تازہ ترین
سدرشن ٹی وی معاملہ: فرقہ ورانہ بیانات سے نفرت پھیلا رہا چینل، کئی سابق افسران نے مودی حکومت کو لکھا خط
تنازعہ کی شکل اختیار کر چکے ‘یو پی ایس سی جہاد’ کو لے کر 91 سابق سول سرونٹ کے ایک گروپ نے وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات و نشریات کو خط لکھ کر سدرشن نیوز ٹی وی کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تنویر:-
سدرشن ٹی وی چینل کے ذریعہ ایک متنازعہ پروگرام کا مسئلہ طول پکڑ چکا ہے۔ ‘جامعہ کے جہادی’ پرومو اور ‘یو پی ایس سی جہاد’ ہیش ٹیگ چلائے جانے کے بعد سدرشن ٹی وی اور اس کے ایڈیٹر اِن چیف چوہان کے خلاف لوگوں کی سخت ناراضگی لگاتار ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں اب 91 سابق سول سرونٹ کے ایک گروپ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر کو خط لکھ کر ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ سدرشن نیوز ٹی وی کے خلاف قانونی اور ایڈمنسٹریٹو کارروائی کی جائے کیونکہ اس نے ماحول میں نفرت کا زہر گھولنے کی کوشش کی ہے۔
خط تحریر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سول سروسز میں مسلم افسران کے سازش کے تحت دراندازی یا یو پی ایس سی جہاد اور سول سروسز جہاد جیسے بیانات بیمار ذہنیت کی مثال اور قابل سزا جرم ہے۔ خط میں دستخط کنندگان نے یہ بھی کہا ہے کہ “ایسے فرقہ وارانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نفرت پھیلتی ہے اور پورے طبقہ کی بدنامی ہوتی ہے۔” خط میں وزیر داخلہ، اطلاعات و نشریات کے وزیر، قومی حقوق انسانی کمیشن سربراہ، اقلیتی کمیشن سربراہ، یو پی ایس سی چیئرمین، نیوز براڈکاسٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ، سکریٹری، وزارت داخلہ سکریٹری، اطلاعات و نشریات کی وزارت اور پولس کمشنر دہلی کو مخاطب کیا گیا ہے۔
سابق سول سرونٹس نے خط میں کہا ہے کہ “ہم اس خط کے ذریعہ سدرشن نیوز ٹی وی چینل کے ایک فرقہ وارانہ الزام، تقسیم کرنے اور سنسنی خیز سیریز کے نشریہ کو لے کر ایک ضروری ایشو اٹھا رہے ہیں۔ یہ سیریز ملک کے دو سب سے باوقار سروسز آئی اے ایس اور آئی پی ایس میں مسلم افسران کی تعداد میں اچانک اضافہ کو لے کر بھرتی کے عمل میں سازش کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔”
دستخط کنندگان نے چینل کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آگے لکھا ہے کہ “اس سلسلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو منتخب کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دہلی ہائی کورٹ نے سیریز کے ٹیلی کاسٹ پر عبوری روک لگا دی ہے۔ حالانکہ ہمیں لگتا ہے کہ اسے لے کر مضبوط قانونی اور ایڈمنسٹریٹو کارروائی کی ضرورت ہے۔”
خط میں کہا گیا ہے کہ “یہ الزام لگانا کہ سول سروسز میں مسلم افسران کی سازشاً دراندازی کرنے، یا اس سلسلے میں یو پی ایس سی جہاد یا سول سروس جہاد جیسے لفظوں کا استعمال انتہائی نامناسب ہے۔ ایسے فرقہ وارانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان اور تقریر سے نفرت پھیلنے کے ساتھ پورے طبقہ کی بدنامی ہوتی ہے۔”
دستخط کنندگان نے کہا کہ “اگر اس پروگرام کے نشریہ کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ ملک کے سب سے بڑے اقلیتی طبقہ یعنی مسلمانوں کے تئیں بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے نفرت پیدا کرے گا۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف کورونا جہاد اور لو جہاد کے الزام سمیت کئی نفرت آمیز باتیں پہلے ہی فضا میں گونج رہی ہیں، جسے مختلف عدالتوں نے بھی غلط مانا ہے۔ یہ ٹیلی کاسٹ اسی آگ کو بڑھانے میں ایندھن کا کام کرے گا۔”
خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سول سروس داخلہ کے لیے اہم ادارہ یو پی ایس سی کی خامی سے پاک نظام کے وقار کو، اس کے داخلہ عمل کے جانبدارانہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دھومل کرے گا۔ خط میں آگے کہا گیا ہے کہ “یہ سرکاری سروسز میں، خاص کر آئی اے ایس اور آئی پی ایس سروسز کے لیے چنے جانے والے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کے بارے میں غلط سوچ پھیلائے گا۔” خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ “یو پی ایس سی جہاد اور سول سروس جہاد جیسے الفاظ کا استعمال ملک کے شہری انتظامیہ کو مذہب کی بنیاد پر بانٹنے کی ایک کوشش ہے اور پورے ہندوستان کی ترقی کے لیے قائدین کے ذریعہ کیے گئے بہترین تعاون کو نظر انداز کرنے والا ہے۔”
واضح رہے کہ حال ہی میں سدرشن ٹی وی کے اس پروگرام کے تعلق سے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پروگرام کے نشریہ پر کوئی روک نہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ “ہم دھیان دیں کہ اہل اتھارٹی، قانونی ضابطوں کے تحت قانون کے عمل کو یقینی کرنے کے لیے طاقتوں کے ساتھ موجود ہے، جس میں سماجی خیر سگالی اور سبھی طبقات کے پرامن وجود کو یقینی کرنے کے لیے مجرمانہ قانون کے ضابطے بھی شامل ہیں۔”
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ “اس لیے ہم مرکزی وزارت داخلہ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر، دہلی کے وزیر اعلیٰ، دہلی پولس کمشنر سے متعلق قانونی ضابطوں کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے کی گزارش کرتے ہیں۔ ہم وزارت اطلاعات و نشریات اور نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹینڈرڈس اتھارٹی آف انڈیا سے یہ بھی جانچ کرنے کی گزارش کرتے ہیں کہ وہ یہ شول کیبل ٹیلی ویژن نیٹورک ایکٹ 1994، کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ریگولیشن) ایکٹ کے تحت چلنا چاہیے یا نہیں اور اس کے بعد کوڈ آف ایتھکس اور براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈ کے مطابق ان پر کارروائی کریں۔”
اس خط پر دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، آئی ایف ایس (سبکدوش) اور سابق خارجہ سکریٹری اور سابق قومی سلامتی مشیر شیوشنکر مین،، انڈین ٹیلی مواصلات ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق سربراہ راہل کھلر، مدھیہ پردیش حکومت میں کام کر چکے ہرش مندر، سماجی انصاف حقوق محکمہ میں سابق سکریٹری انیتا اگنی ہوتری اور سی بی آئی میں سابق اسپیشل ڈائریکٹر کے. سلیم علی نے دستخط کیے ہیں۔
دیگر دستخط کنندگان میں راجستھان میں سابق چیف سکریٹری صلاح الدین احمد، کابینہ سکریٹریٹ میں سابق اسپیشل سکریٹری آنند ارنی، مدھیہ پردیش میں سابق چیف سکریٹری شرد بیہر، سابق ہیلتھ سکریٹری جاوید چودھری، یونائٹیڈ کنگڈم کے سابق ہائی کمشنر نریشور دیال، وزارت مالیات میں سابق سکریٹری اور چیف معاشی مشیر نتن دیسائی، سابق ہیلتھ سکریٹری کیشو دیسی راج، سابق سکریٹری (خزانہ) اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پی کے لاہڑی بھی شامل ہیں۔
اتنا ہی نہیں، خط پر سبکدوش آئی اے ایس افسر اور سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، وزارت ثقافت کے سابق سکریٹری اور پرسار بھارتی کے سابق سی ای او جوہر سرکار، انٹر اسٹیٹ کونسل کے سابق سکریٹری امیتابھ پانڈے، گجرات حکومت میں سابق پولس ڈائریکٹر جنرل پی جی جے نامپوتھری، سابق خارجہ سکریٹری اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزری کے سابق چیئرمین شیام سرن اور وزارت مالیات میں سابق سکریٹری نریندر سسودیا کے بھی دستخط ہیں۔(قومی آواز)
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر23 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
