تازہ ترین
سمبل عصمت ریزی: 47فورسز اہلکاروں سمیت 60افراد زخمی، ایک کی حالت نازک
خبراردو:ملک پورہ ترہگام بانڈی پورہ میں گزشتہ ہفتے ایک درندرہ صفت انسان کی جانب سے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کئے جانے کے خلاف سوموار کو وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اس شرمناک واقعے میں ملوث عناصر کو غیر معمولی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق تین سالہ معصوم بنت حوا کے ساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف شمالی کشمیر کے پٹن علاقے میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس دوران یہاں دن بھر افرا تفری کا ماحول بپا رہا۔ نمائندے کے مطابق پٹن کے ژین بل نامی علاقے میں سوموار کی صبح لوگوں کی ایک بڑی تعداد مجتمع ہوئی جنہوں نے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ ہوئی شرمناک زیادتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملوث شخص کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھڑک اُٹھے احتجاج میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جس کے بعد یہاں امن و قانون کو نافذ کرنے والے ادارے جائے موقعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے احتجاج کررہے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کی راہ لینے کی اپیل کی۔ اس موقعے پر احتجاج کررہے لوگوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی۔ انہوں نے اس موقعے پر پلے کارڈ اور بینر اُٹھارکھے تھے جن پر بچی کو انصاف فراہم کرنے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے جیسے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ اس موقعے پر جونہی پولیس اور سی آر پی ایف نے احتجاج کررہے لوگوں کو پیچھے دھکیلنے اور احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کی تو احتجاج میں شامل نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر شدید سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔
معلوم ہوا کہ فورسز نے احتجاج کررہے لوگوں کو شاہراہ کی جانب پیش قدمی کرنے سے روکتے ہوئے آنسو گیس کے درجنوں گولوں کےساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ بھی کی جس کے بعد علاقے میں ہر سو سنسنی پھیل گئی۔ ادھر مظاہرین نے بھی احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے نعرے بازی کےساتھ ساتھ سنگ باری کا سلسلہ تیز کردیا تاہم فورسز نے احتجاجیوں کو کچلنے کی خاطر شلنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔ معلوم ہوا کہ زخمیوں میں سے ارشد احمد ڈار سر میں ٹیر گیس شل لگنے کے نتیجے میں بری طرح سے زخمی ہوا جسے بعد میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔ادھر شمالی کشمیر کو ملانے والی شاہراہ پر بھی سوموار کو دن بھر کئی مقامات پر جن میں ناربل، میر گنڈ، لاوے پورہ شامل ہیں میں لوگوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل بری طرح سے مسدود ہوکے رہ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ میر گنڈ ، ناربل اور لاوے پورہ علاقوں میں لوگوں جن میں مرد و خواتین اور نوجوان شامل تھے نے سوموار کی دوپہر کو شاہراہ پر نکل کر شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کررہے لوگوں نے واقعے میں ملوث عناصر کو سخت سزا دینے اور متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی بھی مانگ کی۔ اس موقعے پر احتجاج سے شاہراہ پر ٹریفک کی آواجاہی بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی جبکہ مظاہرین نے جگہ جگہ ٹیر جلانے کےساتھ ساتھ شاہراہ پر موٹے موٹے درختوں کےساتھ ساتھ بھاری بھرکم پتھر بھی رکاوٹ کے طور پر نصب کئے تھے۔اس دوران گورنمنٹ گرلز ہائر اسیکنڈی اسکول بانڈی پورہ میںزیر تعلیم طالبات نے بھی واقعے کے خلاف پرامن احتجاج کرتے ہوئے ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول کی طالبات نے سوموار کی صبح پلان بانڈی پورہ سے نوپورہ چوک تک ایک احتجاجی مارچ نکالا جس دوران انہوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کی۔طالبات نے میڈیا کےساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی قریب میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے جنہیں بعد میں سیاسی اثر ورسوخ کی پاداش میں گول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شرمناک واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ واقعے کی تحقیقات غیر جانبدارانہ طریقے پر انجام دے اور سیاسی اثر و رسوخ سے کیس کو مستثنیٰ رکھا جائے۔ طالبات کا یہ احتجاجی مارچ بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوا۔
اس دوران ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کےساتھ ساتھ اندرکوٹ، حاجن، گاڑ کھڈ اور تلارزو سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مشترکہ طور پر اس دلدوز اور شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ معلوم ہوا کہ ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کے زعما نے سمبل چوک میںپرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران انہوں نے واقعے کے خلاف جم کر نعرے بازی کرنے کےساتھ ساتھ متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ادھر سنٹرل یونیورٹی کشمیر کے گاندربل کیمپس اور گورنمنٹ ڈگری کالج گاندربل کے طلبا و طالبات نے گزشتہ ہفتے پیش آنے شرم ناک سانحے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مانگ کی کہ وہ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ طلبا و طالبات نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ سمبل کیس کا حشر ماضی کے مقدمات کی طرح نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جانا چاہیے تاکہ مستقل میں ایسا کوئی سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو۔
ادھر واقعے کے خلاف گاندربل کے بیہامہ، ددرہامہ، قمریہ چوک میں سوموار کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ نمائندے کے مطابق تین سالہ بچی کےساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف گاندربل کے کئی علاقوں میں سوموار کو احتجاجی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں آبادی نے ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند رہی۔ادھر تین سالہ بچی کی آبرو ریزی کے دل دہلانے والے واقعہ کے خلاف وادی کے بیشتر ضلع ہیڈکواٹرس میں احتجاجوں اور ہڑتالوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔
حریت کانفرنس کی(ع) ایک اکائی جموں وکشمیر اتحاد المسلمین کی کال پر پیر کے روز وادی کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال کے بیچ احتجاجوں کا سلسلہ بھی جاری رہاجہاں سینکڑوں مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر پ±رامن احتجاج کیا وہیں ضلع کپوارہ اور ہندوارہ کے ڈگری کالج طلبا وطالبات نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کیے اور ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ۔ادھر ایمز اسکول نے بھی ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی اور یہاں زیر تعلیم طلاب نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر ”ایمن کو انصاف دو“ اور ”مجرم کو سزائے موت دو“ جیسے نعرے درج تھے۔ادھر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے سوموار کو سرینگر بارہمولہ کو جانے والی ریل گاڑیوں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ریلوے حکام کے مطابق سمبل سانحہ کے پیش نظر ریلوے جائیداد اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر ریلوے کے اعلیٰ حکام نے سوموار کو سرینگر سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرینگر سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل گاڑیاں معمول کے مطابق اپنا سفر جاری رکھیں گے۔اس دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس برائے شمالی کشمیر محمدسلیمان چودھری نے سمبل علاقے کا دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی شمالی کشمیر محمد سلیمان چودھری نے سوموار کو واقعے کے حوالے سے دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں کےساتھ تبادلہ خیال کیا۔
معلوم ہوا کہ ڈی آئی جی نے یہاں لوگوں کے ساتھ کئی میٹنگیں منعقد کیں جس دوران انہوں نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ واقعے کی ٹھوس اور اعلیٰ سطحی انکوائری عمل میں لائی جائےگی اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائےگا۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پولیس کی طرف سے جاری تحقیقات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کا اظہار کریں۔ یہاں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران ڈی آئی جی نے بتایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ پولیس کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقاتی عمل پر مکمل بھروسہ کریں۔ہم نے پہلے ہی واقعے سے متعلق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تشکیل دیا ہے جس میں پولیس کے سینئر افسران کام پر لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی ٹیم میں شامل سینئر پولیس افسران واقعے سے متعلق ثبوت و شواہد کو حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر مصلحت اندیشی سے کام نہیں لیا جائےگا۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات پیشہ ورانہ بنیادوں پر عمل میں لائی جارہی ہے، میں آج یہاں ذاتی طور پر آگیا اور یہاں زمینی صورتحال کا جائزہ لے کر لوگوں کے ساتھ بات چیت کی۔ واقعے پر گہرائی سے نظر گزر رکھنے کے لیے ایس ایس پی بانڈی پورہ کو گزشتہ کئی دنوں سے بانڈی پورہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سمبل اور متصل علاقوں میں واقعے کے خلاف لوگوں نے جم کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا کیوں کہ واقعے میں ملوث نوجوان کی تاریخ پیدائش سرٹیفکیٹ سے متعلق کئی شبہات نے جنم لیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اسکول پرنسپل کی طرف سے تاریخ پیدائش جاری کی گئی اور جسے بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا وہ اصل میں صحیح نہیں ہے۔ پولیس نے اس معاملے کا بھی علیحدہ سے نوٹس لے لیا ہے اور سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں ملوث اسکولی پرنسپل اور دیگر عملے سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ڈی جی پی کے بقول واقعے سے متعلق جونہی پولیس کو 8مئی کو جونہی شکایت موصول ہوئی تو اس کے فوراً بعد ہی مبینہ طور پر ملوث نوجوان کو گرفتار کیا گیا اور جو فی الحال پرلیس حراست میں ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ وہ کسی بھی تشدد آمیز کارروائی کا حصہ نہ بنے اور انکوائری کے حوالے صبر و تحمل کا مظاہر ہ کریں۔
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
