تازہ ترین
شدید برف باری کے بعد کشمیر کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع،بانڈی پورہ میں شہری چھت سے گر کر لقمہ اجل
خبراردو:
وادی کے سبھی اضلاع میں جمعہ کی دوپہر سے جاری بھاری برف باری کے نتیجے میں کشمیر کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ ادھر سرینگر جموں شاہراہ کے متعدد مقامات بشمول جواہر ٹنل، بانہال، شیطانی نالہ سمیت قاضی گنڈ پر بھی برف کی موٹی موٹی چادریں جمع ہونے کے نتیجے میں شاہراہ ٹریفک کی نقل و حمل کے لیے مکمل طور پر بند ہوگئی ہے جبکہ شاہراہ پر کئی مقامات پر مسافر گاڑیاں درماندہ ہوکر رہ گئی ہے۔ ادھر بھاری برف باری اور دھند کی وجہ سے سرینگر ائرپورٹ پر بھی صبح کے اوقات میں کئی پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بیرون ریاست جانے والے مسافروں کو سخت کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں اگلے 24گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے جبکہ بالائی علاقوں میں مزید برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ادھر شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں ایک شخص اُس وقت جاں بحق گیا جب وہ اپنے مکان کی چھت سے برف ہٹانے میں مصروف تھا۔

وادی کشمیر کے سبھی اضلاع میں جمعہ کی دوپہرسے شروع ہوئی برف باری کے باعث کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوچکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سنیچر وار کو بھاری برف باری کے نتیجے میں وادی کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا جس کے نتیجے میں وادی کے سبھی اضلاع میں زندگی کی رفتار مکمل طور پر تھم گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کے بالائی اور میدانی علاقوں جمعہ کی سہ پہر سے بھاری برف باری شروع ہوئی جو کہ سنیچر صبح تک مسلسل جاری رہی۔ محکمہ کے اعلیٰ افسران نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں امسال وادی کے میدانی علاقوں میں یہ ریکارڈ توڑ برف باری ہوئی کیوں کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران میدانی علاقوں میں برف باری کا اثر بہت کم دیکھنے کو ملا۔

محکمہ کے مطابق سرینگر میں ہفتہ کی صبح 8بجے تک مجموعی طور پر 10انچ برف ریکارڈ کی گئی جبکہ شہرہ آفاق گلمرگ میں 2فٹ تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح قاضی گنڈ میں 11انچ، کوکرناگ میں 3انچ، پہلگام میں 16انچ جبکہ سرحدی ضلع کپوارہ میں 17انچ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ادھر محکمہ ٹریفک کے مطابق وادی کے بالائی علاقوں میں بھاری برف باری ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں سرینگر جموں شاہراہ ٹریفک کی نقل و حرکت کے لیے مسدود ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ جمعہ سے شروع ہوئی برف باری کے نتیجے میں مغل روڑ، سرینگر لیہہ شاہراہ اور بانڈی پورہ گریز روڑ بھی گاڑیوں کی آواجاہی کے لیے بند کردی گئی جبکہ سرینگربین الاقوامی ائرپورٹ پر بھی متعدد پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا۔ائرپورٹ انتظامیہ کے مطابق رن وے پر بھاری برف باری کی تہہ جم جانے اور یہاں دھند کی وجہ سے ہفتہ کی صبح کو کئی پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جونہی رن وے پر برف کو ہٹایا جاتا ہے اور موسم میں نمایاں تبدیلی واقع ہوتی ہے تب ہی پروازوں کو اُڑان بھرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ادھر سرینگر میں بھی بھاری برف باری کی وجہ سے اندرون و بیرون سڑکیں عبور و مرور کے لیے بند رہی جس دوران لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔معلوم ہوا ہے کہ شہر سرینگر سمیت دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات پر بھی سڑکوں پر برف کی موٹی موٹی چاردیں جم جانے کے نتیجے میں لوگوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس دوران سڑپوں پر سے گاڑیوں کی نقل و حمل بھی دوپہر تک غائب رہی۔ ادھر وادی کے سبھی ضلع صدر مقامات پر ضلعی انتظامیہ نے اپنے ماتحت عملے کو متحرک کردیا جس دوران سنیچر کی صبح سے ہی کئی مقامات پر برف کو ہٹائے جانے والی مشینوں کو سڑکیں صاف کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ شہر سرینگر کے بیشتر علاقوں میں صبح 11بجے تک اندرون سڑکوں برف سے ڈھکی ہوئی تھی تاہم بعد میں انتظامیہ کے اہلکاروں نے یہاں آکر مشینوں کو کام پرلگادیا جس کے بعد ہی لوگ اپنے گھروں سے باہر آگئے۔ ادھر جمعہ کی دوپہر سے شروع ہوئی برف باری کے نتیجے میں وادی کے بیشتر علاقوں میں بجلی مکمل طور پر غائب ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ شہر کے متعدد علاقوں اور دیگر قصبہ جات میں برف باری کے بعد بجلی مکمل طور پر منقطع کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کوسخت مشکلات درپیش ہے۔

ادھر سرینگر جموں قومی شاہراہ پر بھاری برف باری ہونے کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کی نقل و حمل کے لیے مکمل طور پر بند کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ جواہر ٹنل، بانہال، شیطانی نالہ سمیت قاضی گنڈ پر بھی برف کی موٹی موٹی چادریں جمع ہونے کے نتیجے شاہراہ پر گاڑیوں کی آواجاہی ناممکن ہے جبکہ برف باری کے نتیجے میں کئی مقامات پر پھسلن بھی پید اہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہ گذشتہ روز کے دوپہر سے ہی پھسلن پیدا ہونے کی وجہ سے شاہراہ ٹریفک کی نقل وحمل کیلئے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ برف باری جاری رہنے کی وجہ سے محکمہ بیکن کے اہلکاروں کو بھی برف ہٹانے میں سخت مشکلات اُٹھانی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چہ محکمہ موسمیات نے وادی میں مزید برف باری کی پیش گوئی کی ہے لہٰذا شاہراہ کو محکمہ ٹریفک اور بیکن کی طرف سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ برف باری کے نتیجے میں جموں کی طرف جانے والے سینکڑوں ٹرکیں اننت ناگ اور قاضی گنڈ کے مقام پر درماندہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ معلوم ہو اکہ وادی سے جموں کی طرف کم از کم گیارہ سو مال بردار ٹرکیں اور تیل ٹینکروں نے جواہر ٹنل کو پار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ وادی سے جو مسافر بردار گاڑیاں جموں اور دیگر مقامات کی جانب رواں دواں تھیں وہ اننت ناگ اور قاضی گنڈ کے مقام پر درماندہ ہوئی ہیں۔

ادھر بھاری برف باری کے نتیجے میں وادی کشمیر کے دور افتادہ علاقوں کا ضلع صدر مقامات سے مکمل طورپر رابطہ منقطع ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں یہاں لوگوں کو عبور و مرور میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ادھر شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں ایک شخص اُس وقت جاں بحق گیا جب وہ اپنے مکان کی چھت سے برف ہٹانے میں مصروف تھا۔معلوم ہوا ہے کہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے وارڈ نمر 4سے تعلق رکھنے والے ممتاز احمد ساکن پلان بانڈی پورہ اُس وقت جاں بحق ہوگئے جب وہ اپنے مکان پر چھت پر برف کو صاف کرنے میں مصروف تھا۔ معلوم ہوا کہ ممتاز احمد جونہی چھت پر براجمان تھا تو اسی دوران اُس کا پیر پھسل گیا جس کے نتیجے میں وہ نیچے گر پڑا۔ اس دوران یہاں موجود لوگوں نے اگر چہ ممتاز کو ضلع ہسپتال بانڈی پورہ منتقل کرنے کی کوشش کی جہاں سے ڈاکٹروں نے اُس کی نازک حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں صورہ ہسپتال منتقل کیا تاہم اس دوران وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔صورہ میں موجود ڈاکٹروں کے مطابق ممتاز کو جونہی یہاں لایا گیا تو وہ دم توڑ چکا تھا۔ ادھر واقعے کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ نے لواحقین کے حق میں 4لاکھ روپے کا ایکس گریشیا ریلیف واگذار کیا ہے۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
