تازہ ترین
سی اےاے احتجاج : ترنگا،عدم تشدد اور جن گن من کے ساتھ مسلمانوں نے اپنی ہندوستانی شناخت کوبہترین انداز میں کیا پیش
سی اےاے احتجاج : ترنگا،عدم تشدد اور جن گن من کے ساتھ مسلمانوں نے اپنی ہندوستانی شناخت کوبہترین انداز میں کیا پیششہریت ترمیمی قانون کے خلاف جامع مسجد پر مسلمان احتجاج کرتے ہوئے ۔ تصویر : رائٹرس ۔
این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج نے ہندوستانی مسلمانوں کو ہندو ، سکھ ، عیسائی ، پارسی اور جین بھائیوں ، سماجی کارکنان ، حاشیہ پر کھڑے طبقات ، فنکاروں ، دانشوروں ، بالی ووڈ ستاروں اور دیگر کی مدد سے اپنی ہندوستانی شناخت کو ایک بہترین طریقہ سے پیش کرنے کا سنہرا موقع فراہم کیا ہے ۔
کئی مسلم احتجاجی مظاہرے ترنگا (قومی پرچم) ، آہنسہ (عدم تشدد) اور قومی ترانہ جن جن گن من کے ارد گرد گھوم رہے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی معنوں میں ، سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج میں سیاسی طور پر مائل مسلم علما ، سیاستدانوں ، دانشوروں اور دیگر افراد کی نفی کو دیکھا گیا ہے ، جنھوں نے کئی دہائیوں سے خود کو مسلم برادری کے ’سچے‘ نمائندوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی ۔
اگرچہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ موجودہ تحریک کس راہ پر گامزن ہے ، واضح طور پر مسلمانوں نے خود کو تن من سے اس میں جھونک دیا ہے۔
اس کی بھی کئی وجوہات ہیں ۔ تین طلاق ، آرٹیکل 370 اور ایودھیا فیصلے کے برعکس ، سی اے اے اور این آر سی کے سیاسی ذائقے نے ہر مسلمان کو علاقائی ، لسانی ، مسلکی اور معاشی خطوط سے اوپر اٹھ کر مقابلہ کرنے کیلئے کھڑا کردیا ۔ ایک عام احساس ہے کہ ان کی ہندوستانیت پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے اور اجتماعی ، پرامن اور باہمی تعاون کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہے۔
اس تناظر میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سی اے اے – این آر سی کے خلاف احتجاج دیگر معاملات سے الگ کیوں ہے ؟
تین طلاق کے معاملہ پر ہندوستان میں مسلمان صنفی اور مسلکی خطوط پر تقسیم تھے ۔ آرٹیکل 370 پر مسئلہ کشمیر کے ساتھ نفسیاتی فاصلہ تھا ، جبکہ رام جنم بھومی – بابری مسجد تنازع کے معاملے میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اسے فضول کی بحث کے طور پر دیکھا تھا۔
نو نومبر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک طرح کی راحت کا احساس پیدا ہوا اور نظرثانی کی عرضی کی سوچ رکھنے والوں کی حمایت نہیں کی گئی ۔
ہندوستانی مسلمانوں میں اپنے مادر وطن سے تعلق کا گہرا احساس ہے اور ان کے عقیدے اور نفسیات میں گہری جڑیں موجود ہیں ۔ کسی بھی دانشمند مبصر کے لئے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو) کے مابین اتحاد کا مقصد قابل غور ہونا چاہئے ۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج : حیدرآباد میں مختلف تنظیموں کا مظاہرہ، کئی افراد گرفتارشہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج : حیدرآباد میں مختلف تنظیموں کا مظاہرہ، کئی افراد گرفتار
مہاتما گاندھی کی اپیل پر اے ایم یو کو قوم پرست جواب دینے کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ اے ایم یو میں ہندوستان کی آزادی سے قبل کچھ پاکستان حامی عناصر موجود تھے۔ ذاکر حسین ، اس وقت جرمنی میں کام کرنے والی دو نامور شخصیات ڈاکٹر عابد حسین اور محمد مجیب کے ساتھ جامعہ کے لئے کام کرنے کی خاطر ہندوستان واپس آئے تھے۔
منافع بخش کیریئر کو قربان کرکے ان تینوں شخصیات نے 1926 سے 1948 کے درمیان 20 سالوں سے زیادہ عرصے تک تنخواہ لئے بغیر نظریاتی لڑائی اور نئی تعلیم کی تشہیر کی راہ میں حائل بڑے مالی بحران پر قابو پانے کیلئے اپنی بچت اور دولت خرچ کی ۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ ذاکر صاحب کے پوتے سلمان خورشید سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہنگامہ کے دوران اپنی رائے ظاہر کرنے یا ان چیزوں کو اٹھانے میں ناکام رہے ، جو عوام کے ذہنوں سے دور ہوگئے ہیں۔
آل انڈیا مومن کانفرنس کی 1943 کی قرارداد ، جس میں مسلمانوں میں پسماند ذاتوں – بالخصوص دستکاروں ، کاریگروں اور مزدوروں – کی نمائندگی کی گئی تھی ، میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی اور قوم پرستی کبھی بھی متعدد دشمن ریاستوں میں پیارے مادر وطن کی تقسیم کو برداشت نہیں کرے گی ۔
مولانا حسین احمد مدنی کا جامع قوم پرستی کا نظریہ قرآن اور حدیث پر مبنی تھا۔ مولانا مدنی نے “علاقائی قومیت کے نظریہ” کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک قوم کو ، ایک قوم ہونے کے لئے ایک ہی مذہب اور ثقافت کو شیئر کرنا چاہئے ۔ انہوں نے دلیل دی کہ مسلمان الگ الگ مذاہب ، ثفافت اور تکثیری معاشرہ میں پابند مسلمان کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں، جہاں وہ ایک آزاد اور سیکولر ہندوستان کے مکمل شہری ہوں گے۔
مولانا مدنی کی دو قومی نظریہ پر تنقید ان کی اس رائے پر مبنی تھی کہ مسلمان غیر مسلم ہندوستانیوں سے ہٹ کر قوم کی تشکیل نہیں دیتے ہیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ قرآن مجید میں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں قوم کی اصطلاح میں کوئی مذہبی مفہوم نہیں ہے ۔
محب وطن مسلمان نمبرس کی طاقت رکھنے باوجود ، عوام کو منظم کرنے میں قاصر رہنے ، انگریزوں کی مستقل سازش ، کانگریس اور دائیں بازو کی ہندو پرست تنظیموں جیسے آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا کے ایک حصے اور مسلم لیگ کے خون خرابہ کے دور کی وجہ سے متحدہ ہندوستان کے اپنے مقصد میں ناکام رہے ۔ مسلم لیگ نے خوف کو ہوا دینے کے لئے 1931 میں مسلم نیشنل گارڈز کے نام سے ایک نیم فوجی دستہ بنایا تھا ، جس کی تعداد 300000 تھی۔ ان “رضاکاروں” نے مولانا ابوالکلام آزاد ، ڈاکٹر سیف الدین کیچلو ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا حفظ الرحمٰن اور بہت سی دیگر شخصیات پر حملہ کیا۔
کانگریس کو مسلم لیگ کے ساتھ تقسیم ہند کی بات چیت کرنے کا قصوروار قرار دیا جاسکتا ہے ۔ خواہ اس کو مسلمانوں کی آواز کا واحد نمائندہ سمجھا جاتا تھا ۔ مہاتما گاندھی نے بھی ، جب انہوں نے مسلم لیگ رہنما کے ساتھ خط و کتابت میں جناح کو قائداعظم کی حیثیت سے خطاب کیا ، تو ایک طرح بے وقوفی کی ۔
اس پس منظر میں یہ سمجھنا چاہئے کہ موجودہ ہندوستان کے مسلمان اپنے لئے آواز اٹھانے کیلئے اور تقسیم کے وقت کی بے وقوفیوں کا اعادہ نہ کرنے کیلئے کیوں پرعزم ہیں ، جب ان کی آواز شور وغوغا میں نہیں سنی گئی تھی ۔
ہندوستانی مسلمانوں میں انڈیا فرسٹ کا ایک مضبوط ظہور تمام سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ پرانے پیراڈائم کو دفن کریں اور باہمی اعتماد ، آئینی جمہوریت اور مساوات کی بنیاد پر ایک نئی شروعات کریں ۔ کیا کوئی لینے والا ہے؟
رشید قدوئی
مضمون نگار آبزرور ریسرچ فاونڈیشن کے ویزیٹنگ فیلو ہیں ۔
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
