جموں و کشمیر
غیر مقامی افراد کو ووٹنگ حقوق دینا جموں وکشمیر کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوگا/غلام نبی آزاد
سری نگر:ڈیموکریٹک آزاد پارٹی (ڈی اے پی) کے چیرمین غلام نبی آزاد نے جموں کے ضلع ترقیاتی کمشنر کی جانب سے غیر مقامی افراد کو ووٹنگ فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کی سخت مخالفت کی۔
انہوں نے بتایا کہ دفعہ 370کے تحت جموں وکشمیر کے لوگوں کو سب سے بڑی سہولیت تھی کہ غیر مقامی افراد یہاں پر اپنا اندراج نہیں کراسکتے تھے۔
اْن کے مطابق تحصیلدار کی جانب سے غیر مقامی شہریوں کو ووٹنگ رائٹس کی سرٹیفکیٹ دینے کا فیصلہ صحیح نہیں اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
موصوف نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو جنوبی ضلع اننت ناگ میں نامہ نگارو ں سے بات چیت کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک آزاد پارٹی (ڈی اے پی) کو مضبوط کرنے کی خاطر زمینی سطح پر کام ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی، ضلعی، زونل کمیٹیوں کی تشکیل کے لئے لیڈران کو اختیارات تقویض کئے گئے ہیں۔
اْن کا کہنا تھا: ’لیڈران اور کارکنوں کو سمجھایا گیا ہیکہ اس پارٹی میں نئے لوگوں کو شامل کرانے کی خاطر مہم شروع کی جائے تاکہ یہ نہیں لگنا چاہئے کہ کانگریس سے ناطہ توڑ کر لیڈران اس پارٹی میں شامل ہو کر اپنا دبدبہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کی جانب سے غیر مقامی افراد کو ووٹنگ رائٹس دینے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر مقامی شہریوں کا ووٹنگ فہرستوں میں اندراج ناقابل برداشت ہے اور اس کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے گی۔
غلام نبی آزاد نے کہا کہ دفعہ 370 کے تحت غیر مقامی افراد جموں وکشمیر میں اپنا اندراج نہیں کراسکتے تھے لیکن اس قانون کو منسوخ کرنے کے بعد اب غیر مقامی افراد کو ووٹنگ رائٹس دئے جارہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک تحصیلدار کیسے غیر مقامی شہریوں کو ووٹنگ رائٹس کی سرٹیفکیٹ فراہم کرسکتا ہے یہ حیران کن ہے اورہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
اْن کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کا فیصلہ لینا جموں وکشمیر کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔
یو این آئی
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد میں آرٹیکل 370، 35اے اور خود اختیاری کے حوالوں کے لیے 10 ترامیم پیش
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے سے متعلق قرارداد میں 10 ترامیم پیش کی گئی ہیں۔ ان میں سے پانچ ترامیم حکمراں نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی نے پیش کی ہیں۔ متعدد ارکان نے مجوزہ قرارداد میں آرٹیکل 370، آرٹیکل 35اے اور خود اختیاری کے حوالے شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے پانچ ارکان اسمبلی جاوید بیگ، تنویر صادق، اعجاز احمد جان، الطاف احمد وانی اور ہلال اکبر لون نے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے کے حوالوں کو قرارداد میں شامل کرنے کے لیے ترامیم پیش کی ہیں، جبکہ دو آزاد ارکان اسمبلی نے بھی اسی نوعیت کی ترامیم پیش کی ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے دو ارکان اسمبلی نے بھی آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35اے سے متعلق ترامیم پیش کی ہیں۔ پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے واضح طور پر قرارداد میں خود اختیاری کا مطالبہ شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
پرہ کی ترمیم میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے ساتھ خود اختیاری کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 370 اور 35اے کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ اسمبلی میں اس معاملے پر پی ڈی پی کے موقف میں یہ ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی نظام الدین بھٹ نے بھی ایک ترمیم پیش کی ہے، جس میں مرکز کو مختلف فورمز پر کیے گئے اپنے وعدوں اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان ترامیم سے پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو پیش کی گئی قرارداد پر ہونے والی بحث میں ایک نیا پہلو شامل ہونے کا امکان ہے۔ اس قرارداد کو پہلے ہی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان اسمبلی کی 2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد اور 2024 کی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں سے متعلق قرارداد کے حوالوں پر شدید اختلاف کا سامنا ہے۔
عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اس قرارداد کو حکومتِ ہند کو بھیجا جائے۔‘‘
2000 کی خود اختیاری سے متعلق قرارداد کے حوالے پر عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو قرارداد پیش کیے جانے کے وقت بی جے پی نے سخت اعتراض کیا تھا۔ بی جے پی ارکان اسمبلی ایوان کے وسط میں آ گئے، نعرے لگائے اور قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جبکہ نیشنل کانفرنس کے ارکان نے جوابی نعرے لگائے۔ اس کے نتیجے میں اسمبلی میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔
پیر کے لیے جاری سرکاری کارروائی کے ایجنڈے میں وزیر اعلیٰ کی قرارداد کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے اور ایوان میں اس پر بحث کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
پیر کے ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ’’25 ستمبر 2026 کو معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی قرارداد پر بحث۔‘‘
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
بی جے پی نے جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی، وقفۂ سوالات متاثر
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کارروائی پیر کو اس وقت متاثر ہوگئی جب بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کہا کہ انہوں نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خود اختیاری کے معاملے پر ایوان نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی پٹھانیا کھڑے ہوئے اور اسپیکر کو بتایا کہ انہوں نے انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک پیش کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسمبلی خود اختیاری کے معاملے پر بحث کرکے اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جا رہی ہے اور اختیارات کی علیحدگی کے اصول کے خلاف کام کر رہی ہے۔
پٹھانیا کو جواب دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ بی جے پی رکن نے ان متعلقہ قواعد کی درست تشریح نہیں کی ہے جن کے تحت انہوں نے یہ تحریک پیش کی ہے۔
راتھر نے کہا کہ انہوں نے نوٹس نہیں دیکھا ہے اور قواعد کے مطابق اس تحریک کو ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا اور 14 دن کے بعد اسے ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس معاملے پر جلد ہی حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم بحث شروع ہوگئی۔ قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور 1953 سے قبل کی صورتِ حال کے حوالوں کو آئین کے منافی قرار دیا۔
2000 میں اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی خود اختیاری کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں وزیر مملکت تھے، اس وقت اس قرارداد کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا تھا۔
یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب اسپیکر راتھر نے وقفۂ سوالات کی کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بی جے پی کے اعتراضات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اس دلیل پر سوال اٹھایا کہ جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر کی وجہ بتانے کے لیے سرحدی صورتِ حال کا حوالہ کیوں دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی اس یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی اور سوال کیا کہ اب تک ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔
چودھری کے بیان کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ بی جے پی کے ارکان ایوان کے وسط میں آ گئے اور نعرے بازی شروع کردی، جس سے وقفۂ سوالات کے دوران اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوئی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں ایل او سی کے قریب سڑک حادثے میں پانچ افراد کی ہلاکت کا خدشہ
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب تنگدھر کے سیماری علاقے میں پیر کو ایک گاڑی گہری کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ اسکارپیو گاڑی سیماری کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئی اور گہری کھائی میں جاگری۔
حادثے میں پانچ افراد کے موقع پر ہی ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ریسکیو ٹیموں کو جائے حادثہ پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور حادثے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
