تازہ ترین
سشانت سنگھ راجپوت، ڈانسر سے اداکار تک کا سفر
سشانت سنگھ راجپوت 21 جنوری 1986 کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پٹنہ کے سینٹ کیرنس ہائی اسکول سے جبکہ دہلی کے کولاچی ہنسراج ماڈل اسکول سے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی اور دہلی کالج آف انجینئرنگ سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔
سشانت سنگھ فلمی دنیا میں کریئر بنانا چاہتے تھے اور اپنے اسی خواب کو سچ کرنے کے لیے وہ مایا نگری ممبئی چلے آئے۔
ممبئی آنے کے بعد سشانت نے بیک گراؤنڈ ڈانسر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ فلم فیئر ایوارڈ تقریب میں متعدد بار ڈانس بھی کرتے نظر آئے۔ اس شو کے دوران ہی بالاجی ٹیلی فلمز کی کاسٹنگ ٹیم کی نظر سشانت پر پڑی جس کے بعد ان کے کریئر کا آغاز ‘کس دیش میں ہے میرا دل’ نامی سیریل سے ہوا۔ اس میں انہوں نے پریت جُنیجا کا کردار ادا کیا۔
اس کے بعد ذی ٹی وی ‘پوِترا رشتہ’ نامی شو میں سشانت سنگھ کام کیا جو ان کے کریئر کے لیے سنگ میل ثابت ہوا اور سشانت کا چھوٹے پردے شناخت ملی۔
بعد ازاں وہ ڈانس رئیلٹی شو ‘ذرا نچ کے دِکھا سیزن 2’ اور ‘جھلک دِکھلا جا سیز 4’ میں بھی نظر آئے۔ کم وقت میں ہی ٹیلی ویژن کا ایک بڑا اسٹار بننے والے سشانت نے فلموں کی جانب رُخ کیا۔
سُشانت سنگھ راجپوت نے سنہ 2013 میں ابھیشیک کپور کی ہدایت کاری میں بنی فلم ‘کائی پو چے’ سے بالی وڈ میں قدم رکھا۔
فلم ‘کائی پو چے’ میں ان کے کردار کی تحریک انہیں اپنی بہن میتو سنگھ سے ملی تھی جو ریاستی سطح کی کرکٹر ہیں۔ اس فلم میں سُشانت کی اداکاری کو شائقین نے خوب پسند کیا۔
اسی برس ‘یش راج’ بینر کے تحت بنی فلم ‘شُدھ دیسی رومانس’ میں بھی سُشانت سنگھ نے اپنی رومانوی اداکاری سے ناظرین کا دل جیت لیا۔
اس کے بعد سنہ 2014 میں راجکمار ہیرانی کی ہدایتکاری میں بنی بلاک بسٹر فلم ‘پی کے’ یوں تو مکمل طور پر عامر خان کی اداکاری پر منبی تھی لیکن اس میں سُشانت سنگھ راجپوت کی اداکاری نے ناظرین کو کافی محظوظ کیا تھا۔
انہوں نے سنہ 2015 میں ریلیز ہوئی دیباکر بنرجی کی ہدایتکاری میں بنی فلم ‘بیومکیش بخشی’ میں اپنی مضبوط اداکاری سے ایک بار پھر سے فلمی ناظرین کا دل جیت لیاتھا۔
سال 2016 میں ریلیز ہوئی فلم ‘ایم ایس دھونی: دی اَن ٹولڈ اسٹوری’ سُشانت سنگھ کے کریئر کی سب سے بڑی ہٹ فلم مانی جاتی ہے۔ اس فلم میں انہوں نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کردار ادا کیا تھا جسے کافی پزیرائی ملی تھی۔
سُشانت نے اسکرین پر دھونی بننے کے لیے سخت محنت کی تھی۔ ماہی کی چال سے لے کر بال تک۔ تلفظ سے لے کر بیٹنگ کے انداز تک، سب کچھ ہوبہو نقل کرنے کی بہترین کوشش کی تھی۔
اس کے بعد انہوں نے رابطہ، کیدار ناتھ، سون چریا اور چھِچھورے جیسی فلموں میں بھی کام کیا۔
انہوں نے آر مادھون کے ساتھ ایک سائنس فکشن خلائی فلم چندا ماما دور کے میں شامل ہونا تھا لیکن کسی وجہ سے اس فلم کی شوٹنگ نہیں ہوسکی اس کے علاوہ انہوں نے ‘اسٹوریز آف انڈیا’ کے موضوع پر ایک بائیوپک سیریز میں سیاسی حکمت عملی کے ماہر چانکیہ، شاعر رابندر ناتھ ٹیگور اور سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام سمیت 12 اہم شخصیات کے کرداروں نبھانا تھا۔
لیکن 14 جون خبر آئی کہ سشانت سنگھ راجپوت ممبئی کے باندرہ میں واقع اپنے مکان میں مردہ حالت میں ملے۔ اس دل سوز خبر نے سُشانت کے تمام مداحوں کو سکتے ڈال دیا۔
سشانت سنگھ راجپوت نے مشہور ایکشن ڈائریکٹر ایلن امین سے مارشل آرٹس کی ٹریننگ بھی لی تھی۔
سُشانت سنگھ راجپوت اپنی ‘لو لائف’ کے سلسلے میں بھی اخبارات اور ٹی وی میں سرخیوں میں رہے۔ وہ طویل عرصے سے اپنی گرل فرینڈ انکیتا لوکھنڈے کے ساتھ تعلقات میں تھے۔ دونوں کی ملاقات پہلی بار ‘پوِتر رشتہ’ کے سیٹ پر ہوئی تھی اور وہیں سے ہی ان کی محبت شروع ہوئی۔(ای ٹی وی)
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا نیا نقشہ شیئر کر کے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نیا نقشہ شیئر کرتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کے فوراً بعد ہوئی، جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنا تھا۔
متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سوال اٹھایا کہ آیا تہران امریکی مطالبات پر عمل کرے گا۔
امریکی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملے شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاملے سے واقف امریکی حکام نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے قطر کے ثالثوں کے ذریعے سات روزہ تجویز پیش کی تھی۔
اس تجویز کے تحت ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولتا اور جوہری مذاکرات بحال کرتا، بشرطیکہ واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیتا۔تاہم امریکی حکام نے تہران اور ثالثوں کو بتایا کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے، جبکہ واشنگٹن تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
دریں اثنا، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے تصفیے کی نئی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جون میں طے پانے والے ایک ابتدائی معاہدے کی بعض شرائط کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
تاہم قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے سفارت کاری جاری رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’’بہت مشکل اور چیلنجنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے آبی گزرگاہوں کے معاملے میں ’’جوڑ توڑ اور بلیک میلنگ‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے اور امید ظاہر کی کہ سفارت کاری دونوں فریقوں کو کسی حل تک پہنچا سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اس کی تجویز قبول کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو ’’سیکولر ذہن رکھنے والے‘‘ لوگوں سے ملک میں جمہوریت اور بھائی چارے کے تحفظ کے لیے 29 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ احتجاج دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے ان لوگوں سے اس اجتماع میں شرکت کی اپیل کی جو ہندوستان کی ’’جمہوری اور سیکولر اقدار‘‘ کو عزیز رکھتے ہیں۔
پوسٹ کے ساتھ جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ مساجد، درگاہوں اور گرجا گھروں کو ’’بے رحمی سے منہدم‘‘ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے حامیوں اور ’’سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر مسلمانوں‘‘ کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان تمام مظالم کے خلاف انڈین مسلمانوں کی مانیٹرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 29 ستمبر کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت جمہوریت، ملک کی فلاح و بہبود اور اس کی ’’گنگا-جمنی تہذیب‘‘ کے تحفظ کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
