تازہ ترین
عالمگیروبا پہلے صحت عامہ، پھر معاشی اور اب یہ انسانیت کے بحران میں تبدیل ہوئی: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ (یو این) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس جیسی وبا سے دنیا میں جنم لینے والا بحران انسانی حقوق کے لیے بحران بن رہے ہیں۔
کے این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے دوران حکومتوں اور عہدیداروں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا کہ کورنا کا بحران انسانی حقوق کی پامالی کا بحران بن سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انتونیو گوتریس نے 23 اپریل کو اپنے ویڈیو پیغام میں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کے اٹھائے گئے اقدامات کے دوران کمزور لوگوں کو تضحیک کا نشانہ بنائے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے وبا کا بحران انسانی حقوق کا بدترین بحران بننے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی سروسز اور سہولیات کے دوران لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کی شکایات ملی ہیں اور ایسی باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وبا کا مذکورہ بحران بدترین انسانی پامالی کے بحران میں تبدیل ہو رہا ہے۔سوا ایک منٹ سے بھی کم دورانیے کی ویڈیو میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا پہلے صحت عامہ کا بحران بنی، پھر یہ معاشی بحران بنی اور پھر یہ انسانیت کے بحران میں تبدیل ہوئی۔اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وبا کے ان دنوں میں حکومتوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ایسے اقدامات پر وہ دنیا کو یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں لوگوں کی اہمیت اور ان کے حقوق کو اولین ترجیح دی جائے اور ان سے کسی طرح کی تفریق اور ناروا سلوک نہ رکھا جائے۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس ہر کوئی متاثر ہے اور ہو رہا ہے لیکن اس وبا سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم انسانی حقوق کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے سے تعاون کرکے مشکل کی اس گھڑی سے نکلیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں وبا کے دنوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک رپورٹ کا لنک بھی شیئر کیا جس میں کہا گیا کہ ہے کہ وبا کی وجہ سے دنیا کے131 ممالک نے اپنی سرحدیں تک بند کردی ہیں، جس وجہ سے مہاجرین کو مسائل کا سامنا ہے۔
اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ ممالک سے نسل پرستی، آمریت پرستی، امتیازی سلوک، صنفی تفریق، نسلی امتیاز اور کمزوروں کو نشانہ بنانے کی شکایات سامنے آئی ہیں اور حکومتوں اور عہدیداروں کے ایسے رویوں کے باعث کورونا کی وبا کا بحران بدترین انسانی حقوق کے بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔تاہم رپورٹ میں ایسے کسی ملک کا ذکر نہیں کیا گیا جہاں وبا کے دنوں میں لوگوں کے ساتھ نسلی، صنفی و مذہبی تفریق کی بنیاد پر انہیں سہولیات فراہم کی جا رہی ہوں یا انہیں سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہو۔رپورٹ میں تمام ممالک کی حکومتوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ وبا کے دنوں میں کورونا سے بچاؤ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مزید شفاف بنائیں اور وہ کسی بھی کمزور کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرنے سمیت کسی بھی فرد کی شخصی آزادی کو نہ کچلیں۔
اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں دنیا کو خبردار کیا کہ وہ وبا کے دنوں میں انسانوں میں تفریق روا رکھنے سے گریز کریں، تاکہ وبا انسانی حقوق کا بحران نہ بنے۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
