تازہ ترین
صدقہ فِطر،روزوں کا صدقہ
(الحاج حافظ)محمد ہاشم قادری صدیقی
﴿ ماہِ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں۔ روزہ رکھنے سے بندوں کے اندر جذبہ¿ غم خواری پیدا ہوتی ہے۔ انسان بھوک اور پیاس کی حالت میں ان لوگوں کا تصور کرکے لرز اٹھتا ہے جو ایک ٹکڑا روٹی کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش میں پریشان رہتے ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : رمضان کا مہینہ غم خواری کا مہینہ ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ ﷺ پہلے سے زیادہ سخی ہوجاتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے کہ جب رمضان کامہینہ آتا تو پیارے آقا ﷺ ہر قیدی کو آزاد کر دیتے اور ہر سائل کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتے(بیہقی)۔رحمت عالم ﷺ اس مقدس مہینہ میں صدقہ و خیرات کثرت سے کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے: نبی کریم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور آپ ﷺ سب سے زیادہ صدقہ و خیرات رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے رمضان المبارک کی ہر رات میں ملتے اور دوران ملاقات نبی کریم ﷺ انھیں قرآن مجید سناتے اور آپ ﷺ تیز ہوا سے بھی سبقت کے ساتھ صدقہ و خیرات کرتے۔(شعب الایمان)
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے صدقہ و خیرات کو(سورہ البقرہ ،آیت۵۷۲)احادیث میں صدقات کی بہت فضیلتیں آئی ہیں۔ چند ملاحظہ فرمائیں۔(۱) ابو بکر صدیق ص فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : دوزخ سے بچو اگرچہ آدھا چھوارہ دے کر کہ وہ کجی کو سیدھا اور بری موت کو دور کرتا ہے۔ (۲)نبی کریم ﷺ نے فرمایا :بے شک مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بری موت کو منع کرتاہے۔(۳) بے شک اللہ عزوجل صدقہ کے سبب سے ۰۷دروازے بری موت کے دفع فرماتا ہے۔(۴) صبح کے صدقے آفتوں کو دفع کردیتے ہیں۔(طبرانی،ابو یعلی، والبراز، رواہ الدیمی حضرت انس ص) ،جو مسلمان اپنے مال حلال سے صدقہ دیتا ہے ، اسے حق تعالیٰ اپنے دست شفقت و لطف سے اس طرح پرورش فرماتا ہے۔جیسے تم اپنے چو پایوں کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ چند خرمے(چھوارہ) اُحد پہاڑ کے برابر ہو جاتے ہیں اور فرمایا کہ قیامت کے دن ہر ایک اپنے صدقے کے سایہ میں ہوگا جب تک حساب ہوکر حکم صادر ہوگا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ صدقہ کون سا افضل ہے فرمایا :جو تندرستی میں دیا جائے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے دروازے سے سائل کو محروم پھیر دیتا ہے (یعنی کچھ نہیں دیتا) سات دن تک اس کے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں جاتے(کشف القلوب جلد اول صفحہ 469باب صدقہ کی فضیلت)،رسول کریم ﷺ دو کام اوروں پر نہیں چھوڑتے تھے بلکہ اپنے ہی ہاتھوں سے کرتے تھے فقیر کو صدقہ اپنے ہی دست مبارک سے دیتے اور رات کو وضو کے لیے پانی برتن میں خود رکھتے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان کو کپڑا پہنائے گا جب تک وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا کپڑا دےنے والا خدا کی حفاظت میں رہے گا۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی نے ستر (۰۷) برس عبادت کی پھر اس سے اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا کہ وہ سب عبادت برباد اور رائگاں ہو گئی اس کا گزر ایک فقیر کی طرف سے ہوا اور اس نے فقیر کو ایک روٹی دی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا وہ گناہ عظیم بخش دیا اور ستر برس کی عبادت اسے واپس کر دی۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا ! تجھ سے جب کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو صدقہ دینا اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا : تم لو گ ہرگز نیکی کے مقام کو نہ پا سکوگے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے(القرآن ، سور ہ آل عمران،آیت نمبر ۲۹)۔
صدقہ فطر کا حکم:روزہ دار اگرچہ مجسم نیکی میں ہوتا ہے اس کے مادی جسم میں ملکوتی (فرشتوں جیسی)روح پیدا ہوتی رہتی ہے۔ وہ جھوٹ سے، بدگوئی سے، بد کلامی سے، ایذا رسانی سے، حق تلفی سے ، غرض کہ ہر طرح کی برائیوں سے دور رہتا ہے یا کم از کم دور رہنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پھر بھی وہ بہر حال انسان ہی ہوتا ہے فرشتہ نہیںہوتا۔ اس لئے ہزار کوششوں کے باوجود اس سے لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ زبان سے بے ہودہ باتیں نکل ہی جاتی ہیں اس لئے قدرتی طور پر روزوں کا بالکل بے داغ اور ہر نقص سے پاک رہنا ممکن نہیں۔ اللہ کے حبیب رسول اللہ ﷺ نے روزوں کو اس طرح کے داغ دھبوں سے پاک صاف اور مقبول رب العالمین بنانے کے لئے ایک خاص قسم کا صدقہ دینے کا حکم فرمایا جس کو اصطلاح شریعت میں ”صدقہ فطر“ کہتے ہیں۔ احادیث میںہے کہ عمرو بن شعیب ص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکہ کے کوچوں میںاعلان کردے کہ صدقہ فطر واجب ہے۔(ترمذی جلداول، صفحہ ۶۴۱،باب ماجاءفی صدقة الفطر) ابو داو¿د،ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اللہ عنھما سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰة فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور مساکین کی خوردو نوش (کھانے پینے )کا انتظام ہوجائے۔(بہار شریعت جلد۵،صفحہ ۵۵)ایک حدیث میں ہے : رمضان کے روزے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تلک صدقہ فطر ادا نہ کر دیا جائے آگے(بارگاہِ خداوندی )تک نہیں جاتے) (ترغیب) : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطرکو فرض کیا ہے تاکہ روزہ دار (کا روزہ) لغو اور فحش گوئی وغیرہ کے داغ دھبوں سے پاک و صاف ہوجائے(ابو داود ، ابن ماجہ)
(زکوٰة بمعنی ضروری واجب) ان احادیث سے صدقہ فطر کی اہمیت اور غایت (مطلب) دونوں چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ اس کو نگاہ میں رکھنے کے بعد صدقہ فطر کی ادائیگی ہر روزہ دار مسلمان کی ایک ناگزیر فطری چیز بن جاتی ہے۔ مسئلہ: صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے مال کا باقی رہنا شرط نہیں مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ فطر واجب رہے گا ساقط نہیں ہوگا بخلاف زکوٰة و عشر کہ یہ دونوں مال ہلاک ہوجانے سے ساقط ہوجاتے ہیں(درمختار جلد۲ صفحہ ۰۱۱، بہار شریعت جلد ۵ صفحہ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان)
صدقہ فطر بہت ضروری ہے:صدقہ فطر کے واجب ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آدمی کے پاس زکوٰة کا نصاب ہو بلکہ جس طرح ایک مالدار کے لئے اس کا دینا ضروری ہے اسی طرح اس غریب کے لئے بھی ضروری ہے جس کے پاس عید کے دن اپنے اہل وعیال کی خوراک سے زائد اس قدر موجود ہو کہ ہر ایک کی طرف سے صدقہ فطر دے سکے ۔ مسئلہ: صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں اگر کسی عذر شرعی ، سفر، مرض ، بوڑھا پے کی و جہ سے یا معاذ اللہ بلا عذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے۔ (رد المختارجلد ۲صفحہ ۱۰۱، بہار شریعت جلد ۵صفحہ ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان) ان احادیث اور مسئلہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صدقہ فطر صرف ان ہی لوگوں پر فرض نہیں ہے جنھوں نے روزہ رکھا ہو یا نہیں ۔ نبی کریم نے صدقہ فطر کو طعمتہ للمساکین(مساکین کی خوراک) بھی فرمایا ہے۔ یعنی جس طرح صدقہ فطر کا ایک مقصد روزے دار کے روزوں کو پاک کرنا اور مقبول بنا دینا ہے اسی طرح عید کے دن غریبوں، مساکین کے لئے کھانے پینے کا بندوبست ہوجانا بھی ایک مصلحت اور مقصد ہے جس کا تقاضہ یہی ہے کہ صدقہ فطر دینے والوں کا دائرہ وسیع سے وسیع ہو صرف روزہ داروں تک ہی صدقہ فطر محدود نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ مساکین و فقراءسے محبت رکھتے ہیں اور ان کے لئے تواضع کرتے ہیں اور یوں حضور ﷺ کے اس قول پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔اے اللہ مجھے مسکین کی حالت میں رکھ اور مجھے مسکینی پر موت دے اور قیامت کے دن مساکین کے زمرے میں اٹھا۔(جامع ترمذی جلد ۲صفحہ ۸۵، کتاب الزہد حدیث نمبر۲۵۳۲)
اللہ کے رسول سب سے زیادہ فقراءومساکین کی تواضع کرتے اور جب ان کے ساتھ بیٹھتے تو گھٹنے پر گھٹنا رکھ کر بیٹھتے اور محبت سے پیش آتے لہٰذا ہم کو آپ کو چاہئے کہ فقراءو مساکین کی خوراک کا انتظام کریں ۔ صدقہ فطر ضرور ادا کریں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا :رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر اس لئے مقرر فرمایاتاکہ لغو اور بےہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور دوسری طرف مساکین کے لئے خوراک ہوجائے۔(ابو داو¿دجلداول صفحہ۷۲۲، کتاب الزکوٰة ،مشکوٰة صفحہ ۰۶۱کتاب الزکوٰة)ہم سب کو چاہئے کہ صدقہ فطر عید سے پہلے ادا کریں ۔ عید کے دن گویا مزدوری ملنے کا دن ہے ۔ عید کے دن معاشرے کے پسماندہ اور محروم لوگوں کو اپنی خوشی میں شامل کرنا چاہئے تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے ۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو صدقہ فطر و زکوٰة ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ اور روزوں کے فوائد سے مالا مال فرمائے آمین! ثم آمین!
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ویانا، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی جانے والی نئی شرائط نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کو ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ تہران کے اس مؤقف نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اہم مراعات دیے جانے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 7:30 بجے اکتوبر کے لیے برینٹ خام تیل کے فی بیرل مستقبل کے سودوں کی قیمت 84.11 ڈالر تھی، جو 0.7 فیصد زیادہ ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد عالمی بینچ مارک کی قیمت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے الجزیرہ کو بتایا، ’’ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاہدے کی عملی تفصیلات سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر برقرار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہر گزرتا دن جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، تاجروں کو مزید محتاط بنا رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدے کے قریب ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کی تلافی سمیت بعض شرائط پوری کیے جانے تک یہ آبی گزرگاہ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، لیکن فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ شدہ تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق 4، 5 اور 6 اگست کو آبنائے ہرمز سے صرف 8 سے 15 بحری جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اسے آبنائے میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ بین الاقوامی بحری قانون میں سمندری راستوں سے آزادانہ آمدورفت کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے غیر منظور شدہ راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات نے تہران کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت والے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں تجارتی بحری جہازوں سے متعلق کم از کم 64 پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔
توانائی کی منڈیوں میں دوبارہ بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باوجود ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو تیزی دیکھی گئی۔ جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے اہم انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.65 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں یہ تیزی جمعے کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے کے بعد سامنے آئی۔
توقعات سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ اس بات پر مارکیٹ کے شکوک کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے قابلِ عمل معاہدہ کتنی جلد طے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر بالآخر کسی معاہدے کا اعلان بھی ہو جاتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی مفاہمتیں نازک ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’معاہدہ ہونے کے باوجود دوبارہ صورتحال بدل جانے کا جو خطرہ برقرار رہے گا، اس کے باعث سفارتی پیش رفت کی صورت میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان7 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 hour agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 hour agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر11 minutes ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر9 minutes agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
