دنیا
غزہ پر فلم کے معاملے میں اسرائیلی وزیر کی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر ثقافت میکی زوہار نے کہا ہے کہ وہ فلم سازوں یووال ابراہم اور ریچل سور کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں کی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی سے متعلق دستاویزی فلم ’نازا‘ کو وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ دیا گیا ہے۔
زوہار نے اتوار کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دستاویزی فلم کو ’’گھٹیا‘‘ قرار دیا اور فلم فیسٹیول میں اسے ملنے والے ایوارڈ کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے فلم سازوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’دنیا بھر کے یہود مخالفین سے تالیاں بٹورنے کے لیے‘‘ اپنے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ ابراہم اور سور کے اقدامات ’’ریاست سے غداری کے مترادف‘‘ ہیں۔
انہوں نے لکھا، ’’وزیر ثقافت کی حیثیت سے میں ریاست سے غداری کے الزام میں ان قابل نفرت تخلیق کاروں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے لیے فوری کارروائی کروں گا۔‘‘
80 منٹ دورانیے کی اس فلم میں غزہ میں فلسطینیوں کے ’’منصوبہ بند اجتماعی قتل‘‘ کے لیے اسرائیل کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کے استعمال کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ وینس فلم فیسٹیول کے سرکاری خلاصے کے مطابق فلم میں اس حوالے سے تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ فیسٹیول میں فلم کی نمائش کے بعد اسے 25 منٹ تک کھڑے ہوکر داد دی گئی۔
فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے بیانات بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ ان انٹرویوز میں ’’لیونڈر‘‘ نامی مصنوعی ذہانت کے نظام کا بھی ذکر ہے، جسے غزہ میں فلسطینیوں کے ٹیلی مواصلاتی رابطوں کی نگرانی اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کا بتایا گیا ہے۔
فلم ساز ابراہم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کی دستاویزی فلم مغربی حکومتوں کو اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے پر آمادہ کرے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بنگلہ دیش نے دو ماہ میں ہندوستان سے 500 ٹن ہلسا مچھلی درآمد کی، مزید 200 ٹن آنے والی ہے
ڈھاکہ/نئی دہلی، ہندوستان نے گزشتہ دو ماہ کے دوران بنگلہ دیش کو تقریباً 500 ٹن ہلسا مچھلی برآمد کی ہے، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اس قیمتی مچھلی کی روایتی تجارتی سمت میں ایک اہم تبدیلی ہے۔
مچھلی کے تاجروں نے بتایا کہ مزید 150 سے 200 ٹن ہلسا، جس کا زیادہ تر حصہ گجرات کے بھروچ سے حاصل کیا گیا ہے، آئندہ چند ہفتوں کے دوران ہندوستان سے بنگلہ دیش برآمد کیے جانے کی توقع ہے۔
بنگلہ دیش کو ہلسا کی برآمد ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ملک میں رواں سال ہلسا کی پیداوار میں کمی کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث مچھلی کے تاجروں نے مقبول مچھلی کی مقامی طلب پوری کرنے کے لیے ہندوستان کا رخ کیا ہے۔
تاجروں کے مطابق زیادہ تر کھیپ گجرات سے حاصل کی جاتی ہے اور بھروچ بندرگاہ کے ذریعے بھیجی جاتی ہے، جبکہ کچھ مچھلی مغربی بنگال کی ہاوڑہ تھوک مچھلی منڈی کے راستے بھی پہنچائی جاتی ہے۔
ڈیلی سن کے مطابق ہاوڑہ ہول سیل فش امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سکریٹری سید انور مقصود نے کہا، ’’بنگلہ دیش نے پہلی بار ہندوستان سے ہلسا درآمد کی ہے۔ اس سال وہاں ہلسا کی قلت ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’گزشتہ دو ماہ میں تقریباً 500 ٹن ہلسا برآمد کی گئی ہے اور مزید 150 سے 200 ٹن آئندہ چند ہفتوں میں بھیجی جانی ہے۔‘‘
بنگلہ دیش نے مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران بیناپول-پیٹراپول زمینی بندرگاہ کے ذریعے ہندوستان سے 352,787 کلوگرام ہلسا درآمد کی، جبکہ اگست میں درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔جولائی میں صرف 29,440 کلوگرام ہلسا ملک میں داخل ہوئی تھی، لیکن اگست میں یہ مقدار بڑھ کر 323,346 کلوگرام ہوگئی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 11 گنا زیادہ ہے۔
کسٹمز اور فشریز قرنطینہ دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق کھیپوں کی اعلان کردہ مالیت تقریباً 6.92 کروڑ ٹکا (562,460 امریکی ڈالر) ہے۔
جولائی میں تین کمپنیوں نے ہلسا درآمد کی تھی۔ اگست میں یہ تعداد بڑھ کر 19 ہوگئی، جس کے ساتھ دونوں ماہ کے دوران بیناپول کے راستے ہلسا درآمد کرنے والی کمپنیوں کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی۔
ایک زمانے میں بنگلہ دیش ہندوستان کو ہلسا برآمد کرتا تھا۔ بنگلہ دیش میں ہندوستان سے ہلسا کی درآمد نسبتاً حالیہ پیش رفت ہے اور اب اس کی بڑھتی ہوئی مقدار مقامی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے۔
نیشنل بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش نے جولائی 2025 میں ہندوستان سے ہلسا درآمد کرنا شروع کی تھی، جب تقریباً 17,850 کلوگرام مچھلی ملک میں پہنچی تھی۔ اس کے بعد درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور رواں مالی سال میں کئی لاکھ کلوگرام ہلسا بنگلہ دیش پہنچ چکی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا ۔
دنیا
حوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
صنعا، یمن کے حوثیوں نے پیر کے روز کہا کہ انہوں نے جنوبی شہر خمیس مشیط میں واقع سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ گروپ نے کنگ خالد ایئربیس کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان کے دعوے کے مطابق حملے میں طیاروں کے ہینگرز، رڈار، رن ویز، اسلحہ و گولہ بارود کے گودام اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایئربیس کو ’’بڑا نقصان‘‘ پہنچا ہے۔
حوثیوں نے کہا کہ یہ کارروائی یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی ایف-15 اور ٹائفون لڑاکا طیاروں نے گزشتہ پانچ دن کے دوران خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے یمن کے کئی صوبوں میں 300 سے زائد حملے کیے ہیں۔
حوثیوں، جنہیں باضابطہ طور پر انصار اللہ کہا جاتا ہے، نے کہا کہ وہ سعودی فوجی اہداف کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ریاض اپنی فضائی کارروائیاں بند نہیں کرتا اور یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں سے محاصرہ ختم نہیں کرتا۔
سریع نے خبردار کیا کہ ’’کسی بھی نئی جارحیت کا جواب مزید وسیع اور شدید کارروائیوں سے دیا جائے گا‘‘ اور کہا کہ گروپ سعودی عرب کی سرزمین کے اندر دور تک موجود اہداف کو نشانہ بناتا رہے گا۔
سریع نے کہا، ’’ہم سعودی فوجی مراکز کو اس وقت تک نشانہ بناتے رہیں گے جب تک جارحیت ختم نہیں ہوجاتی اور یمن سے محاصرہ اٹھا نہیں لیا جاتا۔‘‘
دریں اثنا، سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے خمیس مشیط گورنریٹ میں الرٹ جاری کیا، تاہم بعد میں کہا کہ ’’خطرہ ٹل گیا ہے۔‘‘ اس نے رہائشیوں سے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھنے اور بھیڑ لگانے اور حملے کی ویڈیو بنانے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
یہ حملہ سعودی عرب اور ایران نواز حوثیوں کے درمیان سرحد پار جاری کشیدگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔
علاوہ ازیں، خطے میں حوثیوں کی شمولیت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے وسیع ہونے سے خطے میں عدم استحکام اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بحیرہ احمر میں سمندری تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کا یمن میں جاری بحران سے ’’قطعی طور پر کوئی تعلق‘‘ نہیں ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کی بالغ شہریوں کو 5 ہزار ڈالر کے چیک دینے کی تجویز کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بالغ امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر کے ’’ڈیویڈنڈ‘‘ کے چیک دینے کی تجویز پر عمل درآمد کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ایک بیان میں یہ بات کہی۔
جانسن کا یہ بیان ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کے ان بیانات کے برعکس ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ یہ ادائیگیاں کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی کی جاسکتی ہیں، حالانکہ اس پروگرام پر ممکنہ طور پر 1.3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ لاگت آسکتی ہے۔
جانسن نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’انہیں کانگریس سے کارروائی کرانے کی ضرورت ہوگی۔‘‘
این بی سی نیوز کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ان چیکوں کی ادائیگی کا وعدہ کرسکتے ہیں، جانسن نے کہا، ’’میں اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ کانگریس اس معاملے پر غور کرے گی اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرے گی، جیسا کہ اسے ہر دوسرے معاملے میں کرنا ہوتا ہے۔‘‘
ٹرمپ نے اس ہفتے ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن میں اس تجویز کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ریپبلکن ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں تو وہ 5,000 ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیں گے، جسے انہوں نے ’’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘‘ کا نام دیا ہے۔
ٹرمپ اور انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان ادائیگیوں کے لیے ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی، سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع اور حکومت کی دیگر آمدنی کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اتوار کو آئرلینڈ سے روانگی سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’5,000 ڈالر کے چیک دیے جائیں گے‘‘ اور مزید کہا کہ وہ اس خیال پر ’’کچھ عرصے سے‘‘ غور کر رہے تھے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ریپبلکنز کے کانگریس پر کنٹرول کے باوجود یہ ادائیگیاں ابھی کیوں نہیں کی جاسکتیں تو ٹرمپ نے جواب دیا، ’’کیونکہ اگر ڈیموکریٹس اقتدار میں آگئے تو ہمارا ملک تباہ حال ہوجائے گا۔‘‘
اس تجویز کو پہلے ہی ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اور قانون سازوں نے بھی وفاقی بجٹ کے خسارے اور مہنگائی پر اتنی بڑی مالی محرک رقم کے ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔
اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ یہ ادائیگیاں کی جائیں گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا1 week agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا1 week agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
دنیا6 days agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
دنیا1 week agoتہران اقتصادی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہے، یہ امریکی حملوں کا “دردناک” جواب دے گا:قالیباف
-
ہندوستان1 week agoگونڈہ میں سڑک حادثہ میں دو طلبہ کی موت
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
-
دنیا1 week agoبرطانوی حکام نے انگلش چینل میں 140 تارکینِ وطن کو لے جانے والی کشتی کو روک لیا
-
تجزیہ5 days agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
جموں و کشمیر4 days agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا1 week agoمیامی میں کارگو طیارے کے رنوے سے اترنے سے پانچ افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر4 days agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
