تازہ ترین
شیخ عمران کے بعد اب میئر متو بھی بھی گنوا سکتے ہیں اپنی کرسی
خبراردو ڈیسک :
گزشتہ سال اکتوبر میں بلاک ترقیاتی کونسل کے چناﺅ میں میونسپل کارپوریشن سرینگر میں میئر اور ڈپٹی میئر کی سیٹ یں حاصل کرنے والے میں جنید عظیم متو اور شیخ محمد عمران کے خلاف کارپوریٹرو ں کی جانب سے عدم اطمنان کی تحریک پیش کی گئی ہے ۔ اور اسکے ساتھ ہی ایس ایم سی میں پچھلے دو روز سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں
پہلے سوموار کو ڈپٹی میئر شیخ عمران کے خلاف موجودہ ستر کونسلروں میں سے ۴۷ کی جانب سے دستخط کی گئی ایک عدم اطمنان تحریک پیش کی گئی ۔ جس کے بعد عمرا ن کو انکے عہدے سے ہٹایا گیا ۔
جبکہ وہیں دوسری جانب جنید متو کے خلاف ایسی کوئی قرار داد نہیں لائی گئی تھی ۔ زرائع کے مطابق اس کا مقصد بھاجپا کو ایس ایم سی سے دور رکھنا تھا
لیکن اسکے دوسرے روز ہی ۴۰ ممبران کی جانب سے دستخط کی گئی ایک عدم اطمنان تحریک میئر جنید متو کے خلاف بھی ایس ایم سی کمشنر کے سامنے پیش کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق تحریک میں آزاد ممبران ، بھاجپا اور این سی ممبران کے دستخط بتائے جا رہے ہیں ۔ کیوں کہ این سی بھی جنید متو کو میئر نہیں دیکھنا چاہتی ہے ۔ لیکن وہیں پر این سی بھاجپا امیدوار کو میئر ی سیٹ کےلئے ساتھ دینے کے حق میں نہیں ہے.
ادھر کچھ روز قبل سے بھاجپا پر کچھ کارپورٹروں کی جانب سے یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ میئر کو ہٹانے کےلئے بھاجپا رشوت اور دھمکیوں کا سہارا لے رہی ہے ۔
ان الزامات کو بھاجپا مسترد کر رہی ہے.
جبکہ ڈپٹی میئر کی جانب سے ایس ایم سی کو اپنا استعفی بھیج دیا گیا ہے ۔
آپ کو بتا دیں شیخ عمران کوبھی ۵ اگست سے نظر بند ہی رکھا گیا ہے ۔ جبکہ میئر کو کچھ ہفتے قبل رہا کیا گیا تھا ۔ اور پچھلے ہفتے سنیچر کو ان کی جانب سے ۵ اگست کے بعد سے کونسلرز کی پہلی میٹنگ کی گئی جس میں ۵۰ ممبران شامل ہوئے تھے ۔
اب آگے کیا ہو گا ؟
سرینگر کارپوریشن ایکٹ کے تحت عدم اطمنان تحریک کے ۴۸ گھنٹوں تک کوئی بھی کارروائی نہیں لی جا سکتی ہے اور اس دوران ہی کوئی تاریخ مقرر کی جائے گی ۔ جس کے بعد جس کے خلاف یہ تحریک لائی گئی ہے ۔ اسکے سامنے ان کارپوریٹروں کو لایا جائے گا اور ایک ٹسٹ کے زریعے سے جہاں میئر کو اکثریت ثابت کرنا ہو گی ۔ وہیں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جو اسکے خلاف ہیں ان کی تعداد کتنی ہے ۔ اب ۲۶ دسمبر کو جنید متو کی قسمت کا فیصلہ ہو گا کہ آیا وہ اپنی کرسی بچا پاتے ہیں یا نہیں ۔
میونسپل کارپویشن سرینگر :
اس کارپوریشن میں کل ممبران کی تعداد ۷۴ ہے لیکن اسوقت ۴ سیٹیں خالی ہیں ۔ ۔ جبکہ ان میں ۱۷ ممبران کانگریس کے ہیں وہیں ۴ ممبران بھاجپا کے بھی ہیں ۔ اسکے علاوہ ۲۲ کا تعلق پیپلز کانفرنس ۱۱ کاتعلق این سی پانچ کا پی ڈی پی اور باقی گیارہ ممبران آزاد ہیں ۔
واضح رہے ان انتخابات میں این سی اور پی ڈی پی نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا ۔میئر یا ڈپٹی میئر کو کرسی سے ہٹانے کےلئے کم از کم ۵۶ ممبرا ن کا ساتھ ہونا چاہیے۔
ایس ایم سی سرینگر کام کے بجائے تنازعات کی وجہ سے خبروں میں زیادہ رہاہے.
ایس ایم سی جب سے بنی ہے تب سے ہی اس میں سرینگر میں تبدیلی لانے کے بجائے تنازعات ہی دیکھے گئے ہیں اور ا سمیں سیاست زیادہ دیکھی گئی ہے ۔
میئر متو کو پی سی کی حمایت حاصل تھی وہیں ڈپٹی میئر عمران کو کانگریس کی حمایت تھی ۔
سب سے پہلے ایک خاتون کارپوریٹر کی جانب سے میئر متو پر جنسی طور ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ جسکے بعد ہی کارپوریشن میں آپسی رسہ کشی ان دونوں کے مابین مزید بڑھ گئی اور عمران خاتون کی حمایت میں آگئے ۔
اسکے بعد ڈپٹی میئر شیخ عمران کی جانب سے ایک ڈاکٹر کےساتھ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کا ویڈیو سامنے آیا ۔ جس پر عمران کو معافی مانگنا پڑی ۔
وہیں کارپوریشن میں ایک میٹنگ کے دوران ڈپٹی میئر پر ایک بار حملہ بھی کیا گیا ۔ جس کا الزام انہوں نے جنید متو پر لگایا ۔
اسکے بعد ڈپٹی میئر کی جانب سے اپنے نام کے آگے مجاہد جوڑنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ۔ جس پر ان کا سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے خاصا ٹرول کیا گیا ۔
ایک اور حیران کن تبدیلی تب دیکھی گئی جب عمران ایک ویڈیو میں اپنے سخت حریف رہے جنید متو کو گلے لگاتے دیکھے گئے ۔ جہاں انہوں نے باضابطہ طور پیپلز کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کیا ۔
حالانکہ اطلاعات یہ بھی آ رہی ہیں کہ عمران کو ہٹانے میں جنید متو کا بھی ہاتھ ہے کیوں کہ وہ انہیں ڈپٹی میئر کے بطور نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
