ہندوستان
غیر یقینی کے اس دور میں بھی ہندوستان مضبوط ہے اوردنیا اس کو تسلیم کر رہی ہے
بنگلورو:وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کہا کہ عالمی غیر یقینی کی صورتحال کے باوجود ہندوستان کی معیشت کی بنیاد مضبوط ہے اور دنیا اسے تسلیم کر رہی ہے بنگلورو میں کرناٹک گلوبل انویسٹرس سمٹ 2022 کا افتتاح کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اس وقت اپنی ترقی کو دنیا کی ترقی کا ایک عنصر بنانے کے لیے تحریک کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنے خطاب میں عالمی سرمایہ کاری کو ہندوستان کی اس تحریک کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری کو جوڑنے کی اپیل کرتے ہوئے ملک میں آنے کی دعوت دی۔مسٹر مودی نے کہا ”ہندوستان میں سرمایہ کاری شمولیاتی ترقی میں سرمایہ کاری ہے، ہندوستان میں سرمایہ کاری زمین کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کے لئے سرمایہ کاری ہے، آئیے ہم کروڑوں لوگوں کے مستقبل کو خوبصورت بنانے کے مقصد کے ساتھ مل کر چلیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان عالمی غیر یقینی کی صورتحال کے باوجود تیزی سے اقتصادی ترقی کر رہا ہے۔ ہندوستان اس وقت جس بلندی پر ہے اس سے ملک کو مسلسل آگے ہی بڑھنا ہے۔
پچھلے سال، ہندوستان نے تقریباً 84 ارب ڈالر کی ریکارڈ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری حاصل کی۔ ہندوستانی معیشت کی جڑیں مضبوط ہیں۔ تمام ممالک اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ”اگرچہ یہ دور عالمی اقتصادی بحران کا دور ہے، لیکن دنیا کے ماہر تجزیہ کار اور معیشت کے ماہرین ہندوستان کو ایک خوش نما مقام قرار دے رہے ہیں۔ ہم اپنی معیشت کے جڑوں کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں تاکہ ہندوستان کی معیشت دن بہ دن مضبوط ہوتی جائے۔ہم نے سرمایہ کاروں کو لال فیتہ شاہی کے جال میں الجھانے کے بجائے سرمایہ کاری کے لیے خوش آئند ماحول بنایا ہے۔ ہم نے نئے پیچیدہ قوانین بنانے کے بجائے ان کو عقلی بنایا ہے۔
ہندوستان کی تعمیر جرات مندانہ اصلاحات، بہتر انفراسٹرکچر اور بہترین ٹیلنٹ سے ہی ممکن ہے۔اس سمت میں حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے انہوں نے نیشنل گتی شکتی ماسٹر پلان کا ذکر کیا، جس میں مستقبل کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا ایک جامع منصوبہ اور موجودہ انفراسٹرکچر کا نقشہ تیار کیا گیا ہے اور آخری کڑی کو جوڑنے کا بھی باریکی سیخیال رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہندوستان میں مصنوعات اور خدمات کو عالمی معیار کا بنانا ہے۔مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ دنیا اس نئے صنعتی انقلاب میں نوجوانوں کے کردار کو دیکھ کر حیران ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں نے پچھلے کچھ سالوں میں ملک میں 100 سے زیادہ ایک یونیکارن کھڑے کئے ہیں۔ وزیر اعظم نے پچھلے 8 سالوں میں ہندوستان میں رجسٹرڈ 80000 سے زیادہ اسٹارٹ اپ یونٹس کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان نے قابل تجدید توانائی کے میدان میں جو بلندی حاصل کی ہے وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے، گزشتہ 8 سالوں میں ملک کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں 3 گنا اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں ملک میں 20 گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان قابل تجدید توانائی کے میدان میں دنیا کے سامنے ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ حکومت ہنر کی نشوونما پر خصوصی زور دے رہی ہے۔ہندوستان میں نئی تکنیکی اور منیجمنٹ یونیورسٹیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دس سال پہلے ملک میں 70 کے قریب ہوائی اڈے کام کر رہے تھے، ان کی تعداد بڑھ کر 140 ہو گئی ہے اور نئے ہوائی اڈے بنائے جا رہے ہیں۔
دس سال پہلے ملک کے سامنے پالیسی معاملات کے حوالے سے بڑا چیلنج تھا، حکومت نے اسے ملک سے باہر نکالا ہے۔مسٹر مودی نے کہا کہ ریاستوں میں منعقد ہونے والی کرناٹک گلوبل انویسٹمنٹ سمٹ جیسے پروگرام ملک میں کوآپریٹو فیڈرلزم اور مسابقتی وفاقیت کی ایک بہتر مثال ہیں۔
آج خود ریاستیں مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے اداروں کے ساتھ معاہدے کر رہی ہیں۔
(یو این آئی)۔
ہندوستان
مہنگائی، بڑھتے گھریلو اخراجات پر جے رام رمیش کا حکومت پر شدید حملہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر نریندر مودی حکومت کے خلاف اپنے حملے کو تیز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بالخصوص تہواروں کے موسم میں عام خاندانوں پر مہنگائی کے بڑھتے بوجھ پر کب براہ راست بات کریں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ مسلسل گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہا ہے اور کہا کہ مہنگائی اب صرف کھانے پینے کی اشیاء اور باورچی خانے کے ضروری سامان تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے کہا، ”تہواروں کے موسم میں عوام کی جیبیں لوٹنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے،“ انہوں نے مزید کہا کہ ”مہنگائی کا درد اب باورچی خانے تک محدود نہیں رہا، لیکن وزیر اعظم بے حسی کے ساتھ ڈھول بجا رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے حکومت کے خلاف اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور اگست کے مہینے میں پیاز کی قیمتوں میں ہونے والے زبردست اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پیاز کی مہنگائی اگست میں بڑھ کر 48.27 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی میں یہ 22.54 فیصد تھی۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”سبزیاں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں، اور پیاز کی مہنگائی اگست میں 48.27 فیصد تک پہنچ گئی،“ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گھریلو استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایئر کنڈیشنر، ٹیلی ویژن اور ریفریجریٹر جیسی مصنوعات مزید مہنگی ہونے والی ہیں اور اس صورتحال کو گھریلو بچت میں کمی اور خاندانوں کے بڑھتے ہوئے قرضوں سے جوڑا۔
انہوں نے سوال کیا، ”ایسے حالات میں ایک عام خاندان اپنی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے؟“
مسٹر رمیش نے مودی کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ وزیر اعظم باقاعدگی سے مختلف مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن مہنگائی اور خاندانوں کو درپیش مالی دباؤ پر اس طرح کی توجہ کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے پوچھا، ”وزیر اعظم ’من کی بات‘ لڑی میں مختلف مسائل پر نیحتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ ملک کے سب سے اہم مسئلے مہنگائی پر کب بولیں گے؟ وہ عوام کے لیے تشویش کا اظہار کب کریں گے؟“
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ عام لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ حکومت مناسب ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ”ایک عام خاندان اپنا بجٹ کیسے سنبھالے؟ متوسط طبقہ اور غریب کب تک پستے رہیں گے؟“
کھانے پینے کی مختلف اشیاء پر مہنگائی کا دباؤ نمایاں طور پر مختلف رہا ہے۔ جہاں پیاز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ درج کیا گیا، وہیں اگست میں لہسن کی مہنگائی 43.60 فیصد اور ادرک کی مہنگائی 73.82 فیصد رہی۔ اس کے برعکس، ٹماٹر کی قیمتوں میں سال بہ سال 31.09 فیصد اور آلو کی قیمتوں میں 13.14 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مسٹر رمیش کے یہ تبصرے تہواروں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں، گھریلو بچت، مقروضیت اور صارفین پر مہنگائی کے وسیع تر اثرات پر نئے سرے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت سوال پوچھنے پر اپوزیشن پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ-سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ای ڈی-سی بی آئی) اور عوام پر تھپڑ، لاٹھی نیز گولی کا استعمال کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی لوگوں کے سوالوں سے اس قدر گھبرا گئی ہے کہ ‘ناراض پھوپھا’، ‘دماغی نکسل’ اور ‘آندولن جیوی’ جیسے نازیبا الفاظ بھی اب پھیکے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی-راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) براہ راست تشدد پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے وزیر نوجوان کو تھپڑ مار رہے ہیں اور وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں جنتر منتر پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج ہوا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ اس سے پہلے کسانوں کو بی جے پی حکومت میں ایک وزیر کے بیٹے نے گاڑی سے کچلا، ایک مرکزی وزیر نے ‘گولی مارو…’ کہا، کسان تحریک میں ربر کی گولیاں چلیں اور 750 کسانوں کی جان گئی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے اونا میں دلتوں پر کوڑے برسائے گئے، لیکن اب تک انصاف نہیں ملا۔ اقتدار کا غرور جب عروج پر ہوتا ہے، تو لوگوں کا عوامی سطح پر استحصال اور تذلیل عادت بن جاتی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس صرف پالیسیوں سے ہی جمہوریت نہیں کچل رہے ہیں، بلکہ اب لاٹھی ڈنڈے تان کر عوام پر براہ راست حملہ کر رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے بھگت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا، کہا ان کی بہادری ہندوستانی نوجوانوں کو مسلسل تحریک دیتی ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو انقلابی مجاہد آزادی شہید بھگت سنگھ کے یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان کی ناقابل تسخیر ہمت اور بہادری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو نئی رفتار دی اور ملک کے لیے ہر قربانی دینے کا ان کا جذبہ ہندوستانی نوجوانوں کی ہمت اور عزم کی لازوال علامت ہے۔
مسٹرمودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ‘شہید بھگت سنگھ کو ان کے یوم پیدائش پر میرا دلی سلام۔ انہوں نے اپنی ناقابل تسخیر ہمت اور بہادری کے ذریعے آزادی کی تحریک کو نئی رفتار دی۔
ملک کے وقار کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا ان کا جذبہ ہندوستانی نوجوانوں کی ہمت اور عزم کی علامت ہے۔’
وزیر اعظم کے پیغام میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف ہندوستان کی جدوجہد میں بھگت سنگھ کی لازوال میراث اور ہندوستانی نوجوانوں کی نسلوں پر ان کے مسلسل اثر کو اجاگر کیا گیا۔
ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی وابستگی، انقلابی نظریات اور ملک کے لیے اپنی جان قربان کرنے کی آمادگی نے انہیں قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے نمایاں مقام عطا کیا۔
اپنے خراج عقیدت کے ذریعے مسٹر مودی نے بھگت سنگھ کی قربانی اور عزم کے جذبے کو ہندوستانی نوجوانوں کے لیے دیرپا تحریک کا ذریعہ قرار دیا۔
یو این آئی ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
