم کے مطابق، ”سونے اور معدنی وسائل سے مالا مال سرحدی علاقوں پر بار بار حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مصری حکام سوڈان کے قدرتی وسائل پر اپنا کنٹرول بڑھانا اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔”
تاہم، مصری فوج نے جون میں کہا تھا کہ اس کی کارروائی مصری سرزمین کے اندر کی گئی تھی۔ فوج کے مطابق، اس دوران 223 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 136 غیر ملکی شہری شامل تھے۔ اس نے علاقے میں ”غیر قانونی سونے کی کان کنی اور اسلحے کی اسمگلنگ” کے خلاف مہم چلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی حمایت کرنے کے باوجود مصر اپنی سرحد کے قریب جاری جنگ کو اپنی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ بحیرۂ احمر سے لیبیا تک پھیلی دونوں ممالک کی سرحد تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے۔
دریائے نیل کے مشرق میں واقع اس سرحدی علاقے کو کئی برسوں سے سونے کی غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مصر ان سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
دنیا1 week ago۔کیریبین سمندر میں امریکی فوج کا کشتی پر حملہ، منشیات اسمگلنگ کے 4 مبینہ ملزم ہلاک: کمانڈ
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
دنیا5 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
پاکستان7 days agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
