جموں و کشمیر
عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر ہے:عمرعبداللہ
سری نگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں جموں وکشمیر کو درپیش مختلف مسائل پر کھل کر بات کی انہوں نے حکومت کو درپیش چیلنجز، میڈیا کی آزادی، ریاستی درجے کی بحالی،راج بھون اور منتخب حکومت کے درمیان دوہری گورننس کے ساتھ ساتھ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا عمر عبداللہ نے کہاکہ عوام الناس سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر ہے۔
وزیرا علیٰ عمر عبداللہ کی پہلی پریس کانفرنس کی جھلکیاں :
’ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے پاس ایک سال کا وقت کافی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370 پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت ہند کو ریاست کا درجہ جلد بحال کرنے کی ہدایت دی تھی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایک سال بیت گیا ہے جو جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے حکومت ہند کے لئے کافی وقت ہے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اکتوبر 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر حصہ لیا اور جس کی حکومت ہند کی طرف سے کافی پذیرائی ہوئی۔
انہوں نے کہا: ‘ لہذا اس کے بدلے میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی امید ہے کہ انہیں انتخابات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا صلہ ملے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: ‘ہمیں امید ہے کہ جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بہت جلد بحال کیا جائے گا’۔
’گورننس کے بارے میں‘ :
گورننس کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ‘ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے جذبات اور امنگوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور ہم اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں’۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ‘بہت ساری چیزیں ہمیں ملی ہیں لیکن میں ایک ایک کرکے ان مسائل کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتا ہوں’۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے اچھی شروعات کی ہیں اور جو ہم نے الیکشن سے پہلے لوگوں کے ساتھ وعدے کئے ہیں ہم ان کو پورا کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے منہ نہیں پھیریں گے’۔
’بجلی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں‘ :
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کی خاطر سرکار مرکزی وزارت بجلی کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جہاں تک بجلی میٹرلگانے کی بات ہے تو اس نظام سے ہی برقی رو کی موجودہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ہر سال خزانے کو اضافی بجلی خریدنے کی صورت میں نو ہزار پانچ سو کروڑ روپیہ کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق خراب ترسیلی لائنوں کی وجہ سے زائد از پچاس فیصد بجلی ضائع ہو رہی ہیں اورا س کو بہتر بنانے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
’دوہری گورننس کے بارے میں‘ :
دوہری گورننس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے راج بھون اور منتخب حکومت کے درمیان چیلنجوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ زائد از دو مہینے ہو گئے اور یہ سمجھنا کہ مرکزی زیر انتظام حکومت کس طرح کام کرتی ہے ایک نیا تجربہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم راج بھون اور منتخب حکومت کی ذمہ داروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی خاطر راج بھون اور منتخب حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ جہاں بھی شکایات کا ازالہ ہو (راج بھون یا منتخب حکومت) وہاں لوگوں کو جانا چاہئے اور میں یہ مشورہ نہیں دونگا کہ لوگ راج بھون نہ جائیں ۔
ایڈوکیٹ جنرل کی تقرری اور شیخ محمد عبداللہ کی یوم پیدائش کی تعطیل کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہاکہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ جموں وکشمیر کے میراث ہے۔
ان کے مطابق وادی کشمیر میں جب سردیاں شروع ہو جاتی ہیں تو حماموں میں بیٹھ کر لوگ خیالی پلاو پکاتے ہیں ۔
’پریس کی آزادی کے بارے میں:‘
میڈیا اداروں کے کام کاج کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا: ‘میں آزاد میڈیا اداروں کو دیکھنا چاہوں گا جو بغیر کسی مداخلت اور دباﺅ کے کام کریں گے’۔
انہوں نے کہا: ‘میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میڈیا اداروں کو کیا شائع کرنا ہے اور کیا نہیں کے بارے میں کہیں سے کوئی ٹیلی فون کال نہ آئے’۔
عبداللہ نے آزاد اور منصفانہ پریس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ذرائع ابلاغ کی موجودہ حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں میڈیا غیر جانبدرانہ رپورٹنگ کے لئے پوری طرح سے آزاد ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر پریس کلب کے الیکشن جلدازجلد منعقد ہو۔
’مجوزہ سٹیلائٹ کالونی کی تعمیر کے بارے میں‘ :
سٹیلائٹ کالونیوں کی تعمیر کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس حوالے سے سرکار کے پاس کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کچھ سیاستدان اس حوالے سے بیانات دے رہے ہیں لیکن سرکار کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں آیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق جب اس طرح کا منصوبہ حکومت کے پاس آئے گا تو اس بارے میں لوگوں کو جانکاری فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ جہاں تک میری ذاتی رائے ہے تو مجھے لگ رہا ہے کہ اگر اس طرح کی کالونیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہوگا تو وہاں پریہاں کے لوگوں کو ہی بسایا جائے گا۔
پلوامہ میں این آئی ٹی کیمپس پر لوگوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرنے پر وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اگر پلوامہ کے لوگ کیمپس نہیں چاہتے تو دوسرے علاقے کے لوگ اس کیمپس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
’آغا روح اللہ مہدی کی جانب سے احتجاج کرنے کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جمہوریت میں ہر کسی کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری رہائشی گاہ کے باہر جب احتجاج کیا گیا تو کچھ طلبا کے ساتھ بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ریزرویشن کے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ سرکار نے پہلے ہی ریزرویشن کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جنہیں وقت مقررہ کے اندرا ندر اپنی رپورٹ پشی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جہاں تک یہ بات ہے کہ آغا روح اللہ مہدی نے راج بھون کے باہر احتجاج کیوں نہیں کیا تو اسکا جواب تو ممبرپارلیمنٹ ہی دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کے ساتھ کھبی کھبار فون پر بھی بات چیت ہوا کرتی ہیں۔
’دفعہ 370اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں‘ :
بھاجپا کے اس دعوئے کہ دفعہ 370کی منسوخی سے کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو گیا ہے کے جواب میں عمر عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا :’بی جے پی دعویٰ کرتی ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے لیکن پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے مسلئے کا کیا ہوا ہے ؟
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے بی جے پی کا دعویٰ یک طرفہ ہے۔
’انتخابی منشور میں کئے گئے وعدے پورے کرنے کے بارے میں‘ :
عمر عبداللہ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ الیکشن سے قبل جتنے بھی وعدئے کئے گئے انہیں ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ سرکار نے پہلے دو ماہ کے دوران تعلیمی کلینڈر کو تبدیل کیا ، ریاستی درجے کی بحالی کے لئے قرار داد پاس کی ، عوام کے ساتھ رابطوں کو مزید وسعت دی گئی ۔
ان کے مطابق جہاں تک ریاستی درجے کا تعلق ہے تو اس میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے تاہم موجودہ سرکار اس سمت میں بھی اپنا کام کررہی ہیں۔
’فائر اینڈ ایمرجنسی بھرتی گھوٹالہ کے بارے میں‘ :
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امیدواروں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیس کو اینٹی کرپشن بیورو کے سپرد کیا گیا ہے اور میں یہ یقین دلاتا ہوں کہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس امیدواروں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے تحقیقات شروع کی ہے اور ہمیں رپورٹ کا انتظا ر کرنا چاہئے۔
یو این آئی- ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
