تازہ ترین
صدقہ فِطر،روزوں کا صدقہ
(الحاج حافظ)محمد ہاشم قادری صدیقی
﴿ ماہِ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں۔ روزہ رکھنے سے بندوں کے اندر جذبہ¿ غم خواری پیدا ہوتی ہے۔ انسان بھوک اور پیاس کی حالت میں ان لوگوں کا تصور کرکے لرز اٹھتا ہے جو ایک ٹکڑا روٹی کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش میں پریشان رہتے ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : رمضان کا مہینہ غم خواری کا مہینہ ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ ﷺ پہلے سے زیادہ سخی ہوجاتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے کہ جب رمضان کامہینہ آتا تو پیارے آقا ﷺ ہر قیدی کو آزاد کر دیتے اور ہر سائل کو کچھ نہ کچھ ضرور دیتے(بیہقی)۔رحمت عالم ﷺ اس مقدس مہینہ میں صدقہ و خیرات کثرت سے کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا بیان ہے: نبی کریم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور آپ ﷺ سب سے زیادہ صدقہ و خیرات رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے رمضان المبارک کی ہر رات میں ملتے اور دوران ملاقات نبی کریم ﷺ انھیں قرآن مجید سناتے اور آپ ﷺ تیز ہوا سے بھی سبقت کے ساتھ صدقہ و خیرات کرتے۔(شعب الایمان)
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے صدقہ و خیرات کو(سورہ البقرہ ،آیت۵۷۲)احادیث میں صدقات کی بہت فضیلتیں آئی ہیں۔ چند ملاحظہ فرمائیں۔(۱) ابو بکر صدیق ص فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : دوزخ سے بچو اگرچہ آدھا چھوارہ دے کر کہ وہ کجی کو سیدھا اور بری موت کو دور کرتا ہے۔ (۲)نبی کریم ﷺ نے فرمایا :بے شک مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بری موت کو منع کرتاہے۔(۳) بے شک اللہ عزوجل صدقہ کے سبب سے ۰۷دروازے بری موت کے دفع فرماتا ہے۔(۴) صبح کے صدقے آفتوں کو دفع کردیتے ہیں۔(طبرانی،ابو یعلی، والبراز، رواہ الدیمی حضرت انس ص) ،جو مسلمان اپنے مال حلال سے صدقہ دیتا ہے ، اسے حق تعالیٰ اپنے دست شفقت و لطف سے اس طرح پرورش فرماتا ہے۔جیسے تم اپنے چو پایوں کی پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ چند خرمے(چھوارہ) اُحد پہاڑ کے برابر ہو جاتے ہیں اور فرمایا کہ قیامت کے دن ہر ایک اپنے صدقے کے سایہ میں ہوگا جب تک حساب ہوکر حکم صادر ہوگا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ صدقہ کون سا افضل ہے فرمایا :جو تندرستی میں دیا جائے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے دروازے سے سائل کو محروم پھیر دیتا ہے (یعنی کچھ نہیں دیتا) سات دن تک اس کے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں جاتے(کشف القلوب جلد اول صفحہ 469باب صدقہ کی فضیلت)،رسول کریم ﷺ دو کام اوروں پر نہیں چھوڑتے تھے بلکہ اپنے ہی ہاتھوں سے کرتے تھے فقیر کو صدقہ اپنے ہی دست مبارک سے دیتے اور رات کو وضو کے لیے پانی برتن میں خود رکھتے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمان کو کپڑا پہنائے گا جب تک وہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا کپڑا دےنے والا خدا کی حفاظت میں رہے گا۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی نے ستر (۰۷) برس عبادت کی پھر اس سے اتنا بڑا گناہ سرزد ہوا کہ وہ سب عبادت برباد اور رائگاں ہو گئی اس کا گزر ایک فقیر کی طرف سے ہوا اور اس نے فقیر کو ایک روٹی دی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا وہ گناہ عظیم بخش دیا اور ستر برس کی عبادت اسے واپس کر دی۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ بیٹا ! تجھ سے جب کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو صدقہ دینا اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا : تم لو گ ہرگز نیکی کے مقام کو نہ پا سکوگے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے(القرآن ، سور ہ آل عمران،آیت نمبر ۲۹)۔
صدقہ فطر کا حکم:روزہ دار اگرچہ مجسم نیکی میں ہوتا ہے اس کے مادی جسم میں ملکوتی (فرشتوں جیسی)روح پیدا ہوتی رہتی ہے۔ وہ جھوٹ سے، بدگوئی سے، بد کلامی سے، ایذا رسانی سے، حق تلفی سے ، غرض کہ ہر طرح کی برائیوں سے دور رہتا ہے یا کم از کم دور رہنے کی کوشش کرتا ہے ۔ پھر بھی وہ بہر حال انسان ہی ہوتا ہے فرشتہ نہیںہوتا۔ اس لئے ہزار کوششوں کے باوجود اس سے لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ زبان سے بے ہودہ باتیں نکل ہی جاتی ہیں اس لئے قدرتی طور پر روزوں کا بالکل بے داغ اور ہر نقص سے پاک رہنا ممکن نہیں۔ اللہ کے حبیب رسول اللہ ﷺ نے روزوں کو اس طرح کے داغ دھبوں سے پاک صاف اور مقبول رب العالمین بنانے کے لئے ایک خاص قسم کا صدقہ دینے کا حکم فرمایا جس کو اصطلاح شریعت میں ”صدقہ فطر“ کہتے ہیں۔ احادیث میںہے کہ عمرو بن شعیب ص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکہ کے کوچوں میںاعلان کردے کہ صدقہ فطر واجب ہے۔(ترمذی جلداول، صفحہ ۶۴۱،باب ماجاءفی صدقة الفطر) ابو داو¿د،ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اللہ عنھما سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰة فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور مساکین کی خوردو نوش (کھانے پینے )کا انتظام ہوجائے۔(بہار شریعت جلد۵،صفحہ ۵۵)ایک حدیث میں ہے : رمضان کے روزے آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تلک صدقہ فطر ادا نہ کر دیا جائے آگے(بارگاہِ خداوندی )تک نہیں جاتے) (ترغیب) : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطرکو فرض کیا ہے تاکہ روزہ دار (کا روزہ) لغو اور فحش گوئی وغیرہ کے داغ دھبوں سے پاک و صاف ہوجائے(ابو داود ، ابن ماجہ)
(زکوٰة بمعنی ضروری واجب) ان احادیث سے صدقہ فطر کی اہمیت اور غایت (مطلب) دونوں چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔ اس کو نگاہ میں رکھنے کے بعد صدقہ فطر کی ادائیگی ہر روزہ دار مسلمان کی ایک ناگزیر فطری چیز بن جاتی ہے۔ مسئلہ: صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے مال کا باقی رہنا شرط نہیں مال ہلاک ہونے کے بعد بھی صدقہ فطر واجب رہے گا ساقط نہیں ہوگا بخلاف زکوٰة و عشر کہ یہ دونوں مال ہلاک ہوجانے سے ساقط ہوجاتے ہیں(درمختار جلد۲ صفحہ ۰۱۱، بہار شریعت جلد ۵ صفحہ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان)
صدقہ فطر بہت ضروری ہے:صدقہ فطر کے واجب ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آدمی کے پاس زکوٰة کا نصاب ہو بلکہ جس طرح ایک مالدار کے لئے اس کا دینا ضروری ہے اسی طرح اس غریب کے لئے بھی ضروری ہے جس کے پاس عید کے دن اپنے اہل وعیال کی خوراک سے زائد اس قدر موجود ہو کہ ہر ایک کی طرف سے صدقہ فطر دے سکے ۔ مسئلہ: صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں اگر کسی عذر شرعی ، سفر، مرض ، بوڑھا پے کی و جہ سے یا معاذ اللہ بلا عذر روزہ نہ رکھا جب بھی واجب ہے۔ (رد المختارجلد ۲صفحہ ۱۰۱، بہار شریعت جلد ۵صفحہ ۶۵ باب صدقہ فطر کا بیان) ان احادیث اور مسئلہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صدقہ فطر صرف ان ہی لوگوں پر فرض نہیں ہے جنھوں نے روزہ رکھا ہو یا نہیں ۔ نبی کریم نے صدقہ فطر کو طعمتہ للمساکین(مساکین کی خوراک) بھی فرمایا ہے۔ یعنی جس طرح صدقہ فطر کا ایک مقصد روزے دار کے روزوں کو پاک کرنا اور مقبول بنا دینا ہے اسی طرح عید کے دن غریبوں، مساکین کے لئے کھانے پینے کا بندوبست ہوجانا بھی ایک مصلحت اور مقصد ہے جس کا تقاضہ یہی ہے کہ صدقہ فطر دینے والوں کا دائرہ وسیع سے وسیع ہو صرف روزہ داروں تک ہی صدقہ فطر محدود نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ مساکین و فقراءسے محبت رکھتے ہیں اور ان کے لئے تواضع کرتے ہیں اور یوں حضور ﷺ کے اس قول پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔اے اللہ مجھے مسکین کی حالت میں رکھ اور مجھے مسکینی پر موت دے اور قیامت کے دن مساکین کے زمرے میں اٹھا۔(جامع ترمذی جلد ۲صفحہ ۸۵، کتاب الزہد حدیث نمبر۲۵۳۲)
اللہ کے رسول سب سے زیادہ فقراءومساکین کی تواضع کرتے اور جب ان کے ساتھ بیٹھتے تو گھٹنے پر گھٹنا رکھ کر بیٹھتے اور محبت سے پیش آتے لہٰذا ہم کو آپ کو چاہئے کہ فقراءو مساکین کی خوراک کا انتظام کریں ۔ صدقہ فطر ضرور ادا کریں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا :رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر اس لئے مقرر فرمایاتاکہ لغو اور بےہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور دوسری طرف مساکین کے لئے خوراک ہوجائے۔(ابو داو¿دجلداول صفحہ۷۲۲، کتاب الزکوٰة ،مشکوٰة صفحہ ۰۶۱کتاب الزکوٰة)ہم سب کو چاہئے کہ صدقہ فطر عید سے پہلے ادا کریں ۔ عید کے دن گویا مزدوری ملنے کا دن ہے ۔ عید کے دن معاشرے کے پسماندہ اور محروم لوگوں کو اپنی خوشی میں شامل کرنا چاہئے تاکہ ان کی بھی عید ہوجائے ۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو صدقہ فطر و زکوٰة ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ اور روزوں کے فوائد سے مالا مال فرمائے آمین! ثم آمین!
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
سری نگر، جموں و کشمیر کے حکام نے پیر کو مبینہ طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہریوں کو ملک بدر کردیا۔ انہیں ہندوستانی فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کشمیر سے مغربی بنگال کے باگ ڈوگرا لے جایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ ملک بدر کیے گئے افراد کو باگ ڈوگرا لے جایا گیا، جہاں انہیں مزید بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے حوالے کردیا گیا۔
حکام نے ان افراد کو مختلف واقعات میں حراست میں لیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے کئی افراد کو کشمیر کے مختلف علاقوں میں کی گئی چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ملک بدر کیے گئے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہے تھے، جن میں تعمیراتی مزدور بھی شامل ہیں۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ’’یہ کارروائی مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرکے انجام دی جا رہی ہے۔‘‘
معلوم ہوا ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے ایک اور گروپ کو بھی آنے والے دنوں میں ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف تازہ کارروائی سرحدی ریاستوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کی وسیع تر مشق کے تحت کی گئی ہے۔
مرکز کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی نے، جس کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس پربھاکر ناولیکر کر رہے ہیں، اگست میں جموں کا دورہ کیا تھا تاکہ مبینہ غیر قانونی امیگریشن سمیت آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 6,000 سے زیادہ روہنگیا اور صرف 500 بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
فارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلیاں کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے عہدے کا غلط استعمال کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مدد کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا، “اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مسٹر گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ تبدیلی کی ہے اور یہ تبدیلی واضح طور پر بی جے پی کی مدد کے لیے کی گئی۔ یہ ان کے عہدے کے غلط استعمال کا ایک اور ثبوت ہے۔ اس معاملے کی سازش میں شامل تمام لوگوں کو ‘ووٹ چوری’ کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ آن لائن فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کی بات الیکشن کمیشن کے اپنے کمشنروں نے بھی درج کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی سامنے آنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن میں کس کے حکم پر ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے یہ تبدیلی کروائی گئی۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار اور اس معاملے میں شامل دیگر تمام لوگوں کو جمہوریت پر کیے گئے اس مبینہ مجرمانہ حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے اپنے پوسٹ میں 26 ستمبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ وضاحت بھی شیئر کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی آر ( کی مدت کے لیے فارم-6 کے ساتھ منسلک ڈیکلریشن کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ غیر ایس آئی آر مدت میں ضوابط کے مطابق لاگو فارم کا استعمال کیا جائے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر کوئی یکطرفہ عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ وہ ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر سے جڑے اہم فیصلے، چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یکطرفہ طور پر لیے جانے کے الزامات پر پہلے الیکشن کمیشن اور دیگر مدعا علیہان کا موقف سنے گی۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 week agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
دنیا7 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
-
دنیا1 week agoیوکرین میں روسی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک، درجنوں زخمی
-
دنیا7 days agoامریکہ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات کی کان کنی کر سکتا ہے: روبیو
-
دنیا6 days agoعالمی قوانین کے زوال سے دنیا ’ہابسیائی‘ نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے: جے شنکر
-
دنیا6 days agoغزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
-
جموں و کشمیر4 days agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا5 days agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
ہندوستان1 week agoاپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
