تازہ ترین
این سی انتخابات میں پی ڈی پی کو ناکوں چنے چبوائے گی ،سجادلون، انجینئر رشید ایجنسیوں کی پیدوار: عبدالمجید لارمی
خبراردو:
جنوبی کشمیر کے ہوم شالی بگ حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے عبدالمجید لارمی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی آنے والے اسمبلی انتخابات میں مضبوط عوامی منڈیت حاصل کرکے ہی دم لے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس رواں برس منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی، کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا زمینی سطح پر مکمل صفا یا کرے گی۔ لارمی کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے حلقہ انتخاب میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بہت ساری کوششیں کیں جن میں کالج کا قیام، بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر و ترقی شامل ہیں۔ این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ میں نے ایم ایل اے اور ایم ایل سی کی حیثیت سے اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں کے لیے وہ کچھ کیا جو گزشتہ 20برسوں کے دوران دیگر سیاسی پارٹیوں نے نہیں کیا۔ ’میں نے حلقہ انتخاب کے ہر گاؤں اور دیہات میں بجلی کی فراہمی کویقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائے، میں نے یہاں بجلی پول، تاریں لگوائیں تاکہ لوگوں کو بہتر سہولیات میسر ہو۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ایک کالج ہو ، میں نے اس کے لئے اسمبلی اور بورڈ میٹنگیں میں بھی زورو شور کے ساتھ آواز اُٹھائی اور اس بات کو ممکن بنایا کہ نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ڈگری کالج ممکن ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت میرے حلقہ انتخاب میں 42کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کھڈونی سنگم روڑ پر بھی کام جاری ہے اور میں پرامید ہوں کہ مستقبل قریب میں یہ راستہ بھی لوگوں کے لیے دستیاب رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ حلقہ انتخاب ہوم شالی بگ میں آزادی کا جذبہ موجود ہے اور لوگ اس جذبے کے ساتھ وابستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں پر جماعت اسلامی والوں کا کافی اثر ہے اور لوگ ان کے نظریہ سے بے حد متاثر دکھائی دے رہے ہیں تاہم اب لوگوں کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آئی ہے کہ بائیکاٹ کرنے سے کسی کا بھی بھلا نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حلقہ انتخابات میں 1977سے ہی لوگ جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہے اورجذبہ آزادی کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں تاہم ایسے لوگوں کو بھی اب اس بات کا فہم حاصل ہوچکا ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ پرس پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن میں ذاتی طور پر اس کو ایک بہت بڑی غلطی سے تعبیر کرتا ہوں کیوں کہ ہمارے بائیکاٹ کا غیروں نے فائدہ اُٹھاکر وادی کشمیر میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائی۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں کی مجموعی آبادی جس جذبہ آزادی کے ساتھ وابستہ ہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ اُس مسئلہ کو سیاسی سطح پر ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تو ببانگ دہل اسمبلی میں اس بات کا اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی قوت یا دھونس دباؤ سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے ساسی سطح پر پہل کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے بھی مسئلہ کشمیر کو سیاسی سطح پر حل کرنے کی وکالت کی۔ انہوں نے 1953کو وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے سامنے اس بات کا کھلا اعلان کیا کہ ہمیں اپنا حق دیا جائے لیکن بدقسمتی سے اُس کی مرکزی قیادت نے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی بات سننے کے بجائے انہیں جیل میں ڈال دیا۔
عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ 22سال تک جیل میں رہے تاہم اس دوران نئی دہلی نے یہاں بخشی، میر قاسم، صادق اور مفتی پیدا کرکے یہاں کے نظام کو درہم برہم کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیل سے باہر آنے کے بعد 1975میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے جو ایکارڈ کیا اُس کاالگ پس منظر تھاکیوں کہ اُس وقت حال ہی میں پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ’بنگلہ دیش‘ الگ ہوچکا تھا اور اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان انتہائی کمزور ہوا تھا اور بھارت کو بھی اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہونے لگا تھا کہ اس طرح کا طریق کار دیرپا نہیں ہوسکتا۔این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ ریاست کی اٹانومی کوبحال کرنے کی خاطر ہی 1975میں ایکار ڈعمل میں لایا اور اُس وقت نئی دہلی نے بھی مرحوم کو یقین دہائی کرائی کہ ریاست کی اندرونی خود مختاری کو فوری طور پر بحال کردیا جائیگا لیکن بدقسمتی کے ساتھ مرحوم شیخ محمد عبداللہ اس دنیا سے انتقال کرگئے اور نئی دہلی نے اپنی یقین دہانی کو پورا نہیں کیا۔ عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ سال 1996میں جونہی نیشنل کانفرنس اقتدار میںآگئی تو اس نے 2002میں ریاست اسمبلی میں اٹانومی سے متعلق قرار داد پاس کرائی تاہم بدقسمتی سے نئی دہلی نے اٹانومی کی قرار داد کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔این سی لیڈر نے بتایا کہ میں ذاتی طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ہمیں اُسی وقت بطور احتجاج اقتدار سے دستبردار ہونا چاہیے تھا لیکن ہم نے عوامی خواہشات کے خلاف جاکر بڑی غلطی کا ارتکاب کیا۔انہوں نے بتایا کہ اگر آنے والے انتخابات میں پارٹی مضبوط منڈیت کے ساتھ اقتدار میں آتی ہے تو ہم اسمبلی میں اٹانومی سے متعلق قرار لائیں گے اور کو پاس کرواکر ہی دم لیں گے۔این سی لیڈر کا کہنا تھا کہ ریاست جموں وکشمیر میں امن کے قیام اور تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں یکساں تعمیر و ترقی کے لیے اٹانومی واحد حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاست میں اٹانومی کو بحال کیا جاتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ جموی عوام کو حاصل ہوگا لیکن فرقہ پرست سیاسی جماعتوں نے وہاں الگ ماحول قائم کرتے ہوئے جموی عوام کے قلب و ذہن میں دوریاں پید اکی ہیں۔ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام میں پائی جارہی دوریوں پر بات کرتے ہوئے عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے صرف اور پی ڈی پی کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید ہی ذمہ دار ہے جنہوں نے فرقہ پرست بی جے پی کے ساتھ سیاسی نکاح کرتے ہوئے ریاستی عوام کی خواہشات کا سودا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق مخلوط حکومت کے دورا قدار میں جموی عوام پر فرقہ پرستوں کے کافی تشدد ڈھایا۔ وہاں کی مسلم آبادی کو اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کردیا گیا۔ مسلمان گوجروں کو سدھرا، وجے پور اور بھٹندی جیسے علاقوں سے نکلوایا گیا۔ اگر محبوبہ مفتی اُس وقت جموں میں مسلمانوں پر ہورہی زیادتیوں پر آواز اُٹھائی تو ہم بھی سمجھتے کہ انہیں ریاستی عوام کی فکر لاحق ہے تاہم اب جب کہ موصوفہ اقتدار سے باہر کردی گئی ، لہٰذا اُن کی آواز ڈرامہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں۔عبدالمجید لارمی کا کہنا تھا کہ اگر چہ جنوبی کشمیر کو پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا ہے تاہم آنے والے اسمبلی انتخاب میں نیشنل کانفرنس پی ڈی پی اوردیگر سیاسی جماعتوں کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ پارٹی جنوبی کشمیر کی 16میں سے 12نشستوں پر جیت درج کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔انہوں نے الزم عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسیوں نے نیشنل کانفرنس کا مقابلہ کرنے کی خاطر سجاد غنی لون ، انجینئر رشید اور دیگر نئے چہروں کو میدان میں اُتارا ہے لیکن عوام صرف اور صرف نیشنل کانفرنس کو ہی ووٹ دے گی ۔ سال 2010میں عمر عبداللہ کی سرکار کے وقت وادی کشمیر میں نوجوانوں کی ہلاکت پر لارمی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اُس وقت بہت ساری جانیں ضائع ہوئیں تاہم اُس کے لیے عمر عبداللہ نے عوام سے معافی طلب کی اور میں بھی پارٹی کا ادنی کارکن ہونے کی حیثیت سے اُن ہلاکتوں پر عوام سے معافی طلب کرتا ہوں۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
