دنیا
سعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
بغداد، سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن پر حالیہ ڈرون حملوں سے متعلق تحقیقات میں خلاف ورزیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہونے کے بعد عراق نے ہفتہ کو کئی سرحدی گزرگاہیں عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے میسان آپریشنز کمانڈ کی کارروائیوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اس کے فوجی کمانڈر کو بھی برطرف کردیا۔
عراقی حکام نے بتایا کہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش ’’انتظامی اور سکیورٹی‘‘ اقدامات کے تحت کی گئی ہے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں تنازع اور علاقائی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ اعلان بغداد کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے ایک روز بعد کیا گیا کہ سعودی عرب پر حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرون جنوبی صوبہ میسان کے ایک مقام سے داغے گئے تھے۔
عراق کے سکیورٹی میڈیا سیل نے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی حکام نے متعدد سرحدی گزرگاہوں پر ’’انتظامی اور سکیورٹی انتظامات‘‘ نافذ کرنا شروع کردیئے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں عارضی طور پر بند کردیا گیا۔
بیان کے مطابق حکام نے ’’ضروری قانونی اقدامات کا ایک سلسلہ‘‘ بھی شروع کیا ہے، جبکہ مبینہ خلاف ورزیوں کے حالات کا تعین کرنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، تحقیقات اور معائنے کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات کا مقصد مناسب حل تلاش کرنا اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی تکرار روکنا ہے۔
سکیورٹی میڈیا سیل نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی سرحدی گزرگاہیں بند کی گئی ہیں، کیا خلاف ورزیاں ہوئی ہیں یا یہ بندش کتنے عرصے تک جاری رہے گی۔ تاہم اس نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ عراق کی سرحد پر زرباطیہ اور المنذریہ گزرگاہیں مسافروں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہیں۔
یہ تازہ اقدامات بغداد کی جانب سے جمعہ کو اس تصدیق کے بعد کیے گئے کہ سعودی عرب پر حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرون صوبہ میسان سے داغے گئے تھے۔
وزیر اعظم کے میڈیا دفتر کے مطابق علی الزیدی نے زور دیا کہ حکومت ’’ایسی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گی جو عراق یا دوست ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کو خطرے میں ڈالے۔‘‘ انہوں نے عراقی سرزمین سے اس طرح کے مزید حملے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے بغداد کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
یہ واقعہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی بڑی پیش قدمی کے دوران سامنے آیا ہے، جس سے عالمی تیل کی ترسیل کی اہم بحری گزرگاہوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔
سعودی عرب نے جمعہ کو کہا تھا کہ اس کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کو عراق سے آنے والے ڈرونز کے ذریعے متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں ریاض اور مدینہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم کی درخواست پر مملکت نے ’’اس مرحلے پر جواب نہ دینے‘‘ پر اتفاق کیا ہے اور بغداد کو عراق کی سرزمین سے سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کے خلاف حملے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا وقت دیا جائے گا۔ تاہم ریاض نے خبردار کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، بنیادی ڈھانچے، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی وزارت توانائی نے کہا کہ جمعرات کو ہونے والے حملوں کے باعث مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کرنا پڑا۔ وزارت نے کہا کہ مملکت پڑوسی ممالک کے خلاف عراق سے کیے جانے والے ’’حملوں کو روکنے‘‘ کے لیے ’’عراقی حکومت کی کوششوں کی حمایت‘‘ کرے گی۔
’’مملکت سعودی عرب اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ، اپنی تنصیبات کی حفاظت اور اپنے شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے اپنے حق کی تصدیق کرتی ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بنگلہ دیش میں خسرہ سے مزید سات اموات، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1019 ہوگئی
ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں خسرہ کے انفیکشن میں بڑے پیمانے پر اضافے کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں خسرہ کی علامات والے مزید سات افراد کی موت ہوگئی، جس کے بعد تصدیق شدہ اور مشتبہ کیسز میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1019 ہوگئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ان میں 100 سے زائد افراد کی موت خسرہ کے تصدیق شدہ انفیکشن جبکہ 919 افراد کی موت خسرہ سے متعلق علامات کے باعث ہوئی ہے۔
ڈی جی ایچ ایس نے بتایا کہ جمعہ کی صبح سے ہفتہ تک 24 گھنٹوں کے دوران خسرہ کی علامات والے 855 نئے مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
نئے داخل ہونے والے مریضوں میں ڈھاکہ ڈویژن کے 377، چٹگاؤں کے 200، سلہٹ کے 121، باریشال کے 60، راجشاہی کے 55، میمن سنگھ کے 37، کھلنا کے 31 اور رنگپور کے چار مریض شامل ہیں۔
15 مارچ سے اب تک ملک بھر کے اسپتالوں میں خسرہ کی علامات والے 150202 مریض داخل ہوچکے ہیں، جن میں سے 144465 صحت یاب ہونے کے بعد اسپتالوں سے فارغ کیے جاچکے ہیں۔
15 مارچ سے مشتبہ خسرہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 170638 ہوگئی ہے، جبکہ 20006 کیسز میں خسرہ کے انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔
وزیر صحت و خاندانی بہبود سردار محمد سخاوت حسین نے جمعرات کو کہا کہ حکومت 25 ستمبر سے ملک گیر خسرہ اور روبیلا ویکسینیشن مہم کا ایک اور مرحلہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے، کیونکہ پہلے کی ویکسینیشن مہم کے باوجود انفیکشن کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈھاکہ کے دھان منڈی میں یونیورسٹی ویمنز فیڈریشن کالج میں عالمی یوم انسداد خودکشی کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حال ہی میں خسرہ سے متاثر ہونے والے زیادہ تر بچوں کو خسرہ کی ویکسین نہیں لگی تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ابتدائی طور پر وبا پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سابق حکومت نے ویکسین کا ناکافی ذخیرہ چھوڑا تھا۔
بعد ازاں وزارت صحت نے ویکسین کی اضافی خوراکیں حاصل کیں اور ان بچوں کے لیے ہنگامی مہم چلائی جو معمول کی ویکسینیشن کے دائرے سے باہر رہ گئے تھے۔
سخاوت نے کہا، ’’یونیسیف سے ایسے بچوں کے لیے نئی ویکسین پہنچ گئی ہیں جو اب بھی ویکسینیشن کے دائرے سے باہر ہیں۔ ان ویکسین کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر مہم 25 ستمبر سے دوبارہ شروع کی جائے گی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ نئی مہم کے لیے درکار زیادہ تر ویکسین یونیسیف کے ذریعے پہلے ہی پہنچ چکی ہیں، جبکہ باقی خوراکیں 17 ستمبر تک بنگلہ دیش پہنچنے کی توقع ہے۔
پہلی ہنگامی ویکسینیشن مہم 5 اپریل کو شروع ہوئی تھی، جس میں 30 زیادہ خطرے والے اپازیلا علاقوں میں چھ ماہ سے 59 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔ 12 اپریل سے اسے چار سٹی کارپوریشن علاقوں تک توسیع دی گئی، جس کے بعد 20 اپریل سے ملک گیر مہم شروع کردی گئی۔ یہ ملک گیر مہم 20 مئی تک جاری رہی۔
تاہم مہم اور حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے باوجود خسرہ کا پھیلاؤ جاری ہے۔
ڈی جی ایچ ایس کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ تک خسرہ اور خسرہ جیسی علامات کے باعث 1002 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔
وزارت صحت نے کہا کہ اس کے بعد مزید 14 لاکھ بچوں کو فالو اَپ کوششوں کے تحت ویکسین لگائی گئی ہے۔ وزارت نے مزید بتایا کہ حکومت نے 21 دن کے اندر 1.85 کروڑ بچوں کے لیے ویکسین کا انتظام کیا اور ویکسینیشن پروگرام مکمل کرلیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
بیروت، لبنانی صدر جوزف عون نے ہفتے کو کہا کہ اس وقت “اسرائیل کے ساتھ کوئی نئے مذاکرات نہیں” ہو رہے، انہوں نےاسرائیلی انخلاء، قیدیوں اور بے گھر افراد کی واپسی اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو پر مبنی بیروت کے مطالبات کو دہرایا ۔
عون نے فوج کے کمانڈر رودولف ہیکل اور لبنانی سکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہان کے ہمراہ نباطیہ کے جنوبی علاقے کے دورے کے دوران اخباری نمائندوں سے کہا کہ “اس وقت ہم اسرائیل کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے” ۔
ایک امریکی عہدیدار نے جمعہ کو ایگزیوس کو بتایا تھاکہ اگلے دور کے اسرائیل–لبنان مذاکرات، جو اصل میں اگلے ہفتے روم میں ہونے تھے، موخر کر دیے گئے ہیں۔ اس کے بجائے، اسرائیلی اور لبنانی سفارت کاروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ واشنگٹن میں امریکی دفترِ خارجہ میں ملاقات کریں گے تاکہ پیش رفت اور جون کے فریم ورک معاہدے کے جاری نفاذ پر بات چیت کی جا سکے۔
سرکاری قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عون نے کہا کہ لبنان کی پوزیشن غیر متغیر رہی ہے اور زور دیا کہ “انخلاء، قیدیوں اور بے گھر افراد کی واپسی، اور تعمیر نو قومی اصول ہیں جن کا ہم نفاذ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔”
لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات 14 اپریل کو واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں ہونے والی ایک میٹنگ کے ساتھ شروع ہوئے تھے۔ پہلے دور میں جنگ بندی معاہدے، اسرائیلی انخلاء، سرحدی امور، اور قیدیوں و لاپتہ افراد کے معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
لبنان اور اسرائیل نے 26 جون کو واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس میں لبنانی سرزمین سے اسرائیلی انخلاء کا بتدریجی عمل اور ان علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کا انتظام شامل تھا جو اسرائیلی افواج کے زیرِ قبضہ تھے۔
امریکی عہدیدار کے حوالے سے ایگزوس نے بتایا کہ اگلا رسمی دور اکتوبر میں روم میں متوقع ہے۔
نباتیہ کے دورے کے دوران عون نے اس سرکاری کمپلیکس کا جائزہ لیا جو اسرائیلی ہوائی حملوں میں شدید نقصان کا شکار ہوا تھا، نیز لبنان کے مرکزی بینک کی وہ عمارت دیکھی جو بمباری میں تباہ ہو گئی تھی۔انہوں نے نباتیہ ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور مشکل حالات میں کام جاری رکھنے پر طبی عملے کی تعریف کی۔
سرکاری لبنانی اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 4,400 افراد ہلاک اور لگ بھگ 12,500 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل جنوب لبنان کے بعض علاقوں پر قابض رہنے کی صورتحال برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں وہ علاقے شامل ہیں جو دہائیوں سے اس کے قبضے میں تھے اور وہ مقامات بھی جو حالیہ جنگوں اور عسکری جارحیت کے دوران حاصل کیے گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کے قریب بیلسٹک میزائل داغے: سیئول
سیئول، جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) نے بتایا کہ ہفتہ کی صبح تقریباً 5:20 بجے (جمعہ کو 20:20 جی ایم ٹی) شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی علاقے وونسان سے متعدد میزائل داغے گئے، جنہوں نے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) کا فاصلہ طے کیا۔ جے سی ایس نے کہا کہ وہ میزائل تجربات کے حوالے سے امریکہ اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی نیشنل سکیورٹی آفس نے میزائل داغے جانے کے بعد وزارت دفاع، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ہنگامی سکیورٹی اجلاس منعقد کیا۔
امریکی پیسفک کمانڈ نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل داغے جانے کے واقعے سے امریکی سرزمین یا اس کے اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔ کمانڈ نے کہا کہ واشنگٹن جنوبی کوریا اور خطے میں اپنے دیگر اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
یہ میزائل تجربہ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کی جانب سے شمالی کوریا پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پانچ روزہ مشترکہ بحری مشقیں ختم کیے جانے کے ایک روز بعد کیا گیا۔
پیر کو مشقوں کے آغاز کے چند گھنٹے بعد شمالی کوریا کے وزیر دفاع کم سونگ گی نے ان مشقوں پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا اپنی طاقت کے نقطۂ نظر سے ”مضبوط اور مؤثر جوابی اقدامات“ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ ماہ کے اواخر میں بھی شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ہونے والی نام نہاد ”فریڈم ایج“ مشقوں کے منصوبوں کو پیانگ یانگ اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ”خطرہ“ قرار دے کر سخت تنقید کی تھی۔
شمالی کوریا نے 20 اگست کو بھی سمندر کی جانب متعدد میزائل داغے تھے، حالانکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے رواں سال ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
جوہری ہتھیار رکھنے والے شمالی کوریا کی اگست میں میزائل لانچنگ ایسے وقت ہوئی تھی جب جنوبی کوریا اور امریکہ نے اپنی سالانہ الچی فریڈم شیلڈ فوجی مشقوں کا محدود پیمانے پر انعقاد کیا تھا۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کے مشقوں کا دائرہ کم کرنے کے حکم کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے ان مشقوں کو شمالی کوریا کے خلاف ”نامناسب اور معاندانہ“ قرار دیا تھا، جس سے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوئی تھی۔
پیانگ یانگ طویل عرصے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی مذمت کرتا آیا ہے اور انہیں شمالی کوریا پر حملے کی تیاری قرار دیتا ہے۔ شمالی کوریا اکثر ایسی مشقوں کے دوران یا ان کے آس پاس میزائل تجربات کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
ہندوستان1 week agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
دنیا1 week agoہم یورپ کو ایرانی جوہری خطرے سے بچا رہے ہیں:ٹرمپ کا دعویٰ
-
دنیا5 days agoایران آبنائے ہرمز سے آگے ‘محدود بحری زون’ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار
-
دنیا5 days agoپنیٹا کا انتباہ: ایران جنگ مغربی ایشیا میں ایک اور طویل امریکی جنگ بن سکتی ہے
-
دنیا5 days agoیمن میں حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام-پونچھ سرحد کے قریب اشدر گلی میں تصادم کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک
