تازہ ترین
طالبات کی قلیل تعداد کے ساتھ افغانستانی جامعات میں تعلیمی سلسلہ بحال
کابل، 2 فروری (یو این آئی) اگست میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور عالمی برادری کے خواتین کے سلسلے میں طالبان پر زبردست نقطہ چینی کے بعد افغانستان میں پہلی بار آج کچھ سرکاری جامعات کھل گئی ہیں جہاں خواتین کی قلیل تعداد کلاسز میں شرکت کر رہی ہے اور طلبہ اور طالبات کے لیے علیحدہ کلاسز کا انتظام کیا جارہا ہے۔یہ اطلاع غیر ملکی میڈیا نے دی ہے۔
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے لڑکیوں کے زیادہ تر سیکنڈری اسکولز اور تمام سرکاری جامعات کو بند کردیا گیا تھا۔اس سے یہ خوف پیدا ہوا کہ 1996 سے 2001 کے دوران طالبان کے پہلے دور حکومت کی طرح اس بار دوبارہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا جائے گا۔
ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ننگرہار یونیورسٹی میں قانون اور سیاسیات کی طالبہ زرلشتہ حقمل نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے خوشی کا لمحہ ہے کہ ہماری کلاسز شروع ہوگئی ہیں، لیکن ہمیں اب بھی خدشہ ہے کہ طالبان ہمیں روک سکتے ہیں‘۔ننگرہار یونیورسٹی کے سربراہ خلیل احمد بحسودوال نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات علیحدہ علیحدہ کلاسز میں شرکت کریں گے، بہت سے صوبوں میں یہ طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔
حکام نے بتایا کہ لغمان، ننگرہار، قندھار، نمروز، فراح اور ہلمند جیسے گرم موسم والے صوبوں میں جامعات آج کھل گئی ہیں، جبکہ کابل سمیت دیگر سرد علاقوں میں جامعات 26 فروری سے دوبارہ کھل جائیں گی۔ بدھ کی صبح صرف 6 خواتین کو برقعہ پہنے لغمان یونیورسٹی میں داخل ہوتے دیکھا۔طالبان جنگجو یونیورسٹی کے داخلی دروازے پر تعینات تھے، ایک ٹرائی پوڈ پر مشین گن مین گیٹ پر نصب تھی۔
یونورسٹی کے ایک ملازم نے بتایا کہ طلبہ و طالبات کی کلاسیں علیحدہ علیحدہ ہوں گی، خواتین کو صبح اور مردوں کو دوپہر میں پڑھایا جائے گا۔
طالبان انتظامیہ نے باضابطہ طور پر خواتین یونیورسٹی کی طالبات کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان نہیں کیا، لیکن تعلیمی حکام نے بتایا کہ خواتین کو اس شرط پر کلاسز میں شرکت کی اجازت دی گئی کہ انہیں مرد طلبہ سے علیحدہ کلاسز میں پڑھایا جائے۔
اقوام متحدہ نے افغانستان کی سرکاری جامعات میں طالبات کی واپسی کی تعریف کی ہے جو کہ خواتین کی تعلیم کے سلسلے کی باضابطہ بحالی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ اس اعلان کا خیر مقدم کرتا ہے کہ 2 فروری سے سرکاری جامعات تمام طلبہ و طالبات کے لیے دوبارہ کھلنا شروع ہوجائیں گی، ہر نوجوان کو تعلیم تک یکساں رسائی حاصل ہونے کے لیے یہ انتہائی اہم ہے۔خصوصی نمائندہ ڈیبرا لیونز نے بھی اپنی ٹوئٹ میں جامعات میں طلبہ و طالبات کی واپسی کی حمایت پر زور دیا۔
افغانستان کی کچھ جامعات میں تعلیمی سلسلہ طالبان کے ایک وفد کی ناروے میں مغربی حکام سے بات چیت کے ایک ہفتے کے بعد بحال ہوا ہے جہاں اربوں ڈالر کے ضبط شدہ اثاثوں اور منجمد غیر ملکی امداد کی بحالی کے لیے ان پر خواتین کے حقوق کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔امداد کی بندش نے افغانستان میں ایک انسانی بحران کو جنم دیا ہے جو پہلے ہی کئی دہائیوں طویل جنگ سے تباہ حال ہو چکا ہے۔
ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے جبکہ وہ اپنی گزشتہ سخت گیر حکومت کے برعکس اس بار معتدل طرز حکمرانی کا وعدہ کرچکے ہیں۔طالبان حکومت نے خواتین پر کئی پابندیاں عائد کی ہیں جس کی وجہ سے ان پر کئی سرکاری ملازمتوں کے دروازے بھی بند کردیے گئے ہیں۔طالبان نے کہا ہے کہ مارچ کے آخر تک لڑکیوں کے تمام اسکول دوبارہ کھل جائیں گے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
