جموں و کشمیر
سرکاری عہدوں کا غلط استعمال،انتظامی ومالی بے ضابطگیاں،رشوت خوری اور غیرمتناسب اثاثوں کے معاملات
انسداد کورپشن بیورﺅ جموں وکشمیرسرگرم عمل
11اپریل2025 تک سرکاری اہلکاروں کیخلاف12 مقدمات درج ،2024میں87مقدمات کااندراج
سری نگر: جے کے این ایس : انسداد کورپشن بیورﺅ جموں وکشمیرنے مالی بے ضابطگیوں،رشوت خوری اور غیرمتناسب اثاثے ہونے کی پاداش میں رواں سال 11اپریل تک اعلیٰ افسروں وانجینئروں سمیت کل12سرکاری اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج کئے جبکہ سال 2024میں انسداد کورپشن بیورﺅ جموں وکشمیرنے ایسے ہی معاملات میں 87سینئر سرکاری اہلکاروں اور چھوٹے ملازمین کیخلاف کیس درج کئے تھے ۔ان سبھی 99کورپشن کیسوںکی تحقیقات جاری ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق انسداد کورپشن بیورﺅ جموں وکشمیرکی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات میں بتایاگیاہے کہ پولیس اسٹیشن اینٹی کورپشن بیورﺅ سری نگرنے 9جنوری 2025کوغیر متناسب اثاثے ہونے پر چیف فائنانشل آفیسر سری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ ساجد یوسف بٹ ولد محمد یوسف بٹ ساکنہ نمبلہ بل پانپور حال سکونت دولت آباد خانیار سری نگر کیخلاف ایک مقدمہ زیر اٰف آئی آر 01/2025درج کیا۔اسی طرح کے ایک اورمعاملے میں پولیس اسٹیشن اینٹی کورپشن بیورﺅ سری نگرنے غیر متناسب اثاثے ہونے پر ، ایگزیکٹو انجینئر سری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ ظہور احمد ڈار ڈار عبدالرزاق ڈار ساکنہ ٹاکنواری پورہ سری نگر حال سکونت غالب آباد لین نمبر 5 شالٹینگ سری نگرکیخلاف ایک مقدمہ زیر اٰف آئی آر 02/2025درج کیا۔پولیس تھانہ اے سی بی سرینگرنے 6فروری 2025کو اشرف ملک کمپیوٹر آپریٹر، دیہی ترقی محکمہ، بلاک گنڈ، گاندربل کیخلاف شکایت کنندہ سے بطور رشوت 3000روپے کا مطالبہ اور قبول کرنے کی پاداش میں ایک کیس زیر ایف آئی آر03/2025درج کیا۔ پولیس اسٹیشن اینٹی کورپشن بیورﺅ سری نگرنے7مارچ2025کوغیر متناسب اثاثے ہونے پرغلام محمد بٹ جونیئر انجینئر جل شکتی (پی ایچ ای) محکمہ کیخلاف ایف آئی آر نمبر 04/2025کے تحت مقدمہ درج کیا ۔ایسی ہی ایک اورکارروائی میں پولیس اسٹیشن اینٹی کورپشن بیورﺅ سری نگرنے 19مارچ2025کوسرکاری عہدے کا غلط استعمال کرنے کی پاداش میں ، اس وقت کے برانچ منیجر جے کے بنک کرن نگرسری نگر برہان احمد خان ولد محمد یعقوب خان ولد مدبل نوشہرہ سری نگر، منظور احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ اوراسوقت کے پٹواری حلقہ حاجن محمدیوسف میر ولدغلام احمد میر ساکنہ بڈینہ بڈگام کیخلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر05/2025درج کیا۔ پولیس اسٹیشن اینٹی کورپشن بیورﺅ سری نگرنے10اپریل 2025کوایاز احمد ہرہ گرداوارچھتہ بل (پٹواری حلقہ حباکدل اور حلقہ شیوپورہ کے اضافی چارج پر فائز) اورلمبردارحلقہ حبہ کدل سری نگر محمدرفیق شیخ کیخلاف ایک شکایت کنندہ سے مبلغ 20ہزارروپے بطور رشوت کا مطالبہ اور قبول کرنے پر ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر06/2025درج کیا ہے۔اس دوران پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ نے 10جنوری2025کوغیر متناسب اثاثے ہونے پر ریاض احمد پرے ریٹائرڈ سپرنٹنڈنگ انجینئرمحکمہ پی ڈبلیو ڈی(آراینڈ بی )کیخلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 01/2025درج کیا۔ادھر تھانہ سنٹرل اینٹی کورپشن بیورﺅنے 2جنوری2025کو فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ میں فائر مین اورفائر مین ڈرائیوروں کے انتخاب کے عمل میں کی گئی بے ضابطگیاں کے سلسلے میں ڈیپارٹمنٹل ریکروٹمنٹ بورڈ کے ممبران، بشمول چیئرمین، ٹیکنیکل کمیٹی کے ممبران، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے افسران وملازمین ، جو بھرتی کے عمل سے وابستہ رہے،M/S-LMES IT LLPاپنے اہم پارٹنر مہاراج کرشن والی کے ذریعے، فائدہ اٹھانے والوں کیخلاف ایف آئی آر نمبر01/2027کے تحت کیس درج کیا۔اسی طرح سے تھانہ سنٹرل اینٹی کورپشن بیورﺅنے19فروری2025کو سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرنے کی پاداش میں بھارت بھوشن شرما، اس وقت کے منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے کوآپریٹو ہاو ¿سنگ کارپوریشن اور دیگران کیخلاف ایف آئی آر نمبر02/2025کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ادھر پولیس اسٹیشن اے سی بی جموں نے 13فروری2025کوسدرشن کھجوریا پٹواری حلقہ خان پورتحصیل مرہین کٹھوعہ کیخلاف شکایت کنندہ سے مبلع 15ہزار روپے بطور رشوت طلب اورقبول کرنے کی پاداش میں ایف آئی آر نمبر 01/2025درج کیا ۔جبکہ پولیس اسٹیشن اے سی بی جموں نے ایک اور کارروائی میں 11اپریل2025کوسرکاری عہدے کا غلط استعمال کرنے کی پاداش میں برج بھوشن شرما، اس وقت کے ایم ڈی، جے اینڈ کے کوآپریٹو ہاو ¿سنگ کارپوریشن لمیٹڈ، سیوا رام پھر انچارج اکاو ¿نٹس سیکشن جے اینڈ کے کوآپریٹو ہاو ¿سنگ کارپوریشن لمیٹڈ، بھارت بھوشن اسوقت کے ایم ڈی جے اینڈ کے کوآپریٹو ہاو ¿سنگ کارپوریشن لمیٹڈ ہواوردیگران کیخلاف ایف آئی آر نمبر 02/2025کے تحت کیس درج کیا۔ادھر پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری نے 3اپریل 2025کوغیر متناسب اثاثے ہونے پر دربار چودھری، سابق سرپنچ دھنور گورسیاں راجوری اور سابق بی ڈی سی چیئرمین، بلاک راجوری کیخلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 01/2025درج کیا۔ قابل ذکر ہے کہ سال 2024میں انسداد کورپشن بیورﺅ جموں وکشمیرنے ایسے ہی معاملات میں 87سینئر سرکاری اہلکاروں اور چھوٹے ملازمین کیخلاف کیس درج کئے تھے ،جن میں 42کیس جموں ڈویژن اور45کیس کشمیر صوبے میںدرج کئے گئے۔انسداد کورپشن بیورﺅ جموں وکشمیر کی نگرانی میںان سبھی 99کورپشن کیسوںکی تحقیقات جاری ہے۔
جموں و کشمیر
سنیل شرما کا عبداللہ خاندان پر ملک میں ‘سب سے بڑی انتخابی دھاندلی’ کا الزام
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما نے پیر کے روز عمر عبداللہ کے خاندان پر انتخابی بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ووٹ چوری کا سب سے بڑا الزام عبداللہ خاندان پر عائد ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق ریاست میں 1987 کے متنازعہ اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات پر نیشنل کانفرنس کی قیادت کے موقف پر سوال اٹھایا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کی شفافیت اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے کام کاج کی حمایت میں دیے گئے اپنے سابقہ بیانات کی وضاحت کریں۔
مسٹر شرما نے کہا، ”اگر ملک میں انتخابی دھاندلی کا سب سے بڑا الزام کسی پر ہے تو وہ جموں و کشمیر میں 1987 کے انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اس انتخابی بدعنوانی کے بعد فاروق عبداللہ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بعد کے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھانے سے پہلے 1987 کے انتخابات سے متعلق الزامات کا جواب دینا چاہیے۔
مسٹر شرما نے الزام لگایا، ”کانگریس نے یہاں ووٹ چوری کیے ہیں۔ 1987 کے انتخابات انتخابی بدعنوانی کی ایسی مثال ہیں، جسے ملک اور دنیا بھر میں یاد کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات صرف سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں ہوئے۔
انڈیا اتحاد کی ایک اہم جماعت نیشنل کانفرنس مسلسل بی جے پی پر انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کے الزامات لگاتی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں حلقہ بندی کے عمل پر بھی تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ عمل بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے انجام دیا گیا تھا۔
جموں و کشمیر میں انتخابات سے متعلق عمر عبداللہ کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما نے پہلے ایک انتخاب کو منصفانہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ای وی ایم درست طریقے سے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”آج اچانک ای وی ایم خراب کیسے ہو گئیں؟ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا اپنا انتخاب بھی دھاندلی زدہ تھا؟ آپ کو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ مجھے اس تضاد کی سمجھ نہیں آتی۔”
حزب اختلاف کے رہنما نے سابق ڈپٹی کمشنر خالق کے کردار کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں کون رکن اسمبلی بنے گا، اس کا فیصلہ کرنے میں ان کا کردار تھا۔
انڈیا اتحاد کے احتجاجی مظاہروں پر مسٹر شرما نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انہیں عام لوگوں کے لیے پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ضروری خدمات میں خلل ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ”آپ 2 سے 3 کروڑ لوگوں کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔ لوگوں کو اسکول جانا ہے، مریضوں کو اسپتال پہنچنا ہے اور کاروبار بھی چلنے چاہئیں۔”
انہوں نے کہا کہ احتجاج مقررہ مقامات پر ہونا چاہیے۔ مسٹر شرما نے مشورہ دیا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ٹریفک اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے کے بجائے اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں مظاہرے منعقد کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”اگر آپ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو کسی اسٹیڈیم یا رام لیلا میدان میں جائیں، 5 لاکھ یا 10 لاکھ لوگوں کو جمع کریں اور جتنا چاہیں احتجاج کریں۔”
مسٹر شرما نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں بی جے پی کے موقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ اسے پورے ہندوستان میں نافذ کیا جانا چاہیے اور جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
سری نگر میں پاکستانی لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو پناہ دینے والی جائیداد این آئی اے نے ضبط کی
سری نگر، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کو سری نگر میں ایک رہائشی جائیداد کو ضبط کر لیا۔ یہ کارروائی لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) سے مبینہ طور پر وابستہ سرحد پار دہشت گردی کی سازش کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق، اس جائیداد کا استعمال پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق مجرمانہ شواہد چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔
این آئی اے نے بتایا کہ سری نگر کے حضرت بل علاقے کے گاؤں دانی ہامہ میں واقع یہ رہائشی جائیداد ملزم غلام محمد میر عرف ماما گیس کی ملکیت ہے۔ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کے بعد غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 کی دفعہ 25 کے تحت جائیداد ضبط کی گئی۔
ایجنسی کے مطابق سال 2026 کے اس معاملے کی تحقیقات سے جائیداد اور مبینہ دہشت گردانہ سازش کے درمیان براہ راست تعلق ثابت ہوا ہے۔
این آئی اے نے بتایا کہ یہ معاملہ ابتدائی طور پر 31 مارچ 2026 کو سری نگر کے زکورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد ایجنسی نے اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دوبارہ درج کیا۔
ایجنسی کے مطابق، تحقیقات میں مقامی اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کے ایک ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے سرغنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کا مقصد پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی، نقل و حرکت، قیام اور دیگر ضروری انتظامات میں مدد فراہم کرنا تھا، تاکہ وہ سرکاری اداروں، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکیں۔
این آئی اے نے بتایا کہ 6 اپریل 2026 کو حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں میر کی رہائشی جائیداد پر تلاشی کے دوران دو مشتبہ پاکستانی دہشت گردوں کا پتہ چلا، جن کی شناخت ابو ہریرہ اور خبیب کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے وابستہ تھے۔
ایجنسی نے کہاکہ ”جائیداد سے دھماکہ خیز مادے جیسا ایک مشتبہ مادہ، ڈیجیٹل آلات اور دیگر مجرمانہ شواہد بھی برآمد کرکے ضبط کیے گئے۔ تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا کہ ملزم نے جان بوجھ کر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے اپنی رہائشی جائیداد ان کے حوالے کی تھی اور انہیں اپنی سرگرمیوں کے لیے اس جائیداد کے استعمال کی اجازت دی تھی۔”
انسداد دہشت گردی کی ایجنسی نے مزید بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے پورے نیٹ ورک کا پتہ لگانا اور اسے بے نقاب کرنا ہے۔ اس میں دیگر اوور گراؤنڈ ورکرز، سہولت کاروں اور پاکستان میں موجود دہشت گرد سرغنوں سے وابستہ افراد کی شناخت بھی شامل ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
ستمبر میں لداخ کی سیاحت میں 60 فیصد اضافہ، 55 ہزار سے زائد سیاحوں کی آمد
سری نگر، لداخ میں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ستمبر میں یہاں 55,582 سیاح پہنچے، جبکہ ستمبر 2025 میں یہ تعداد 34,610 تھی۔ اس طرح گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں سیاحوں کی آمد میں 60.60 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
عہدیداروں کے مطابق، یکم جنوری سے 30 ستمبر 2026 کے دوران لداخ آنے والے سیاحوں کی تعداد 4,60,667 رہی، جبکہ پورے سال 2025 میں یہاں 3,35,872 سیاح آئے تھے۔ اس طرح 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں ہی سیاحوں کی آمد گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں 37.16 فیصد زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام میں ابھی تین ماہ باقی ہیں۔
یہ اعداد و شمار ثقافتی تجربات، مہم جوئی پر مبنی سیاحت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور قدرتی ورثے کے باعث لداخ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے سیاحوں کی آمد میں اس نمایاں اضافے کا سہرا بہتر رابطہ سہولتوں اور مختلف تقریبات کے فروغ کو دیا۔ ان تقریبات میں لداخ بائیک ویک، لداخ میراتھن اور لداخ فیسٹیول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے سب سے زیادہ بلندی پر واقع للیئم پھولوں کے کھیتوں اور ہندوستان کی پہلی بلند پہاڑی جنگلی حیات کی سفاری جیسی نئی اور منفرد اقدامات نے بھی لداخ کی کشش میں اضافہ کیا ہے۔
گزشتہ سال اور رواں سال کے ابتدائی نو ماہ کے اعداد و شمار کا تقابل بھی سیاحت میں نمایاں اضافے کی تصدیق کرتا ہے۔ جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران لداخ میں 2,78,599 سیاح آئے تھے، جبکہ اسی مدت میں 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 4,60,667 ہوگئی۔ اس طرح سیاحوں کی آمد میں 65.38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملکی اور غیر ملکی، دونوں زمروں کے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2026 کے ابتدائی نو ماہ میں لداخ آنے والے ملکی سیاحوں کی تعداد 4,20,927 رہی، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 39,740 تھی۔ اس کے مقابلے میں 2025 کی اسی مدت کے دوران 3,03,838 ملکی اور 32,034 غیر ملکی سیاح لداخ پہنچے تھے۔ اس طرح ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 38.54 فیصد اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 24.06 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر5 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
