اداریہ
شفافیت کے لئے احتساب کی ضرروت
اداریہ:
۱۳ اکتوبر کو باضابطہ طور پر ریاست سے مرکزی زیر انتظام والے علاقے میں تبدیل کئے گئے جموں کشمیر میںماضی جو سب سے بڑا مسئلہ دیکھا گیا اور جو آج بھی موجود وہ کرپشن کا ہے ۔ سرینگر سے نئی دلی تک سبھی اس بات سے اچھی طرح واقف بھی ہیں ۔ رواں سال اگست میں لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ ” مرکز کی جانب سے جتنا پیسہ جموں کشمیر کو آج تک دیا گیا ، اگر یہ لوگوں تک پہنچا ہوتا تو آج انکے گھروں کے چھت سونے کے ہوتے “۔
بھاجپا اس بدعنوانی کےلئے وادی کی دو علاقائی جماعتوں این ، پی ڈی پی اور انکے ساتھ کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتی آ رہی ہے ۔
اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ پچھلے ستر سالوں میں انہی جماعتوں کی سابقہ ریاست میں سرکار رہی ہے اور ساتھ میں کانگریس بھی رہی ہے ۔ جس دوران جموں کشمیر میں کرپشن بڑے پیمانے پر ہوتا دیکھا گیا اور بڑے کرپشن گھپلے اور ان میں شامل بڑے بڑے افسران ، سیاسی لیڈران بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہوتے رہے ۔اور اسکی وجہ ان افسران کا احتساب نہ ہونا تھا ، جس کی وجہ سے عوام کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔
بڑے بڑے افسران کی جانب سے کچھ شعبے چنے گئے تھے جن میں وہ اچھا کھاسا پیسہ اپنے لئے جمع کر پاتے تھے ، ان میں مرکز کی جانب سے شروع کی جانی والی اسکمیں اور تبادلے کرانا سرفہرست رہے ہیں ۔
اسکے علاوہ سابقہ ریاست میں احتساب اور شفافیت جہاں ایک طرف غائب تھی وہیں دوسری جانب سے بڑے عہدوں پر فائز افسران اور ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کئے ہوئے سیاسی لیڈران اقربا پروری کا خوب جوہر بھی دیکھاتے رہے ہیں ۔، اور اس طرح سے جن مستحق امیدواروں کے پاس قابلیت کو چھوڑ کر اثرو روسوخ اور پیسہ نہیں تھا انکا حق مارا جاتارہا۔ جس کی وجہ سے ہزاروں ایسی غیر قانونی تقرریاں عمل میں لائی جاتی رہی ۔
اب جبکہ جموں کشمیر وفاقی علاقے میں تبدیل ہو گیا ہے اور گریش چندر مرمو کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اپنا نام تاریخ میں درج کرائے ۔ لیکن اسکے لئے انہیں اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ یہ علاقہ کوئی عام علاقہ نہیں ہے جہاں انتظامی امور آسانی سے چلائے جا سکتے ہیں ۔اب اگر مرمو کچھ کر سکتے ہیں تو وہ ہے حکومتی مشینری میں کام کے کلچر کو پیدا کرنا ۔ انہیں اپنی مشینری کو پھر سے تازہ دم کر کے احتساب کا عمل شروع کر نا ہو گا ۔ اور اس ہدف کو پورا کرنے کےلئے انہیں رکارڈز کی ڈیجیٹائزیشن اور ای ۔گورننس کو شروع کرنا ہو گا ۔ریکارڈ ز کو ڈیجیٹائز کرنے کی وجہ سے اگرچہ کافی حد تک کرپشن میں کمی ہو سکتی تھی لیکن ایک دہائی سے ریوینیو محکمے نے اس عمل کو کرنا چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے یہ آج سب سے زیادہ کرپٹ محکمہ مانا جاتا ہے ۔
دوسری جانب سے جی سی مرمو نے ۲۲ نومبر کی آخری تاریخ تمام محکموں کو اپنی ویب سائٹس اپ ڈیٹ کرنے کے لئے رکھی تھی ۔ لیکن ستم ظریقی یہ کہ بڑے محکموں کی جانب سے اس حکم نامے کو پس پشت ڈالا گیا ہے اور کئی ویب سائٹس پر تو ابھی بھی پرانی انفارمیشن ہی موجود ہے ۔ مرمو نے اب جب کہ اس عمل میں پہلے ہی رکاوٹ دیکھی ہے اور آگے بھی آتی رہے گی ۔ لیکن ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کرنا ہی تمام محکمہ جات میں شفافیت لانے کا راستہ ہے ۔
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین
یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار
نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ
لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
