جموں و کشمیر
این آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
جموں، ہندستان کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد اور لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے بانی حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ (این بی ڈبلیو) حاصل کرتے ہوئے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) نے جموں کی ایک خصوصی عدالت کو بتایا کہ وہ پاکستان میں ہے۔
یہ غیر ضمانتی وارنٹ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو ہتھیار، فنڈز اور ہدایات دینے سے جڑے ایک دہشت گردی کے معاملے میں دو ماہ کے اندر حاصل کیا گیا۔
عدالت قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے دائر اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 75 کے تحت ایل ای ٹی کے بانی اور ر اعلان کردہ دہشت گرد حافظ سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
درخواست میں پنجاب (پاکستان) کے سرگودھا کے رہنے والے سعید کو سرینگر کے بیرونی علاقے پنڈاچ میں جانچ کے دوران محمد نقیب بھٹ کی گرفتاری سے جڑے معاملے میں “فرار ملزم” بتایا گیا۔ بٹ پورہ کے رہنے والے بھٹ کے پاس سے چین کا بنا گرینیڈ اور 15 فعال کارتوس برآمد کیے گئے تھے۔ اس پر زکورہ پولیس اسٹیشن میں متعلقہ دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔ این آئی اے کے خصوصی جج پریم ساگر نے 8 ستمبر کے اپنے حکم میں کہا کہ جانچ کے دوران سعید کی شمولیت سامنے آئی ہے اور وہ “مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث” تھا۔
ایجنسی کے بیان کے بعد عدالت نے پایا کہ وہ فرار ہے اور جانچ ایجنسی اس کی موجودگی کو یقینی نہیں بنا سکی ہے۔ اس لیے گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے (جس میں 25 سیاح اور ایک مقامی شخص کی موت ہو گئی تھی) کے سلسلے میں سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
کشمیر میں لشکر سے جڑی سرحد پار دہشت گردانہ سازش کے معاملے میں این آئی اے نے 10 مقامات پر چھاپے مارے
سرینگر، کشمیر میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتہ کو کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے پاکستان میں مقیم آقاوں اور ان کے مقامی ‘اوور گراؤنڈ ورکرز’ کے نیٹ ورک سے جڑی سرحد پار دہشت گردانہ سازش کے معاملے میں 10 مقامات پر چھاپے مارے۔
ایجنسی کے مطابق، یہ تلاشی مہم کپواڑہ، کولگام، باندی پورہ، بارہمولہ اور سوپور میں چلائی گئی، تاکہ سازش سے جڑے اضافی ثبوت اکٹھے کیے جا سکیں اور دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کو رسد و دیگر امداد دینے والے لوگوں کے کردار کا پتہ لگایا جا سکے۔
یہ معاملہ اصل میں سرینگر کے زکورہ تھانے میں درج کیا گیا تھا، جسے بعد میں این آئی اے نے یو اے پی اے کی مختلف دفعات سمیت دیگر دفعات میں دوبارہ رجسٹر کیا۔
این آئی اے کی تحقیقات 31 مارچ 2026 کی دیر رات ایک ناکہ پوائنٹ پر لشکر سے جڑے ایک شخص کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے پاس سے ایک ہینڈ گرینیڈ اور کارتوس برآمد کیے گئے تھے۔ اس کے بعد ہوئی جانچ کی بنیاد پر سازش سے جڑے پاکستانی شہریوں کی گرفتاری ہوئی اور مقامی سپورٹ نیٹ ورک کے ارکان کی شناخت و ان کے مشتبہ کردار اجاگر ہوئے۔
ایجنسی نے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات سے پاکستان میں مقیم لشکر آقاوں اور ان کے مقامی معاونین کے درمیان براہ راست تعلقات کا پتہ چلا ہے۔ ان مقامی رابطوں کا استعمال دراندازی کے ساتھ بات چیت قائم کرنے، ان کی نقل وحرکت، انہیں چھپانے، پناہ دینے، ریکی کرنے اور رسد فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا۔
پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے این آئی اے مالی لین دین، مواصلاتی نظام، ملزمان کی نقل وحرکت اور ہتھیاروں و دھماکہ خیز مواد کی سپلائی چین کی بھی باریک بینی سے جانچ کر رہی ہے۔
آج کی تلاشی مہم سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینے والے اس وسیع نیٹ ورک کے خلاف جاری جانچ کا ہی حصہ ہے۔ کارروائی کے دوران کئی نئی قابل اعتراض اشیاء ضبط کی گئی ہیں، جنہیں پہلے سے جمع کیے گئے ثبوتوں کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔
این آئی اے نے واضح کیا کہ سازش میں شامل تمام افراد کی شناخت اور کردار طے کرنے کے لیے جانچ جاری رہے گی اور اس کے نتائج کی بنیاد پر آگے گرفتاریاں و برآمدگی کی جا سکتی ہیں۔ اس سے پہلے ایجنسی نے 22 اگست کو بھی اسی جانچ کے سلسلے میں سرینگر، کپواڑہ، اننت ناگ، پلوامہ اور بڈگام میں 10 مقامات پر چھاپہ ماری کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
پی ایم پیکیج ملازمین نے امت شاہ سے سکیورٹی خدشات کے حل کا مطالبہ کیا
سرینگر، آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم، کشمیر نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے کشمیری پنڈت ملازمین اور ان کے خاندانوں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے اور “ایک اور نقل مکانی” کی صورت حال بننے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فورم نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں سوشل میڈیا پر کشمیری پنڈت ملازمین کو نشانہ بناتے ہوئے کئی مبینہ دھمکی آمیز خطوط سامنے آئے ہیں۔ ان خطوط کے پیچھے ‘یونائیٹڈ لبریشن کونسل’ نامی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ بتایا گیا ہے، جسے پاکستان میں قائم کالعدم لشکر طیبہ کی فرنٹ آرگنائزیشن مانا جاتا ہے۔
فورم کے صدر سنی رینا نے مرکزی وزیر داخلہ کو لکھے خط میں کہا کہ کشمیر وادی میں رہ رہے اور کام کر رہے کشمیری ہندو ملازمین اور ان کے خاندانوں میں “خوف اور غیر یقینی کا احساس بڑھ رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ملازمین گزشتہ 16 برسوں سے کشمیر لوٹ کر اپنی زندگی کو پھر سے منظم کرنے اور اپنے مادری وطن میں بسنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن 2021 سے شہریوں اور کشمیری ہندو برادری کے ارکان کی ٹارگٹڈ کلنگ نے خاندانوں میں خوف پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہر واقعہ 1990 کی دہائی کی تکلیف دہ یادوں کو تازہ کرتا ہے اور دوبارہ نقل مکانی کا خدشہ پیدا کرتا ہے۔
فورم نے کہا کہ بھلے ہی صورت حال اوپری طور پر عام دکھائی دیتی ہو، لیکن زمینی سطح پر بے چینی اور تناؤ بنا ہوا ہے اور کئی خاندان اپنی سکیورٹی اور بچوں کے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔
فورم نے حال ہی میں کشمیری ہندوؤں اور پی ایم پیکیج ملازمین کو مل رہی مبینہ دھمکیوں کو خاص تشویش کا موضوع بتایا۔ اس نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں بھی دھمکی آمیز خطوط اور نوٹس خوف کا ابتدائی اشارہ بنے تھے، جس کے بعد بڑی تعداد میں کشمیری ہندوؤں کو وادی سے نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔
فورم نے حال ہی میں پی ایم پیکیج ملازمین کے لیے کشمیر میں الگ الگ مقامات پر محفوظ رہائش فراہم کرنے کی سرکاری پہل کے درمیان اس طرح کی دھمکیوں کو تشویشناک بتایا۔ اس نے کہا کہ کشمیری ہندوؤں اور ان کے رہائشی علاقوں کو لے کر حال ہی میں سامنے آئے دھمکی آمیز پیغامات سے ملازمین اور ان کے خاندانوں میں تشویش بڑھی ہے۔
فورم نے حال ہی کی ان سرکاری پہلوں کا بھی ذکر کیا، جن کے تحت متاثرین کی جائیدادوں اور تجاوزات سے جڑے معاملات میں سرکاری پورٹل کے ذریعے جائیداد کی تفصیلات جمع اور تصدیق کی جا رہی ہیں۔ اس نے کہا کہ اس سے کچھ متاثرہ خاندانوں میں اپنی سکیورٹی اور جائیداد کے حقوق کو لے کر خدشات بڑھے ہیں۔
فورم نے واضح کیا کہ اس کے خدشات کسی برادری کے خلاف نہیں ہیں اور اس کے مطالبات سکیورٹی، عزت، انصاف اور کشمیر میں پرامن طریقے سے رہنے کے حق سے جڑے ہیں۔
فورم نے حالیہ دھمکی آمیز پیغامات کی تفصیلی جانچ اور دھمکی، ڈرانے یا تشدد کے لیے اکسانے کے قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس نے پی ایم پیکیج ملازمین، ان کے خاندانوں اور رہائشی کالونیوں کے آس پاس انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور احتیاطی سکیورٹی اقدامات مضبوط کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ، فورم نے پی ایم پیکیج رہائش گاہوں اور کالونیوں کی جامع سکیورٹی جائزہ، ملازمین کو دھمکی کی اطلاع دینے اور وقت پر سکیورٹی حاصل کرنے کے لیے موثر نظام نیز ہدفی دھمکیوں کے کسی بھی ابھرتے پیٹرن کی قریبی نگرانی کا مطالبہ کیا۔
فورم نے کہا، “ہم ایک اور نقل مکانی نہیں چاہتے۔ ہم کشمیر میں رہنا، کام کرنا اور عزت و سکیورٹی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔”
فورم نے مرکزی حکومت کے کشمیری ہندوؤں کی آباد کاری اور سکیورٹی کے تئیں عزم پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ انتظامی اور سکیورٹی ایجنسیوں کو وقت رہتے ضروری ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ موجودہ خوف کا ماحول کسی اور انسانی بحران میں نہ بدلے۔ کشمیر میں پی ایم پیکیج کے تحت تقریباً 6,000 کشمیری پنڈت ملازمین کام کر رہے ہیں اور سکیورٹی انتظامات کے تحت ٹرانزٹ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
جموں، جموں و کشمیر کے پونچھ اور اودھم پور اضلاع میں اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کی ایک ٹیم نے ہفتے کے دن کئی مقامات پر چھاپے مارے۔
واقعات سے جڑے ذرائع نے بتایا کہ پونچھ کے منڈی اور سرنکوٹ علاقوں نیز اودھم پور ضلع کے رام نگر علاقے میں تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ چھاپے جانچ کے تحت چل رہے ایک معاملے کے سلسلے میں مارے گئے ہیں۔” ذرائع نے بتایا کہ مہم مکمل ہونے کے بعد اس کے متعلق تفصیلی معلومات شیئر کی جائیں گی۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان1 week agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا5 days agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
ہندوستان5 days agoگونڈہ میں سڑک حادثہ میں دو طلبہ کی موت
