تازہ ترین
سمبل عصمت ریزی: 47فورسز اہلکاروں سمیت 60افراد زخمی، ایک کی حالت نازک
خبراردو:ملک پورہ ترہگام بانڈی پورہ میں گزشتہ ہفتے ایک درندرہ صفت انسان کی جانب سے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کئے جانے کے خلاف سوموار کو وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اس شرمناک واقعے میں ملوث عناصر کو غیر معمولی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق تین سالہ معصوم بنت حوا کے ساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف شمالی کشمیر کے پٹن علاقے میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس دوران یہاں دن بھر افرا تفری کا ماحول بپا رہا۔ نمائندے کے مطابق پٹن کے ژین بل نامی علاقے میں سوموار کی صبح لوگوں کی ایک بڑی تعداد مجتمع ہوئی جنہوں نے تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ ہوئی شرمناک زیادتی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملوث شخص کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھڑک اُٹھے احتجاج میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جس کے بعد یہاں امن و قانون کو نافذ کرنے والے ادارے جائے موقعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے احتجاج کررہے لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کی راہ لینے کی اپیل کی۔ اس موقعے پر احتجاج کررہے لوگوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے زور دار نعرے بازی کی۔ انہوں نے اس موقعے پر پلے کارڈ اور بینر اُٹھارکھے تھے جن پر بچی کو انصاف فراہم کرنے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے جیسے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ اس موقعے پر جونہی پولیس اور سی آر پی ایف نے احتجاج کررہے لوگوں کو پیچھے دھکیلنے اور احتجاج کو ختم کرنے کی اپیل کی تو احتجاج میں شامل نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر شدید سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات نے سنگین رخ اختیار کرلیا۔
معلوم ہوا کہ فورسز نے احتجاج کررہے لوگوں کو شاہراہ کی جانب پیش قدمی کرنے سے روکتے ہوئے آنسو گیس کے درجنوں گولوں کےساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ بھی کی جس کے بعد علاقے میں ہر سو سنسنی پھیل گئی۔ ادھر مظاہرین نے بھی احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے نعرے بازی کےساتھ ساتھ سنگ باری کا سلسلہ تیز کردیا تاہم فورسز نے احتجاجیوں کو کچلنے کی خاطر شلنگ کا سلسلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔ معلوم ہوا کہ زخمیوں میں سے ارشد احمد ڈار سر میں ٹیر گیس شل لگنے کے نتیجے میں بری طرح سے زخمی ہوا جسے بعد میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔ادھر شمالی کشمیر کو ملانے والی شاہراہ پر بھی سوموار کو دن بھر کئی مقامات پر جن میں ناربل، میر گنڈ، لاوے پورہ شامل ہیں میں لوگوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی نقل و حمل بری طرح سے مسدود ہوکے رہ گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ میر گنڈ ، ناربل اور لاوے پورہ علاقوں میں لوگوں جن میں مرد و خواتین اور نوجوان شامل تھے نے سوموار کی دوپہر کو شاہراہ پر نکل کر شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاج کررہے لوگوں نے واقعے میں ملوث عناصر کو سخت سزا دینے اور متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی بھی مانگ کی۔ اس موقعے پر احتجاج سے شاہراہ پر ٹریفک کی آواجاہی بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی جبکہ مظاہرین نے جگہ جگہ ٹیر جلانے کےساتھ ساتھ شاہراہ پر موٹے موٹے درختوں کےساتھ ساتھ بھاری بھرکم پتھر بھی رکاوٹ کے طور پر نصب کئے تھے۔اس دوران گورنمنٹ گرلز ہائر اسیکنڈی اسکول بانڈی پورہ میںزیر تعلیم طالبات نے بھی واقعے کے خلاف پرامن احتجاج کرتے ہوئے ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کی مانگ کی۔ گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول کی طالبات نے سوموار کی صبح پلان بانڈی پورہ سے نوپورہ چوک تک ایک احتجاجی مارچ نکالا جس دوران انہوں نے متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کی۔طالبات نے میڈیا کےساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی قریب میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے جنہیں بعد میں سیاسی اثر ورسوخ کی پاداش میں گول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شرمناک واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ واقعے کی تحقیقات غیر جانبدارانہ طریقے پر انجام دے اور سیاسی اثر و رسوخ سے کیس کو مستثنیٰ رکھا جائے۔ طالبات کا یہ احتجاجی مارچ بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوا۔
اس دوران ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کےساتھ ساتھ اندرکوٹ، حاجن، گاڑ کھڈ اور تلارزو سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مشترکہ طور پر اس دلدوز اور شرمناک واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ معلوم ہوا کہ ٹریڈرس فیڈریشن سمبل کے زعما نے سمبل چوک میںپرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران انہوں نے واقعے کے خلاف جم کر نعرے بازی کرنے کےساتھ ساتھ متاثرہ بچی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ادھر سنٹرل یونیورٹی کشمیر کے گاندربل کیمپس اور گورنمنٹ ڈگری کالج گاندربل کے طلبا و طالبات نے گزشتہ ہفتے پیش آنے شرم ناک سانحے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مانگ کی کہ وہ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ طلبا و طالبات نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ سمبل کیس کا حشر ماضی کے مقدمات کی طرح نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جانا چاہیے تاکہ مستقل میں ایسا کوئی سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو۔
ادھر واقعے کے خلاف گاندربل کے بیہامہ، ددرہامہ، قمریہ چوک میں سوموار کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمول کی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ نمائندے کے مطابق تین سالہ بچی کےساتھ ہوئی جنسی زیادتی کے خلاف گاندربل کے کئی علاقوں میں سوموار کو احتجاجی ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں آبادی نے ملوث افراد کو پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی، کاروباری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند رہی۔ادھر تین سالہ بچی کی آبرو ریزی کے دل دہلانے والے واقعہ کے خلاف وادی کے بیشتر ضلع ہیڈکواٹرس میں احتجاجوں اور ہڑتالوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔
حریت کانفرنس کی(ع) ایک اکائی جموں وکشمیر اتحاد المسلمین کی کال پر پیر کے روز وادی کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال کے بیچ احتجاجوں کا سلسلہ بھی جاری رہاجہاں سینکڑوں مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر پ±رامن احتجاج کیا وہیں ضلع کپوارہ اور ہندوارہ کے ڈگری کالج طلبا وطالبات نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کیے اور ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ۔ادھر ایمز اسکول نے بھی ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی اور یہاں زیر تعلیم طلاب نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر ”ایمن کو انصاف دو“ اور ”مجرم کو سزائے موت دو“ جیسے نعرے درج تھے۔ادھر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے حکام نے سوموار کو سرینگر بارہمولہ کو جانے والی ریل گاڑیوں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ریلوے حکام کے مطابق سمبل سانحہ کے پیش نظر ریلوے جائیداد اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی خاطر ریلوے کے اعلیٰ حکام نے سوموار کو سرینگر سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سرینگر سے بانہال ٹریک پر چلنے والی ریل گاڑیاں معمول کے مطابق اپنا سفر جاری رکھیں گے۔اس دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس برائے شمالی کشمیر محمدسلیمان چودھری نے سمبل علاقے کا دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی شمالی کشمیر محمد سلیمان چودھری نے سوموار کو واقعے کے حوالے سے دورہ کرتے ہوئے یہاں مقامی لوگوں کےساتھ تبادلہ خیال کیا۔
معلوم ہوا کہ ڈی آئی جی نے یہاں لوگوں کے ساتھ کئی میٹنگیں منعقد کیں جس دوران انہوں نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ واقعے کی ٹھوس اور اعلیٰ سطحی انکوائری عمل میں لائی جائےگی اور ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائےگا۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پولیس کی طرف سے جاری تحقیقات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کا اظہار کریں۔ یہاں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران ڈی آئی جی نے بتایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ پولیس کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقاتی عمل پر مکمل بھروسہ کریں۔ہم نے پہلے ہی واقعے سے متعلق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تشکیل دیا ہے جس میں پولیس کے سینئر افسران کام پر لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی ٹیم میں شامل سینئر پولیس افسران واقعے سے متعلق ثبوت و شواہد کو حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر مصلحت اندیشی سے کام نہیں لیا جائےگا۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات پیشہ ورانہ بنیادوں پر عمل میں لائی جارہی ہے، میں آج یہاں ذاتی طور پر آگیا اور یہاں زمینی صورتحال کا جائزہ لے کر لوگوں کے ساتھ بات چیت کی۔ واقعے پر گہرائی سے نظر گزر رکھنے کے لیے ایس ایس پی بانڈی پورہ کو گزشتہ کئی دنوں سے بانڈی پورہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے سمبل اور متصل علاقوں میں واقعے کے خلاف لوگوں نے جم کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا کیوں کہ واقعے میں ملوث نوجوان کی تاریخ پیدائش سرٹیفکیٹ سے متعلق کئی شبہات نے جنم لیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اسکول پرنسپل کی طرف سے تاریخ پیدائش جاری کی گئی اور جسے بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا وہ اصل میں صحیح نہیں ہے۔ پولیس نے اس معاملے کا بھی علیحدہ سے نوٹس لے لیا ہے اور سرٹیفکیٹ کی اجرائی میں ملوث اسکولی پرنسپل اور دیگر عملے سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ڈی جی پی کے بقول واقعے سے متعلق جونہی پولیس کو 8مئی کو جونہی شکایت موصول ہوئی تو اس کے فوراً بعد ہی مبینہ طور پر ملوث نوجوان کو گرفتار کیا گیا اور جو فی الحال پرلیس حراست میں ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ وہ کسی بھی تشدد آمیز کارروائی کا حصہ نہ بنے اور انکوائری کے حوالے صبر و تحمل کا مظاہر ہ کریں۔
ہندوستان
ووٹ چوری کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی راہل نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی یوم پیدائش کے موقع پر جمعہ کو ’ووٹ چوری‘ کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اب عہدہ چھوڑنا ہی ہوگا۔
مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ہزاروں نوجوان ’ووٹ چوری‘ کے خلاف پرامن اور بغیر تشدد کے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں اور ان کا مطالبہ واضح ہے کہ گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور جمہوریت کو بچایا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی-شاہ حکومت کے جواب میں لڑکے اور لڑکیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے اور سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ووٹ چوری پر سوال اٹھایا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے۔ سی۔ وینوگوپال نے کہا کہ یہ ملک کی جمہوریت کو بچانے اور عام آدمی کے ووٹ کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ عام لوگوں کے ووٹ چھین رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، انڈیا اتحاد اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیے یہ فیصلہ کن لڑائی ہے اور جمہوریت کو بچانے کے لیے وہ جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔
اس دوران کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر کہاکہ ’’جمہوریت کے قاتل گیانیش کمار کی خیر نہیں ہے۔ عوام ’ووٹ چوروں‘ کا اطمینان سے حساب لے گی۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
یمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
صنعا، 2 یمن کی مسلح افواج نے جمعہ کو تعز صوبے میں ایران نواز حوثی فورسز کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے تین گھنٹے کے دوران حوثی جنگجوؤں، کمک اور فوجی تنصیبات پر 20 فضائی حملے کیے۔ اس دوران صوبے کے کئی محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی۔
یمنی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ فضائیہ نے تعز میں حوثیوں کی نقل و حرکت، کمک، اجتماعات، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بناتے ہوئے 20 ’’درست فضائی حملے‘‘ کیے۔ ان کے مطابق حملوں میں اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور حوثی جنگجوؤں، سازوسامان اور فوجی نقل و حرکت کو نقصان پہنچا۔
تعز میں حالیہ دنوں لڑائی میں نمایاں شدت آئی ہے۔ یمنی حکومتی فورسز حوثی ٹھکانوں اور ان کی سپلائی لائنوں کے خلاف زمینی و فضائی کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ حوثیوں نے بھی کئی محاذوں پر حملے تیز کیے ہیں اور سمیعہ ضلع میں نیا محاذ کھولا ہے۔
یمنی فوج کے مطابق صنعا، صعدہ اور تعز میں بھی حوثی ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ فوج نے صنعا میں کارروائی کو ’’اعلیٰ اہمیت کے اہداف‘‘ کے خلاف آپریشن قرار دیتے ہوئے صعدہ میں 11 اہداف کو نشانہ بنانے اور تعز میں حوثیوں کے ایک ’’مکمل فوجی نظام‘‘ پر 27 فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی حکومت کے مطابق مشرقی محاذوں، البیضاء اور مغربی تعز کے الوازعیہ ضلع کے المنصورہ میں حوثی جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کے خلاف 468 حملے کیے گئے، جن میں سیکڑوں حوثی جنگجوؤں کے ہلاک یا زخمی ہونے اور فوجی سازوسامان کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، تعز کے مختلف علاقوں میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ حکومتی فورسز نے تعز شہر کے شمال میں الاربعین میں حوثیوں کا بڑا حملہ پسپا کرنے اور شہر کے مشرقی مضافات میں دراندازی کی کوششیں ناکام بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت بڑھی ہے جب چند روز قبل حوثیوں کے ڈرون حملے نے سعودی عرب کے مدینہ میں طیبہ بجلی تقسیم مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ سعودی عرب کے اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حملے کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا ۔
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoامریکہ-چین سربراہ اجلاس کے آغاز پر ٹرمپ کا شی جن پنگ کا شاندار استقبال
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار نے دو دنوں میں استعفیٰ نہیں دیا تو ملک گیر تحریک ہوگی: سی جے پی
